1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

صحیح مسلم کی حدیث اور قادیانیت

خادمِ اعلیٰ نے 'احادیثِ نزول و حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 30, 2016

  1. ‏ دسمبر 30, 2016 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    457
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل
    قادیانی اکثر ایک صحیح مسلم کی حدیث کا ذکر کرکے کہتے ہیں کہ جی دیکھیں آنے والے کو چار دفعہ نبی الله کہا تو چلیں آئیں دیکھیں کہ اس حدیث رسول الله صلی الله علیہ وسلم میں کیا ہے اور کن کو چار دفعہ نبی الله کہا گیا ۔

    صحیح مسلم میں حضرت نواس بن سمعان رضی الله عنہ سے مروی حدیث شریف میں کسی آنے والے نامعلوم کو چار بار نبی الله نہیں کہا گیا بلکہ جسے نبی الله کہا گیا ہے اس کا تفصیلی تعارف بھی اسی حدیث میں یوں ہے :.

    " فبینما ھم کذلک اذ بعث الله المسیح بن مریم فینزل عند المنارة البیضاء شرقی دمشق بین مھرودتین واضعاٙٙ کفیہ علی اجنحة ملکین اذا طاطاراسہ قطر و اذا رفعہ تحدر منہ جمان کاللولو فلا یحل لکافر یجد ریح نفسہ الا مات ونفسہ ینتھی حیث ینتھی طرفہ فیطلبہ حتی یدر کہ باب لُد فیقتلہ ثم یاتی عیسیٰ بن مریم قوم قد عصمھم الله منہ ۔۔۔۔۔۔۔ الی آخر الحدیث "
    دجال اسی حال میں ہوگا ( یعنی اپنی شعبدہ بازیاں دکھا رہا ہوگا جس کا ذکر اسی حدیث میں اس سے پہلے ہے ) کہ ناگاہ الله تعالیٰ مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجے گا ، وہ دمشق کے مشرقی حصے میں ہلکا زردی مائل جوڑا پہنے ہوئے سفید مینار کے پاس اتریں گے ، جب وہ اپنا سر مبارک جھکائیں گے تو پانی ٹپکے گا ، اور جب وہ سر مبارک اٹھائیں گے تو موتی کی طرح قطرے ٹپکیں گے ، جس کافر کو آپ کی سانس پہنچے گی اس زندہ رہنا حلال نہ ہوگا ( فوراٙٙ مر جائے گا ) اور اپ کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک اپ کی نظر جائے گی ، پھر وہ عیسیٰ ابن مریم دجال کو تلاش کریں گے یہاں تک کہ اسے باب لُدّ کے مقام پر ( جو کہ مرزا قادیانی کے بقول بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاوُں ہے ۔ خزائن جلد 3 صفحہ 209 ) اسے جا لیں گے اور قتل کر دیں گے ۔

    آپ نے دیکھا کہ یہاں واضح طور پر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نام کے ساتھ ذکر ہو رہا ہے اور یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ وہ کہاں نازل ہونگے کس طرح نازل ہونگے اور کیسے دجال کو بیت المقدس کے ایک مقام پر قتل کریں گے ۔ نیز اسی حدیث میں آگے یہ بھی بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے ہی اللہ یاجوج ماجوج کو نکالے گا اور پھر تمام کے تمام یاجوج ماجوج آپ کی دعا سے ہلاک ہو جائیں گے ۔ جبکہ مرزا قادیانی کے نزدیک یاجوج ماجوج سے مراد روسی اور برطانوی اقوام ہیں ( خزائن جلد 3 صفحہ 373 )
    اسی طرح حدیث میں یہ ذکر بھی ہے کہ " فبینما ھم کذلک اذ بعث الله ریحاٙٙ طیبة فتاٙٙ خذھم تحت آباھم فتقبض روح کل مسلم مومن ومسلم " اسی دوران الله ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو اُن کی بغلوں کے نیچے لگے گی جس سے ہر مومن اور مسلم کی روح قبض ہو جائے گی ۔

    میں تمام مسلمانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ صحیح مسلم کی یہ پوری حدیث خود ترجمہ کے ساتھ پڑھ لیں انہیں پتہ چلے کہ اس حدیث میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا ذکر ہو رہا ہے یا غلام احمد بن چراغ بی بی کا ۔

    دوستو آپ کو اس حدیث کے بارے میں جس میں عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو چار دفعہ نبی الله کہا جس کے بارے میں قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ آنے والے کو چار دفعہ نبی الله کہا گیا کے بارے میں ایک بڑے مزے کی بات بتانا چاہوں گا ۔
    مرزا قادیانی نے اسی صحیح مسلم کی حدیث یہی حضرت نواس بن سمعان رضی الله عنہ والی روایت کو پوری باترجمہ اپنی کتاب " ازالہ اوہام " میں نقل کی ہے ۔ اور آخر اس روایت کو ضعیف اور ساقط الاعتبار ثابت کرنے پر زور دیا ہے ، چنانچہ لکھتا ہے کہ :.
    " یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسماعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے " ( خزائن جلد 3 صفحات 209 تا 210 ) .
    یہاں اگرچہ مرزا قادیانی نے امام بخاری رحمتہ الله علیہ پر صریح جھوٹ بولا ہے کہ انہوں نے اس روایت کو ضعیف سمجھ کر چھوڑ دیا ہے کیونکہ امام بخاری رحمتہ الله علیہ نے یہ بات کہیں نہیں لکھی ۔
    لیکن مرزا نے یہ بات لکھ کر صحیح مسلم کی اس روایت کو ضعیف ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ اس نے ایک جگہ یوں بھی لکھا ہے کہ : .
    " جو حدیث امام بخاری کی شرط کے مخالف ہو وہ قبول کے لائق نہیں " ( خزائن جلد 17 صفحات 119 تا 120 ) . اسی طرح مرزا غلام قادیانی نے یہ بھی لکھا کہ :.
    " اب حاصل کلام یہ ہے کہ وہ دمشقی حدیث جو امام مسلم نے پیش کی ہے ( یعنی حضرت نواس بن سمعان والی یہی حدیث ) خود مسلم کی دوسرے حدیث سے ساقط الاعتبار ٹھہرتی ہے اور صریح ثابت ہوتا ہے کہ نواس راوی نے اس حدیث کے بیان کرنے میں دھوکہ کھایا ہے " ( خزائن جلد 3 صفحہ 220 ) .
    آپ نے دیکھا مرزا غلام قادیانی صحابی رسول الله صلی الله علیہ وسلم حضرت نواس بن سمعان رضی الله عنہ کو " نواس راوی " جیسے خلاف ادب الفاظ کے ساتھ ذکر کر کے ان کی روایت کو غلط ثابت کرنے کی کس طرح کوشش کر رہا ہے ۔
    تو پھر مرزا غلام قادیانی کے پیروکاروں کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ مرزا قادیانی نزدیک ایک ضعیف اور ساقط الاعتبار روایت کو اپنی دلیل میں پیش کریں اور اس سے مرزا کی جعلی نبوت کو ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کریں ؟

    الغرض صحیح مسلم کی اس حدیث میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت مسیح بن مریم علیہما السلام کے نزول کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے ہاتھوں دجال کے قتل کا بیان فرمایا ہے ان کی دعا سے ان کے سامنے تمام یاجوج ماجوج کی ہلاکت کی خبر دی ہے اور ان کے زمانے میں ہی تمام مومنوں اور مسلمانوں کی روحیں قبض ہونے کی خبر بھی دی ہے اور انہی کو "نبی الله " فرمایا ہے ۔ اس میں شک و شبہ والی کونسی بات ہے ؟حضرت عیسیٰ علیہ السلام الله کے نبی ہیں جو انہیں نبی الله نہیں مانتا وہ مسلمان ہی نہیں ہو سکتا ۔ اب اگر الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے انہیں نبی الله فرمایا تو اس میں ایسی کون سی بات ہے جو مرزائی دماغ میں نہیں آتی ؟ پھر یہ نہایت احمقانہ بات کی جاتی ہے کہ اس حدیث میں ایک مسیح کے آنے کی خبر دی گئی ہے جبکہ اس حدیث شریف میں " ایک مسیح " کی نہیں بلکہ " حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام " کے آنےکی خبر دی گئی ہے ۔
    اس سے مراد چراغ بی بی کا بیٹا مرزا غلام احمد قادیانی لینا نری جہالت اور دھوکہ ہے ۔
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر