1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

شہادت القرآن

حمزہ نے 'شہادت القرآن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 25, 2015

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ اگست 4, 2015 #31
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    آیت نمبر 1
    وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا(البقرہ 2:234)
    ترجمہ: تم میں سے جو قبض کئے جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں ان کی بیویاں(دوسرے نکاح کے لئے)چار مہینے اور دس دن انتظار کریں۔
    آیت نمبر 2
    وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِّأَزْوَاجِهِم مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ(البقرہ 2:240)
    ترجمہ:تم میں سے جو لوگ قبض کئے جاتے ہیں یعنی مر جاتے ہیں اور(پیچھے)بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنی بیویوں کے لئے ایک سال کے گزارے اور سکونت کی وصیت کر جائیں۔
    بیان قرینہ
    ان ہر دو آیات میں عورتیں بیوہ چھوڑنا اور عدتِ حالتِ بیوگی اور وصیت توفی سے موت مراد لینے کے قرینے ہیں۔

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    آیت نمبر 3
    حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ(النساء 4:15)
    ترجمہ:ختیٰ کہ قبض کرے ان کو موت
    آیت نمبر 4
    إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ(النساء 4:97)
    ترجمہ:جن کو فرشتے قبض کرتے ہیں حالانکہ وہ(فرشتے)ان(کفار)کی جانوں پر سختی کرتے ہیں۔
    آیت نمبر 5
    حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا(الانعام 6:61)
    ترجمہ:ختیٰ کہ جب تم میں سے ایک کی موت آ جاتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کو قبض کر لیتے ہیں۔
    آیت نمبر 6
    حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ(الأعراف 7:37)
    ترجمہ:ختیٰ کہ جب ان کے پاس ہمارے فرشتے آ جاتے ہیں تو ان کو قبض کر لیتے ہیں۔
    آیت نمبر 7
    وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ(الانفال 8:50)
    ترجمہ:کاش تو دیکھے جب قبض کرتے ہیں فرشتے کفار کو مارتے ہیں ان کے چہروں پر اور پشتوں پر۔
    آیت نمبر 8
    فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ (محمد 47:27)
    ترجمہ:پس کس طرح ہو گا جب قبض کریں گے ان کو فرشتے مارتے ہوئے ان کے چہروں اور ان کی پشتوں پر۔
    آیت نمبر 9
    الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ(نحل 16:28)
    ترجمہ:جن کو قبض کرتے ہیں فرشتے سختی کرتے ہوئے ان کی جانوں پر۔
    آیت نمبر 10
    الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ(نحل16:32)
    ترجمہ:جن کو قبض کرتے ہیں فرشتے خوشحالی میں۔
    آیت نمبر 11
    قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ(السجدہ 32:11)
    ترجمہ:اے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وسلم)! ان سے کہو تم کو قبض کرے گا ملک الموت جو تم پر مقرر کیا گیا ہے۔
    بیان قرینہ
    نمبر 3 سے 11 تک ان نو آیات میں توفی سے موت مراد لینے کے لئے ملائکۂ موت اور جان کندن کے وقت کفار کو عذاب کرنا اور مومنوں کو سلام اور بشارتِ جنت سنانا صاف اور صریح قرینے ہیں۔ احادیث میں ان کی تفصیل موجود ہے۔

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    آیت نمبر 12
    وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ(یونس 10:46)
    آیت نمبر 13
    وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ(الرعد 13:40)
    آیت نمبر 14
    فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ(المومن 40:77)
    ترجمہ:اگر ہم تجھ کو اپنے وعدے کے ایک حصہ کی باتیں دکھا دیں یا تجھ کو قبض کر لیں۔
    بیان قرینہ
    ان تین آیات میں توفّی بمقابلہ نُرِيَنَّكَ آئی ہے، جو معنی موت کے لئے قوی قرینہ ہے۔ کیونکہ وعدہ نُرِيَنَّكَ زندگی چاہتا ہے۔ پس نَتَوَفَّيَنَّكَ ضرور اس کی ضد یعنی موت ہونا چاہئے۔ دیگر یہ کہ مضمون میں سورت الزخرف 43:42 میں نَتَوَفَّيَنَّكَ کی بجائے نَذْهَبَنَّ بِكَ(الزخرف 43:41)وارد ہے جو کنایہ ہے فنا سے۔

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    آیت نمبر 15
    وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا(نحل 16:70)
    ترجمہ:خدا نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو قبض کرے گا اور بعض تم میں سے اس لئے ارذل عمر تک پہنچائے جاتے ہیں کہ بعد جاننے کے کچھ بھی نہ جانیں۔
    آیت نمبر 16
    يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا(الحج 22:5)
    ترجمہ:اے لوگو! اگر تم(دوبارہ) جی اٹھنے سے شک میں ہو تو(خیال کرو کہ)ہم نے(پہلے)تو تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر جمے خون سے، پھر پورے بنے ہو اور نہ بنے ہوئے گوشت کے ٹکڑے سے، تاکہ تم کو بتائیں اور ٹھہرائے رکھتے ہیں ہم رحموں میں جو چاہیں۔ مدتِ مقرر تک پھر تم کو بچے کی صورت میں باہر نکالتے ہیں۔ پھر(تم کو زندہ رکھتے ہیں)تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور بعض تم میں سے(پہلے)قبض کئے جاتے ہیں اور بعض ارذل عمر تک پہنچائے جاتے ہیں تاکہ جاننے کے بعد کچھ بھی نہ جانیں۔
    آیت نمبر 17
    هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُونُوا شُيُوخًا وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ مِن قَبْلُ وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُّسَمًّى(المومن 40:67)
    ترجمہ:پیدا کیا پھر نطفہ سے، پھر جمے خون سے، پھر تم کو بچے کی صورت میں نکالتا ہے، پھر(تم کو زندہ رکھتا ہے)تا کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو۔ پھر تاکہ تم بوڑھے ہو جائے اور بعض تم میں سے(پہلے)بھی قبض کر لئے جاتے ہیں اور تاکہ تم(اپنی)اجل مقررہ کو پہنچو۔
    بیان قرینہ
    ان آیات میں جس جس موقع پر لفظ توفی وارد ہوا ہے، سورت مومنون 23:15 میں اس موقعہ پر لفظ مَيِّتُونَ وارد ہوا ہے۔ پس صاف معلوم ہو گیا کہ یہ آیت توفی کی تفسیر موت سے کرتی ہے۔ علاوہ بریں یہ کہ قبل پیدائش سے موت تک جس قدر مختلف قدرتی استحالات انسان پر وارد ہوتے ہیں ان آیات میں ان سب کا بالتفصیل ذکر ہے۔ مثلاً پہلے مٹی، پھر نطفہ، پھر علقہ، پھر مضغہ(گوشت کا ٹکڑا)، پھر ہڈی، پھر گوشت، پھر مدتِ حمل تک رحم میں رہنا، پھر طفل ہو کر پیدا ہونا، پھر بڑھنا، پھر جوان ہونا، پھر بوڑھا ہونا، پھر اجل مقرر تک پہنچ کر مرنا۔ یہ سب حالتیں اس بات کی قرائن ہیں کہ ان مقامات پر توفی سے مراد موت ہے۔ کیونکہ موت بھی ایک حالت ہے۔ پچھلی آیت(سورۂ مومن 40:67)میں ایک اور نکتہ ہے کہ چونکہ جملہ معللہ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ کا عطف خبریہ يُخْرِجُكُمْ پر نہیں ہو سکتا۔ اس لئے لا محالہ یُبْقِیْکُمْ مقدر نکالنا پڑے گا(جامع البیان مسمی تفسیر طبری جلد 21 صفحہ412 مطبوعہ مؤسسة الرسالۃ بیروت)۔ لہٰذا بقا کے مقابلے میں جو توفی ہو گی ضرور اس سے مراد فنا یعنی موت ہو گی۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    آیت نمبر 18
    رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ(ال عمران 3:193)
    ترجمہ:خداوند! ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری برائیاں دور کر دے اور ہم کو نیکوں کے ساتھ قبض کرنا۔
    آیت نمبر 19
    رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ(الأعراف 7:126)
    ترجمہ:خداوندا! ہم پر فضل انڈیل دے اور قبض کرنا ہم کو مسلمان کر کے۔
    آیت نمبر 20
    أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ(یوسف 12:101)
    ترجمہ:تو ہی میرا مددگار ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ قبض کرنا مجھے مسلمان کرکے اور ملانا مجھے صالحین سے۔
    بیان قرینہ
    ان آیات میں قرینہ صارفہ موجود ہے اور وہ دعائے لحوق بالصالحین والابرار ہے کیونکہ یہ الفاظ کنایہ ہیں موت سے۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”أَوَّلُكُنَّ لُحُوقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا“ (صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں: ”أَيُّنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا قَالَ ‏‏ أَطْوَلُكُنَّ يَدًا‏“ صحیح بخاری صفحہ345 مطبوعہ دار ابن کثیر الرقم:1420 اور مذکورہ الفاظ طبقات المحدثین جلد 2 صفحہ173 مطبوعہ مؤسسة الرسالۃ الرقم: 140 سے لئے گئے ہیں
    ۔حمزہ) اور نیز صحیح بخاری صفحہ1087 مطبوعہ در ابن کثیر الرقم:4435 میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مرض الموت میں مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم الآیه(النسا4:69) پڑھا اور نیز اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأَعْلَى(صحیح بخاری صفحہ 1439 مطبوعہ دار ابن کثیر الرقم:5674)اور نیز آخر کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اَللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى(صحیح بخاری صفحہ1618 مطبوعہ دار ابن کثیر الرقم:6509)تھا۔ ان سب احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ دعائے لحوق بالصالحین والابرار سے موت بخاتمۂ حسنہ مراد ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ آیات بھی قرینہ سے خالی نہیں۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    آیت نمبر 21
    وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰ أَجَلٌ مُّسَمًّى(الانعام 6:20)
    ترجمہ:خدا وہ ذات ہے جو جو تم کو رات کو قبض کرتا ہے اور جانتا ہے جو تم دن کو کرتے ہو۔ پھر تم کو دن کے وقت اٹھا کھڑا کرتا ہے تاکہ زندگی کی مدتِ مقرر پوری کی جائے۔
    آیت نمبر 22
    اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى(زمر 39:42)
    ترجمہ:خدا ہی قبض کرتا ہے جانوں کو موت(روح اور جسم کی مفارقت)کے وقت اور جو ابھی نہیں مریں ان کو(قبض کرتا ہے)ان کی نیند میں۔ پس جس پر موت(کا حکم)جاری کیا ہے اس کو تو بند رکھتا ہے اور دوسری(نیند والی)کو مدت مقرر(موت)تک بھیجتا رہتا ہے۔

    بیان قرینہ
    ان آیتوں میں بھی قرائن موجود ہیں۔ پہلی آیت میں توفی سے مراد نیند ہے، کیونکہ قرینہ لیل(رات)موجود ہے اور پھر ساتھ ہی پھر دن کو اٹھ کھڑے ہونے اور کام کاج کرنے کا ذکر ہے۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مراد اس توفی سے جو رات کے وقت ہو اور پھر اس کے بعد دن کو کھڑے ہوں نیند ہے۔ اسی طرح دوسری آیت میں پہلے موقع پر توفی سے مراد موت ہے بقرینہ حِينَ مَوْتِهَا۔ دوسرے موقع پر جو بقاعدۂ عطف محذوف ہے اس سے مراد نیند ہے بقرینہ مَنَامِهَا۔ اس پچھلی آیت میں ایک اور نکتہ ہے کہ جس نفس کی توفی بالموت ہوتی ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ توفی کے وضعی معنی صرف اَخْذُ الشَّیء وَافِیًا ہیں۔ کیونکہ امساک سے مراد بقاء ہے اسی حالتِ ماخوذہ پر نہ تجدد۔ اور اسی لئے قضا بالموت کی تصریح ہوئی۔ اس آیت کی دوسری شک میں جہاں توفی سے مراد نیند ہے علاوہ قرینہ فِي مَنَامِهَا کے يُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى قرینہ ہے توفی سے نیند مراد لینے پر۔ کیونکہ اس کے معنی وہی ہیں جو پہلی آیت سورت الانعام میں ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰ أَجَلٌ مُّسَمًّى کے ہیں۔ غرض ان آیات میں حسبِ لیل و منام و بعثة فی النہار(دن کو اٹھا کھڑا ہونا)توفی سے مراد نیند ہے اور یہ توفی کی دوسری نوع ہے۔ گذشتہ آیات میں توفی کی ایک نوع موت آئی تھی بقرائن موجبہ معنی موت اور اس جگہ بقرائن موجبہ معنی نیند توفی کی دوسری نوع ثابت ہوئی۔ کیا اب بھی توفی کے جنس اور موت اور نیند کے انواع ہونے میں شک باقی رہا؟۔
    تنبیہ
    واضح ہو کہ نیند کے موقع پر قبضِ روح کا لفظ بولنے سے کسی کو یہ دھوکا نہ لگ جائے کہ نیند موت ہوتی ہے۔ نفی کے لئے اسی آیت سورہ زمر میں وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ موجود ہے۔ مرزا صاحب قادیانی نے اس آیت میں لفظ لَمْ تَمُتْ چھوڑ دیا ہے تاکہ کسی کو یہ خبر نہ ہو جائے کہ سوئے ہوئے کا حکم لَمْ تَمُتْ ہے یعنی یہ کہ وہ مردہ نہیں۔ اور حدیث شریف میں جو بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا(صحیح مسلم جلد 4 صفحہ 2083 مطبوعہ دار الحدیث قاہرہ الرقم:2711) آیا ہے وہ اس آیت کے معارض نہیں کیونکہ قرآن شریف میں نفی حقیقتِ موت کی گئی ہے اور حدیث میں نیند کو موت مجازاً کہا گیا ہے، بموجب اس تحقیق کے جو ہم نے ذکر کی نہ مطابق زعم مرزا صاحب قادیانی کے۔
    اور اہلِ علم پر روشن ہے کہ حقیقت و مجاز کی رو سے نفی و اثبات کا فرق ہو تو ان میں تعارض و تناقض نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہر دو ذوات مختلف ہیں۔
  2. ‏ اگست 23, 2015 #32
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    آیت نمبر 23
    قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي شَكٍّ مِّن دِينِي فَلَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ولكن أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ(یونس 10:104)
    ترجمہ: (اے پیغمبر!)کہو: اے لوگو! اگر تم میرے دین سے شک میں ہو تو(سن رکھو کہ)میں تو ان کو جن کو تم پوجتے ہو کبھی نہیں پوجوں گا۔ ہاں میں تو صرف اللہ کی عبادت کروں گا جو تم کو قبض کرتا ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ ایمانداروں میں سے ہوں۔
    بیان قرینہ
    مراد اس آیت سے یہ ہے کہ میں تو اپنا معبود صرف اس ذاتِ برحق کو بناتا ہوں جس کے قبضہ و اختیار میں تمہارا ایجاد و ابقا اور اعدام و افنا اور ارجاع ہے۔ جیسا کہ آیت كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ(البقرہ 2:28) و امثالہا سے ظاہر ہے اور صرف اعدام و افنا کے ذکر پر اکتفا کی یہ وجہ ہے کہ علومِ عقلیہ میں ثابت شدہ ہے کہ ذکرِ احد الضدین کا استلزاماً ضد آخر پر دلالت کرتا ہے۔ جیسے نور کہ اس کے ذکر سے اس کی ضد ظلمت کا بھی تصور حاصل ہوتا ہے اور اسی طرح سواد کے ذکر سے بیاض۔ پس اسی طرح ذکر اعدام استلزاماً ایجاد کا بھی مُشعر ہے۔ قرآن شریف میں اس کی نظائر بہت ہیں۔ دیکھو تفسیر کبیر و کشاف و ابی السعود تحت آیت: سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ (نحل16:81) کہ مجرد گرامی کے ذکر سے اس کی ضد سردی بھی معلوم ہو سکتی ہے اور نیز فتح الباری شرح صحیح بخاری جلد 6 صفحہ 352الرقم الحدیث:3223 مطبوعہ ریاض باب ذکر الملائکہ میں ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ تحت مسطور ہے کہ اس سے الَّذِينَ ظَلَمُوْا پر دلالت ہو سکتی ہے۔ پس ثانی کو استغناء حذف کیا لِأَنَّ ذِکْرَا الضِّدَّيْنِ تَنْبِيْةٌ عَلَي الضِّدِّ الْآخَرِ۔ نیز اس لئے کہ تحقیق افناء و اعدام بغیر تحقیق ایجاد کے متصور نہیں ہو سکتا۔ پس جو توفی بمقابلہ ایجاد مذکور ہو لابد اس سے مراد اعدام ہو گی۔ وَهُوَ الْمَوْتُ اور باوجود ہر شے کے قبضۂ قدرتِ باری عزاسمہ میں ہونے کے جیسا کہ فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ سے ثابت ہے۔ صرف مخاطبین یعنی کفار ہی کو متعلق توفی گرداننے میں تہدیدِ کفار ملحوظ ہے جیسا کہ سباق سے ظاہر ہے۔ اور یہی امر موید ہے تخصیص ذکر توفی کا دُوْنَ ذِکْرِ نِعْمَةِ الْاِیْجَادِ لِاَنَّ الْمَقَامَ مَقَامُ تَحْوِیْفٍ وَ تَهْدِیْدٍ یعنی ایجاد و خلق کی نعمت کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ یہ مقام تخویف و تہدید کا ہے۔ اور اصل بلاغت یہی ہے کہ مقتضائے حال کا لحاظ رکھا جائے۔ اور نیز چونکہ اس آیت مَا نَحْنُ فِيْهَا سے پہلے اہلاکِ کفار اور انجاء رسل اللّٰه و مؤمنين کا ذکر ہے اس لئے مراد اس پارۂ آیت سے یہ ہو گی کہ میں اسی ایک معبود برحق کی پرستش کرتا ہوں جس نے مجھ سے تمہاری ہلاکت اور میرے بقاء کا وعدہ کیا ہے۔ پس اس طریق سے بھی توفی بمقابلہ ابقا مذکور ہوئی ہے۔ فَثَبَتْ الْقَرِيْنَةَ وَ اندَفَعَتِ الرِّيْبَةُ۔ مضمون مذکور تفاسیر معتبرہ مثل تفسیر کبیر، ابن کثیر، فتح البیان، ابی السعود، رحمانی، کشاف وغیرہ سے ماخوذ ہے۔ فتامك ولا تعجد۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    آیت نمبر 24
    يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا(ال عمران 3:55)
    ترجمہ:اے عیسیٰ(علیہ السلام)! میں ہوں تیرا بھر لینے والا اور تجھے اپنی طرف اٹھا لینے والا اور کافروں سے تجھے پاک رکھنے والا۔
    بیان قرینہ
    ان ہر دو آیات میں توفی سے مراد رفع جسمی ہے۔ بقرینہ صریحہ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا(اٹھا لینے والا تجھ کو اپنی طرف)اور آیت بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ(النساء 4:157) ”بلکہ اٹھا لیا خدا نے اس کو طرف اپنی“ اور بموجبِ حدیثِ نزول کے بتصریح مِنَ السَّمَآءِ(کتاب الاسماء و الصفات للبیہقی و کنز العمال) كما سيجیئی ذكر ذلك مستوفیٰ انشاء اللہ تعالیٰ۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
  3. ‏ اگست 23, 2015 #33
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    بس اب قرآن شریف کی جملہ آیات توفی کا پورا بیان ہو چکا اور ایک نیک باطن، پاک طینت، صاحبِ بصیرت کے لئے کوئی گنجائش انکار باقی نہ رہی۔ اور مرزا صاحب قادیانی کے طعن کا جواب جس میں انہوں اپنے ازالہ صفحہ 335(روحانی خزائن جلد 3 ازالہ اوہام حصہ اول صفحہ 270)میں کل علمائے سلف و حلف کا ملحد و محرف قرار دیا کافی طور پر ہو چکا کہ دیگر مواقع پر توفی سے موت اور نیند مراد لینے کی یہ وجوہ ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں توفی سے رفع مراد لینے کی یہ وجہ ہے۔ لہٰذا مرزا صاحب قادیانی کو کوئی حق نہیں کہ ناحق علمائے اسلام کی شان میں بد زبانی کرکے اپنا نامۂ اعمال سیاہ کریں۔70

    چوں خدا خواہید کہ پردۂ کمس درد
    میلش اندر طعنۂ پاکاں کند

    اگر کوئی لفظ کئی معنوں میں اطلاق پذیر ہے خواہ وہ معنی حقیقی ہوں خواہ منقولی باقسامہا تو قرآن شریف میں اس کے مواضع کثیرہ میں ایک ہی معنی میں مستعمل ہونے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ دیگر مواضع میں بھی اس کے یہی معنی لگیں گے۔ کیونکہ ایسی کئی مثالیں ہیں کہ سارے قرآن شریف میں کسی لفظ کے ایک ہی معنی ہیں اور صرف ایک جگہ پر اس لفظ کے اور معنی ہیں۔ یہاں صرف پانچ مثالوں پر اکتفا کی جاتی ہے۔ زیادہ تحقیقات کے لئے تفسیر اتقان فی علوم القرآن کو ملاحظہ فرما دیں۔

    اوّل:لفظ ”أَصْحَابَ النَّار“ قرآن مجید میں جس جگہ آیا ہے اس کے معنی دوزخ میں جلنے والے کفار و فساق ہیں سوائے سورت المدثر( 74:31) کے۔ کہ اس میں اس کے معنی وہ فرشتے ہیں جو دوزخ پر مقرر ہیں۔
    دوم: بعل کے معنی سورہ البقرہ(2:228) اور النساء(4:128) میں شوہر ہیں اور سورہ الصافات(37:125) میں نام ہے اس بت کا جسے وہ قوم پوجتی تھی جن کی طرف حضرت الیاس علیہ السلام بھیجے گئے تھے۔
    سوم: عود اور عادۃ کے معنی سارے قرآن شریف میں تکرارِ فعل کے ہیں بجز آیت: وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا(58:3) کے کہ اس میں توبہ اور پیشمانی مراد ہے۔
    چہارم: ريب کے معنی ہر جگہ شک ہیں مگر آیت رَيْبَ الْمَنُونِ(الطور 52:30)میں حوادثِ زمانہ مراد ہے۔
    پنجم: بروج سے مراد ہر جگہ کواکب ہیں مگر بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ(النساء4:78)میں اونچے اور محکم محل مراد ہیں۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    70:اب تو برزخ میں اس بد زبانی کا مزہ چکھ رہے ہوں گے۔
  4. ‏ ستمبر 5, 2015 #34
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ﴿وَرَافِعُكَ إِلَیَّ﴾

    لفظ توفی کی نسبت کافی طور پر تحقیق ہو چکی ہے اور علم تصریف اور کتبِ لغت اور تفاسیر معتبرہ سے بہ بسط محقق ہو چکا ہے کہ لفظ توفی اَخْذُ الشَّیء وَافِیًا یعنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینے کے لئے موضوع ہے اور موت اور نیند اور رفع اس کے انواع ہیں اور یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ کسی ایک نوع کی تعیین کے لئے حاجت قرینہ کی ہوتی ہے۔ جب کہ نقشہ آیات توفی سے ظاہر ہو چکا ہے ۔ پس قولِ الہٰی يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ سے رفع جسد اِلی السَّمآء مراد لینے کے لئے پہلا قرینہ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ہے۔ اور رَافِعُكَ إِلَيَّ سے رفع روح اور عزت کی موت مراد نہیں ہے، جیسا کہ مرزا صاحب قادیانی کہتے ہیں۔ بلکہ اس رفعِ جسم الی السمآء ہے، لا غير۔

    تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ صراح میں لکھا ہے:”رفع برداشتن و هو خلاف الوضع“(صراح من الصحاح صفحہ 197)یعنی ”رفع کے معنی اوپر کے طرف اٹھانا ہیں، بر خلاف لفظ وضع کے“۔ کہ اس کے معنی ”نیچے رکھنا“ ہیں۔ اسی طرح مصباح المنیر میں لکھا ہے:”رَفَعْتُهُ رَفْعًا خِلَافُ خَفَضْتُهُ“(مصباح المنیر جلد 1 صفحہ 232 مطبوعہ مکتبہ العلمیہ بیروت)

    لغت کی کسی کتاب میں رفع کے معنی ”عزت کی موت“ نہیں لکھے اور نہ کسی محاورہ میں اس کا استعمال اس معنی میں پایا گیا ہے۔ یہ صرف مرزا صاحب کا تصرف فی اللغۃ ہے، جس طرح چاہتے ہیں قرآن و حدیث اور لغت کو اپنی مرضی کے تابع کر لیتے ہیں۔71

    اگر کہا جائے کہ جب رفع کا صلہ الیٰ آتا ہے تو وہ کنایہ ہوتا ہے اعزاز و اکرام سے۔ جیسا کہ محاورہ”رَفَعْتُهُ إِلَى السُّلْطَانِ“ صراح میں موجود ہے(جیسا کہ مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی احمدی نے اپنے رسالہ القول الجمیل میں لکھا ہے)۔ تو اس کا
    جواب اوّلتو یہ ہے کہ اس محاورے سے تمسک کرنے سے مرزا صاحب کو کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ تو رفع الی اللہ سے ”عزت کی موت“ مراد لیتے ہیں۔ پس جب تک محاورہ رَفَعْتُهُ إِلَى السُّلْطَانِ میں بھی عزت کی موت مراد نہ ہو تب تک اس سے ان کو کوئی فائدہ نہیں۔
    ثانیاً یہ کہ محاورہ رَفَعْتُهُ إِلَى السُّلْطَانِ کو رفعِ جسمی کے انکار میں پیش کرنا استعدادِ علمی سے عاری ہونے کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ صراح کی پوری عبارت یوں ہے: ”و نزديك گردانيدن كسے را بكسےصِلَتْهُ بِالِيٰ وَ مِنْ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ رَفَعْتُهُ إِلَى السُّلْطَانِ“(صراح من الصحاح صفحہ 197) جب عبارتو نزديك گردانيدن كسے را بكسے“ موجود ہے تو اس سے ذی علم و فہم کو یہ وہم نہیں ہو سکتا کہ اس جگہ رفع سے مراد صرف رفعتِ منزلت ہے۔ کیونکہ کسی کو کسی کے نزدیک کرنے میں قربِ جسمی ملحوظ ہوتا ہے۔ پس محاورہ رَفَعْتُهُ إِلَى السُّلْطَانِ کے معنی یہ نہیں کہ اس شخص کو گھر بیٹھے بٹھائے عزت دلا دی، بلکہ معنی تو یہ ہیں کہ میں اس کو بادشاہ کے حضور لے گیا۔ عزت اور ذلت سے اس میں کوئی بحث نہیں۔ اگر وہ شخص منظورِ نظر شاہی ہے تو حضورِ شاہی میں اس کی عزت ہو گی اور اگر کوئی مجرم ہے تو موردِ سخطاتِ شاہی ہو گا۔ کیونکہ بادشاہ اور حاکم کی حضوری میں عزت و ذلت اپنی حیثیت اور استعداد کے لحاظ سے ہے، نہ باعتبار بادشاہ کے قریب جانے کے۔ چنانچہ فتح الباری شرح صحیح بخاری جلد 5 صفحہ 569 الرقم:2311 مطبوعہ ریاض میں محاورہ رَفَعَهُ إِلَى الْحَاكِمِ کے معنی جو ہر طرح سے رَفَعْتُهُ إِلَى السُّلْطَانِ کا ہم پلہ ہے، أَحْضَرَهُ لِلشَّكْوَى یعنی شکایت کے لئے حاکم کے حضور میں لے جانا لکھے ہیں۔ ثالثاً یہ کہ صراح کی عبارت کا مطلب عند ارادۃ الاعزاز یہ ہے کہ بر تقدیر ارادۂ معنی اعزاز و مرتبہ رفع کا صلہ الیٰ آنا چاہیئے، نہ یہ کہ جس جگہ رفع کا صلہ الیٰ ہو اس سے بغیر اعزاز و اکرام کے اور کچھ ادارہ ہی نہیں کر سکتے۔ تاکہ رفعِ جسمی ممنوع خیال کیا جائے اور مخالف کو کامیابی ہو۔ بلکہ الیٰ کے صلہ ہونے کے وقت نظر بر اصل واقعہ کہیں رفعِ جسمی اور اعزاز دونوں مجتمع ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ محاورہ رَفَعْتُهُ إِلَى السُّلْطَانِ میں جس صورت میں کہ متکلم نے مفعول کو اصالۃ یا وکالۃ بجسمہ لے جا کر سلطان کے ہاں معزز بنایا ہو اور ظاہر ہے کہ معنی وضعی اور معنی کنائی کا اجتماع ممتنع نہیں، بخلاف حقیقی اور مجازی کے۔ كما سيجيئی۔ اور کسی جگہ صرف رفعِ جسمی بغیر ارادۂ اعزاز لے پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ امثلۂ ذیل اس امر کی مشعر ہیں:
    المثال الاوّل:
    المصباح المنیر میں بذیل لفظ رفع لکھا ہے: ”رَفَعْتُ الزَّرْعَ إلَى الْبَيْدَرِ“(مصباح المنیر جلد 1 صفحہ 232 مطبوعہ مکتبہ العلمیہ بیروت)اور اس کے معنی صراح میں یوں کئے ہیں:”برداشتن غلهٔ دروده و بخرمن گاه آوردن“(صراح من الصحاح صفحہ 197)یعنی ”میں کھیت کاٹ کر اور غلہ اٹھا کر خرمن گاہ میں لے آیا“۔ ایسا ہی قاموس میں ہے: ”وَ الزَّرْعَ حَمَلُوهُ بَعْدَ الْحِصَادِ إِلى البَيْدَرِ“(قاموس المحیط جلد 1 صفحہ 722 مطبوعہ مؤسسة الرسالۃ بیروت باب العین فصل الراء) یعنی ”رفعوا الزرع کے یہ معنی ہیں کہ کسان کھیت کاٹنے کے بعد اٹھا کر خرمن گاہ میں لے آئے“۔ اسی طرح اساس البلاغہ میں بھی ہے۔

    المثال الثانی:
    صحیح بخاری باب إِذَا وَكَّلَ رَجُلاً فَتَرَكَ الْوَكِيلُ شَيْئًا میں وكالة أَبِي هُرَيْرَةَ بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ(صحیح بخاری صفحہ 555 مطبوعہ دار ابن کثیر الرقم الحدیث:2311)حدیث میں الفاظ لَأَ رْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وارد ہیں اور فتح الباری شرح صحیح بخاری جلد 5 صفحہ 569 الرقم:2311 مطبوعہ ریاض میں لَأَرْفَعَنَّكَ کے ذیل میں لکھا ہے: لَأَذْهَبَنَّ بِكَ أَشْكُوكَ يُقَالُ رَفَعَهُ إِلَى الْحَاكِمِ إِذَا أَحْضَرَهُ لِلشَّكْوَى یعنی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما نے(شیطان لعین سارقِ غلۂ صدقات کو کہا کہ)”آج تو میں تجھے ضرور ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں تیری(بد عملی)کی شکایت کے لئے چلوں گا“۔ اور اسی طرح یہ محاورہ ہے: رَفَعَهُ إِلَى الْحَاكِمِ یعنی وہ اس کو حاکم کے حضور میں اس کی(بد علمی کی)شکایت کے لئے لے گیا۔ اگر رفع کے معنی بوقت صلہ إِلَى صرف اعزاز و اکرام ہوتے ہیں تو کیا معاذ اللہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما نے شیطان سارق(چور)کو عزت دلانی چاہی تھی؟ اور وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنابِ پاک میں؟ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ۔

    المثال الثالث:
    صحیح بخاری صفحہ 1282 مطبوعہ دار ابن کثیر بیروت الرقم الحدیث:5018 باب فَضْلِ الْکَهْفِ وَ نُزُولِ السَّكِينَةِ و نیز مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 صفحہ 653 الرقم الحدیث:2116 مطبوعہ مکتب الاسلامی بیروت حدیث قرأة أُسَيْدَ بنَ حُضَيْرٍ۔ سورة الکہف میں ”رَفْعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ“ یعنی ”اس نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا“ اور نیز ”فَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ“ یعنی ”پس میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا“ وارد ہے۔ اس حدیث میں بھی دو دفعہ رفع کے ساتھ الیٰ صلہ آیا ہے اور دونوں جگہ رفعِ جسمی مراد ہے بغیر ارادۂ رفعِ منزلت کے۔

    المثال الرابع:
    صحیح بخاری صفحہ 310 الرقم الحدیث:1284 مطبوعہ دار ابن کثیر و صحیح مسلم جلد 2 صفحہ635،636 الرقم الحدیث:923 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت و نیز مشکوٰۃ کتاب الجنائز باب الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِجلد1 صفحہ 540 الرقم الحدیث:1723 مطبوعہ مکتب الاسلامی بیروت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کے فرزند ارجمند رضی اللہ عنہ کے فوت ہونے کی حدیث میں: ”فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ“ یعنی ”وہ لڑکا(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لایا گیا“۔ سبحان اللہ! رفعِ جسمی کے لئے کیا عمدہ مثال ہے۔ موت کا وقت بھی ہے اور پھر یہاں ”عزت کی موت“ مراد نہیں۔

    المثال الخامس:
    اللہ تعالیٰ نے سورہ فاطر میں فرمایا:
    إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ(فاطر 35:10)
    ”کلمہ طیب خدا ہی کی طرف چڑھتا ہے اور نیک عمل کو خدا بلند کرتا ہے“۔
    تفسیر فتح البیان میں اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے:
    (إليه) تعالى لا إلى غيره (يصعد الكلم الطيب) الصعود هو الحركة إلى فوق وهو العروج أيضاًً وموضع الثواب فوق، وموضع العذاب أسفل، ومعنى صعوده إليه قبوله له، أو صعود الكتبة من الملائكة بما يكتبونه من الصحف. انتهٰی“(فتح البیان فی مقاصد القرآن جلد 11 صفحہ 227 مطبوعہ مکتبہ العصریہ بیروت)
    ”کلمہ طیب صرف خدا ہی کی طرف چڑھتا ہے اور صعود اس حرکت کو کہتے ہیں جو اوپر کی جانب ہو اور اسے عروج بھی کہتے ہیں۔ اور ثواب کی جگہ اوپر کو ہے اور عذاب کی جگہ نیچے کو ہے۔ اور خدا کی طرف کلمہ کے صعود کے معنی ہیں خدا کا اس کو قبول کر لینا یا اس کے معنی ہیں کراماً کاتبین فرشتوں کا ان صحیفوں کو لے کر چڑھنا جو وہ لکھتے ہیں“۔

    قلتُ:
    صورت ثانیہ یعنی ملائکہ کا اعمالِ عباد کو کتابت میں لا کر صعود الی السمآء کرنا حدیث شریف کے بالکل موافق ہے۔ جیسا کہ اسی تفسیر میں آگے بروایتِ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ذکر کیا ہے:
    إن العبد المسلم إذا قال: سبحان الله وبحمده والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر وتبارك الله قبض عليهن ملك فضمهن تحت جناحه، ثم يصعد بهن إلى السماء فلا يمر بهن على جمع من الملائكة إلا استغفر لقائلهن حتى يحيي بهن وجه الرحمن، ثم قرأ: إليه يصعد الكلم الطيب الآية“(فتح البیان فی مقاصد القرآن جلد 11 صفحہ 228 مطبوعہ مکتبہ العصریہ بیروت)
    یعنی ”جس وقت کوئی مسلمان سبحان الله وبحمده...الخ پڑھتا ہے تو اہل فرشتہ(جو ان کلمات پر مؤکل ہوتا ہے)ان کلمات کو لے لیتا ہے اور اپنے بازوؤں کے نیچے لگا کر آسمان پر لے چڑھتا ہے۔ پس فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے وہ گزرتا ہے وہ سب اس کے قائل کے لئے دعائے استغفار کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی جنابِ پاک میں تحفۃ پیش کئے جاتے ہیں۔(حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر)پھر یہ آیت إليه يصعد الكلم الطيب پڑھی“۔
    اور اسی طرح تفسیر ابن کثیر جلد 6 صفحہ 475 مطبوعہ دار الکتب علمیہ بیروت میں بھی اس آیت کے ذیل میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ اور یہ معنی دیگر کئی احادیث سے بھی ثابت ہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری صفحہ 113 الرقم الحدیث: 3223 مطبوعہ دار طوق النجاۃ بیروت باب ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ میں کراماً کاتبین کی نسبت ”ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ“ یعنی ”پھر وہ جو رات کو تم میں رہے خدا کی طرف اوپر چلے جاتے ہیں“ وارد ہے۔ نیز معلوم رہے کہ اس جگہ بھی عروج جو صعود کا مترادف ہے اس کا صلہ الیٰ آیا ہے اور مراد عروجِ حقیقی ہے ۔ نہ کنائی نہ مجازی۔
    دیگر یہ کہ صعود الیٰ اللّٰه سے قبولیت مراد رکھنا بنا بر ارادہ معنی لازمی کے ہیں اور ممارسِ کتب فن پر ظاہر ہے کہ لازمی معنوں کے ساتھ حقیقی معنوں کا ارادہ جائز ہے۔ جیسا کہ آگے بحث کنایہ میں مفصل طور پر مطوّل سے نقل کیا جائے گا۔ انشاء اللہ! کیونکہ کلمات طیبات مکتوب ہو کر آسمان کی طرف مرفوع ہوتے اور جنابِ خدا میں قبول ہوتے ہیں۔ فَافْھَمْ

    المثال السادس:
    صحیح مسلم میں ہے:
    يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ“(صحیح مسلم جلد 1 صفحہ 162 مطبوعہ دار الکتب علمیہ بیروت الرقم الحدیث:179)
    یعنی رات کا عمل خدا کی طرف مرفوع ہو جاتا ہے، پیشتر اس کے کہ دن کا عمل صادر ہو۔
    اس میں بھی رفع کا صلہ الیٰ آیا ہے اور صورت صعودِ اعمال کی اوپر کی مثال میں گذر چکی۔ گویا یہ حدیث من وجہ تفسیر ہے آیت: يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ(فاطر 35:10)کی۔ شیخ عبد الحق صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ شرح مشکوٰۃ میں اس حدیث کی شرح یوں فرماتے ہیں:
    يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِيعنی برداشته میشود وبالا برده میشود بسوئے درگاهِ وے عملہائے بندگان كہ درشب مے کنند پیش از عملہائے کہ در روزے کنندوَ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِوبرداشتہ میشود عملِ روز پیش از عملِ شب ہنوز روز نشدہ و عملے درآں واقع نشدہ کہ عملِ شب بالامی برند و شب نر سیدہ کہ عمل روز ببرند دریں مبالغہ است در مسارعت ملائکہ موکل باعمال عباد و امتشال امر و سرعت عروجِ ایشاں بمحال عرض و مصاعدِ سمٰوٰتِ ایشاں برفعِ اعمال در ادنیٰ ساعت، چہ فرق میانِ روز و شب جز آنی و جز ولا یجتزی نبود انتہیٰ۔
    ایسا ہی امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا:
    فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ الْحَفَظَةَ يَصْعَدُونَ بِأَعْمَالِ اللَّيْلِ بَعْدَ انْقِضَائِهِ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ وَيَصْعَدُونَ بِأَعْمَالِ النَّهَارِ بَعْدَ انْقِضَائِهِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ“(شرح نووی علی مسلم جلد 3 صفحہ 13 الرقم: 179 مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت)
    ”ملائکہ محافظین رات کے اعمال اس کے گزر جانے پر دن کے اوّل وقت میں لے چڑھتے ہیں اور(اسی طرح)دن کے اعمال اس کے گزرنے پر رات کے شروع میں لے چڑھتے ہیں“۔

    المثال السابع:
    مجمع البحار میں زیر لفظ رفع لکھا ہے:
    فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ أَيْ رَفَعَهُ إِلَى غَايَة طول يَدَيْهِ لِيَرَاهُ النَّاسُ فَيُفْطِرُوْنَ“(مجمع البحار الانوار جلد 2 صفحہ 352 مطبوعہ دائرۃ المعارف عثمانیہ حیدر آباد دکن)
    یعنی ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ اپنے دستِ مبارک کی لمبائی کے برابر اوپر اٹھایا تاکہ لوگو اسے دیکھ لیں اور روزے افطار کریں“۔
    اس حدیث میں بھی رفع کا صلہ الیٰ آیا ہے اور سے حقیقۃً مفعولِ رفع یعنی برتن کا مدخولِ الیٰ کی طرف اٹھانا ہے۔ پس رفعِ جسمی ثابت ہے۔

    المثال الثامن:
    مجمع البحار الانوار جلد 2 صفحہ 353 مطبوعہ دائرۃ المعارف عثمانیہ حیدر آباد دکن: ”يَرْفَعَهُ إِلَى النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“۔ اس میں بھی صلہ الیٰ آیا ہے اور مراد اس سے مدخول الیٰ کی طرف بات کو نسبت کرنا اور اس تک پہنچانا ہے۔ وَفِیْ تِلْكَ الْأمْثِلَهِ كفايةٌ لمن لهُ درايةٌ(اتنی مثالیں سمجھ والے کے لئے کافی ہیں)۔72

    ان عبارات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جب رفع کا صلہ الیٰ آتا ہے تو اس کے معنی ”شئی مذکور کو مدخول الیٰ کی طرف اٹھانا“ ہوا کرتے ہیں بغیر ارادۂ معنی ”موت و اعزاز و اکرام“ کے، خواہ وہ شے جوہر ہو خواہ عرض۔

    خلاصۃ المرام یہ کہ لغت میں رفع کے حقیقی اور وضعی معنی ”اوپر کو اٹھانا“ ہیں۔ برخلاف وضع اور خفض کے کہ ان کے معنی نیچے رکھنا ہیں۔ پس جہاں رفع کا مفعول کوئی جسم ہو گا وہاں اس سے مراد نیچے سے اوپر کو حرکت دینا ہو گی اور اگر اس کا متعلق و معمول کوئی معنی ہو گا تو اقتضائے مقام پر محمول ہو گا۔ جیسے محاورہ رَفَعَتُهُ إِلَى الْحَاكِمِ میں اگر ضمیر منصوب سے مراد کوئی جسم ہو تو اس مراد رفعِ جسمی ہو گی اور اگر کوئی امر و معاملہ ہو تو صرف اس ام کا پیش کرنا مراد ہو گا۔ اس بیان کی تصدیق کے لئے المصباح المنیر کی عبارتِ ذیل ملاحظہ ہو، تاکہ اللہ تعالیٰ ظلماتِ شکوک سے نجات دے:

    فَالرَّفْعُ فِي الْأَجْسَامِ حَقِيقَةٌ فِي الْحَرَكَةِ وَالِانْتِقَالِ وَفِي الْمَعَانِي مَحْمُولٌ عَلَى مَا يَقْتَضِيهِ الْمَقَامُ“(مصباح المنیر جلد 1 صفحہ 232 مطبوعہ مکتبہ العلمیہ بیروت)
    ”لفظ رفع جسموں کے متعلق حقیقی معنی کے رو سے حرکت اور انتقال کے لئے ہوتا ہے اور معانی کے متعلق جیسا موقع و مقام ہو ویسی مراد ہوتی ہے“۔

    مصباح المنیر کی اس تصریح سے واضح ہو گیا کہ رفع کے حقیقی اور وضعی معنی نیچے ست اوپر کو حرکت و انتقال کے ہوتے ہیں۔ اور نیز محاوراتِ سابقہ سے روشن ہو گیا کہ رفع کا صلہ جب الیٰ آئے تو اس کے معنی شئے مذکور کا مدخول الیٰ کی طرف مرفوع ہونا ہوا کرتے ہے۔ پس اس بیان و تحقیق سے وَرَافِعُكَ إِلَيَّ سے یہ محقق ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام بجسدہ زندہ مرفوع اِلَی السَّمَآء ہوئے۔ کیونکہ رَافِعُكَ میں ضمیر مخاطب راجع بطرفِ منادی یعنی عیسیٰ علیہ السلام ہے اور اسمائے اجسام مع ارواح کے ہوا کرتے ہیں، نہ مجرد ارواح کے اور نہ مجرد اجسام کے۔ اور کلمات اِلَی اللّٰه وَ اِلَی السَّمَآء ہر دو سے ایک ہی مقصود ہے۔ عَلیٰ مَا سَنُبَيْنُ اِنْشَاءَ اللّٰه(جیسا کہ ہم انشاء اللہ جلد بیان کریں گے)۔

    ثالثاً یہ کہ کنایات بغیر ارادہ معنی کنائی و بغیر مطابقت باصل واقعہ کے اور مجارات بغیر تعذّر حقیقت یا وجود قرینہ صارفہ کے مراد نہیں لئے جا سکتے۔ مثلاً كشُف عن السَّاقِ جو کنایہ شدت اور مستعدی سے ذکر کیا جاتا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ محاورہ اپنے معانی حقیقیہ یعنی ”پنڈلی کو برہنہ کرنا“ پر کبھی بھی دال نہیں ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص پانی سے گذرنے کے وقت یا کسی اور تقریب سے اپنی ساق(پنڈلی)کو فی الواقع برہنہ کرے تو یہ الفاظ معانی حقیقیہ پر محمول ہوں گے۔ جیسے سورہ نمل میں ہے: وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا(نمل 27:44)کہ بلقیس نے(شیش محل جاتے وقت شیشے کے فرش کو پانی خیال کر کے اپنے پائنچوں کو سمیٹا اور)اپنی پنڈلی کو ننگا کیا(علی قول)اور اگر حالات اس امر کے مقتضی ہیں کہ اس شخص نے اپنی پنڈلی برہنہ نہیں کی اور متکلم نے بھی اس معنی کا ارادہ نہیں کیا تو یہی الفاظ کنایہ ہوں گے۔ مستعدی یا شدت سے جیسا کہ اس شعر(الاتقان فی علوم القرآن جلد 3 صفحہ 21 نوع:43 مطبوعہ الہیئۃ المصریہ) میں ہے:

    اصْبِرْ عِنَاقْ إِنَّهُ شَرُّ بَاقْ``````````قَدْ سَنَّ لِي قَوْمُكَ ضَرْبَ الْأَعْنَاقْ
    وَقَامَتِ الْحَرْبُ بِنَا عَلَى سَاقْ
    مع هذا معنی حقیقی اور معنی کنائی دونوں جمع ہو سکتے ہیں۔ برخلاف مجاز کے کہ یہ حقیقت کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی اور مجاز میں یہی فرق ہے۔ جیسا کہ مطوّل میں بالتصریح مذکور ہے:

    الكناية لفظ اريد به لازم معناه مع جواز ارادته معه اى ارادة ذلك المعنى مع لازمه كلفظ طويل النجاد و المراد به لازم معناه اعنى طول القامة مع جواز ان يراد حقيقة طول النجاد ايضا فظهر انها تخالف المجاز من جهة ارادة المعنى الحقيقى للفظ مع ارادة لازمه كارادة طول النجاد مع ارادة طول القامة بخلاف المجاز فانه لا يصح فيه ان يراد المعنى الحقيقى“(مطول شرح تلخیص مفتاح العلوم صفحہ 630 مطبوعہ دار الکتب علمیہ بیروت)
    ”کنایہ ایک ایسا لفظ ہے جس سے اس کے لازمی معنی کا ارادہ کیا جائے اور اس لازمی معنی کے ساتھ اس لفظ کے اصلی معنی کا ارادہ بھی جائز ہو۔ مثلاً لفظ ”طول النجاد“ کہ اس سے اس کے لازمی معنی یعنی ”قد درازی“ مراد ہیں اور ساتھ ہی اس کے حقیقی معنی ”شرافتِ نسب“ بھی مراد لینا جائز ہے۔ پس ظاہر ہو گیا کہ کنایہ اور مجاز میں یہی فرق ہے کہ کنایہ میں حقیقی اور لازمی ہر دو معنی جمع ہو سکتے ہیں بخلاف مجاز کہ، اس کے ساتھ حقیقی معنی جمع نہیں ہو سکتے“۔

    اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں رَافِعُكَ إِلَيَّ کے معنی حقیقی یعنی رفع جسمی جو بالک حق ہیں اور معنی کنائی(فرضی) یعنی رفعِ منزلت جو مراد نہیں، ان دونوں میں تبائن کلی و منافات نہیں بلکہ دونوں معاً مجتمع و متحقق ہو سکتے ہیں کیونکہ رفعِ جسمی بہ نسبت عبدِ صالح مستلزمِ اعزاز و اکرام ہوتی ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے: وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ(یوسف 12:100) یعنی یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت پر چڑہا بٹھایا۔

    خصوصاً مسئلہ مَا نَحْنُ فِيْهَا یعنی رفع مسیح علیہ السلام الیٰ السمآء میں رفعتِ قدر و منزلت بھی بطریق اولیٰ و احسن پائی جاتی ہے۔ پس معنی کنائی ہم کو مضر نہیں جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ ارادہ معنی کنائی کے وقت ارادہ معنی حقیقی بالضرور ممنوع ہے۔ اور معنی مجازی کی نسبت یہ جواب ہے کہ ارادۂ مجازات بغیر حقیقی کے ممنوع ہونے کے یا بغیر قرینہ موجود ہونے کے ممنوع ہے جیسا کہ علم اصول اور علم بیان میں مصرح ہے۔

    اسی لئے قرآن میں جہاں کہیں رفع سے مراد رفع بحسب الدرجہ مراد ہے وہاں بالضرور قرائن صارفہ موجود ہیں مثلاً آیات: رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ(البقرہ 2:253) اور نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ(الانعام 6:183 و یوسف 12:76) اور رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ(الانعام 6:165) اور رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ(الزخرف 43:32) میں لفظ درجات بالتصریح موجود ہے۔ پس چونکہ آیت وَرَافِعُكَ إِلَيَّ میں ارادۂ رفعِ جسم الیٰ السمآء کے لئے نہ تو تعذرِ حقیقت لازم آتا ہے اور نہ کوئی قرینہ موجود ہے اس لئے اس جگہ محض رفعِ منزلت مراد نہیں لے سکتے۔

    عوام کے افہام کے لئے اس قدر کافی ہے کہ وہ آیت وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ(یوسف 12:100) کو جو کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے اپنے والدین کو تخت کے اوپر بٹھانے کے بارے میں ہے، یاد رکھیں کہ جس طرح اس آیت میں مفعول ”رفع“ کا مدخول ”علیٰ“ پر حقیقۃُ بالجسد مرفوع ہونا مراد ہوتا ہے۔ اسی طرح يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ(ال عمران 3:55)میں حضرت مسیح علیہ السلام کا بجسدہ العنصری مرفوع الیٰ السمآء ہونا مراد ہے اور اسی طرح آیت إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ(فاطر 35:10) میں مفعول يَصْعَدُ یعنی کلمۂ طیب کو مدخول الیٰ یعنی جنابِ باری عزاسمہ میں آسمان پر مرفوع ہونا مراد ہے جیسا کہ اس تفصیل حدیث شریف میں وارد ہے اس کی شرح(صفحہ.....میں) گزر چکی ہے۔ نیز آیت ثانیہ سورہ فاطر سے یہ بھی مستفاد ہوا کہ ارتفاع الیٰ اللہ اور صعود الیٰ السمآء متساوق فی المعنی ہیں۔ کیونکہ صورتِ صعود کلماتِ طیبات کہ یہ ہے کہ کراماً کاتبین اعمالِ عباد لکھ کر آسمان پر جنابِ باری عزاسمہ میں پیش کرتے ہیں۔

    جملہ تفاسیر معتبرہ مثل تفسیر کبیر، معالم، جلالین، سواطع الالہام، تفسیر رحمانی جو بیانِ نکاتِ قرآن میں بے مثل و لاثانی ہے اور تفسیر فتح البیان، جامع البیان، ابن کثیر، مدارک، درِ منثور، بیضاوی، السراج المنیر، خازن، کشاف، ابی السعود اور عباسی ان سب میں منقولی و معقولی میں بلا خلاف رَافِعُكَ إِلَيَّ سے رَفَعَ إِلَى السَّمَآءِ مراد لکھا ہے۔ چنانچہ بعض کی عبارات تحریر میں لائی جاتی ہیں:

    تفسیر رحمانی جو بیانِ معارف قرآن میں لاثانی ہے، اس میں لکھا ہے:
    (و) لا ادع لك شهوة طعام و شراب فتحتاج الي مساكنة (رَافِعُكَ إِلَيَّ ) اي الي سمائي(و)انما ارفعك لأني(مُطَهِّرُكَ مِنَ)جوار(الَّذِينَ كَفَرُوْا)لئلا يصل الیك من اثار هم شيء (و)كما اجعلك فوق اهل الارض فانا(جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ)من المسلمین والنصارى( فَوْقَ الَّذِينَكَفَرُوْا)لك من اليهود يغلونهم(إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ)“۔(تفسیر تبصیر الرحمن و تیسیر المنان جلد 1 صفحہ 113 مطبوعہ بولاق علم الکتاب مصر)
    ”اور میں تجھے کھانے پینے کی خواہش ہی باقی نہ رکھوں گا کہ تجھے زمینی سکونت کے اسباب حاجت پڑے۔ کیونکہ میں تجھے اپنے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں کہ تجھے کفار کی مصاحبت سے پاک رکھوں تاکہ تجھے ان کے ہاتھ سے کوئی گزند نہ پہنچے۔ اور جس طرح تجھے زمین والوں سے اونچا کروں گا اسی طرح تیرے تابعداروں کو(جو مسلمان اور عیسائی ہیں)تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا“۔
    علامہ صوفی علی مہائمی رحمۃ اللہ علیہ نے اس عبارتِ جامعہ میں منکرین کے شبہ کا بھی ازالہ کر دیا کہ اگر حضرت روح اللہ علیہ السلام آسمان پر موجود ہیں تو کھاتے کہاں سے ہیں؟

    اسی طرح تفسیر کشاف جلد 1 صفحہ 366 مطبوعہ دار الکتاب بیروت اور مدارک التنزیل و حقائق التأویل جلد 1 صفحہ 259 مطبوعہ دار الکلم الطیب بیروت میں ہے:
    وَرَافِعُكَ إِلَيَّ إِلَى سَمَائِي وَمَقَرِّ مَلَائِكَتِي“۔
    یعنے ”تجھ کو اپنے آسمان اور اپنے فرشتوں کی قرار گاہ میں اٹھا لینے والا ہوں“۔

    یہ اس لئے کہ حضرت روح اللہ علیہ السلام بوجہ ولادت بلا پدر مشابہ بالملائکہ ہیں جیسا کہ عنقریب بالتفصیل مذکور ہو گا۔ انشاء اللہ

    سبحان اللہ! علامہ محمود جار اللہ زمخشری رحمۃ اللہ علیہ باوجود اہل اعتزال کا امام ہونے کے اپنی اس تفسیر میں جو قرآن مجید کی عربیت کے بیان کرنے میں سب کی استاد تسلیم کی گئی ہے رَافِعُكَ إِلَيَّ میں حقیقی معنی رَفَعَ إِلَى السَّمَآءِ کو چھوڑ کر تاویل نہیں کر سکے۔ اگر ان کو عربیت اجازت دیتی تو وہ ضرور تاویل کرتے۔ اسی طرح تفسیر بیضاوی و سراج منیر و ابی السعود میں بھی ہے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    71: اکمل صاحب قادیانی نے اس موقع پر عجب کمال دکھایا ہے۔ آپ رفع الی اللہ سے ”عزت کی موت“ مراد لینے کہ وجہ میں فرماتے ہیں: اگر کہیں عزت کی موت(مرزا صاحب نے)لکھا ہے تو اس کی یہ وجہ ہے کہ توفی کے معنی موت اور رفع الی اللہ سے مراد عزت دونوں ملا حاصل ”میں نے اس کو اوپر اٹھایا“، بر خلاف میں نے اسے نیچے رکھا کے، مطلب عزت کی موت ہوا۔(صفحہ27)
    جواب: سبحان اللہ! دو اور دو چار روٹیاں اسی کو کہتے ہیں۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت توفی اور رفع الی اللہ ہر دو مستقل بالمفہومیہ اور متساوق ہیں۔ ایک کو دوسرے کا ضمیمہ بنا کر معجونِ مرکب نہیں بنا سکتے۔ عبدالقیوم میر
    72:مولوی اکمل صاحب مہاجر قادیانی ان مثالوں کی کثرت سے سخت گھبرا گئے ہیں اور ایسی بہکی ہوئی باتیں کرنے لگے ہیں کہ با مذاق آدمی کو بے اختیار ہنسی آ جائے اور علمی کمال قدردان نفرت سے ان کی کتاب کو دیکھنے سے بیزار ہو جائے۔ میں تو حیران ہوں کہ انہوں نے اپنا تخلص اکمل کیوں رکھ لیا۔ جو شخص شہادت القرآن نہیں سمجھ سکتا وہ اکمل کیوں بنے۔ سعادت
  5. ‏ ستمبر 5, 2015 #35
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ﴿وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوْا﴾


    دوسرا قرینہ:

    مُتَوَفِّيكَ سے رفعِ جسم مراد لینے کے لئے الفاظ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوْا ہیں۔ اس جگہ تطہیر سے مراد کفار کے ہاتھ سے صاف بچا لینا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو نجس اور پلید قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:
    إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ(توبہ 9:28)
    یعنی ”مشرکین(بوجہ خباثتِ شرک)نجس ہیں“۔
    محدث ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر میں حضرت ابن جریج رومی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں:
    عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَوْلُهُ :إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوْا، قَالَ: فَرَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ، تَوَفِّيهِ إِيَّاهُ، وَتَطْهِيرُهُ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوْا“۔(تفسیر طبری جلد 6 صفحہ 456 الرقم:7136 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ ت شاکر)
    ”کہ انہوں نے قول الہٰی إِنِّي مُتَوَفِّيكَ ...الخ کے بارے میں کہا کہ خدا تعالیٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لینا ہی آپ کی توفی ہے اور یہی کفار سے تطہیر ہے“۔
    73
    جملہ تفاسیر معتبرہ کیا معقولی اور کیا نقولی مثل تفسیر کبیر و تفسیر معالم و جلالین و تفسیر فیضی و رحمانی و فتح البیان و جامع البیان و مدارک و سراج منیر و خازن و کشاف و تفسیر ابی السعود و عباسی و بیضاوی و تفسیر ابن کثیر میں کے معنی کفار کے ہاتھ سے خلاصی اور نجات لکھے ہیں74۔ بلکہ تفسیر فتح البیان اور ابن کثیر میں اس جگہ رفع الیٰ السمآء بھی ذکر کیا ہے۔
    پس آیت إِنِّي مُتَوَفِّيكَ ...الخ کے صحیح معنی یہ ہوئے کہ: اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھے پورا پورا لے لوں گا اور تجھے اپنی طرف آسمان پر اٹھا لوں گا اور تجھے کفار کے شر سے صاف بچا لوں گا۔
    تعجب ہے کہ قرآن مجید کی صاف صاف تصریحات کے برخلاف ایک مسلمان کس طرح تسلیم کر سکتا ہے کہ یہود نے آپ کو پکڑوا کر صلیب پر چڑھوا دیا اور آپ کے سر پر(استہزاء)کانٹوں کا تاج پہنایا گیا اور آپ کے ہاتھ پاؤں میں میخیں ٹھونکی گئیں اور آپ کی پسلی میں نیزہ مارا گیا۔ نعوذ باللّٰه من ذالك 75

    اگر کوئی کہے اس جگہ تطہیر سے مراد ان الزاموں سے بری کرنا ہے جو یہود آپ کی ولادتِ بلا پدر کے بارے میں لگاتے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سب الزاموں سے پاک کیا اور بری بیان کیا اور یہ امر قرآن شریف میں متعدد مقامات پر اشارۃً صراحۃً مذکور ہے۔ لیکن خاص اس مقام پر تطہیر سے مراد سوائے ان کے مکر
    76 سے بچا لینے کے اور کچھ نہیں۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مُطَهِّرُكَ کا وعدہ بوقت تبلیغ رسالت ہے۔ جب یہود آپ کے قتل کے درپے تھے۔ جیسا کہ سابقاً فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ الْكُفْرَ(ال عمران 3:52)اور وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ(ال عمران 3:54)کی تفسیر میں مذکور ہو چکا ۔ اور ان الزامات سے برأت اس سے پیشتر تکلم في المهد سے ہو چکی تھی۔ اور جو امر پہلے گذر چکا ہو اس کا آئندہ وعدہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وعدہ ہمیشہ اس امر کا کیا جاتا ہے جو حاصل نہ ہو۔ پس وعدہ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوْا جو تکلم في المهد سے کئی سال بعد ہوا اس سے برأت از طعن مراد نہیں ہو سکتی۔ اور چونکہ بالکلیہ صاف صاف بچا لینا تھا 77 اس لئے مبالغۃً اس معنی کو لفظِ تطہیر سے بیان کیا۔ چنانچہ اس کی کچھ تفصیل مُتَوَفِّيكَ کی بحث میں گذر چکی اور کچھ ابھی مذکور ہو گی۔ انشاء اللہ

    اگر کہا جائے کہ تطہیر از طعن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی معرفت قرآن شریف میں کی جانے کی بابت وعدہ ہو سکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن شریف نے صرف حکایۃً مضمون بیان کیا ہے جو عیسیٰ علیہ السلام نے عادۃً کلام نہ کرنے کی عمر میں بیان کیا تھا۔ پس اصل برأت تو اس سے ہو گی اور کوئی فعل نقل کرنے والے کی طرف اصالۃً منسوب نہیں ہو سکتا۔ پس یہ عذر درست نہیں۔
    78

    نکتہ: اس جگہ الی السمآء کو توفی سے تعبیر کرنے میں ایک خاص نکتہ ہے جو تفسیر کبیر اور خازن میں مذکور ہے کہ:
    أَنَّ التَّوَفِّيَ أَخْذُ الشَّيْءِ وَافِيًا، وَلَمَّا عَلِمَ اللَّهُ أَنَّ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَخْطُرُ بِبَالِهِ أَنَّ الَّذِي رَفَعَهُ اللَّهُ هُوَ رُوحُهُ لَا جَسَدُهُ ذَكَرَ هَذَا الْكَلَامَ لِيَدُلَّ عَلَى أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ رُفِعَ بِتَمَامِهِ إِلَى السَّمَاءِ بِرُوحِهِ وَبِجَسَدِهِ“(تفسیر کبیر جلد 8 صفحہ 237 مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت)
    ”توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو بتامہ لے لینا اور چونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ کسی شخص کے دل میں یہ بھی خیال گزرے گا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی(صرف)روح کو اٹھایا اور جسم کو نہیں اٹھایا تھا، اس لئے اللہ نے یہ کلام(إِنِّي مُتَوَفِّيكَ)فرمایا تاکہ اس امر پر دلالت کرے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتامہ مع جسم اور روح(زندہ )آسمان پر اٹھا لیا“۔

    سبحان اللہ! قرآن شریف کیسا معجز کلام ہے اور امام رازی رحمۃ اللہ علیہ بھی قرآن شریف کے کیسے رمز شناس ہیں کہ جو بات مرزا جی کئی صدیاں بعد کہنے والے تھے اس کی تردید پہلے ہی فرما دی۔ یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جو پوری پوری واقع ہوئی۔ سُبْحَانَ مَآ اَصْدَقَ کَلَامَهُ

    کشف مغالطہ:

    صحیح بخاری میں مذکور ہے: ”قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مُتَوَفِّيكَ مُمِيتُكَ“(صحیح بخاری کتاب التفسیر المائدہ صفحہ 1137 الرقم:4622 مطبوعہ دار ابن کثیر) یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہ مُتَوَفِّيكَ کے معنی مُمِيتُكَ کرتے ہیں۔

    مرزا صاحب قادیانی کو الہام بافی کے علاوہ مغالطہ دہی میں خاص کمال تھا اور کسی سیدھی بات کو بھی الٹا کر کیا کا کیا کچھ کر دکھانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ بس اس مُمِيتُكَ سے پہاڑ سر پر اٹھا لیا اور ایک طوفان برپا کر دیا کہ لو جی! حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی وفاتِ مسیح علیہ السلام کے قائل تھے اور امام بخاری کا بھی یہی مذہب تھا۔(روحانی خزائن: جلد 8 سِرّ الخلافۃ: صفحہ 408، روحانی خزائن: جلد 3 اِزالہ اوھام: صفحہ:349و224تا225)

    جناب مرزا صاحب نے نہ تو صحیح بخاری کسی استادِ حدیث سے پڑھی کہ اسے سمجھتے اور نہ اس کے سمجھنے کی قابلیت رکھتے تھے۔ بلکہ جیسا کہ وہ خود اقرار(حمامۃ البشری، تبلیغ مصنفہ مرزا صاحب) کرتے ہیں، علم حدیث سے مناسبت ہی نہ رکھتے تھے۔ پھر علم حدیث میں ان کے قول کا کیا اعتبار؟۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    73:ہمارے اکمل صاحب اس مقام پر سخت حیران ہیں۔ کبھی تو تطہیر سے مراد تخلیص مان جاتے ہیں، گو الٹی طرف سے ناک پکڑ کر اور صاف انکار کر جاتے ہیں اور کبھی نہایت سادگی سے کہتے ہیں: مگر یہ تخلیص و انجاء کیا آسمان پر جانے ہی سے ممکن ہے؟ کیا دوسرے ملک میں چلے جانے سے ممکن نہ تھی؟(صفحہ31)
    جواب: معقولات جانے آپ کی بلا۔ سنئے! ممکنات میں سے جب ایک صورت واقع ہو جائے تو وہ ممکن درجہ وجوب میں آ جاتا ہے۔ پس اس کے علاوہ دوسری ممکن صورتوں کے امکان کی وجہ سے اس ”واجب“ کا انکار سفاہت ہے۔ اور اس جگہ تطہیر سے مراد تخلیص بنا پر موقع ذکر ہے۔ اسے اصطلاحِ اصول میں ”سوقِ کلام“ کہتے ہیں جو آپ نہیں جانتے اور قرائنِ حالیہ و مقالیہ اس کے موید ہیں۔ سعادت الاقران
    74:اکمل صاحب نہایت بے باکی سے لکھتے ہیں: ”اور پندرہ تفاسیر کا حوالہ جو دیا ہے کہ ان میں اس آیت کے معنی کفار کے ہاتھ سے خلاصی و نجات کے لکھے ہیں وہ برابر ہمارے اعتقاد کی تصدیق کر رہے ہیں کہ اللہ نے اپنی نبی کو ان کے ہاتھوں سے خلاصی نجات دی اور کشمیر چلے آئے(صفحہ37)
    جواب: اکمل صاحب مفسرین پر یہ افتراء کیسا؟ ان میں سے جس تفسیر میں کشمیر کی تصدیق لکھی ہے بھلا کسی مجلس میں دکھائیں تو سہی ورنہ قادیان میں ہی شرما چھوڑیں۔ ہاں سماء کے معنی کشمیر کر لیں تو امر دیگر ہے۔ سچ ہے: إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَاذِبُونَ(النحل 16:105) یعنی ”افتراء باندھنا بے ایمانوں کا کام ہے اور وہ سب جھوٹے ہوتے ہیں“۔ قادیانی میں بھی تو مزے ہیں کہ جھوٹ بنایا اور خلقت کو لوٹ لیا۔ سعادت
    75:یہ سب امور نصاریٰ کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ جن کے اعتبار سے سر سید احمد صاحب علیگڈھی اور مرزا صاحب قادیانی تصلیبِ مسیح علیہ السلام کے قائل ہوئے ہیں۔ نہ تو یہ کتابیں معتبر ہیں اور نہ ان کے بیانات قابل اعتبار ہیں۔
    اوّل: اس وجہ سے کہ ان کتابوں کے مصنفین تک ان کی سند متصل نہیں اور نہ ان کی طرف ان کی نسبت کا صحیح ہونا ثابت ہے۔
    دوم: اس وجہ سے کہ جن مصنفوں نے بھی ان کو لکھا ہے انہوں نے واقعاتِ مندرجہ کی کوئی سند نہیں بیان کی اور نہ سلسلۂ روایت ذکر کیا۔
    سوم: اس وجہ سے کہ ان میں یہ بھی مرقوم ہے کہ جب سپاہی حضرت مسیح علیہ السلام کو گرفتار کرنے آئے تو آپ کے ”شاگرد بھاگ گئے“ ۔دیکھو انجیل متی 26:56اور انجیل مرقس 14:50۔ پس جب واقعہ کے وقت کوئی بھی مومن موجود نہیں تھا تو کس کی شہادت سے اس کا اعتبار کیا جائے؟
    چہارم: اس وجہ سے کہ واقعۂ صلیب اور اس کے ضمیمہ جات کی نسبت انہی مصنفین اناجیل میں کئی قسم کی اختلاف بیانیاں ہیں: مثلاً
    (۱)متی 26:48اور مرقس 14:44 اور لوقا 22:47 میں مرقوم ہے کہ یہوداہ اسکریوطی نے آپ کی پیشانی پر بوسہ دے کت آپ کو شناخت کرایا۔ لیکن اس کے برخلاف یوحنا 18:5 میں مرقوم ہے کہ خود حضرت مسیح علیہ السلام نے سپاہیوں کو اپنے آپ بتایا کہ میں مسیح علیہ السلام ہوں انہوں نے آپ کو گرفتار کر لیا۔
    (۲)اسی متی 27:32 اور مرقس 15:21 اور لوقا 23:26 میں مسطور ہے کہ سپاہیوں نے ایک دیہاتی شخص شمعون کرینی کو جو دیہات سے آ رہا تھا بیگاری پکڑا اور اسے حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیب اٹھوائی اور وہ اسے اٹھا کر مقام گلکتا تک جہاں وہ صلیب دیئے گئے لے گئے۔ لیکن اس کے برخلاف انجیل یوحنا 19:17 میں مسطور ہے کہ صلیب خود حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے کندھوں پر اٹھائی اور مقام گلکتا تک لے گئے۔
    (۳)اسی طرح متی 27:5 میں اس روپیہ کی بابت جو یہوداہ اسکریوطی نے حضرت مسیح علیہ السلام کو پکڑوانے کی رشوت میں لیا، یہ لکھا ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد یہوداہ وہ روپیہ مقدس میں پھینک کر چلا گیا اور جا کر اپنے آپ کو پھانسی دی۔ لیکن اس کے برخلاف کتاب رسولوں کے اعمال 1:18میں لکھا ہے کہ اس نے اس روپے سے ایک کھیت حاصل کیا اور سر کے بل گرا اور اس کا پیٹ پھٹ گیا اور اس کی ساری انتڑیاں نکل پڑیں۔
    پس ایسے صاف اختلافات کے ہوتے ان کا بیان ہرگز قابل اعتبار نہیں رہتا۔ اور صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو فرمایا: وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ(النساء 4:157)بالکل حق ہے۔ یعنی ”جن لوگوں نے اس امر میں(حق سے)اختلاف کیا وہ بالضرور شک میں ہیں۔ ان کو سوائے گمان کی پیروی کے کوئی بھی علم نہیں“۔ کتاب ہذا کے صفحہ(......)کے حاشیہ نمبر2 پر جو وعدہ کیا گیا ہے اس کا کسی قدر ایفا اس جگہ کر دیا ہے۔سعادت
    76:اکمل صاحب بھی عجیب کمال کے بندے ہیں کہ لفظ مکر کی اس تشریح کو جو ہم نے سابقاً کئی صفحوں میں بیان کی ہے نظر انداز کرکے فرماتے ہیں مکر کیا تھا؟ آپ خود ہی حسبِ قول اپنے بول اٹھے ”قتل“۔ بس اس اللہ نے جنات دے دی۔(صفحہ30)
    جواب: جناب والا! اس جگہ مکر سے مراد قتل مع اس کے اسباب کے ہے۔ کیونکہ قتل کے لئے کوئی نہ کوئی صورت اور اس کے اسباب ضروری ہیں اور وعدہ مُطَهِّرُكَ میں قتل اور اس کے اسباب سے بالکلیہ صاف صاف بچا لینا مقصود ہے۔ پس نہ قتل ہوا اور نہ اسبابِ قتل جن کا انہوں نے منصوبہ باندھا تھا منعقد ہو سکے۔ اسی لئے مَا قَتَلُوهُ کے بعد مَا صَلَبُوهُ کی تصریح ضروری ہوئی۔ کہ صلیب پر چڑھانا قتل کا ذریعہ اور سبب تھا۔ پس اس کی بھی نفی کر دی۔ فافہم۔ ولا تكن من القاصرين۔ سعادت
    77:اکمل صاحب نے اس موقع پر عجب کمال دکھایا ہے کہ صلیب پر کئی ایک مصیبتیں اٹھا کر اور نیم مردہ ہو کر صرف موت سے بچ رہنے کی بابت بھی لکھتے ہیں ”صاف بچ نکلے“۔
    جواب: سبحان اللہ! صاف صاف بچنے کی یہ صورت قادیان والے ہی سمجھتے ہوں گے۔ بندۂ خدا! کیوں عقل کے پیچھے ٹوٹ پڑے ہو اور جس امر کو خدا تعالیٰ نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ وَمَا صَلَبُوهُ(النساء 4:157)یعنی اسے سولی پر بھی نہ چڑھایا۔ خوامخواہ اس کے خلاف کیوں باتیں بناتے ہو؟ سعادت الاقران
    78:اکمل صاحب نے یہاں پر نئی توجیہ نکالی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ”یہ وعدہ تطہیر علاوہ اس کے اس الزام کے متعلق ہے جو لعنتی موت کا یہود لگاتے تھے“(صفحہ31)
    جواب: جناب من! علاوہ کا علاوہ کیوں ساتھ رکھ دیا۔ اس کی تو کافی تردید ہو چکی کچھ جواب بن آیا نہیں اور علاوہ یونہی لکھ مارا۔ دیگر یہ کہ ”لگاتے تھے“ کیسے دھر گھسیٹا۔ ذرا سوچو تو یہ بشارت تو آپ کو زندگی میں واقعۂ صلیب سے قبل ہو رہی ہے۔ واقعہ صلیب سے پیشتر لعنتی موت کا الزام کیسے متصور ہو سکتا ہے کہ آپ نے ”لگاتے تھے“ بصیغہ ماضی لکھ مارا۔ بریں اکملیت بباید گریست۔ دیگر یہ کہ صلیب پر چڑھایا جانا یا کہ اس سے قتل کیا جانا کوئی گناہ نہیں کہ موجبِ الزام ہو سکے۔ پس اس سے تطہیر کی کیا ضرورت ہے؟ اگر کہا جائے کہ یہود کے خیال میں صلیب کی موت لعنتی تھی جیسا کہ کتاب استثنا میں مذکور ہے، پس اس نظر سے صلیب کی موت موجبِ الزام ہو سکتی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ کتابِ استثنا کے اس حوالہ سے یہ نتیجہ نکالنا قادیانی ایجاد ہے۔ وہاں کہیں بھی مذکور نہیں کہ مطلقاً ہر صلیب پر لٹکایا ہوا لعنتی ہوتا ہے۔ بلکہ خاص اس شخص کو ملعون کہا گیا ہے جو کسی جرم واجب الصلیب کی سزا میں مصلوب ہو جیسا کہ نفس عبارت میں مذکور ہے۔ دیکھو کتاب استثناء باب 21 آیت 22 میں مکتوب ہے:”اور اگر کسی نے کوئی ایسا گناہ کیا ہو جس سے اُسکا قتل واجب ہو...الخ“۔
    دیگر یہ کہ قرآن شریف میں یہود کا ادعائے قتل صرف ان الفاظ میں ذکر کیا ہے: إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ...الخ اور اس کے ساتھ ان کے قول سے صَلَبْنَا ذکر نہیں کیا اس سے صاف کھل سکتا ہے کہ یہود نفسِ قتل پر فخر کرتے تھے اور اس کے ذریعہ یعنی صلیب کی کوئی اہمیت ان کی نظر میں نہ تھی۔ ورنہ اللہ تعالیٰ اسے بھی ان کی طرف سے اس ادعائے مفاخرت کے ساتھ ہی ذکر کرتا۔ پس جب وہ صلیب پر لٹکانے پر فخر ہی نہیں کرتے تو اسے ان کے نزدیک موجبِ طعن و الزام گرداننا صرف قادیانی تصور و تخیل کا نتیجہ ہے اور ”بلی کو چھچھڑوں کے خواب“ کا مصداق ہے۔ اس کی مزید تشریح آیت وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ کی تفسیر میں ہو گی۔ انشاء اللہ۔ سعادت
  6. ‏ ستمبر 7, 2015 #36
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    کسی روایت کی تشریح کے لئے ضروری ہے کہ اس کی صحت معلوم کرنے کے بعد اوّل تو اس کے جملہ طرق جمع کئے جائیں، پھر اس مضمون کی جملہ روایات کو سامنے رکھ کر علوم آلیہ کی مدد سے اسے حل کیا جائے۔ مرزا جی کی علمی بضاعت جاننے والے اصحاب جانتے ہیں کہ مرزا جی کی نظر علم روایت میں بہت ناقص تھی اور فہم قاصر، پھر خود غرضی کا بھوت سر پر سوار، مزید برآں کذب و افتراء اور مغالطہ سے بے خوفی، پھر وہ ایک مضمون کی جملہ روایات اور ایک روایت کے جملہ طرق کو کس طرح اور کیوں جمع کریں، بالخصوص جب اس طرح کی تحقیقات کا نتیجہ اپنے ادّعا اور مدعا کے خلاف ہو۔ وہ تو صرف لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ جانتے تھے اور أَنتُمْ سُكَارَىٰ سے ان کو کچھ واسطہ نہ تھا۔
    چنانچہ ہم خدا کے فضل سے ان کے ہر دو مغالطات کو دور کرکے حقیقت الامر کو منکشف کرتے ہیں۔

    پہلا مغالطہ یہ ہے کہ حضرت اب عباس رضی اللہ عنہ وفاتِ مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سراسر افتراء ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات قبل النزول کے قائل ہرگز نہ تھے۔ صحابہ میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رفع آسمانی کی بیشتر روایات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے شاگردوں ہی سے مروی ہیں۔ چنانچہ تفاسیر مبسوط ان سے بھری پڑی ہیں۔ آپ نے جو مُتَوَفِّيكَ سے مراد مُمِيتُكَ بتائی ہے تو اس کے یہ معنی نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آئندہ زمانہ میں کسی وقت فوت کرے گا۔ کیونکہ مُتَوَفِّيٌ اسم فاعل کی وضع میں زمانِ مستقل ہوتا ہے، کیونکہ اس کا اشتقاق فعل مضارع سے ہوتا ہے۔ چنانچہ مراح میں ہے: ”اِسْمُ الْفَاعِلِ وَهُوَ اِسْمٌ مُشْتَقٌ مِّنَ الْمُضَارِع“(مراح الارواح صفحہ 26 مطبوعہ محمدیہ کلکتہ 1855ء، صفحہ 68 مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی) اور اس امر کا لحاظ قرآن شریف میں بھی کیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا: وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًاoإِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ(الکہف 18:23،24) اس آیت میں فَاعِلٌ سے جو اسم فاعل کا صیغہ ہے لفظ غَدًا منضم کیا جس کے معنی کل آئندہ کے ہیں۔79

    حاصل کلام یہ کہ مُمِيتُكَ سے مقصد یہ ہے کہ میں تجھے آئندہ زمانہ میں مار دوں گا۔ پس ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کے اجزا میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں۔ جیسا کہ مفسرین کی ایک جماعت اس طرف بھی گئی ہے کہ اگر اس جگہ َتَوَفِّیْ سے مراد موت بھی لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ توفی بالموت کا تحقق و وقوع بعد آسمان سے نازل ہونے کے ہو گا۔ اگرچہ آیت میں مقدم ہے اور رفع الی السمآء کا تحقق و وقوع قبل موت کے ہو چکا ہے، اگرچہ ذکر میں موخر ہے۔ کیونکہ ترتیبِ ذکری اور ترتیبِ وقوعی میں مطابقت ضروری نہیں اس لئے کہ واؤ عاطفہ ترتیب کے لئے نہیں ہوتی بلکہ صرف جمع کے لئے آتی ہے۔

    چنانچہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر کی بحث میں فرماتے ہیں کہ جو لوگ اس میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں ان کا قول یہ ہے:
    قَالُوا إِنَّ قَوْلَهُ وَرافِعُكَ إِلَيَّ يَقْتَضِي أَنَّهُ رَفَعَهُ حَيًّا، وَالْوَاوُ لَا تَقْتَضِي التَّرْتِيبَ، فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنْ يَقُولَ فِيهَا تَقْدِيمٌ وَتَأْخِيرٌ، وَالْمَعْنَى: أَنِّي رَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمُتَوَفِّيكَ بَعْدَ إِنْزَالِي إِيَّاكَ فِي الدُّنْيَا، وَمِثْلُهُ مِنَ التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ كَثِيرٌ فِي الْقُرْآنِ“(تفسیر کبیر جلد 8 صفحہ 238 مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت)
    ”قول الہٰی وَرافِعُكَ إِلَيَّ تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زندہ اٹھا لیا اور واؤ(عاطفہ)ترتیب کی مقتضی نہیں۔ پس سوائے اس کے اور کچھ نہ رہا کہ کہا جائے کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے اور معنی یہ ہیں کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اور کفار سے بالکل پاک صاف کرنے والا ہوں اور تجھے دنیا میں نازل کرنے کے بعد فوت کرنے والا ہوں اور اس قسم کی تقدیم و تاخیر قرآن شریف میں بکثرت ہے“۔

    اور اس سے پیشتر فرماتے ہیں:

    الْوَجْهُ الرَّابِعُ: فِي تَأْوِيلِ الْآيَةِ أَنَّ الْوَاوَ فِي قَوْلِهِ مُتَوَفِّيكَ وَرافِعُكَ إِلَيَّ تُفِيدُ التَّرْتِيبَ فَالْآيَةُ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ تَعَالَى يَفْعَلُ بِهِ هَذِهِ الْأَفْعَالَ، فَأَمَّا كَيْفَ يَفْعَلُ، وَمَتَى يَفْعَلُ، فَالْأَمْرُ فِيهِ مَوْقُوفٌ عَلَى الدَّلِيلِ، وَقَدْ ثَبَتَ الدَّلِيلُ أَنَّهُ حَيٌّ۔ وَوَرَدَ الْخَبَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ سَيَنْزِلُ وَيَقْتُلُ الدَّجَّالَ۔ ثُمَّ إِنَّهُ تَعَالَى يَتَوَفَّاهُ بَعْدَ ذَلِكَ“(تفسیر کبیر جلد 8 صفحہ 237 مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت)
    ”چوتھی وجہ یہ کہ اس آیت کی تفسیر یہ ہے کہ واؤ(عاطفہ)جو مُتَوَفِّيكَ وَرافِعُكَ إِلَيَّ میں ہے وہ مفید ترتیب نہیں۔ پس یہ آیت صرف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے یہ سب معاملے کرے گا لیکن کس طرح کرے گا اور کب کرے گا، پس یہ سب کچھ کسی اور دلیل پر موقوف ہے۔ اور اس کی دلیل ثابت ہو چکی ہے کہ آپ زندہ ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث وارد ہے کہ آپ ضرور اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے بعد فوت کرے گا“۔

    امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ میں جو یہ مذکور ہے کہ قرآن مجید میں تقدیم و تاخیر کی مثالیں بکثرت ہیں، بالکل درست ہے80۔ مثلاً اسی مقام سے تھوڑا پیشتر سلسلۂ ذکر مریم علیہا السلام میں آیت: يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ(ال عمران 3:43)میں سجدہ رکوع سے پہلے ذکر کیا۔ حالانکہ ترتیب خارجی و عملی میں متاخر ہوتا ہے۔ اس کی دیگر مثالوں کے لئے تفسیر الاتقان فی علوم القرآن کا مطالعہ کرنا چاہئے کہ اس میں مستقل طور پر ایک خاص فصل اس امر کے لئے مقرر کی گئی ہے۔ اب معتبر کتابوں سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مذہب دربارہ رفع و توفی حضرت مسیح علیہ السلام بیان کیا جاتا ہے۔ امام سیوطی رحمۃ اللہ تفسیر الدر المنثور میں فرماتے ہیں کہ:

    عَن الضَّحَّاك عَن ابْن عَبَّاس فِي قَوْله ” إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ “ يَعْنِي رافعك ثمَّ متوفيك فِي آخر الزَّمَان“(تفسیر در منثور جلد 2 صفحہ 226 مطبوعہ دار الفکر بیروت، جلد 3 صفحہ 598 مطبوعہ ہجر للبحوث والدراسات العربیہ اسلامیہ ترکی)
    ”حضرت ضحاک تابعی حضرات ابن عباس رضی اللہ عنہ سے قولِ الہٰی کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ مراد اس جگہ یہ ہے کہ تجھے اٹھا لوں گا، پھر آخری زمانہ میں فوت کروں گا“۔81

    اسی طرح تفسیر ابی السعود میں ہے:
    والصحيحُ أن الله تعالى رفعه من غير وفاةٍ ولا نومٍ كما قال الحسنُ وابنُ زيد وهو اختيارُ الطبري وهو الصحيحُ عن ابن عباس رضي اللّٰه عنهما“(تفسیر ابی السعود جلد 2 صفحہ 43 مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت)
    ”کہ صحیح یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بغیر موت اور نیند کے اٹھا لیا۔ جیسے کہ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اور ابن زید رحمۃ اللہ علیہ تابعین نے کہا۔ اور یہی امام ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ نے اختیار کیا ہے اور یہی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح(طور سے ثابت)ہے“۔

    اسی طرح تفسیر ابن کثیر جلد 7 صفحہ 217 مطبوعہ دار الکتب علمیہ بیروت اور تفسیر فتح البیان جلد 12 صفحہ 368 مطبوعہ مکتبہ العصریہ بیروت میں بذیل آیت: وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ(زخرف43:61) یعنی تحقیق وہ(حضرت عیسی علیہ السلام)قیامت کا ایک نشان ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مذہب دوبارہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام مذکور ہے82 کہ وہ اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو قربِ قیامت کی نشانی جانتے تھے۔

    اسی طرح محدث ابن جریر رحمۃ اللہ نے آیت: وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ(النساء 4:159)کی تفسیر میں:
    عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ، قَالَ: قَبْلَ مَوْتِ عِيسَى“(تفسیر طبری جلد 9 صفحہ 380 الرقم:10795 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ ت شاکر)
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ تابعی کی روایت سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا کہ قَبْلَ مَوْتِهِ سے مراد قَبْلَ مَوْتِ عِيسَى ہے۔

    نیز فتح الباری جلد 6 صفحہ 492 الرقم الحدیث:3448 مطبوعہ دار المعرفہ بیروت، ارشاد الساری جلد 5 صفحہ 419 الرقم الحدیث:3448 مطبوعہ الکبری الامیریۃ مصر اور عمدۃ القاری جلد 16 صفحہ 39 الرقم الحدیث:8443 مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت ہر سہ شروح صحیح بخاری میں آیت: وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ میں قَبْلَ مَوْتِهِ کی ضمیر کے بارے میں لکھا ہے کہ بسند صحیح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہی ثابت ہے کہ یہ ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے اور ان سے جو یہ مروی ہے کہ یہ ضمیر کتابی کی طرف پھرتی ہے اسے ضعیف لکھا ہے کیونکہ اس کی اسناد میں ایک راوی خصیف ہے جو ضعیف ہے۔

    پس تصریحاتِ بالا سے ثابت ہو گیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اعتقاد یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں83 اور آخری زمانہ میں آسمان سے نازل84 ہوں گے اور اس کے بعد فوت ہوں گے۔
    چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    فَعِنْدَ ذَلِكَ يَنْزِلُ أَخِي عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ مِنَ السَّمَاءِ“(کنز العمال جلد 14 صفحہ 618 الرقم:39726 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ، تاریخ دمشق جلد 47 صفحہ 505 مطبوعہ دار الفکر بیروت)
    ”پس ان(مذکورہ)واقعات کے وقت میرا بھائی عیسیٰ ابن مریم آسمان سے اترے گا“۔

    باقی رہا
    دوسرا مغالطہ کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی وفات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے، سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ پہلے سے بھی بڑا دلیرانہ افتراء ہے۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ محدثین میں سے ہیں۔ وہ خلافِ قرآن و حدیث و اجماع صحابہ کرام کوئی اعتقاد کیسے رکھ سکتے ہیں، یہ مرزا صاحب کا افتراء ہے اور عوام کو دھوکا ہے۔

    اوّل: اس وجہ سے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کے معنی معلوم ہو چکے ہیں کہ محدثین کے نزدیک کیا ہے۔ پس امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا قول بھی بوجہ امام حدیث و حافظ روایت ہونے کے وہی ہے، نظر بر روایات دیگر۔
    دوم: اس وجہ سے کہ نقل قول صحابی مستلزم اعتقادِ ناقل نہیں۔ كما لا يخفي علي الماهر الذ كي۔
    سوم: یہ کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا مستقل باب باندھا ہے اور اس کے ذیل میں صحیح حدیث نزول کی ذکر کی ہے اور اسی حدیث کو سب محدثین نے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے اصل دستاویز بنا اور دیگر سب روایات کو اس کے تابع رکھا۔
    چہارم: یہ کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اسی موقع پر آیت وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ...الخ(المائدہ 5:116) کی تفسیر میں کہ إِذْ صلہ ہے اور قَالَ بمعنی يَقُوْلُ یعنی بمعنی مستقبل ہے اور اس صورت میں معاملہ قیامت پر جا پڑتا ہے85۔ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اہلسنت کے ساتھ رہتے ہیں، پس امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ وفاتِ قبل النزول کے قائل ہرگز نہیں ہو سکتے، لہٰذا مرزا صاحب کا دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے۔ واللّٰه الموفق
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    79:چنانچہ اکمل صاحب نے بھی اس آیت کے ترجمہ میں سب جگہ مستقبل کے صیغے لکھے ہیں۔دیکھو ان کی کتاب کا صفحہ 21 سطر 15تا20 تک۔سعادت
    80:ہر چند کہ تقدیم و تاخیر کی مثالیں قرآن مجید میں بکثرت ہیں لیکن اکمل صاحب کبھی تو اسے غیر معقول کہہ دیتے ہیں اور کبھی الٹی طرف سے ناک پکڑ کر تسلیم کر لیتے ہیں۔ مگر شاباش! ان کی ہمت پر کہ اپنی ہٹ سے نہیں ہٹتے۔ س ان کے جواب میں حضرت سعدی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر مناسب کافی ہے:؎

    آن کس که به قرآن و خبر زو نرهی......آنست جوابش که جوابش ندهی
    81:باوجود اس کے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما تصریح کرتے ہیں اور ہم سب کا یہی مذہب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں فوت ہوں گے، پھر بھی اکمل صاحب کہتے ہیں: ”جب وہ قیامت کے بعد تک موت نہ ہوئی تو اچھے خاصے خدا بن گئے“۔(صفحہ 34)
    جواب: جناب والا! پھر روح بھی خدا ہوئی کیونکہ اسے بھی فنا نہیں، غالباً اسی لئے مولوی سید سرور شاہ صاحب احمدی قادیانی نے مباحثہ سیالکوٹ میں پادری عبد الحق صاحب مسیحی مناظر کے جواب میں کہا تھا کہ خدا روح ہے۔ معاذ اللہ! ان لوگوں کو نہ علم ہے ، نہ عقل۔ سعادت
    82:اکمل صاحب قادیانی بد مذاقی میں نہایت کامل ہیں۔ اس مقام پر اعتراض کرتے ہیں: ”اگر نزولِ ثانی کا اعتقاد کا ذکر ہے تو آپ نے اسے مفصل کیوں نہ لکھا“۔(صفحہ34)
    جواب: جناب مفصل اس لئے نہ لکھا کہ اس کتاب کا موضوع نزولِ مسیح علیہ السلام نہیں، فافہم۔ آدابِ تصنیف سیکھئے پھر اعتراض کیجئے۔ سعادت
    83:اکمل صاحب علم میں تو جو کمال رکھتے تھے وہ معلوم ہو چکا ہو گا۔ آپ عقل میں بھی اکمل ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مذہب ہم نے بدلائلِ ثابت کر دیا کہ وہ نزول من السمآء اور بعد نزول کے وفاتِ مسیح علیہ السلام کو مانتے ہیں۔ اس پر اکمل صاحب سے کچھ بن نہ پڑا تو آپ فرماتے ہیں: ”ان کا اپنا مذہب خواہ کیا ہو ایک اہل زبان اور پھر صحابی کی شہادت تو مل گئی کہ توفی کے وضعی معنی موت کے ہیں“(صفحہ 33)
    جواب: اس وقت زیر نزاع یہی امر ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مذہب دربارۂ وفات و نزول مسیح علیہ السلام کیا ہے؟ پس جب ثابت ہو گیا کہ وہ رفع و نزول ہر دو کے قائل ہیں اور وفات بعد النزول مانتے ہیں تو اہلسنت کا مذہب ہے تو آپ کے مرزا صاحب کا مغالطہ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ وفاتِ قبل النزول کے قائل ہیں، طشت از بام ہو گیا۔ اور آپ نے جو لکھا کہ توفی کے وضعی معنی موت کے ثابت ہو گئے، یہ آپ کی علمی بے کمالی ہے۔ اس سے بعض اوقات موت مراد ہونا تو محل کلام نہیں، محل تحقیقات تو یہ ہے کہ اس سے مراد موت از روئے حقیقت ہے یا ازروئے مجاز؟ سو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ والی روایت میں اس کا کوئی فیصلہ نہیں ہے۔ پھر کس طرح ثابت ہو گیا؟ فافہم۔ سعادت الاقران
    84:اکمل صاحب کو قادیانی تقلید میں اسلام اور کفر میں بھی تمیز نہیں رہتی۔ چنانچہ اس نزول کی بابت فرماتے ہیں: نزول سے مراد کسی چیز کا بروزی طور سے آنا ہے۔ یعنی اس کی روح و قوت میں(صفحہ 34)
    جواب: جناب والا! پھر تناسخ کیا ہوا؟ سعادت
    85:اس کی مزید تفصیل شہادت القرآن حصہ دوم میں صفحہ(...سے...تک) دیکھو۔
  7. ‏ ستمبر 7, 2015 #37
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    تذییل و تتمہ:
    اب ذیل میں بطور تتمہ کے ان کتابوں کا نام لکھا جاتا ہے جس میں اس امر کی تصریح کی گئی ہے کہ واوِ عاطفہ ترتیب کے لئے نہیں بلکہ مطلق جمع کے لئے آتی ہے۔ یہ اس لئے کے اگر بالفرض توفی سے مراد موت بھی لی جائے تو بھی رفع و نزول سے پیشتر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا واقع ہونا ثابت نہیں ہو سکتا، بلکہ واقعات کی صورت یوں ہو گی کہ پہلے رفع آسمانی ہوئی، پھر قرب قیامت میں نزول ہو گا، پھر اس کے چند سال بعد وفات ہو گی86۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس، ضحاک اور ائمۂ مفسرین رحمہ اللہ علیہم کا مذہب ہے۔ کیونکہ آیت بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ(النساء 4:158) رفع آسمانی میں نص قطعی ہے۔ كَمَا سَيَجِيْئُی بَيَانُهُ اِنْشَا ء اللّٰه اور مجموع احادیثِ نزول جن میں حضرت عیسی علیہ السلام کا آسمان سے نزول اور ان کے بعض کام اور حج و عمرہ اور مدت اقامت اور وفات اور مدفن کا ذکر ہے اسی ترتیب کو چاہتی ہیں۔
    چنانچہ محدث ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ توفی کی مختلف صورتیں نقل کرنے کے بعد بطور فیصلہ لکھتے ہیں:
    قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: وَأَوْلَى هَذِهِ الْأَقْوَالِ بِالصِّحَّةِ عِنْدَنَا قَوْلُ مَنْ قَالَ: مَعْنَى ذَلِكَ: إِنِّي قَابِضُكَ مِنَ الْأَرْضِ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ؛ لِتَوَاتُرِ الْأَخْبَارِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيُقْتَلُ الدَّجَّالَ“ ثُمَّ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ مُدَّةٌ ذَكَرَهَا اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ فِي مَبْلَغِهَا، ثُمَّ يَمُوتُ، فَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ وَيَدْفِنُونَهُ“(تفسیر طبری جلد 6 صفحہ 458 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ ت شاکر)
    ”ابو جعفر(محدث ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ)کہتا ہے کہ ان سب اقوال میں سے ہمارے نزدیک اولیٰ بصحت ان کا قول ہے، جو کہتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ میں تجھے زمین سے لے لینے والا ہوں، اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے متواتر حدیثیں مروی ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ عیسی بن مریم علیہ السلام اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ پھر زمین میں اتنی مدت رہیں گے جو آپ نے ذکر کی اور اس کی تحدید میں مختلف روایتیں ہیں، پھر مریں گے اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے اور ان کو دفن کریں گے“۔87
    اس کے بعد امام ممدوح نے بعض احادیثِ نزول ذکر کی ہیں جن کی بنا پر انہوں نے فیصلہ بالا دیا ہے۔ اب ہر فن کی کتابوں کے نام لکھے جاتے ہیں جن میں لکھا ہے کہ واؤ ترتیب کے لئے نہیں ہوتی۔

    علم نحو:
    الکافیہ فی علم النحو لابن الحاجب، شرح ملا جامی علی الکافیہ، شرح الرضی علی الکافیہ، معرب الاظہار زینی زادہ، ترتیب سعدی، تکملہ مولٰنا عبد الحکیم سیالکوٹی، الفیہ ابن مالک، حاشیہ الفیہ، شرح الفیہ لابن عقیل، مفصل للزمخشری، الفیہ للسیوطی۔
    علم اصول:
    حصول المامول، ارشاد الفحول، اصول شاشی، حواشی، حسامی، نو ر الانوار، کاشف، اسرار اصول بزدوی، آیات بنیات، شرح جمع الجوامع، منہاج للبیضاوی، شرح الاسنوی، مسلم الثبوت، فواتح الرحموت، توضیح تلویح حاشیہ للفنری، تحریر للابن الہمام، تقریر لابن امیر الحاج۔
    علم بلاغت:
    مختصر المعانی، مواہب المفتاح، عروس الافراح، نہایۃ، الایجاز للامام الرازی رحمہ اللہ۔
    علم ادب:
    شرح سبعہ معلقہ، قصیدہ لبید بن ربیعہ میں مولوی فیض الحسن صاحب مرحوم سہارنپوری جو ہندیوں میں زبانِ عربی کے ماہر ادیب مانے گئے ہیں، اس کی تصریح فرماتے ہیں، شعر یہ ہے:
    أُغْلِي السِّباءَ بِكُلِّ أدْكَنَ عَاتِقٍ.......أَوْ جَوْنَة ٍ قُدِحَتْ وفُضَّ خِتَامُهَا
    اس شعر میں شراب کا نکالنا پہلے مذکور ہوا اور ڈاٹ کا کھولنا پیچھے، حالانکہ ترتیب واقعی و عملی میں معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ یعنی بوتل کا ڈاٹ پہلے کھولا جاتا ہے اور شراب یا جو کچھ بوتل کے اندر ہو پیچھے نکالا جاتا ہے۔
    قرآن کریم:
    1:سورہ نحل میں فرمایا:
    وَاللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ(نحل 16:78)
    ”اور خدا نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں خارج کیا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر کرو“۔
    اس آیت میں ماں کے پیٹ سے نکالنا پہلے ذکر کیا گیا ہے اور دل اور آنکھ اور کان کا بنانا پیچھے، لیکن ترتیب واقعی میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یعنی اعضا پہلے بنتے ہیں اور بہت مدت بعد از آں بچہ پیٹ سے خارج ہوتا ہے۔
    2:سورۃ البقرہ میں ہے:
    وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ(البقرہ 2:58)
    یعنی:” خدائے تعالیٰ نے یہودیوں کو حکم کیا کہ دروازہ شہر میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور زبان سے کہنا بخشش“۔
    اسی مضمون کو سورۂ الاعراف میں یوں بیان کیا ہے:
    وَقُولُوا حِطَّةٌ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا(الاعراف 7:161)
    اس جگہ اوپر کے مقام کی ترتیب کے خلاف کلمہ حِطَّةٌ کا کہنا پہلے ذکر کیا اور شہر کے دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونے کا ذکر پیچھے کیا، حالانکہ واقعہ ایک ہی ہے۔ چنانچہ شرح رضی میں اس آیت کی بنا پر کہا ہے کہ:
    ولو كانت للترتيب، لتناقض قولُه تعالى: وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ ، وَقَوْلَهُ تعالى في موضع آخر: وَقُولُوا حِطَّةٌ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا ، إِذَ الْقِصَّةُ وَاحِدَةٌ“(شرح رضی علی کافیہ جلد 4 صفحہ 382 الرقم:871 مطبوعہ منشورات جامعۃ قار یونس بن غازی لیبیا)
    ”اگر واؤ ترتیب کے لئے ہو تو اللہ کا قول: وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ اس قول کو جو دوسری جگہ وَقُولُوا حِطَّةٌ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وارد ہے توڑ دیوے۔ کیونکہ ہر(دو آیات میں)قصہ ایک ہی ہے“۔88
    3:سورۂ مومنون میں فرمایا کہ منکرینِ قیامت کہتے ہیں:
    نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ(المؤمنون 23:37)
    یعنی ”ہم مرتے ہیں اور زندہ رہتے ہیں اور(اس کے بعد)ہم(دوسری دفعہ)زندہ نہیں کئے جائیں گے“۔
    اس جگہ مرنے کو پہلے ذکر کیا اور زندہ رہنے کو پیچھے، حالانکہ ترتیب خارجی میں پہلے ”جینا“ ہوتا ہے، پیچھے ”مرنا“۔ علامہ رضی اس آیت کو بھی واؤ عاطفہ کے ترتیب کے لئے نہ ہونے پر شاہد لائے ہیں(حوالہ ایضاً)۔ قرآن شریف میں اس کی مثالیں اس قدر ہیں کہ ان کے نقل کرنے سے خوفِ طوالت ہے۔

    غرض جمہور ائمہ نحو و اصول کے نزدیک یہ امر مسلم ہے کہ واؤ عاطفہ ترتیب کے لئے نہیں ہوتی اور نیز یہ کہ ترتیب ذکری اور ترتیب خارجی یا وقوعی و عملی میں مطابقت ضروری نہیں۔
    پس اس قدر شواہد و اسناد سے یہ مسئلہ پایۂ یقین کو پہنچ گیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مذہب کہ آیت إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ میں تقدیم و تاخیر ہے، خلافِ محاورہ زبانِ عرب نہ ہوا۔

    فالحمد للّٰه معلم الحقائق وملهم الدقائق ومعطى الخيرات من معادنها ومنزل الرحمة من اماكنها ومجری البكات علیٰ اهلها۔
    ترجمہ: ”پس سب تعریفیں خدا کو ہے جو سچے امور کا سکھانے والا اور باریک امور کا الہام کرنے والا اور نیکیوں کا ان کی معدنوں سے عطا کرنے والا اور رحمت کا اس کی جگہ نازل کرنے والا اور برکات کا ان کے اہل پر جاری رکھنے والا ہے“۔

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    86:اکمل صاحب بڑے مزے کی باتیں بناتے ہیں۔ چنانچہ آپ عنوان آیت ”إِنِّي مُتَوَفِّيكَ“ کی ترتیب کی حکمت میں فرماتے ہیں: پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو چونکہ یہ خیال تھا کہ مشابہ بالمصلوب کی حالت پیش آنے سے فائدہ اٹھا کر یہود میری لعنتی موت کی خبر اڑا دیں گے تو اس کے جواب میں فرمایا میں تجھے کفار کے الزام سے پاک رکھوں گا۔(صفحہ 31)
    جواب: سبحان اللہ! جناب والا صلیب سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کیا معلوم تھا کہ مجھے نیم جان اتارا جائے گا اور یہ پروپیگنڈا بنایا جائے گا۔ اکمل صاحب تو اس طرح لکھتے ہیں کہ گویا آپ موقع پر موجود تھے بلکہ شریک کار تھے۔ لیکن لطف یہ ہے کہ بات ایسی بہکی ہوئی کہتے ہیں کہ موقع پر چسپاں ہی نہیں ہو سکتی۔ سچ ہے تعصب سے عقل بھی ماری جاتی ہے۔ سعادت الاقران
    87:مشکوٰۃ میں باب نزول عیسیٰ علیہ السلام میں عبد اللہ بن عمرو کی روایت میں مرفوعاً مذکور ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام(مدینہ طیبہ)داخل حجرہ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم مدفون ہوں گے۔ اس کا پورا بیان ہم نے رسالة الخبر الصحیح عن قبر المسیح علیہ السلام میں کر دیا ہے۔
    88: واوِ عاطفہ کے مفید ترتیب نہ ہونے کے متعلق علامہ فنری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی حاشیہ تلویح میں انہی دو آیتوں کو ذکر کر کے پھر ان پر یہی نوٹ لکھا ہے جو علامہ رضی نے لکھا ہے۔ سعادت الاقران
  8. ‏ ستمبر 11, 2015 #38
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    دوسری آیت

    دوسری آیت جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفعِ آسمانی قطعی طور پر ثابت ہے۔ آیت سورہ نساء ہے:
    وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًاo بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا(النساء 4:157،158)
    ”اور ہم نے اس کو اس قول کے بدلے(بھی ملعون کیا)کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام رسولِ خدا کو قتل کر دیا۔ حالانکہ انہوں نے اس کو نہ قتل کیا اور نہ اس کو صلیب پر چڑھایا، لیکن(انہوں نے)اس شخص کو قتل کیا اور صلیب دیا جو ان کے لئے مسیح علیہ السلام کا ہم شکل بنایا گیا تھا۔ اور بیشک وہ لوگ جو اس سے شک میں پڑے ان کو اس کا کوئی بھی علم نہیں سوائے ظن کی پیروی کے، اور انہوں نے اس کو ہرگز قتل نہیں کیا۔ بلکہ خدا نے اس کو اوپر اپنی طرف اٹھا لیا اور خدا غالب اور حکمت والا ہے“۔

    وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ کی تفسیر (صفحہ....) میں اور وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کی تشریح (صفحہ....سے....) تک اور وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ کی توضیح و تنقیح (صفحہ....سے....) تک بسط بیان ہو چکی اور حوالہ جارج سیل صاحب جو (صفحہ.....)پر منقول ہو چکا ہے، اس سے ظاہر ہو چکا کہ حضرت روح اللہ علیہ السلام کے واقعۂ صلیبی کی نسبت صرف فرق نصاریٰ ہی مختلف الآرا ہیں۔ لہٰذا إِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ سے یہی نصاریٰ مراد ہیں دون اليهود۔ کیونکہ یہود تو اپنے زعم میں قتل حضرت روح اللہ علیہ السلام پر جزم رکھتے ہیں۔ كما هو واضح من قوله وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ اور (صفحہ....)میں گزر چکا کہ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا سے یہود کے اس جرم مزعوم کا ابطال اور اس کی تردید منظور ہے۔ فَلَا تَكْرَارَ حِيْنَئِذٍ(پس اس صورت میں اس میں کوئی تکرار نہیں)۔

    اب کلماتِ طیبات بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ کی صحیح مراد بیان کی جاتی ہے کہ آیت متبرکہ دربارۂ حیات و رفعِ مسیح علیہ السلام الیٰ السمآء نص قطعی بعبارۃ النص ہے۔ سو واضح ہو کہ مرزا صاحب قادیانی کا یہ قول ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے تو گئے مگر زندہ اتارے گئے اور پھر خفیہ طور پر علاج کراتے رہے اور بعد ازاں بھاگ کر کشمیر میں آ گئے جہاں ستاسی سال زندہ رہ کر فوت ہو گئے۔ أَعَاذَنَا اللّٰه مِنْ هٰذهِ الْخُرَافَاتِ۔

    بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ سے کبھی رفعِ روح بتاتے ہیں اور کبھی عزت کی موت مراد رکھتے ہیں۔ مرزا صاحب کی صلیب تو فصل اول سے بالکل منکسر ہو گئی اور معنی کنائی کی تردید رَافِعُكَ إِلَيَّ میں بالاستیفا ہو چکی اور ہجرت الیٰ کشمیر کی تردید بھی آگے مذکور ہو گی۔ انشاء اللہ

    چونکہ مرزا صاحب قادیانی رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ سے رفعِ روح مراد لیتے ہیں اور اہل السنّت والجماعت سلفاً و خلفاً مطابق مرادِ الہٰی رفعِ جسم یقین رکھتے ہیں۔ اس لئے بہر دو صورت رفع کے معنی تو حقیقی ہی لئے گئے اور نیز چونکہ مرزا صاحب بھی رفعِ روح الیٰ اللہ کی صورت میں رفع الیٰ السمآء ہی بتاتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب ازالۂ اوہام(روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 234) میں اس آیت کے ذیل میں بالتصریح لکھا ہے اور اہلسنت بھی رفعِ الیٰ اللہ اور رفعِ الیٰ السمآء کو متساوق89 فی المعنی جانتے ہیں جیسا کہ رَافِعُكَ إِلَيَّ میں محقق ہو چکا ہے۔ اس لئے إِلَيْهِ سے الیٰ السمآء مراد ہونا90 بھی مسلم یقین ہو گیا۔ پس تنازع صرف جسم و روح کے مرفوع ہونے میں رہا اور بس لہٰذا رفعِ روح کا ابطال اور رفع جسم کا اثبات مدلل طور پر کیا جاتا ہے۔ وَاللّٰهُ الْمُوَفِقُ وَهُوَ نِعْمَ الْمُعِيْنُ۔

    وجہ اوّل برائے ابطال رفع روحی و اثبات رفع جسمی:

    چونکہ یہودیوں کا قول إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ ہے اور ظاہر ہے کہ قتل و صلب کے قابل جسم ہے نہ روح۔ اس لئے مزعوم یہود قتل جسد ہوا نہ قتل روح۔ بنا برآں وَمَا صَلَبُوهُ اور وَمَا قَتَلُوهُ میں بھی نفی قتل و صلب جسم ہی سے کی گئی ہے۔ پس چونکہ جملہ مضائر منصوب و متصل جو افعال منفیہ و فعل مثبت کے ساتھ ہیں یعنی جو وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ اور وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں واقع ہیں ان سب کا مرجع المسیح علیہ السلام ہے۔ اس لئے لا محالہ جسد مسیح علیہ السلام مرفوع مانا پڑھے گا۔ بنا بر اتحادِ مرجع۔ اور پھر چونکہ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں رفع کو بصیغہ ماضی تعبیر کیا ہے اور ظاہر ہے کہ زمانہ کی ماضویت بھی کسی کی نسبت سے ہو گی اور وہ ماقبل بل ہے۔ یعنی واقعۂ صلیب۔91
    جس طرح آیاتِ ذیل سے ظاہر ہے:
    أَمْ يَقُولُونَ بِهِ جِنَّةٌ بَلْ جَاءَهُم بِالْحَقِّ(المؤمنون 23:70)
    ”کیا یہ کفار کہتے ہیں کہ اسے(پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم)کو جنون ہے۔ نہیں بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے“۔
    اور آیت:
    أَمْ يَقُولُونَ بِهِ جِنَّةٌ بَلْ جَاءَهُم بِال ْحَقِّo بَلْ جَاءَ بِالْحَقِّ(الصافات 37:36،37)
    ”اور یہ(دوزخی)کہتے تھے کہ کیا ہم اس شاعر مجنون کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں(ہمارا پیغمبر شاعر و مجنون نہیں)بلکہ وہ تو حق لے کر آیا“۔
    واقعہ میں مجئ بالحق کا محقق پہلے ہوا۔ بعد ازاں ان کفارِ بد کردار نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت زعم جنون کیا۔
    اور آیت:
    وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ(الانبیاء 21:26)
    ”اور یہ(مشرک)کہتے ہیں کہ خدا نے اولاد بنائی، وہ پاک ہے، بلکہ(وہ تو)اس کے معزز بندے ہیں“۔

    واقعہ میں تکریم بعض عباد اللہ کا تحقق پہلے ہوا۔ پیچھے مشرکین نے ان کی نسبت زعم الوہیت کیا۔ اسی طرح بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں بھی یہی ملحوظ ہے کہ ما قبل بَلْ یعنی واقعۂ صلیبی پر زعم یہود بہ نسبت مسیح علیہ السلام پیچھے ہوا اور اس ے پیشتر اللہ تعالیٰ نے آپ کے جسدِ مبارک کو مرفوع الیٰ السمآء کر لیا تھا اور چونکہ واقعۂ صلیبی کے پیشتر حیاتِ مسیح علیہ السلام عند الخصم بھی مسلم ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جسد حضرت روح اللہ کو آسمان پر زندی اٹھا لیا اور یہود کے ہاتھ میں ہرگز نہ آنے دیا۔ اور یہی امتنانِ بار آیہ وافی ہدایہ وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنكَ(المائدہ5:110)میں مذکور ہے۔ اور یہی تھا وعدۂ الہٰی وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا(ال عمران 3:55)یعنی ”میں تجھ کو کفار سے بالکل پاک رکھوں گا“۔

    نیز اس لئے کہ چونکہ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں ہر دو منصوب متصل ضمیرین المسیح علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور المسیح علیہ السلام معتبر ہے جسد مع روح سے۔ اس لئے صرف اسی ضمیر سے رفعِ جسد مع روح ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ارواح مجردہ بغیر تعلق بالبدن کے قابل تسمیہ نہیں ہوتے اور نہ جسم بے روح حامل اسم ہوتا ہے۔

    شق اوّل:

    یعنی مجرد ارواح کا نام نہ رکھا جانا آیت: وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ(الاعراف7:172)علی قول اور کتاب 60 باب 2 صحیح بخاری الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ سے ثابت ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ خلق ارواح کا تحقق خلق اجسام سے متقدم ہے اور اس حالت میں ان کے نام نہیں ہوتے۔


    شق دوم:
    یعنی مجرد جسم کا نام نہ رکھا جانا مسئلہ فقہیہ عدم تسمیہ صبی در صورتِ غير مستهل ہونے سے ظاہر ہے۔

    پس واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے المسیح یعنی جسم مع روح کو جس کا نام المسیح علیہ السلام ابن مریم تھا آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ اور یہ امر بشارتِ حضرت مریم صفیۃ اللہ سے بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے علی لسان الملائکہ فرمایا: يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ(ال عمران 3:45)اس سے واضح ہو گیا کہ مسمٰی بالمسیح عیسیٰ ابن مریم ہونا بعد تحقق اثرِ کلمہ کن کے ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ ولادتِ مسیح علیہ السلام۔ فَثَبَتَ الْمُرَادُ فَالْحَمْدُللّٰه۔ اور ایسا ہی سے ظاہر ہے۔ فافهم و تدبر و تامل و لا تعجل

    وجہ ثانی برائے ابطال مزعوم قادیانی:
    آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں قتل و صلب کی نفی کے بعد اثباتِ رفع بواسطہ حرف بَلْ کیا گیا ہے اور ماہرین علم اصول و نحو پر روشن ہے کہ بَلْ ابطالیہ کے اطراف متضاد فی الحکم ہوتے ہیں اور باہم محقق نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اجتماع ضدین عقلاً محال ہے۔ جیسا کہ آیاتِ مذکورہ ذیل سے واضح ولائح ہے:


    الآیه اولیٰ: وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَل لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ(البقرہ 2:116)
    ”اور یہ(مشرک)کہتے ہیں کہ خدا نے فرزند اختیار کیا۔ وہ پاک ہے بلکہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملک ہے“۔
    الآیه الثانیه: وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ(الانبیاء 21:26)
    ”اور یہ(مشرک)کہتے ہیں کہ خدا رحمٰن نے فرزند اختیار کیا۔ وہ اس سے پاک ہے، بلکہ وہ تو ا کے معزز بندے ہیں“۔
    ان آیتوں میں ولدیت و عبودیت میں کلمہ ”بَلْ“ سے تضاد و تنافی ظاہر کر کے تنزیہہ باری سبحانہ از اتخادِ ولد کی گئی ہے۔


    الآیه الثالثة: أَمْ يَقُولُونَ بِهِ جِنَّةٌ بَلْ جَاءَهُم بِالْحَقِّ(المؤمنون 23:70)
    ”کیا یہ(منکر) کہتے ہیں کہ اسے(یعنی ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم)کو جنون ہے،(نہیں)بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لے کر آیا ہے“۔
    الآیة الرابعة: وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍoبَلْ جَاءَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِينَ(الصافات 37:36،37)
    ”اور یہ(دوزخی)کہتے ہیں کہ کیا ہم اس شاعر مجنون کے کہنے سے اپنے معبود کو چھوڑ دیں(ہمارا پیغمبر شاعر مجنون نہیں)بلکہ وہ ان کے پاس حق لایا اور دیگر رسولوں کی تصدیق کی“۔
    ان آیتوں میں کلمہ ”بَلْ“ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت مجنونیت و شاعریت کا ابطال اور آپ کے مجئی بالحق و تصدیق المرسلین کا اثبات کیا گیا ہے۔ کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق لے کر آئے ہیں اور دیگر مرسلین علیہم السلام کی تصدیق کرتے ہیں تو پھر آپ کی طرف نسبتِ مجنونیت و شاعریت بالکل باطل ٹھہری۔ اگر کلمہ بَلْ کو افادۂ مذکور کے لئے مفید تسلیم نہ کیا جائے تو معاذ اللہ! پھر تقریب ناتمام رہتی ہے۔ پس آیت معنونہ میں بھی ما قبل بَلْ یعنی مقتولیت و مصلوبیت اور ما بعدبَلْ یعنی مرفوعیت میں منافات و عدم اجتماع فی التحقیق پایا جانا چاہئے۔ اگر رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ سے مراد رفعِ روح یا اعزاز و اکرام لیا جاوے تو ناقد لبیب پر اس کا بطلان ظاہر ہے۔ کیونکہ مابین مقتولیت و مصلوبیت اور رفعِ روح و اعزاز و اکرام کے اصلاً منافاة نہیں، کیونکہ شہداء جو ظلماً مقتول ہوتے ہیں ان کے ارواح عالم بالا کو مرفوع ہوتے ہیں۔ اور وہ جنابِ باری عزاسمہ میں بغایت معظم و مکرم بھی ہوتے ہیں۔ پس بمقتضائے کلمہ بل ارادۂ رفعِ روح باطل ٹھہرا اور چونکہ مقتولیت و مصلوبیت اور رفعِ جسمی بحالت زندگی میں منافاة ہے۔ اور ہر دو معاً متحقق نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا لا بد ارادۂ رفع جسمی تسلیم کرنا پڑے گا۔ کیونکہ جب زندہ جسم مرفوع الیٰ السمآء ہو گیا تو پھر اس کو صلیب پر نہیں چڑھا سکتے۔

    سوال:
    مرزا صاحب قادیانی مقتولیتِ مسیح علیہ السلام کے قائل نہیں۔ لہٰذا تقریب بالا ان کے مذہب کے خلاف مؤثر نہیں اور نیز بموجب ان کے مذہب کے ما بعد بَلْ یعنی رفع جو کنایہ ہے اعزاز و اکرام سے اس میں اور ما قبل بَلْ یعنی قتل بالصلیب میں جو بحکم تورات مستلزم لعن ہے تنافی و تضاد متصور ہے۔ کیونکہ ملعون عند اللہ معزز نہیں ہو سکتا۔

    اما الجواب عن الشق الاوّل:
    پس واضح ہو کہ تقریر بالا گورداً بزعم الیہود ہے۔ کیونکہ وہی بالجزم اس کے خلاف کہتے تھے۔ مگر اس میں من وجہ قادیانی اعتقادِ فاسد کا ابطال و استیصال بھی بکمال وضوح عیاں ہے۔ اگرچہ انہوں نے یہودیت و نصرانیت کے رنگ میں الگ الگ مسلک اختیار کیا ہے۔ وہ مسلک یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام صلیب تو چڑھائے گئے مگر اس سے مرے نہیں۔92
    تفصیل اس کی یوں ہے کہ مضمونِ کسر صلیب میں محقق ہو چکا ہے کہ صلیب کے معنی صرف سولی پر لٹکانے کے ہیں۔ پس چونکہ مرزا صاحب مصلوبیتِ حضرت مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں اس لئے تقریبِ بالا سے ان کے مذہب کا بھی ابطال ہوا۔ کیونکہ بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں ابطال مصلوبیت بھی ملحوظ ہے۔ بوجہ بَلْ کے قبل مذکور ہونے کے۔93

    چنانچہ تفسیر خازن میں بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ کی تفسیر میں لکھا ہے:
    والمعنى أنهم لم يقتلوا عيسى ولم يصلبوه ولكن الله عز وجل رفعه إليه“(تفسیر خازن جلد 1 صفحہ 445 مطبوعہ دار الکتب علمیہ بیروت)
    ”اس کے معنی یہ ہیں کہ یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کو نہ تو قتل کیا اور نہ اسے صلیب دیا بلکہ اس کو خدائے عزوجل نے اپنی طرف(اوپر کو)اٹھا لیا“۔

    اور شق ثانی کے جواب میں اوّل تو یہ معروض ہے کہ کتب محرفہ سے استدلال و تمسک کرنا اور بیان قرآنی میں تحریف کرنا سب سے زیادہ موجبِ لعن ہے۔ جو توریت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام پر نازل کی گئی تھی وہ تو صفحہ دنیا پر نظر نہیں آتی ہے اور اس کا کہیں بھی پتہ نہیں ملتا۔ جو پانچ کتابیں بنام توریت مجموعہ بائبل کے ابتدا میں منضم ہیں وہ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہ کسی مؤرخ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بہت دیر بعد وقائع و شرائع موسویہ کو تاریخی طور پر جمع کیا۔ جیسا کہ اس کی اندرونی شہادات سے ثابت ہے۔ مثلاً کتابِ استثناء باب اخیر واقعۂ وفات حضرت کلیم اللہ علیہ السلام اور اسی طرح کئی دیگر مواضع۔94
    دیگر یہ کہ توریت اور انجیل شریف اور قرآنِ عظیم غرض جملہ کتب سماویہ میں اللہ تعالیٰ کا یہی وعدہ ہے کہ شہداء بمراتبِ عالیہ فائزہ ہوں گے۔ چنانچہ سور توبہ میں فرمایا:
    إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ...الآية(توبہ 9:111)
    ”بیشک خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور مال جنت کے بدلے خرید لئے ہیں۔ وہ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو(کبھی تو فریق مقابل کو)قتل کرتے ہیں اور(کبھی)خود قتل ہو جاتے ہیں۔ خدا نے حق وعدہ کیا ہے تورات میں بھی اور انجیل میں بھی اور قرآن میں بھی“۔

    دیگر یہ کہ توریتِ موجودہ میں بھی مطلقاً قتل بالصلیب کو مستلزم لعن قرار نہیں دیا گیا بلکہ خاص اسی شخص کو ملعون کہا گیا ہے جو کسی سخت جرم واجب الصلیب کی سزا میں مصلوب ہو۔ جیسا کہ سیاق و سباق بلکہ صریح عبارت سے ظاہر ہے:

    ”اور اگر کسی نے کوئی ایسا گناہ95 کیا ہو جس سے اُسکا قتل واجب ہو اور تُو اُسے مار کر درخت سے ٹانگ دے۔ تو اُسکی لاش رات بھر درخت پر لٹکی نہ رہے بلکہ تُو اُسی دن اُسے دفن کر دینا کیونکہ جسے پھانسی ملتی ہے وہ خدا کی طرف سے ملعون ہے تا نہ ہو کہ تُو اُس ملک کو ناپاک کر دے جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو میراث کے طور پر دیتا ہے“۔ (استثنا 21:22،23)

    مزید برآں ظاہر ہے کہ کافر مجرم کا مقتول بالصلیب ہونا ہی موجب لعن نہیں بلکہ اگر کوئی شریعت حقہ کے حکم سے کسی اور طریق سے بھی قل کیا جائے یا سزا دیا جائے تو پھر بھی وہ زمرۂ مردودین میں معدود ہو گا۔ جیسا کہ آیت مائدہ سے ثابت ہے:

    إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ(المائدہ 5:33)
    سوائے اس کے نہیں کہ ان لوگوں کی جزا جو خدا اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں یہ ہے کہ ان کو خوب قتل کیا جائے یا صلیب پر لٹکایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں الٹے کاٹ دیئے جائیں یا ان کو جلا وطن کیا جائے۔ یہ ان کے لئے دنیا میں خواری ہے اور آخرت میں ان کو بڑا عذاب ہو گا“۔
    اور یہ بھی یاد رہے کہ مومن عاصی کے لئے حدودِ کفارہ ہوتی ہیں جیسا کہ حدیث صحیح بخاری سے ثابت ہے۔ پس اس بیان سے واضح ہو گیا کہ عند اللہ ملعون و غیر ملعون اور مردود و مقبول ہونا مادۂ صلاح و فساد کے سبب ہے نہ قتل و صلب کے سبب۔

    پس جب ثابت ہو چکا کہ توریت موجودہ میں بھی مطلقاً مقتولیت بالصلیب کو موجب لعن قرار نہیں دیا گیا بلکہ وہ حکم مجرم فی الواقع کی نسبت ہے تو چونکہ حضرت روح اللہ علیہ السلام فی الواقع غیر مجرم تھے لہٰذا بنا بر واقعہ ما قبل بل یعنی قتل بالصلیب اور ما بعد بل یعنی رفع اعزازی میں تنافی و تضاد متحقق نہ ہوا بلکہ مومن جو ظلماً مقتول ہو وہ عند اللہ معزز ہوتا ہے۔ پس تقریر کلمہ بل بعد ابطالِ تاویل قادیانی رفعِ جسمی میں محکم رہی۔

    اور اگر مسیح علیہ السلام کو معاذ اللہ بزعم یہود مجرم خیال کرکے تنافی پیدا کی جائے تو ماہر ذکی پر ظاہر ہے کہ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ قصر قلب ہے۔ جس میں مزعوم مخاطب کو برعکس ما یذکرہ المتکلم ظاہر کرکے رد کیا جاتا ہے اور چونکہ صورتِ اعتراضیہ میں بحسب علم المتکلم بھی وصف مزعوم مخاطب کا وجود متصور ہے و ہذا خلف۔ لہٰذا قول قائل باطل ہوا۔ فافہم

    ثانیاً یہ کہ صفحہ(......)میں بوضوع محقق ہو چکا ہے کہ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ میں نفی قتل و صلب مقصور علی المفعول ہے۔ یعنی قتل و صلب کی نفی صرف بہ نسبت حضرت مسیح علیہ السلام کی گئی ہے۔ دُوْنَ غَيْرِهِ بلکہ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ سے وہی قتل و صلب غیر مسیح علیہ السلام کے لئے ثابت کیا گیا ہے اور نیز صفحہ(....)میں مذکور ہو چکا ہے کہ مفعول قَتَلْنَا یعنی الْمَسِيحَ کو موصوف رَسُولَ اللَّهِ ذکر کرنا بنا بر اظہارِ مفاخرتِ یہود ہے جو قصر مذکور کے لئے مؤید قوی ہے۔ پس ماہر ذکی پر ظاہر ہو سکتا ہے کہ کلام الہٰی وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ جو کلام قصری ہے وہ مِنْ بَابِ الْقَصْرِ الْمَوْصُوْفِ عَلَى الصِّفْةِ ہے وَ هُوَ اَنْ لَا يَتَجَاوَزَ الْمُوْصُوْفُ تِلْكَ الصِّفَةَ اُرى اور پھر قصر قلب ہے لِوُجُوْدِ مُوْجِبِه وَلَيْسَ قَصْرَ اَفْرَادٍ وَلَا تَبْعِيْيْنٍ لِفُقْدَان مُوْجِبَا تِهِمَا اور پھر قصر کے طرق اربعہ مشہورہ میں سے قصر بالعطف ہے۔ لَأِنَّهُ اشْتَمَلَ عَلٰي كَلِمَةِ بَلِ الَّتِيْ تَقْضِيْ ثَبُوْتَ ضِدِّ حُکْمِ مَا قَبْلَهٗ لِمَا بَعْدَهٗ اور چونکہ قصر میں تمیز بین الخطا والصواب ملحوظ ہوتی ہے اور قصر قلب میں متکلم پر واجب ہوتا ہے کہ مثبت و منفی کو منصوص ذکر کرے کیونکہ اس میں نفی غیر اور اثباتِ مذکور بطریق حصر بیان کرنا پڑتا ہے تاکہ مخاطب کے اعتقاد میں جو خطا ہے اس کی تردید بھی ہو جائے اور یہ بھی ظاہر ہو جائے کہ مخاطب کا اعتقاد برعکس ما یذکرہ المتکلم ہے۔ خصوصاً قصر بالعطف میں تو کسی صورت میں بھی ترکِ تصریح بالمراد جائز نہیں کیونکہ ما بعد عاطفہ کا حکم ما قبل کی ضد ثابت نہیں ہو سکتا۔

    بعد تمہید اس تقریب کے واضح ہو کہ اگر رفع الیٰ اللہ سے موتِ طبعی بعد از واقعۂ صلیب بعرصۂ دراز بملک کشمیر مراد لی جائے جیسا کہ مزعوم مرزا صاحب ہے تو بمقتضائے تمہید مذکور تصریح وَماَ قَتَلُوْهٗ بِالصَّلِيْبِ بَلْ بَقِیَ حَيًّا زَمَانًا طَوِيْلًا ثُمَّ اَمَاتَهُ اللّٰه وَرَفَعَهٗ اِلَيْهِ 96ضروری ہے۔ کیونکہ جب مزعوم یہود قتل مسیح بالصلیب تھا97 اور مراد الہٰی اثباتِ واقعۂ صلیبی مگر برعکس زعم یہود ابطالِ قتلِ بالصلیب اور اثباتِ حیات بعد واقعہ صلیب بعرصۂ دراز تھا تو اتنی تصریحات کا ترک کر دیان حسب قواعد علم معانی و بیان فضاحت و بلاغت کے بالکل منافی ہے اور شانِ قرآنِ عظیم کے ہرگز شایان نہیں۔ پس چونکہ بنا بر مذہب مرزا صاحب بوجہ فقدانِ نص علی المثبت یعنی واقعۂ صلیبی و حیات بعرصۂ دراز بعد ازاں یہود کے زعم باطل کا ابطال ہرگز نہیں ہو سکتا اور نہ مدعائے الہٰی کا اثبات۔ اس لئے لا محالہ قول مرزا صاحب باطل ٹھہرے گا۔ اور چونکہ بموجب مذہب فرقہ ناجیہ اہل سنت و الجماعت کے نص علی المثبت و المنفی موجود ہے یعنی ابطالِ واقعہ صلیبی بہ نسبت مسیح علیہ السلام مَا صَلَبُوهُ میں منصوص ہے اور رفع الیٰ السمآء بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں مصرح ہے اور قتل و صلب غیر مسیح علیہ السلام جس پر آپ کی شباہت ڈالی گئی میں وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ مذکور ہے۔ بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ سے سوائے رفع جسد کے اور کچھ مراد لینا ہرگز جائز نہیں۔ فافہم و تدبر

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    89:اکمل صاحب شاید قرآن کی بھی ترمیم کر ڈالیں گے(معاذ اللہ!)۔ آپ رفع الیٰ اللہ اور رفع الیٰ السمآء کے تساوق کو نہ سمجھ کر فرماتے ہیں: ”ایسا کہنا خداوندِ کریم کو مکانی بنانا ہے جو کفر ہے“(صفحہ 36)
    جواب: جناب عالی! پھر أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ(الملک 67:16)وغیرہ آیات میں کیا فرمائیں گے؟ کیا قرآن بھی کفر سکھاتا ہے۔ سنیے! خداوند کریم کے لئے جہت فوق ماننا تقاضائے فطرت ہے لیکن اسے کسی ”جہت میں“ ماننا اور ہے اور یہی کفر ہے۔ سعادت
    90:اکمل صاحب بے سمجھی میں بھی کامل ہیں۔ فرماتے ہیں: ”رفع روح الیٰ اللہ کو رفعِ الیٰ السمآء بنانے سے یہ مطلب ہے کہ روح کی رفع الیٰ اللہ ہو تو وہ عند اللہ عند الملائکہ فی السمآء چلا جاتا ہے، نہ یہ کہ رفع الیٰ اللہ اور الیٰ السمآء کے معنی ایک ہیں“(صفحہ36)
    جواب: جناب والا! بات تو پھر بھی وہی رہی کہ روح خدا کے پاس آسمان پر چلی گئی، بس مقصود تھا کہ مرزا صاحب بھی روح آسمان پر جانا مانتے ہیں حالانکہ آسمان کا لفظ موجود نہیں۔ آپ نے اسے بحال رکھا ہاں کمال یہ کیا کہ ”تسلیم کرکے سر کھسکا گئے، مان کر بگڑ جانا“ اسے ہی کہتے ہیں۔ سعادت
    91:اکمل صاحب میں خاص کمال یہ ہے کہ بات تسلیم کرکے بھی سر کھسکا جاتے ہیں۔ چنانچہ صفحہ 36 پر لکھتے ہیں رفع کی ماضویت آپ نے پوچھی وہ واقعۂ صلیبی کی نسبت ہی سہی تو معنی یہ ہوئے کہ واقعہ صلیبی سے پہلے ہی حضرت مسیح علیہ السلام مرفوع الشان عند اللہ تھے۔
    جواب:اکمل صاحب نے بڑا کمال دکھلانا چاہا تھا لیکن افسوس بات نہ بن سکی کیونکہ مرزا صاحب کا ساختہ پرداختہ سب برباد ہو گیا۔ یعنی رفعِ الیٰ اللہ سے مراد عزت کی موت۔ سعادت
    92:اکمل صاحب اسے تسلیم تو کرتے ہیں لیکن فرماتے ہیں: ”اس بروز محمدیہ(چشم بد دور مرزا صاحب)نے دو قوموں میں بطور حکم فیصلہ کر دیا۔ ایک گروہ قائل تھا کہ صلیب پر چڑھائے گئے اور قتل ہو گئے، دوسرا گروہ کہتا تھا کہ نہ قتل ہوئے نہ صلیب پر چڑھائے گئے۔ آپ(مرزا صاحب)نے فرمایا صلیب پر چڑھائے تو گئے مگر قتل نہیں ہوئے“۔(صفحہ36)
    جواب: اکمل صاحب بقول شاعر:؎

    الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں......لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
    اپنی تحریر سے آپ ہی پھنس گئے۔ اس کی توضیح یوں ہے کہ وہ ایک گروہ کی نسبت تو فرماتے ہیں کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت قتل و صلیب ہر دو کا قائل۔ لیکن دوسرے کی نسبت فرماتے ہیں کہ وہ ہر دو سے منکر تھا۔ سو معلوم ہے کہ پہلے قول کے قائل یہود و نصاریٰ ہیں اور قادیانی علما اس واقعہ کے تواتر کے ثبوت میں یہی دلیل پیش کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ(صفحہ.....)پر مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی احمدی کا قول مع تردید گزر چکا۔ اب دریافت طلب یہ ہے کہ دوسرا گروہ جو قتل و صلیب میں سے کسی بات کا بھی قائل نہیں وہ کون سا ہے؟
    ماننا پڑے گا کہ وہ دوسرا گروہ مسلمانوں کا ہے جو بحکم وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ حضرت مسیح علیہ السلام کو ہر دو سے بری و محفوظ مانتے ہیں۔ پس اکمل صاحب نے تسلیم کر لیا کہ مرزا صاحب قادیانی سے پیشتر حضرت مسیح علیہ السلام کے مقتول نہ ہونے اور صلیب پر بھی نہ چڑھائے جانے پر امت مرحومہ کا اجماع ہو چکا تھا۔ لہٰذا مرزا صاحب کا قول کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے، اجماع امت کے خلاف ہونے کی وجہ سے باطل ٹھہرا۔ صاحبان! آپ اسی کتاب کے(صفحہ....)پر میرے اشتہار بنام مرزا صاحب پر ایک نظر پھر ڈالیں۔ جہاں لکھا ہے:
    ”جناب مرزا صاحب! بندہ(محمد ابراہیم میر سیالکوٹی) جمیع اہل السنۃ و الجماعۃ سلف و حلف کی طرح اس بات کا قائل ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں چڑھائے گئے اور اب تک فوت بھی نہیں ہوئے“۔
    الحمد للہ اب ہمارے اکمل صاحب نے بھی خود ہی مان لیا کہ مرزا صاحب سے پیشتر مسلمانوں کا یہی اعتقاد تھا۔ ؏ شکر اللہ کہ میانِ من او صلح فتاد۔ ہم اکمل صاحب کو اس تسلیم حق پر مبارکباد دیتے ہیں۔
    دیگر: یہ کہ یہ بھی بالکل صاف ہو گیا کہ چونکہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل و صلب ہر دو کے قائل تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے ہر دو امر کی تردید کرنے کے لئے فرمایا: وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ یعنی نہ انہوں نے مسیح رسولِ خدا کو قتل کیا اور نہ سولی دی۔ سعادت
    93:کلمہ بل کے استعمال کی تحقیق و تدفیق سے اکمل صاحب کے سارے بل بیچ نکل گئے اور انہوں نے بلا تردد اسے تسلیم کر لیا۔ چنانچہ میری عبارت نقل کرکے تصدیق فرماتے ہیں: ”بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں ابطال مصلوبیت بھی ملحوظ ہے۔ بیشک“(صفحہ 37) لیکن اس کے بعد مکر کی راہ نکالتے ہیں اور لکھتے ہیں: ”مگر مصلوبیت لے معنی صلیب پر موت واقع ہونے کے ہیں ورنہ ماننا پڑھے گا کہ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ اور أَوْ يُصَلَّبُوْا میں بھی صرف صلیب پر چڑھانا مراد ہے“۔(صفحہ 37)
    جواب: جناب والا مصلوب کی تحقیق سابقاً مولوی مبارک علی صاحب کے جواب باصواب کی تردید میں مفصل گذر چکی۔ اس سے عشوہ نمائی کیوں کی؟ دیکھئے کتاب ہذا (صفحہ.....سے صفحہ....)تک اور جو آیات آپ نے لکھی ہیں ان میں بھی وہی تحقیق ملحوظ ہے۔ فارجع البصر الآيةً۔ سعادت
    94:مرزا صاحب قادیانی نے اپنی آخری کتاب چشمۂ معرفت صفحہ 255(روحانی خزائن جلد 23 چشمہ معرفت صفحہ: 266) میں خود ان کتابوں کو لچر، پوچ اور محرف مبدل لکھا۔
    95:خدا جانے اکمل صاحب بات کو نہ سمجھنے میں نہایت کمال رکھنے کے سبب ہیں یا نہ ماننے کے سبب۔ عبارت میں صاف لکھا ہے کہ اگر کسی نے کچھ ایسا گناہ کیا ہو جس سے اس کا قتل واجب ہو پھر بھی ہمارے اکمل صاحب(زيد كماله في الانكار)فرماتے ہیں: ”تورات کی آیات میں پہلے مجرم کا بیان ہوا یا نہ ہوا...الخ“(صفحہ 38) بریں اکملیت ببائد گریست
    96:مطابق مذہب مرزا صاحب لکھا گیا ہے۔ فافہم
    97:ہمارے اکمل صاحب نے ہمارے اس بیانِ قصر قلب کو کان لپیٹ کر مان لیا ہے اور اس قاعدے کی رو سے ہم نے جتنی تصریحات کا ضروری ہونا ذکر کیا ہے ان سب کو بھی تسلیم کر لیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
    ”قصر قلب جس میں مزعوم مخاطب کے برعکس ہی کیا گیا ہے کیونکہ مجرم زعمی کا مدار قتل بالصلیب تھا جس کی نفی کی گئی اور اصل حال بتا دیا گیا کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور مشبہ بالمصلوب ہو گئے مگر یونس نبی کی طرح قبر میں زندہ ہی رکھے گئے اور پھر وہاں سے نکل کر لمبا سفر کیا اور کشمیر میں شاہزادہ نبی کہلائے اور باعزت وہاں رہے اور کامیابی کے ساتھ دنیا سے بفحوائے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي اٹھائے گئے۔ بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں یہ سارا مضمون بالتصریح بتلایا گیا ہے“(صفحہ 39)
    حضرات! جناب اکمل صاحب نے ہمارے بیان کو حرف بحرف تسلیم کر لیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ سب امور مذکورہ بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ میں بالتصریح بتلا دیئے گئے ہیں اور ہم عرض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں ان امور کا ذکر مطلقاً نہیں۔ اب آپ خود انصاف کر لیں کہ آیا قرآن شریف میں یہ امور مذکور ہیں یا نہیں۔ اگر مذکور ہیں تو بہتر ورنہ سمجھ لیں کہ قادیانی دعاوی اسی طرح بے بنیاد ہوتے ہیں۔ سعادت الاقران
  9. ‏ ستمبر 22, 2015 #39
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ثالثاً یہ کہ اس سے اوپر انہی یہود کی نسبت کہا گیا ہے وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ(النساء 4:155) اور سب مقتول انبیاء عند اللہ ماجور و مرفوع الدرجات ہوئے اور ہیں اگرچہ وہ یہود کے نزدیک مجرم و لائق و قتل تھے۔ پس اس مقام پر رفعتِ درجہ اور قتل بالظلم جمع ہو گئے۔ اسی طرح اگر حضرت مسیح علیہ السلام ان کے ہاتھ سے قتل بھی ہو جاتے تو پھر بھی عند اللہ مرفوع الدرجات ہی ہوتے کیونکہ آپ نبیٔ صادق ہیں اور مثل دیگر نبیوں کے ناحق قتل کئے جاتے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے واقعہ کو دوسرے انبیائے مقتولین کی شمولیت میں بیان نہیں کیا بلکہ ان سے جدا طور پر کیا ہے جو بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ہے اور سابقاً اچھی طرح بدلائل واضح ہو چکا ہے کہ بَلْ ابطالیہ کے ما قبل و ما بعد میں جمع ممکن نہیں اور مرزا صاحب ان کو واقعتاً جمع کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کا قول باطل ہے اور بموجب مذہب اہلسنت جمع ممکن نہیں کیونکہ جب اپ واقعۂ صلیبی سے پیشتر آسمان کی طرف اٹھائے گئے تو پھر صلیب پر کس طرح چڑھائے جا سکتے ہیں۔ جیسا کہ سابقاً محقق ہو چکا ہے۔
    رابعاً یہ کہ وجہ اوّل میں بالدلیل ثابت ہو چکا ہے کہ رفع کی ماضویت بہ نسبت ما قبل بَلْ یعنی واقعۂ صلیبی کے ہے تو اگر رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ سے موت طبعی بعد از مدت مدید مراد لی جائے تو معاذ اللہ کلام باری سبحانہ میں کذب لازم آتا ہے۔ کیونکہ جب موت مسیح علیہ السلام قبل از واقعہ صلیبی واقع ہی نہیں ہوئی تو پھر اس کو قبل از واقعہ ذکر کرنا کذب نہیں تو اور کیا ہے؟ حاشا شانه عن ذٰلك

    بعد از قطع احتمالاتِ مردودہ مذکورہ آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ رفع جسمی میں محکم ٹھہری اور مخالفت کے لئے اس میں کوئی گنجائش باقی نہ رہی۔ اس لئے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین جو اہل لسان تھے اور اپنی عربی زبان کے محاورات کو خوب سمجھتے تھے اور انہوں نے قرآن شریف میں اولہ الیٰ آخرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بابرکت میں شب و روز اقامت کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ وحی ترجمان سے مع اس کے بیان و تفسیر کے سیکھا تھا اور علمائے عظام کیا متقدمین اور کیا متاخرین جو اکثر علمو عربیہ کے موجد اور مجدد اور میدانِ فصاحت کے فارس اور بحر بلاغت کے عوّاص تھے اور جن کے مساعی جمیلہ سے آج کل علوم عربیہ زندہ نظر آتے ہیں ان میں سے ایک سے بھی اس آیت میں اختلاف مروی نہیں اور کسی نے سوائے رفع جسمی کے مراد نہیں لی۔

    چنانچہ تفسیر کبیر میں امامِ ہمام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    رَفْعُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى السَّمَاءِ ثَابِتٌ بِهَذِهِ الْآيَةِ، وَنَظِيرُ هَذِهِ الْآيَةِ قَوْلُهُ فِي آلِ عِمْرَانَ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا [ال عمران 3:55] وَاعْلَمْ أَنَّهُ تَعَالَى لَمَّا ذَكَرَ عَقِيبَ مَا شَرَحَ أَنَّهُ وَصَلَ إِلَى عِيسَى أَنْوَاعٌ كَثِيرَةٌ مِنَ الْبَلَاءِ وَالْمِحْنَةِ أَنَّهُ رَفَعَهُ إِلَيْهِ دَلَّ ذَلِكَ عَلیٰ أَنَّ رَفَعَهٗ إِلى أَعْظَمُ فِي بَابِ الثَّوَابِ مِنَ الْجَنَّةِ وَمِنْ كُلِّ مَا فِيهَا مِنَ اللَّذَّاتِ الْجُسْمَانِيَّةِ، وَهَذِهِ الْآيَةُ تَفْتَحُ عَلَيْكَ بَابَ مَعْرِفَةِ السَّعَادَاتِ الرُّوحَانِيَّةِ“(تفسیر کبیر جلد 11 صفحہ 262 مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت)
    ”اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا ثابت ہے اور اس کی نظیر سورہ آل عمران کی آیت إِنِّي مُتَوَفِّيكَ....الخ ہے اور جان لو کہ جب خدائے تعالیٰ نے اس کے بعد کہ عیسیٰ علیہ السلام کو کئی قسم کی تکالیف اور مصائب پہنچیں یہ ذکر کیا کہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا تو اس امر نے بتایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خدا کی طرف مرفوع ہونا جنت وغیرہ ہر جسمانی لذت کے ثواب سے زیادہ ہے اور یہ آیت تجھ پر سعاداتِ روحانیہ کی معرفت کا دروازہ کھول دے گی“۔98


    سوال:
    اگر یہ سوال کیا جائے کہ جسم خاکی کا آسمان کی طرف صعود کرنا ممتنعات و محالات میں سے ہے اور نیز یہ کہ جب اللہ تعالیٰ دیگر رسولوں کو انہی اسباب معتادہ سے بچا کر اسی کرۂ زمین میں بساتا رہا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کو ارضِ مقدسہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرائی تو حضرت روح اللہ علیہ السلام کو کیوں آسمان پر اٹھا لیا اور کس لئے اتنی دیر تک زندہ رکھ کر پھر زمین پر نازل کرے گا؟


    جواب:
    سوال کی شقِ اوّل کا جواب حسب وعدہ اوّلاً یہ ہے کہ امر خارقِ عادت کے وقوع میں شک بدو وجہ ہو سکتا ہے۔ اوّل واقع کتنے والے کے نقصِ علم کی نظر سے، دوم اس کے عجز و نقصِ قدرت کے اعتبار سے۔ اور یہ امر عند الخصم بھی مسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ ان ہر دو نقصوں سے مبرا منزہ ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں رَفَعَ کو اپنی طرف منسوب کیا۔ کیونکہ صعود الیٰ السمآء اگرچہ عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی حول قوت سے بعید ہے مگر اللہ عزیز کی قدرتِ کاملہ کے سامنے کچھ بھی نہیں اور اسی طرح اللہ سبحانہ نے اسرارِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف نسبت کیا اور فرمایا:


    سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا. الآیة (بنی اسرائیل 17:1)
    ”پاک ہے وہ(خدا)جس نے اپنے بندے(محمد صلی اللہ علیہ وسلم)کو راتوں رات سیر کرائی“۔

    یعنی اتنی مسافت بعیدہ اتنے تھوڑے وقت میں طے کرنا اگرچہ بہ نسبت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدرت کے متعذر ہے مگر اللہ سبحانہ کی قدرت کے سامنے بالکل سہل ہے۔

    كما قال الامام الرازی رحمه اللّٰه تحت قوله تعالیٰ الاتي وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا حيث قال:
    وَالْمُرَادُ مِنَ الْعِزَّةِ كَمَالُ الْقُدْرَةِ، وَمِنَ الْحِكْمَةِ كَمَالُ الْعِلْمِ، فَنَبَّهَ بِهَذَا عَلَى أَنَّ رَفْعَ عيسى من الدنيا إلى السموات وَإِنْ كَانَ كَالْمُتَعَذِّرِ عَلَى الْبَشَرِ لَكِنَّهُ لَا تَعَذُّرَ فِيهِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى قُدْرَتِي وَإِلَى حِكْمَتِي، وَهُوَ نَظِيرُ قَوْلُهُ تَعَالَى: سُبْحانَ الَّذِي أَسْرى بِعَبْدِهِ لَيْلًا، فَإِنَّ الْإِسْرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُتَعَذِّرًا بِالنِّسْبَةِ إِلَى قُدْرَةِ مُحَمَّدٍ إِلَّا أَنَّهُ سَهْلٌ بِالنِّسْبَةِ إِلَى قُدْرَةِ الْحَقِّ سُبْحَانَهُ“(تفسیر کبیر جلد 11 صفحہ 263 مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت)
    ”چنانچہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا کے ذیل میں کہا ہے کہ اس آیت میں عزت سے کمالِ قدرت مراد ہے اور حکمت سے کمالِ علم مراد ہے۔ پس اس سے خدا نے اس امر کو متنبہ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا سے آسمان پر اٹھایا جانا اگرچہ بشر کی طاقت سے بالا ہے لیکن میری قدرت ار حکمت کی نسبت کوئی چیز بھی نہیں۔ اور یہ آیت دوسری آیت سُبْحانَ الَّذِي أَسْرى بِعَبْدِهِ لَيْلًا کی نظیر ہے کہ اسراء اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قدرت کی نسبت مشکل ہے مگر حق سبحانہ کی قدرت کے آگے سہل ہے“۔

    اور اسی نکتۂ عجیبہ کے لئے بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں اسم جلالۃ(اللہ)کا ذکر کیا کیونکہ یہ اسم دلالت کرتا ہے اس ذات پر مجتمع جمیعِ صفاتِ کمال ہو وَ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ۔ مزید برآں اسی دقیق لطیفہ کے لئے اپنی اور دو صفتیں جو کمالِ علم اور کمالِ قدرت کی مظہر و مثبت ہیں ذکر کیں۔ جیسا کہ صفحہ(.....)میں مذکور ہو چکا ہے کہ چونکہ قرآنِ عظیم کی آیات مثل دعاوی مع بینات کے ہیں اس لئے ذکر ہر اسم اور صفت کا حسب اقتضائے مقام و مفہوم کلام ہوتا ہے اور وہ اسم منزلۂ علت مضمون ہوتا ہے۔ پس چونکہ رفع الیٰ السمآء میں وہم و استبعاد و سوسۂ عبثیث واقع ہو سکتا تھا اس لئے اس کے ازالہ کے لئے وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا فرمایا۔ یعنی اللہ تعالیٰ مجتمع جمیع صفاتِ کمال اپنے ارادے پر غالب اور قادر ہے۔ جو کچھ چاہتا ہے کر سکتا ہے۔ لہٰذا حضرت روح اللہ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا سکنا اس کے دائرۂ قدرت سے خارج نہیں اور چونکہ وہ حکیم ہے اس لئے آپ کا رفع الیٰ السمآء اور حیاتِ سماوی اور نزول بعینہ عبث اور خلافِ حکمت نہیں ہے۔

    سائنس کا کمال:
    دیگر یہ کہ سائنس اس کمال پر پہنچ گیا ہے اور نئی نئی انسانی ایجادات اور عجائب المخلوقات کے نئے نئے انکشافات اس حد تک ہو چکے ہیں کہ گذشتہ زمانہ کے بہت سے محالاتِ عادیہ مشاہدات و واقعات سے ثابت ہو چکے ہیں جن پر قیاس کرکے ہم کہہ سکتے ہیں کہ دیگر امور بھی اسی طرح ممکنات سے ہیں اور اس ذہنیت کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ ہر محال عادی ممکن بالذات ہوتا ہے۔ اسفل(نیچے)سے اعلیٰ(اوپر)کی طرف حرکت کو صعود کہتے ہیں۔ انسان طبعی طور پر اپنے ارادہ و قوت سے ایک چھلانگ سے زیادہ ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔ لیکن Aeroplaneایرو پلین(ہوائی جہاز)نے ثابت کر دیا کہ کسی تدبیر و حکمت عملی سے انسان بھی پرواز کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ تدبیر ہمارے علم میں آ جائے اور ہم عملی طور پر اس پر قدرت و قابو بھی کر سکیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا تخت ہوا میں اڑتا تھا۔ اس کے لئے بھی عالم اسباب میں کوئی سبب ہو گا جس کا ہم کو علم نہیں۔ لیکن ہم ایرو پلین(ہوائی جہاز)سے سمجھ سکتے ہیں کہ وہ ممکن ہے۔

    اسی بنا پر خداوندِ عزوجل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رفع کے ساتھ فرمایا: وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا یعنی سمجھایا کہ میں حکیم ہوں، مجھے سب تدبیریں آتی ہیں اور عزیز ہوں سب تدبیریں اور حکمتیں میرے احاطۂ قدرت میں ہیں۔ جس امر کا ارادہ کروں اس کے وجود میں لانے سے کوئی امر مجھے عاجز نہیں کر سکتا۔ چنانچہ دوسری جگہ فرمایا:

    وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعْجِزَهُ مِن شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا(فاطر 35:44)
    یعنی ”خداوند عزوجل ایسا نہیں ہے کہ اسے کوئی شے بھی آسمانوں یا زمین میں عاجز کر دیوے، بیشک وہ سب کچھ جانتا اور بڑی قدرت والا ہے“۔

    صحیح بخاری وغیرہ کتب حدیث سے ثابت ہے کہ معراج کی رات سرورِ عالم آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی سواری کے لئے براق لایا گیا، یہ کیا تھا؟ خدائے تعالیٰ نے جب چاہا کہ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس اور آسمانوں کی سیر کرائے اور تجلیات و نشاناتِ قدرت دکھائے تو اس کے اس ارادہ کے فعل میں آنے کی ایک عملی تدبیر تھی۔ اور صحیح بخاری میں وارد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ“(صحیح بخاری صفحہ 98 الرقم الحدیث:349 کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دار ابن کثیر)
    یعنی ”پھر جبرئیل(علیہ السلام)نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے چڑھے“۔
    یہ بھی عالم اسباب میں سے ایک سبب تھا کہ ایک فرشتہ جس کے لئے اوپر چڑھنا اس کی طبیعت کے برخلاف نہیں ایک انسان کو جو طبعی طور پر اپنے ارادہ و قوت سے آسمان پر نہیں چڑھ سکتا، چڑھا کر لے گیا۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ عزوجل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ آسمان پر اٹھایا ہو۔

    چنانچہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ آیت: وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ(البقرہ 2:87،253) کی تفسیر میں اس امر کے بیان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت جبرئیل علیہ السلام سے دیگر انبیاء کی نسبت مزید اختصاص ہے، فرماتے ہیں:
    لِأَنَّهُ هُوَ الَّذِي بَشَّرَ مَرْيَمَ بِوِلَادَتِهَا وَإِنَّمَا وُلِدَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ نَفْخَةِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ الَّذِي رَبَّاهُ فِي جَمِيعِ الْأَحْوَالِ وَكَانَ يَسِيرُ مَعَهُ حَيْثُ سَارَ وَكَانَ مَعَهُ حِينَ صَعِدَ إِلَى السَّمَاءِ“(تفسیر کبیر جلد 3 صفحہ 596 مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت)
    یعنی ”اس لئے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ہی نے حضرت مریم علیہ السلام کو پیدائش کی بشارت دی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت جبرئیل علیہ السلام ہی کی پھونک سے پیدا ہوئے اور اسی(جبرئیل علیہ السلام)نے سارے احوال میں آپ کی تربیت کی اور جہاں آپ جاتے تھے وہ بھی ساتھ ساتھ جاتا تھا اور اس وقت بھی ساتھ تھا جب آپ آسمان کو چڑھے“۔
    فرشتہ تو بڑی شے ہے واقعات میں تو یہ بھی ہو چکا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک صحابی کو جن اٹھا کر لے گیا، کئی سالوں کے بعد پھر مدینہ طیبہ میں چھوڑ گیا۔ یہ وہی واقعہ ہے جس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی بیوی کو چار سال کے بعد بیوہ ہونے کی عدت(یعنی چار مہینے اور دس دن رات)گذار کر دوسرا نکاح کر لینے کی اجازت دی تھی۔ (مستفاد از سبل السلام شرح بلوغ المرام جلد 3 صفحہ 565 الرقم:1051مطبوعہ مکتبہ المعارف ریاض)

    ثانیاً یہ کہ کسی امر کا امکان شئے دیگر ہے اس کا وقوع شئے دیگر ہے۔ عقل کے متعلق صرف اثباتِ امکان ہے نہ وقوع۔ جس طرح وقوع صرف رویت یا نقل یعنی مخبر صادق کی روایت و خبر کے متعلق ہے نہ کہ عقل کے۔ پس برہانِ عقلی سے صعود الیٰ السمآء کے امکان کا بیان اس طریق سے ہے کہ ممتنعات دو قسم پر ہیں، بالذات و بالغیر اور ہر بالغیر ممکن بالذات ہوتا ہے۔ کیونکہ عرف میں امکان بد معنی مستعمل ہوتا ہے۔ گو بلحاظِ امورِ خارجیہ از علل موجبہ یا موانع و عوائق احد ہما واقع بلکہ واجب ہو اور یہ(امکانِ ذاتی)جامع ہوتا ہے وجوب بالغیر اور امتناعِ بالغیر کو۔ یعنی واجب بالغیر اور ممتنع بالغیر عین حالت وجوب و امتناعِ بالغیر کو یعنی واجب بالغیر اور ممتنع بالغیر عین حالت وجوب و امتناع میں ممکن ذاتی ہوتے ہیں کیونکہ عین حالتِ وجوب و امتناع میں اس کا وجود عدم متساوی ہوتا ہے اگرچہ بلحاظِ امورِ خارجیہ احد ہما واجب ہو گیا ہو99۔ پس چونکہ صعود و نزولِ سماوی ممتنع بالذات نہیں بلکہ واجب بالغیر ہے(لثبوت صعود الملائكة و نزولهم)اس لئے نسبت بشر کے ممتنع بالغیر ہو گا بالنظر الیٰ الامور الخارجيه۔ مثل عدم استعداد در فطرتِ انسان و عدم صعودِ فردے از افرادِ بنی آدم قبل از مسیح علیہ السلام اور تمہید بالا سے محقق ہو چکا ہے کہ ہر ممتنع بالغیر ممکن بالذات ہوتا ہے کیونکہ امکانِ ذاتی جامع ہوتا ہے وجوبِ بالغیر اور امتناعِ بالغیر کو۔ اس لئے صعود الیٰ السمآء ممکن بالذات ہوا۔

    دیگر یہ کہ صعود البشر الیٰ السمآء محالاتِ عادیہ میں سے ہو گا نہ عقلیہ میں سے۔ اور محالاتِ عادیہ کا ممکناتِ ذاتیہ میں سے ہونا ظاہر ہے۔ لتَعَذُّرِ الْإِحَاطَةِ بِقُدْرَةِ الْحَقّ سُبْحَانَهٗ۔ پس جب صعود البشر الیٰ السمآء ممکن بالذات ٹھہرا اور یہ امر عند الخصم بھی مسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ممکن پر قادر ہے تو رفع مسیح علیہ السلام الیٰ السمآء بہر دو طریق تحت قدرت باری عزاسمہ ثابت ہوا یعنی اس نظر سے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی فطرت میں بنفح روحِ قدسی مادۂ ملکیت پیدا کیا تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلکہ کل بنی آدم کی فطرت میں مادہ ملکیت یا ان کو مثلِ ملائکہ پیدا کر لینا داخل قدرتِ باری عزاسمہ ہے۔ کیونکہ الوف الوفِ ملائکہ کو پیدا کر لیا تو ان کی مثل پیدا کر لینے پر بھی قادر ہے۔ جیسا کہ ضمن ذکرِ مسیح علیہ السلام میں ہی فرمایا:
    وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ(الزخرف 43:60)
    ”اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے پیدا کرتے جو زمین میں آباد ہوتے“۔100
    اور اس اعتبار سے بھی کہ افرادِ بنی آدم میں سے حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی قدرت کاملہ کا نمونہ بنانے کے لئے مخصوص کیا۔ جیسا کہ فرمایا:
    وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ(مریم 19:21)
    ”اور تاکہ ہم اس کو اپنی قدرت کا ایک نشان بنائیں“۔
    نیز فرمایا:
    إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ(الزخرف 43:59)
    ”وہ تو ہمارا ایک بندہ ہی ہے جس پر ہم نے انعام کیا اور اس کو بنی اسرائیل کے لئے(اپنی قدرت کا نمونہ بنایا)“۔
    اور اس نظر سے بھی کہ صعود الیٰ السمآء ممکن بالذات ہے اور ہر ممکن بالذات تحتِ قدرتِ باری تعالیٰ ہے۔ چنانچہ اس کی تفصیل صفحہ(.....سے....) تک گزر چکی ہے۔
    اگر سوال کیا جائے کہ باوجود قادر ہونے کہ صرف مسیح علیہ السلام ہی کو کیوں مثل101 ملائکہ کے پیدا کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادرِ مختار ہے، قادرِ مجبور نہیں۔ جیسا کہ آریوں کے خیال سے لازم آتا ہے۔ اور فاعل مختارِ فعل کی کسی خاص صورت کو اختیار کر لے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ خصوصاً جب کہ وہ علیم کل اور حکیم مطلق بھی ہو۔ جیسا کہ فرمایا:
    وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ. الآیة(القصص 28:86)
    ”اور تیرا رب جو کچھ چاہے پیدا کرے اور جو کچھ چاہے پسند کرے اس میں غیروں کا کوئی اختیار نہیں“۔
    نیز فرمایا:
    لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ(الانبیاء 21:23)
    ”جو کچھ خدا کرے اس کی بابت اس سے کوئی پرسش نہیں اور دیگر سب کو پرسش ہے“۔
    اور نیز فرمایا:
    إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ(ھود 11:107)
    ”بیشک تیرا رب کر لینے والا ہے اس امر کو جسے وہ چاہے“۔
    فلا اعتراضَ عليه فی تخصيص بعضٍ دون بعضٍ۔(میر)” پس اس کے ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو مخصوص کرنے پر کوئی اعتراض نہیں“۔

    مرزا صاحب قادیانی نے اس مقام پر ایک اور غلطی کی ہے کہ اپنی کتاب ازالۂ اوہام(صفحہ 372، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 291 و روحانی خزائن جلد 15 ضمیمہ تریاق القلوب صفحہ 505)میں اس آیت وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا کے ذیل میں عزیز کا ترجمہ عزت والا یعنی آبرو والا کیا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی عزت والا ہے مگر اس کا صفت عزیز سے مراد غلبہ و قدرت ہے۔ چنانچہ علامہ فیومی رحمۃ اللہ علیہ مصباح میں فرماتے ہیں:
    عَزَّ الرَّجُلُ عِزًّا بِالْكَسْرِ وَعَزَازَةً بِالْفَتْحِ قَوِيَ وَعَزَّ يَعَزُّ مِنْ بَاب تَعِبَ لُغَةٌ فَهُوَ عَزِيزٌ وَجَمْعُهُ أَعِزَّةٌ وَالِاسْمُ الْعِزَّةُ وَتَعَزَّزَ تَقَوَّى وَعَزَزْتُهُ بِآخَرَ قَوَّيْتُهُ بِالتَّثْقِيلِ وَبِالتَّخْفِيفِ مِنْ بَابِ قَتَلَ“۔(المصباح المنیر جلد 2 صفحہ 407 کتاب العین مع الزای مطبوعہ مکتبہ العلمیہ بیروت)
    مصباح کا سارا بیان قرآن شریف کے بالکل مطابق ہے۔ چنانچہ سورۂ یس میں ہے: فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ(یس 36:14)اور سورہ فتح میں اسی معنی میں أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ(فتح 48:29)فرمایا اور مواضع متعددہ میں صفت عزیز کو صفت قوی کے ساتھ جمع کیا مثلاً حج، احزاب، شوریٰ اور مجادلہ میں۔ اس بیان سے واضح دلائح ہو گیا کہ اسم الہٰی عزیز کے معنی الْغَالِبُ عَلیٰ مَا يُرِيْدُ ہیں۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    98:اکمل صاحب بھی کمال کے پتلے ہیں۔ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے جو فرمایا کہ یہ آیت تجھ پر سعادت روحانیہ کی معرفت کا دروازہ کھول دے گی تو اکمل صاحب نے اپنی کنیت سے یہ سمجھ لیا کہ بس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رفع روحانی ہے۔ چنانچہ صفحہ 41 میں فرماتے ہیں: ”تفسیر کبیر میں کردہ عبارت تَفْتَحُ عَلَيْكَ...الخ میں اشارہ ہے رفع روحانی کی طرف“۔(صفحہ 41)
    جواب: حالانکہ اس عبارت کے شروع میں إِلَى السَّمَاءِ کی تصریح موجود ہے پھر بھی بے تکی ہانکے جاتے ہیں کہ اشارہ ہے رفع روحانی کی طرف۔ رفع روحانی کی طرف صحیح مطلب امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت کا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رفع آسمانی کی جو نعمت ملی وہ دیگر جسمانی نعمتوں سے برتر ہے۔ اس سے قبولیت اور قرب الہٰی کی حقیقت معلوم ہو کر سعادت روحانی حاصل ہو سکتی ہے۔ سعادت الاقران

    99: اس مقام پر امکان و امتناع اور وقوع و لا وقوع کی بحث ایسی صفائی اور سہولت سے بیان کی گئی ہے کہ معقولات میں کچھ دسترس رکھنے والا آسانی سے سمجھ کر شکر گذار ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمارے اکمل صاحب ایسے کور مغز ہیں کہ آپ اس سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکے۔ چنانچہ آپ خیریت سے فرماتے ہیں: ”آپ(خاکسار)نے صعود کو ممتنع بالغیر ثابت کیا ہے۔ بہت اچھا! اب آپ فرمائیے کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ممتنع بالغیر کے لئے امکانِ وقوعی نہیں ہوتا“(صفحہ 42)
    جواب: اس کا جواب ہم سوائے اس کے اور کیا دیں کہ اکمل صاحب باوجود ادعائے اکملیت نہ تو ان مصطلحات سے واقف ہیں اور نہ شہادت القرآن کے اس مقام کو سمجھ سکتے ہیں۔ ایسے اجہل اکمل سے کون کہے کہ جب ممتنع بالغیر ہوا تو اس کا وقوع کیوں ممکن نہیں کیونکہ ممتنع بالغیر اسے کہتے ہیں جو اپنی ذات میں تو ممکن ہو لیکن موانع و عوائق کے سبب وجود میں نہ آیا ہو اور چونکہ ہر ممکن کا وجود وجودِ علت موجبہ اور رفعِ موانع و عوائق کے وقت واقع ہو جاتا ہے اس لئے ہر ممتنع بالغیر بھی وقوع میں آ سکتا ہے کیونکہ امکانِ ذاتی جامع و شامل ہوتا ہے۔ وجوبِ بالغیر اور امتناع بالغیر کو جیسا کہ متن میں مدلل و مفصل بیان ہو چکا ہے ہاں وقوع کی دلیل کا سوال باقی رہ جاتا ہے۔ سو اس کے لئے ہم نے شروع تقریر میں صاف طور پر لکھ دیا ہے کہ اثباتِ وقوع صرف روئت یا نقل یعنی مخبر صادق کی خبر و روئت یا شہادت کے متعلق ہے نہ کہ عقل کے اور وہ خبر و شہادت آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں مذکور ہے جس کی تفسیر و توضیح ہم کر رہے ہیں۔ فافہم۔ سعادت الاقران منہ
    100:ہم نے لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً کا ترجمہ کیا ہے: ”ہم(چاہتے تو)تم میں سے فرشتے پیدا کرتے“۔ اس پر جناب اکمل صاحب(لکھے نہ پڑھے نام محمد فاضل)فرماتے ہیں: لَجَعَلْنَا مِنكُمْ کے معنی تمام معتبر تفسیروں میں بدلا منكم لکھے ہیں۔ یہ تو نہیں کہ تم میں سے فرشتے پیدا ہونے لگ جائیں“۔
    جواب: خدا جانے اکمل صاحب بلا مطالعہ کتب و بلا استعداد اکمل کس طرح بن گئے۔ اوّل تو یہ کہ آپ تو میرے حوالہ جات تفسیر سے شاکی ہیں اور اب تفاسیر ہی کا حوالہ پیش کرتے اور حقیقت میں طلب کرتے ہیں۔ دوم یہ کہ لیجئے جناب عالی! ان تفاسیر کے نام سنتے جائیے جن میں اس کے معنی ”تم سے بقیہ حاشیہ:فرشتے پیدا کر دیں یا کر دیتے لکھے ہیں۔ تفسیر کشاف جو بلحاظ عربیت کے سب سے اول نمبر پر ہے، اس میں بھی یہی معنی لکھے ہیں۔ دیگر یہ کہ امام زمخشری رحمۃ اللہ علیہ کے بعد امام رازی، قاضی بیضاوی، امام خطیب شربینی، نواب صدیق حسن صاحب اور مخدوم علی مہائمی مفسرین رحمہم اللہ نے بھی یہ معنی ذکر کئے ہیں۔ بلکہ حضرت نواب صاحب نے امام سمین سے اسی کو مشہور نقل کیا ہے۔ سنیے! ابھی تسلی ہوئی یا نہیں؟ یہ عذر نہ کرنا کہ یہ کتابیں میں دیکھی نہ تھیں۔ کیونکہ پھر اکملیت کی شیخی کرکری ہو جائے گی۔ سعادت
    101:اکمل صاحب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مثل ملائکہ کہنے پر سخت ناراض ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں اور خوب گستاخی فرماتے ہیں: ”پھر عیسیٰ علیہ السلام کس طرح فرشتے ہو سکتے ہیں جو عورت کے پیٹ میں حسب معمول نو ماہ خون حیض سے پرورش پاتے رہے“۔(صفحہ42)
    جواب: سنئے! جناب خفگی معاف کیجئے! میں اکیلا حضرت روح اللہ علیہ السلام کو مثلِ ملائکہ نہیں کہتا بلکہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ اور ان سے پہلے مخدوم علی مہائمی رحمہ اللہ بھی میرے ساتھ ہیں۔ چنانچہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ تو تاویل الاحادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حال بقیہ حاشیہ:میں فرماتے ہیں: ”كان عیسیٰ عليه السلام كانه ملك يمشى علیٰ وجه الأرض“(تاویل الحدیث فی رموز قصص الانبیاء صفحہ 76 مطبوعہ شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدر آباد پاکستان 1966ء)یعنی ”عیسیٰ علیہ السلام گویا ایک فرشتہ تھے جو روئے زمین پر چلتے پھرتے تھے“۔ اور مخدوم صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وكيف لا يكون ملكية وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ أی من اشراطها ينزل بقربها والبشر المحض لا يبقیٰ الیٰ هذه المدة“(تفسیر تبصیر الرحمن و تیسیر المنان جلد 2 صفحہ 257 الزخرف:61 مطبوعہ بولاق عالم الکتب مصر)یعنی ”عیسیٰ علیہ السلام میں ملکیت کس طرح نہ ہو کیونکہ وہ تو قیامت کا ایک نشان ہیں کہ اس کے قریب نازل ہوں گے اور بشر محض اتنی مدت تک زندہ نہیں رہتا۔منہ سعادت الاقران
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر