1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

صحابہ اکرام کے اجماع کی دلیل (8)

محمدابوبکرصدیق نے 'توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسی علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 3, 2015

  1. ‏ اپریل 3, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    صحابہ اکرام کے اجماع کی دلیل (8)

    ۸… اب ہم مرزاغلام احمد قادیانی کے اپنے الفاظ میں دکھاتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے اور نازل ہونے کا عقیدہ اجماع پر مبنی تھا۔
  2. ‏ اپریل 3, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عیسی علیہ السلام کے زندہ ہونے اور ان کے نازل ہونے کا عقیدہ اجماعی ہے از مرزا غلام احمد قادیانی

    اقوال مرزا
    ۱… ’’تیرھویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۱۸۵، خزائن ج۳ ص۱۸۹)
    ۲… ’’یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کی پیش گوئی ایک اوّل درجہ کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں ہیں۔ کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں۔ درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے۔ جن کو خداتعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۵۵۷، خزائن ج۳ ص۴۰۰)
    ۳… ’’اب اس تحقیق سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کی آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیش گوئی موجود ہے۔‘‘
    (ازالہ ص۶۷۵، خزائن ج۳ ص۴۶۴)
    ۴… ’’اور یہ آیت کہ: ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ‘‘ درحقیقت اسی مسیح ابن مریم کے زمانہ سے متعلق ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۶۷۵، خزائن ج۳ ص۴۶۴)
    ۵… ’’ولنزول ایضاً حق نظراً علی تواتر الاثار وقد ثبت من طرق فی الاخبار‘‘
    ونزول از روئے تواتر آثار ہم راست است چرا کہ از طرق متعدہ ثابت است۔

    (انجام آتھم ص۱۵۸، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)
    ’’اور عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا بھی حق ہے۔ کیونکہ احادیث اس بارہ میں متواتر ہیں اور یہ امر مختلف طریقوں سے ثابت ہے۔‘‘
    ۶… ’’واضح ہو کہ اس امر سے دنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود کی کھلی کھلی پیش گوئی موجود ہے۔ بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے۔ جس کا نام عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہوگا اور یہ پیش گوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لئے کافی ہے۔‘‘

    (شہادۃ القرآن ص۲، خزائن ج۶ ص۲۹۸)
    ۷… ’’مسیح موعود کے بارہ میں جو احادیث میں پیش گوئی ہے وہ ایسی نہیں ہے کہ جس کو صرف آئمہ حدیث نے چند روایتوں کی بنا پر لکھا ہو۔ بلکہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ پیش گوئی عقیدہ کے طور پر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ وریشہ میں داخل چلی آئی ہے۔ گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے۔ اسی قدر اس پیش گوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں۔ کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتداء سے یاد کرتے چلے آتے تھے۔ اگر نعوذ باﷲ یہ افتراء ہے تو اس افتراء کی مسلمانوں کو کیا ضرورت تھی اور کیوں انہوں نے اس پر اتفاق کر لیا ہے اور کس مجبوری نے ان کو اس افتراء پر آمادہ کیا تھا۔‘‘
    (شہادۃ القرآن ص۸، خزائن ج۶ ص۳۰۴)
    ۸… ’’اس پر اتفاق ہوگیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گی اور راست بازی ترقی کرے گی۔‘‘
    (ایام الصلح ص۱۳۶، خزائن ج۱۴ ص۳۸۱)
    ناظرین! ہم نے مرزاقادیانی کے آٹھ اقوال سے ثابت کر دیا ہے کہ مسیح ابن مریم یا عیسیٰ ابن مریم کے نزول کا عقیدہ قرآن میں موجود ہے۔ احادیث نبویہ اس سے بھری پڑی ہیں۔ صحابہ کرام کلہم اسی عقیدہ پر فوت ہوئے۔ دنیا کے کروڑہا مسلمانوں میں یہ عقیدہ نزول مسیح کا ابتداء اسلام سے چلا آیا ہے اور یہ کہ نزول مسیح ابن مریم کا مسئلہ حق ہے۔ گویا عیسیٰ ابن مریم کے نزول کے عقیدہ پر نہ صرف صحابہ کا اجماع ہے بلکہ خدا۔ اس کے رسول اﷲﷺ اور دنیا کے کروڑہا مسلمانوں کا اجماع ہے۔
  3. ‏ اپریل 3, 2015 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عیسیؑ کے حیات و نزول پرقادیانی خلیفہ و قادیانی جعلی نبی کی مزید شہادتیں

    ۹… مرزابشیرالدین محمود قادیانی کی شہادۃ: ’’پچھلی صدیوں میں قریباً تمام مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا تھا اور بڑے بڑے بزرگ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے ہیں۔‘‘

    (حقیقت النبوۃ ص۱۴۲)
    مرزاقادیانی کی شہادۃ کہ نازل ہونے والا عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان پر ہے۔
    ۱… ’’صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زردرنگ کا ہوگا۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۸۱، خزائن ج۳ ص۱۴۲)
    ۲… ’’آنحضرتﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔‘‘
    (قادیانی رسالہ ’’تشحیذ الاذہان‘‘ جون ۱۹۰۶ء ص۵، قادیانی اخبار بدر قادیان مورخہ ۷؍جون ۱۹۰۶ء ص۵)
    فرمائیے حضرات! اجماع کے ثبوت میں اب کوئی کسر باقی ہے۔ مرزاقادیانی کے اپنے الفاظ سے نزول سے مراد نزول من السماء ہی ہے۔
    ناظرین! اجماع صحابہ کی اہمیت آپ پڑھ چکے ہیں۔ اب ہم مرزاقادیانی کے بیان کردہ طریق ثبوت اجماع میں سے نمبر:۲ کی طرز سے اجماع امت ثابت کرتے ہیں۔ یعنی فرداً فرداً صحابہ کرامﷺ کی روایات بیان کرتے ہیں۔ چونکہ صحابہ کرامؓ کی روایات ہزارہا لوگوں نے سنیں اور کوئی مخالفت منقول نہیں۔ لہٰذا ہر روایت سے اجماع صحابہ ثابت ہوتا جائے گا۔

اس صفحے کی تشہیر