1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

شیخ محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ اور عقیدہ ختم نبوت

محمد اسامہ حفیظ نے 'قادیانی خرافات پرتحقیقی مقالات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 23, 2021

  1. ‏ نومبر 23, 2021 #1
    محمد اسامہ حفیظ

    محمد اسامہ حفیظ رکن ختم نبوت فورم

    مشہور صوفی شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ جوکہ شیخ اکبر کے نام سے مشہور ہیں ان کی چند عبارات سے بھی دھوکہ دیا جاتا ہے اور یوں کہاجاتاہے کہ انہوں نے لکھا ہے صرف تشریعی نبوت کا دروازہ بند ہے اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے جو یہ فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں جو میری شریعت کے مخالف ہو ،اگر کوئی ہوگا تو وہ میری شریعت کے تابع ہوگا …
    (الفتوحات المکیہ، جلد 2 صفحہ 3) ۔
    1.jpg
    اس پر عرض ہے کہ شیخ ابن عربی کی جن عبارات میں تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کے الفاظ ملتے ہیں اور جن سے جماعت مرزائیہ و غامديه یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ شیخ ابن عربی ایسی نبوت کے جاری ہونے کے قائل ہیں جو کوئی نئی شریعت لے کر نہ آئے ، یہ بات سراسر غلط ہے ، چنانچہ جب ہم شیخ ابن عربی کی دوسری عبارات کا تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک تشریعی نبوت سے مراد وہ نبوت ہے جو ولایت کے مقابلے میں ہے اور جسے شریعت نے نبوت کہا ہے ، اور انہوں نے کمالات نبوت اور مبشرات کو غیر تشریعی نبوت فرمایا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ شریعت نے اسے نبوت نہیں کہا یعنی جو نبوت بغیر تشریع ہو وہ نبوت نہیں کہلاتی بلکہ نبوت کا اطلاق اسی وقت درست ہوتا ہے کہ جب تمام اجزائے نبوت جن میں تشریع بھی داخل ہے مکمل موجود ہوں پس کامل نبوت باقی نہیں صرف بعض اجزائے نبوت باقی ہیں جنہیں نہ شرعاً نبوت کہا جاسکتا ہے نہ عرفاً ، پس اگر غیر تشریعی نبوت کو باقی بھی کہاجائے تو اس کا معنیٰ صرف یہ ہے کہ سچے خواب اور مبشرات باقی ہیں جو نہ نبوت کہلا سکتی ہے اور نہ صاحب مبشرات نبی کہلاسکتا ہے۔
    ابن عربیؒ کے نزدیک ہر نبوت تشریعی ہے
    آئیے ہم شیخ ابن عربی کی عبارات سے ہی اس بات کو ثابت کرتے ہیں :۔
    "فما بقی للاولیاء الیوم بعد ارتفاع النبوۃ الا التعریف وانسدت ابواب الاوامر الالہیۃ والنواہی ، فمن ادعاہا بعد محمد فہو مدع شریعۃ أوحی بہا الیہ سواء وافق بہا شرعنا او خالف…".
    پس نبوت ختم ہوجانے کے بعد اولیاء کے لئے صرف معارف باقی رہ گئے ہیں اور اللہ کے اوامر ونواہی کے دروازے بند ہوچکے پس اگر کوئی محمد صلى الله عليه وسلم کے بعد یہ دعویٰ کرے کہ (اللہ نے اسے کوئی حکم دیا ہے یا کسی بات سے منع کیا ہے) تو وہ مدعی شریعت ہی ہے خواہ اس کی وحی شریعت محمدیہ کے موافق ہو یا خلاف ہو (وہ مدعی شریعت ضرور ہے) ۔
    (الفتوحات المکیۃ، جلد 3 صفحہ 39 ، طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)
    2.jpg
    شیخ کی اس عبارت سے واضح ہوا کہ مدعی شریعت صرف وہی نہیں جوشریعت محمدیہ کے بعدنئے احکام لے کر آئے ، بلکہ وہ مدعیِ نبوت جس کا دعویٰ ہوکہ اس کی وحی شریعت محمدیہ کے بالکل مطابق ہے ، وہ بھی مدعی شریعت ہے اور یہ دعویٰ بھی ختم نبوت کے منافی ہے ، لہذا آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے بعد جس طرح نئی شریعت کا دعویٰ ختم نبوت کا انکار ہے اسی طرح شریعت محمدیہ کے مطابق وحی کا دعویٰ بھی ختم نبوت کا انکار ہے ، اس عبارت سے واضح ہوا کہ شیخ ابن عربی کے نزدیک تشریعی نبوت سے مراد وہ نبوت ہے جسے شریعت نبوت کہے خواہ وہ نبوت نئی شریعت کی مدعی ہو یا شریعت محمدیہ کی موافقت کا دعویٰ کرے، اس طرح شیخ کے نزدیک غیر تشریعی نبوت سے مراد وہ کمالات نبوت اور کمالات ولایت ہوں گے جن پر شریعت نبوت کا اطلاق نہیں کرتی اور وہ نبوت نہیں کہلاتے ۔
    آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی وفات کے ساتھ ہی وحی منقطع ہوگئی
    "واعلم أن لنا من اللہ الالہام لا الوحی فان سبیل الوحي قد انقطع بموت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقد کان الوحي قبلہ ولم یجيء خبر الہي أن بعدہ وحیاً کما قال ولقد أوحي الیک والی الذین من قبلک ولم یذکر وحیاً بعدہ وان لم یلزم ہذا وقد جاء الخبر النبوی الصادق فی عیسیٰ علیہ السلام وقد کان ممن أوحي الیہ قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یؤمّنا الّا مِنّا أی بسنتنا فلہ الکشف اذا نزل والالہام کما لہذہ الامۃ…".
    جان لوکہ ہمارے لئے (یعنی اس امت کے لئے) اللہ تعالی کی طرف سے صرف الہام ہے وحی نہیں ۔ وحی کا سلسلہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی وفات پر ختم ہو چکا ہے ۔ آپ سے پہلے بے شک یہ وحی کا سلسلہ موجودتھا۔ اور ہمارے پاس کوئی ایسی خبر الٰہی نہیں پہنچی کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے بعد بھی کوئی وحی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے : اور وحی کی گئی تیری طرف اور تجھ سے پہلوں کی طرف ۔ [الزمر:65] ، اللہ تعالی نے آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے بعد کسی وحی کا ذکر نہیں فرمایا ۔ ہاں آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سچی خبر پہنچی ہے ، اور آپ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی طرف آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے پہلے وحی کی گئی تھی ۔ آپ جب اس امت کی قیادت کریں گے تو ہماری شریعت کے مطابق عمل کریں گے ۔ آپ جب نازل ہوں گے تو آپ کے لئے مرتبہء کشف بھی ہوگا اور الہام بھی جیسا کہ یہ مقام (اولیاء) امت کے لئے ہے ۔
    (الفتوحات المکیۃ، جلد 3 صفحہ 238 ، طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)
    3.jpg
    یہاں شیخ نے صراحت کے ساتھ اس امت میں وحی نبوت کا سلسلہ بند بتلایا ہے ، اگر آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے بعد وحی جاری ہوتی تو شیخ ابن عربی اس طرح اس کے بند ہونے کا ذکر نہ فرماتے ، نیز یہ بھی وضاحت فرمادی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آپ کے نزول کے بعد اگر کوئی وحی اترے گی تو وہ کشف اور الہام کے معنی میں ہوگی اصطلاحی وحی نہ ہوگی جو صرف نبیوں پر آتی ہے وہ نئی شریعت کے ساتھ ہویاپرانی شریعت کے ساتھ ، نیز اس تحریر سے شیخ ابن عربی کا یہ عقیدہ بھی پتہ چل گیا کہ آپ انہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے قائل ہیں جن پر آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے پہلے وحی نازل ہوچکی تھی ، جبکہ قادیانی عقیدہ اس کے بر عکس ہے ۔
    نبی کا لفظ صرف اس پر بولا جائے گا جو صاحب تشریع ہو
    ایک اور جگہ لکھتے ہیں:۔
    أخبر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ان الرؤیا جزء من اجزاء النبوۃ فقد بقي للناس من النبوۃ ہذا وغیرہ ومع ہذا لا یُطلق اسم النبوۃ ولا النبي الا علی المشرع خاصۃ فحجر ہذا الاسم لخصوص وصف معین فی النبوۃ وماحجر النبوۃ التی لیس فیہا ہذا الوصف الخاص وان کان حجر الاسم…"
    نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اچھا خواب نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے ۔ پس نبوت میں سے لوگوںکے لئے یہ رؤیا وغیرہ باقی رہ گیا ہے مگر اس کے باوجود نبوت اور نبی کا نام صرف اس پر بولاجاتا ہے جو صاحب دین وشریعت ہو۔ ایک خاص وصف معین کی بناء پر اس نام (نبی) کی بندش کردی گئی ہے ۔
    (الفتوحات المکیۃ ، جلد 2 صفحہ 276 طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)
    4.jpg
    شیخ ابن عربی کی یہ تحریرواضح طور پر بتلارہی ہے کہ ان کے نزدیک نبی کا لفظ صرف اس کے ساتھ خاص ہے جو صاحب دین وشریعت ہو (چاہے اسے نئی شریعت ملی ہو یا کسی پرانی شریعت پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہو) اور یہ نبوت ختم ہوچکی ہے ، اب لوگوں کے لئے مبشرات وغیرہ ہی باقی رہ گئے ہیں اور ان پر نبوت کا لفظ نہیں بولا جاسکتا ۔
    اب کسی کا نام نبی یا رسول نہیں ہوسکتا
    ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:۔
    "ولہذا قال صلى الله عليه وسلم ان الرسالۃ والنبوۃقد انقطعت وما انقطعت الا من وجہ خاص انقطع منہا مسمی النبی والرسول ولذلک قال فلا رسول بعدی ولا نبی ثم ابقی منہا المبشرات وابقی حکم المجتہدین وازال عنہم الاسم …"
    آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بے شک رسالت ونبوت ختم ہوچکی ، یہ ختم ہونا ایک خاص وجہ سے ہے ، اب نبی اور سول کا نام ختم ہوچکا ہے (یعنی اب کسی کو نبی یا رسول نہیں کہا جاسکتا) اسی لئے آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی ، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے مبشرات کو باقی رکھا اور مجتہدین کے حکم کو باقی رکھا لیکن ان سے (نبی اور رسول) کا نام دور کردیا ۔
    (الفتوحات المکیۃ ، جلد 2 صفحہ 252 ، طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)
    5.jpg
    دیکھیے کس صراحت کے ساتھ شیخ نے لکھا کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے بعد اب نبی یا رسول کا نام کسی کے لئے نہیں بولا جاسکتا ، ہاں نبوت کے اجزاء یعنی اچھے خواب وغیرہ باقی ہیں (جسے شیخ نبوت کے باقی ہونے سے تعبیر کرتے ہیں ) لیکن ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ صاحب مبشرات کو نبی یا رسول نہیں کہ سکتے ۔
    1.jpg 2.jpg 3.jpg 4.jpg 5.jpg 6.jpg 7.jpg 8.jpg 9.jpg 10.jpg
    مدیر کی آخری تدوین : ‏ نومبر 23, 2021
    • Like Like x 1
  2. ‏ نومبر 23, 2021 #2
    محمد اسامہ حفیظ

    محمد اسامہ حفیظ رکن ختم نبوت فورم

    بابِ نبوت بند ہوچکا ، صرف بابِ ولایت کھلا ہے
    پھر ایک جگہ اپنے شیخ ابوالعباس الصنہاجی کی ایک دعا کا تذکرہ کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں:۔
    "کان شیخنا ابوالعباس بن العریف الصنہاجي یقول فی دعاء ہ الہم انک سددتً باب النبوۃ والرسالۃ دوننا ولم تسد باب الولایۃ الّٰہم مہما عینتَ اعلی رتبۃ فی الولایۃ لأعلی ولی عندک فاجعلنی ذلک الولی فہذا من المحقین الذین طلبوا ما یمکن أن یکون حقاً لہم وان کانت النبوۃ والرسالۃ مما یستحقہ الانسان عقلاً لکون ذاتہ قابلۃ لہا لکن لما علم ان اللہ قد سدد بابہا شرعاً وسد باب الشرائع لم یسئلہا وسأل ما یستحقہ فان اللہ ما حجر الولایۃ علینا …"
    ہمارے شیخ ابو العباس بن عریف صنہاجی یوں دعاء فرمایا کرتے تھے : اے اللہ تونے نبوت ورسالت کا دروازہ تو بند فرمادیا ہے لیکن ولایت کا دروازہ بند نہیں فرمایا ۔ اے اللہ تونے اپنے جس ولی کا جو سب سے اونچا مرتبہ اپنے ہاں مقرر کر رکھا ہے مجھے وہ ولی بنادے ۔ (آگے شیخ ابن عربی فرماتے ہیں) انہوں نے وہی مانگا جو ان کا حق تھا ۔ اگر چہ نبوت ورسالت بھی ایسی چیز ہے کہ عقلاً انسان اس کا مستحق ہے لیکن انہیں علم تھا کہ اللہ نے شرعاً نبوت کا دروازہ بند کردیا ہے اور شرائع کا دروازہ بھی اس لئے آپ نے نبوت نہیں مانگی بلکہ وہی مانگا جو آپ کا حق تھا ۔ اللہ نے ولایت ہم پر بند نہیںکی (جبکہ نبوت بند کردی ہے ۔ ناقل)۔
    (الفتوحات المکیۃ ، جلد 2 صفحہ 97 طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)
    6.jpg
    جو وحی نبی اور رسول کے ساتھ خاص ہے وہ منقطع
    ہوچکی ، اب کسی کو نبی یا رسول کا نام نہیں دیا جاسکتا
    "وانما انقطع الوحی الخاص بالرسول والنبی من نزول الملک علی اذنہ وقلبہ وتحجیر اسم النبی والرسول …"
    جو وحی نبی اور رسول کے ساتھ خاص تھی کہ فرشتہ ان کے کان یا دل پر(وحی لے کر) نازل ہوتا تھا وہ وحی بند ہوچکی ، اور اب کسی کو نبی یا رسول کا نام دینا ممنوع ہوگیا ۔
    (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 253 طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)
    7.jpg
    شیخ ابن عربی نے اپنی اس عبارت میں بھی بتادیا کہ وہ جسے تشریعی نبوت کہتے ہیں اس سے مراد مطلق اصطلاحی نبوت ہے اور وہ یہ لفظ ولایت کے مقابلے میں بولتے ہیں ، کیونکہ انہوں نے صاف طور پر فرمایا کہ نبوت ورسالت کا دروازہ تو بند ہے لیکن ولایت کا کھلا ہے۔
    شیخ ابن عربیؒ کا واضح عقیدہ ختم نبوت
    شیخ ابن عربی اپنی دوسری کتاب فصوص الحکم میں اپنا عقیدہ یوں بیان فرماتے ہیں:۔
    "لأنہ اکمل موجود فی ہذا النوع الانساني ولہذا بُدیء بہ الامر وخُتم ، فکان نبیاً وآدم بین الماء والطین ثم کان بنشئتہ خاتم النبیین …"
    آپ صلى الله عليه وسلم نوع انسانی میں سب سے زیادہ کامل انسان ہیں ، اسی لئے نبوت کا معاملہ آپ سے ہی شروع ہوا ، اور آپ ہی پر ختم ہوا ، آپ نبی تھے اور آدم (علیہ السلام) ہنوز آب وگِل میں تھے ، پھر آپ صلى الله عليه وسلم اپنی نشأۃ بشری کے لحاظ سے بھی خاتم النبیین ہیں (یعنی آخری نبی ہیں) ۔
    (فصوص الحکم ، صفحہ 214 ، دار الکتاب العربی ، بیروت)
    8.jpg
    الغرض ! شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے عقیدہ کی جو وضاحت کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے فیضان ِ نبوت سے اس امت میں کمالات نبوت باقی ہیں، مبشرات (سچے خواب) بھی اجزاء نبوت میں سے ہیں اور محفوظ الہامات بھی کمالات نبوت میں سے ہیں ، شریعت کے صافی چشمہ سے اجتہاد واستنباط کے ذریعے نئے نئے مسئلوں کی دریافت بھی کمالات نبوت میں سے ہے ، لیکن اس کے باوجود نبی کا لفظ نہ سچے خواب دیکھنے والوں پربولا جائے گا ، نہ صاحب کشف کاملین پر اور نہ ائمہ مجتہدین پر، اس امت سے نبی اور رسول کا لفظ ہمیشہ کے لئے روک دیا گیا ہے ، نیز شیخ ابن عربی کے نزدیک تشریعی نبوت کی اصطلاح اس نبی کے لئے استعمال کی گئی ہے جنہیں شریعت نے نبی کہا ، اور یہ لفظ آپ کی عبارات میں اولیاء یا صاحبین مبشرات وغیرہ کے مقابلے میں آیا ہے ، اور شیخ کے نزدیک غیر تشریعی نبوت کی ایک خاص اصطلاح ہے جو ولایت کے مترادف ہے اور انہوں نے یہ تصریح متعدد جگہ پر فرمادی ہے کہ کسی ولی کو مقام نبوت حاصل نہیں ہوسکتا ، یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ شیخ ابن عربی صرف لغوی طور پر اولیاء اللہ کے الہامات ومبشرات کو نبوت کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں لیکن نہ کسی ولی کو نبی کی طرح مفترض الطاعۃ کہتے ہیں اور نہ ہی کسی ولی کے انکار کو کفر کہتے ہیں اور نہ ہی کسی ولی کو نبی یا رسول کے لفظ سے یادکرنا ٹھیک سمجھتے ہیں ، بلکہ وہ اولیاء اللہ کے لئے جس الہام واخبار من اللہ کو نبوت سے تعبیر کرتے ہیں اس نبوت کو حیوانات میں بھی جاری مانتے ہیں ، چنانچہ ایک جگہ لکھتے ہیں:۔
    "وہذہ النبوۃ ساریۃ فی الحیوان مثل قولہ تعالی واوحی ربک الی النحل "
    اور یہ نبوت حیوانات میں بھی جاری ہے جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا : تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی ۔
    (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 254 طبع مصر)
    9.jpg
    بلکہ شیخ تو اس "لغوی" نبوت کو ہر موجود چیز میں جاری مانتے ہیں ، چنانچہ ان کے الفاظ ہیں:۔
    "علم أن النبوۃ ساریۃ فی کل موجود یعلم ذلک اہل الکشف والوجود" معلوم ہوا کہ نبوت ہر موجود چیز میں جاری وساری ہے یہ بات اہل کشف خوب جانتے ہیں ۔
    (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 254 طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)
    9.jpg
    تو کیا مرزائی يا غامدى يا ابن عربى کو "منکر ختم نبوت" ثابت کرنے والے، شہد کی مکھی کو بھی "غیر تشریعی نبی" کہنا شروع کردیں گے ؟ یا وہ ہر حجر وشجر کو نبی پکارنا شروع کردیں گے؟ ۔
    آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے بعد کسی کو نبی کے نام سے نہیں پکارا جاسکتا
    شیخ ابن عربی ایک جگہ صاف طور پر لکھتے ہیں:۔
    "وکذلک اسم النبي زال بعد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم فانہ زال التشریع المنزل من عند اللہ بالوحی بعدہ صلى الله عليه وسلم…" آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے بعد نبی کسی پر نہیں بولا جاسکتا ، کیونکہ آپ کے بعد جو وحی تشریعی صورت میں اللہ کی طرف سے آتی ہے ہمیشہ کے لئے ختم ہوچکی۔
    (الفتوحات المکیۃ، جلد 2 صفحہ 58 طبع دار الکتب العربیۃ الکبری،مصر)
    10.jpg
    • Like Like x 1
  3. ‏ نومبر 23, 2021 #3
    محمد اسامہ حفیظ

    محمد اسامہ حفیظ رکن ختم نبوت فورم

    کچھ شیخ ابن عربی اور انکی کتاب الفتوحات المکیۃ کے بارے میں
    یہاں یہ حقیقت بیان کرنا ضروری ہے کہ شیخ محی الدین ابن عربی کے بارے میں اکابر علماء کی آراء میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے ، بہت سے معروف علماء امت نے ابن عربی اور ان کی کتب پر شدید تنقید کی ہے جن میں حنبلی، شافعی ، مالکی اور حنفی علماء کی کثیر تعداد شامل ہے ، ڈاکٹر دغش بن شبییب العجمی نے اپنی کتاب ’’ابن عربی ۔ عقیدتہ وموقف علماء المسلمین منہ من القرن السادس الی القرن الثالث عشر‘‘ میں (جو مکتبۃ اہل الاثر ، کویت سے طبع ہوئی) 200 سے زیادہ نام ذکر کیے ہیں جنہوں نے بلاواسطہ یا بالواسطہ ابن عربی اور ان کی تحریرات پر جرح کی ہے اور بعض نے تو بہت شدید قسم کے الفاظ بھی لکھے ہیں ، ان ناموں میں ڈاکٹر عجمی نے ابن الجوزی، ابن الصلاح، ابن الحاجب ، ابن دقیق العید ، ابن تیمیہ ، ابوحیان اندلسی، ابن ہشام ، سبکی ، ذہبی ، ابن قیم ، ابن کثیر ، ابن حجر ، علامہ عینی حنفی، ابن ہمام حنفی ، سخاوی ، صنعانی ، شوکانی وغیرہ جیسے نام بھی ذکر کیے ہیں جنہوں نے ابن عربی کی عبارات اورنظریات پراعتراضات کیے ہیں ، انہوں نے تقریباً 24 حنبلی ، 90 شافعی ، 25 مالکی اور 35حنفی مشہور ہستیوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے ابن عربی یا ان کے عقائد پر تنقید کی ہے ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے تو متعدد کتب لکھیں، جیسے ’’الرد الاقوم علی ما فی فصوص الحکم‘‘ اور ’’النصوص علی الفصوص‘‘ اور ’’مؤلف فی الرد علی ابن عربی‘‘ اور ’’بغیۃ المرتاد فی الرد علی المتفلسفۃ والقرامطۃ والباطنیۃ اہل الالحاد من القائلین بالحلول والاتحاد‘‘ جن میں شیخ ابن عربی کے بارے میں بہت سخت الفاظ لکھے ہیں ،سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی نے ’’الرد علی اباطیل کتاب فصوص الحکم‘‘ نامی کتاب لکھی ، سراج بن مسافر بن زکریا المقدسی الحنفی نے ’’الرد علی ابن عربی‘‘ نامی کتاب لکھی ، شمس الدین محمد بن عبدالرحمان سخاوی شافعی نے ’’القول المُنبي فی ترجمۃ ابن العربی‘‘ لکھی ، اسی طرح ڈاکٹر دغش عجمی نے 64کتب ورسائل کے نام ذکر کیے ہیں جو محی الدین ابن عربی کے رد میں لکھے گئے (بحوالہ: ابن عربی ۔ عقیدتہ وموقف علماء المسلمین منہ من القرن السادس الی القرن الثالث عشر، صفحہ 713 تا 727) ۔ لیکن اس سب کے باوجود ہم یہی کہتے ہیں کہ ابن عربی کی جن عبارات یا تحریرات کو لے کر ان پر جرح کی گئی ہے وہ ان کی "شطحیات" ہیں اور انہیں صوفیاء کی خاص اصطلاحات اور خود شیخ ابن عربی کی دوسری واضح تحریرات کو سامنے رکھتے ہوئے سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہیے ۔
    کیاشیخ محی الدین ابن عربی کی تحریرات میں تحریف بھی کی گئی؟
    ایک اور اہم بات کی طرف بھی توجہ دلانا ازحد ضروری ہے ، شیخ ابن عربیؒ کے ترجمان خاص شیخ عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ شیخ ابن عربی کی کتابوں میں خفیہ طور پر بہت سے اضافے بھی کیے گئے ہیں اور ایسے عقائد ان کی طرف منسوب کیے گئے ہیں جو ان کے وہم وگمان میں بھی نہ تھے ، چنانچہ شیخ عبدالوہاب شعرانی اپنی کتاب "الیواقیت والجواہر" میں لکھتے ہیں کہ:۔
    "وقد اخبرنی العارف باللہ تعالی الشیخ ابوطاہر المزنی الشاذلی رضی اللہ عنہ ان جمیع ما فی کتب الشیخ محی الدین مما یخالف ظاہر الشریعۃ مدسوس علیہ، قال لأنہ رجل کامل باجماع المحققین والکامل لایصح شطحہ عن ظاہر الکتاب والسنۃ…".
    عارف باللہ شیخ ابوطاہر شاذلی نے مجھے بتایا کہ وہ تمام عبارات جو شیخ ابن عربی کی کتابوں میں مخالف شریعت نظر آتی ہیں سب الحاقی ہیں یعنی کسی اور کی طرف سے اضافہ شدہ ہیں، کیونکہ محققین کے مطابق وہ (ابن عربی) ایک کامل انسان تھے ، اور کامل بندے کتاب وسنت کے ظاہری حکم سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کیا کرتے ۔
    (الیواقیت والجواہر،جلد 1 صفحہ 16 ، طبع دار احیاء التراث العربی ، بیروت)
    11.jpg
    پھر شیخ شعرانی نے چار صفحات کے بعد یہ لکھا:۔
    "کما اخبرنی بذلک سیدی الشیخ ابوالطاہر المغربی نزیل مکۃ المشرفۃ ثم اخرج لی نسخۃ الفتوحات التی قابلہا علی نسخۃ الشیخ التی بخطہ فی مدینۃ قونیۃ فلم ار فیہا شیئاَ مما کنتُ توقفتُ فیہ وحذفتہ حین اختصرت الفتوحات…‘‘ جیساکہ مجھے شیخ ابوطاہر مغربی حال نزیل مکہ مکرمہ نے بتایا ، پھر انہوں نے میرے لئے فتوحات مکیہ کا وہ نسخہ نکالا جس کا انہوں نے شیخ ابن عربی کے ہاتھ سے لکھے ہوئے اس نسخہ سے تقابل کیا تھا جو قونیہ شہر میں تھا ، وہ باتیں جن کے اندر میں متردد تھا اس نسخے میں بالکل نہیں تھیں، لہذا جب میں نے فتوحات مکیہ کا اختصار کیا تو ان باتوں کو حذف کردیا۔
    (الیواقیت والجواہر ، جلد 1 صفحہ 23 طبع دار احیاء التراث العربی ، بیروت)
    12.jpg
    علامہ شعرانی کی اس تحقیق سے اس بات کو تقویت پہنچتی ہے کہ شیخ ابن عربی کی طرف منسوب فتوحات مکیہ ودیگر کتب میں انکار ختم نبوت کا شبہ ڈالنے والی عبارات شیخ ابن عربی کی نہیں ہوسکتیں اور وہ تمام حوالے ناقابل اعتبار ٹھہرتے ہیں ۔
    (یہ مضمون میری کتاب : "مطالعه قاديانيت" سے بتغییر یسیر نقل کیا گیا ہے)
    حافظ عبيد الله
    13/08/2020
    نوٹ: پوسٹ کے ساتھ مشھور اہل حدیث عالم، مولانا ثناء الله امرتسرى رحمه الله کے "فتاویٰ ثنائيه" کے ایک صفحے کا سکین منسلک ہے.
    a (10).jpg
    • Like Like x 1
  4. ‏ نومبر 23, 2021 #4
    محمد اسامہ حفیظ

    محمد اسامہ حفیظ رکن ختم نبوت فورم

    کچھ اور حوالہ جات
    a (1).jpg a (2).jpg a (3).jpg a (4).jpg a (6).jpg a (7).jpg a (8).jpg a (9).jpg a (11).jpg
    • Like Like x 1
  5. ‏ نومبر 23, 2021 #5
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

اس صفحے کی تشہیر