1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

شہید اہلسنت مولنا محمد مختار احمد قادری نوری

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 7, 2016

  1. ‏ نومبر 7, 2016 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    شہید اہلسنت مولنا محمد مختار احمد قادری نوری
    شوشل میڈیا پر علامہ مختار احمد قادری نوری صاحب کے بارے میں آپ احباب روزانہ نیوز پڑھتے ہیں،
    ان کا مکمل تعاوف ، حالات و واقعات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں،
    میں غلام نبی نوری ہوں علامہ مولنا محمد مختار احمد قادری نوری رحمتہ اللہ علیہ میرے والد محترم تھے، جو کہ جماعت اہلسنت (حنفی بریلوی ) ضلع قصور کے ایک نامور عالم دین تھے،
    ان کی رہائش ضلع قصور کے ایک شہر کھڈیاں خاص میں تھی جبکہ وہ کھڈیاں خاص سے تقریبا 20 کلو میٹر کے فاصلہ پر گاوں ججل نزد تلونڈی میں عرصہ دس سال سے جماعت کی طرف سے خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے، میرے والد محترم الحمد جماعت کے خوش اخلاق اور پایہ ناز عالم دین تھے، نیشنل و انٹرنیشنل سطح پر علامہ صاحب ( میرے والد محترم ) حضور ﷺ کی تعریف و توصیف بیان کرنے کے لیے بلائے جاتے تھے،
    ضلع قصور میں علامہ صاحب سماجی ، سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں میں ہمیشہ پس پردہ سرگرداں رہتے تھے، انھییں شہرت سے قدرے اختلاف تھا، فرمایا کرتے تھے کہ شہرت تو وہ ہے جو حضور ﷺ کے نام سے منسبوب ہوکر ملتی ہے ، باقی سب تو خود شناسی کا ایک راستہ ہے،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ صاحب کی پیدائش 1974ء میں ضلع قصور کے ایک گاوں میں ہوئی،
    ابتدائی تعلیم اپنے چچا مولنا محمد شریف نوری ( موجودہ صدر مرکزی جماعت اہلسنت قصور ) سے حاصل کی،
    دیگر درس نظامی، دورہ حدیث دورہ قرآن و دیگر علوم کے لیے جامعہ بصیر پور شریف فقیہ اعظم مفتی نور اللہ بصیر پوری رحمتہ اللہ علیہ مولنا مفتی محب اللہ نوری سے حاصل کیے مذید علوم الحاج مفتی محمد عبداللہ قصوری رحمتہ اللہ علیہ صاحب سے حاصل کیے اور گنڈہ سنگھ ساندہ، قصور، کانی والا، تلونڈی، نرمل کے، اور ججل میں جماعت کی ترجمانی کرتے ہوئے خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے،
    اس دروان علامہ صاحب نے بد عقیدہ لوگوں سے کئی مباحثے و مکالمے کیے، ؎
    ختم نبوت ﷺ پر درس و وعظ بھی جاری رکھا،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ مختار احمد قادری رحمتہ اللہ علیہ ضلع قصور کے نامور عالم دین تھے اور ساتھ ساتھ حکمت و طب پر بھی دسترس حاصل تھا، سلسلہ قادریہ نوریہ یوسفیہ سے وابسطہ تھے، اور ایک روحانی معالج بھی تھے،
    ججل (مقامی گاوں ) میں دس سال سے خطابت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے،
    اسی دوران ججل قریبی گاوں (مرلے) سے تعلق رکھنے والا زمیدار (ملزم ) اصغر علی مولنا صاحب کے پاس اپنے علاج و معالج کی غرض سے آیا، علامہ صاحب سے اُس (ملزم) اصغر علی نے شفا پائی ، اس کے بعد
    علامہ صاحب کے پاس علاج معالجہ کی غرض سے آنا جانا کافی عرصہ تقریبا 1 سال تک جاری رہا ، یوں دونوں میں بے تکلفی ہوگی، ؎
    اُس ملزم اصغر علی نے 7 ایکڑ زمین کے کاغذات کی کاپیاں مولنا صاحب کو دیں اور کہا کہ آپ کے تعلقات اچھے ہیں، آپ عالم دین ہے اور آپ کے روابط کافی لوگوں کے ساتھ ہیں،
    میں (ملزم اصغر ) اپنی زمین بیچنا چاہتا ہوں، کسی اچھی پارٹی سے کہہ کر میری زمین فروخت کروا دیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یاد رہے کہ ۔۔۔۔۔۔
    نمبر 1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملزم اصغر علی کی اُس زمین( جس کے کاغذات علامہ صاحب کو دیے گئے تھے ) کو لیکر ملزم اصغر علی کا کوئی زاتی خاندانی زمینی تناذعہ چل رہا تھا، جس سے علامہ صاحب بالکل بے خبر تھے،
    نمبر 2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملزم اصغر علی مسلک اہلحدیث سے تعلق رکھتا تھا، لیکن علامہ صاحب کے ساتھ اچھے تعلقات تھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ معاملات اسی طرح جاری ہے ، علامہ صاحب نے وہ کاغذات کی کاپیاں لیکر مختلف لوگوں سے اُس زمیندار اصغر علی کی زمین بکوانے کے حوالے سے بات چیت شروع کر دی،
    18۔7۔2016 کو رات 11:15 پر اچانک مجھے (غلام نبی نوری) میرے موبائل نمبر پر ملزمان کی طرف سے کال موصول ہوئی کہ علامہ مختار احمد نوری صاحب ہمارے پاس محفل پر آئے ہوئے تھے ان کا یہاں پر انتقال ہوگیا ہے،
    یہ کال سنتے ہی میں (غلام نبی نوری ) نے اپنے چند رشتہ داروں کو اپنے ہمراہ لیا اور مطلوبہ جگہ پر پہنچ گئے، وہاں پہنچ کر ہم نے علامہ صاحب (والد) کی کنڈیشن دیکھی، ان کا انتقال ہوچکا تھا،
    ہم نے طبعی موت سمجھ کر ان کو اپنے شہیر لے آئے ،، ضلع قصور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ میرے والد محترم کا تھا، ہزاروں کی تعداد میں علماء اور عوام اہلسنت کا ہجوم تھا،
    پھر جید علماء اکرام و مشائخ عظام کی دعاوں اور آہوں کی موجودگی میں اُن کو سپرد خاک کر دیا گیا، ضلع قصور کے گاوں چور کوٹ نذد محمود پورہ میں ان کا مزار مبارک بنایا گیا،
    اس ساری روداد کے بعد عرصہ طویل تک علامہ مولنا محمد مختار احمد قادری نوری رحمتہ اللہ علیہ کے علاقہ سے علماء اکرام کا ایک جمع غفیر اظہار افسوس کے لیے آتا رہا ،
    علامہ صاحب کی وفات کے متعلق چہ مگوئیاں شروع ہوگییں علماء اکرام نے مولنا محمد مخؒتار احمد نوری کے چچا ( صدر مرکزی جماعت اہلسنت قصور) مولنا محمد شریف نوری سے رجوع کیا اور کہا کہ علاقہ بھر میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ مولنا محمد مختار احمد قادری نوری رحمتہ اللہ علیہ کو قتل کیا گیا تھا ، ان کی موت طبعی نہ تھی۔
    علماء اکرام کے کئی مقامی اجلاسوں میں اس بات کی بار بار نشاندہی کی جانے لگی،
    بلاآخر صدر مرکزی جماعت اہلسنت مولنا محمد شریف نوری ، و وارثان مولنا محمد مختار احمد نوری نے یہ فیصلہ کیا کہ سرکاری طور پر قبر کشائی کروائی جائے تاکہ یہ کلئیر ہوجائے کہ کیا واقع ہی مولنا مختار احمد نوری کی موت طبعی نہیں ، یا صرف باتیں ہیں،
    اس قبر کشائی اور میڈیکل کی بات جب ملزمان ( جن کے گھر علامہ صاحب کی وفات ہوئی) کو پتہ چلا تو انھوں نے علامہ مختار نوری کے وارثان سے رجوع کیا وار کہا کہ
    میڈیکل مت کروائیے حقیقت میں مولنا مختار نوری کا قتل ہی ہوا ہے،
    لیکن ہم اس قتل میں شامل نہیں ہیں،۔ ہمارا زمین کا تنازعہ چل رہا تھا،
    جو زمین ہم فروخت کرنا چاہتے تھے وہ ہمارے خاندان میں ایک اخلافی مسلہ بنی ہوئی تھی، علامہ صاحب کو میرے ( ملزم اصغر کے ) رشتہ داروں نے مار دیا ہے کہ علامہ صاحب کیوں یہ زمیں بکوا رہے ہیں
    یعنی اُن کی آپسی دشمنی کی بھینٹ ایک زمہ دار عالم دین کو چڑھا دیا گیا،
    یہ بات سن کر وارثان علامہ مختار احمد نوری اور جماعت اہلسنت نے اُنھی ملزمان اصغر وغیرہ کے خلاف 302/34 کے مقدمہ کی درخواست دے دی اور ساتھ قبر کشائی کے آرڈرز لے لیے، ملزمان کو پولیس نے موقعہ پر گرفتار تو نہیں لیکن لیکن مقدمہ درج کر لیا،
    ملزمان نے از حد کوشش کی کہ قبر کشائی نہ کی جائے، اسی طرح ملزمان نے علامہ صاحب کی قبر کو اکھاڑنے کی بھی کوشش کی۔۔
    اسی طرح چند دن پہلے علامہ مختار احمد نوری کی قبر کشائی کی گئی اور حضور ﷺ کے یہ غلام بالکل تروتازہ حالت میں نکلے ،
    ڈی ایچ کیو قصور کی رپورٹ کے مطابق علامہ مختار احمد نوری پر شدید تشدد کرکے ان کا گلہ دبایا گیا تھا،
    رپورٹ ملنے کے باوجود ابھی تک پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے سے قاصر ہے،
    احباب سے گزارش ہے کہ علامہ صاحب کے حق میں دعا کریں کہ اللہ اُن کو وارثان کو انصاف دلائے اور حضرت صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچائے،
    ان تمام باتوں کی تصدیق اگر احباب میں سے کوئی بھی کرنا چاہے تو مجھ سے رابطہ کر سکتا ہے،
    منجانب، غلام نبی نوری

اس صفحے کی تشہیر