1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

ضرب کلیم اور احمدیت

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'مسائل ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 21, 2014

  1. ‏ ستمبر 21, 2014 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ ستمبر 15, 2014
    مراسلے :
    152
    موصول پسندیدگیاں :
    102
    نمبرات :
    43
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    جرنلسٹ ، درس نظامی سٹوڈنٹ۔ معلم
    مقام سکونت :
    کھڈیاں خاص تحصیل و ضلع قصور
    ضرب کلیم اور احمدیت

    (7 ستمبر کو وطن عزیز میں یوم تحفظ ختم نبوت (یوم قرارداد اقلیت) منایا گیا۔ اس حوالے سے پروفیسر یوسف سلیم چشتی کا یہ مضمون پیش کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ مضمون علامہ اقبال کی زندگی میں شائع ہوا تھا۔ قلابین میں اضافے ہمارے بزرگ کرم فرمااور پاکستان کی سیاسی‘ فکری اور نظریاتی کشمکش پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار شکیل عثمانی صاحب نے کیے ہیں۔ انہوں نے اس مضمون کا ضمیمہ بھی لکھا ہے جس میں پروفیسر یوسف سلیم چشتی کے مختصر احوال و آثار کے علاوہ پروفیسر صاحب کے اشارات کی شکل میں دیے گئے حوالوںکی تخریج بھی ہے۔ نیز پروفیسرصاحب کے نقطۂ نظر کو Substantiateکرنے کے لیے احمدی/قادیانی اساطین کی کتابوں سے چند مزید حوالے بھی دیے گئے ہیں۔ ضمیمے کے آخری حصے میں پروفیسر چشتی کے مضمون کے حوالے سے تحریکِ احمدیت پر طائرانہ نظر ڈالی ہے۔ (ادارہ)
    ضربِ کلیم کی اشاعت پر اکثر ارباب بینش کو یہ خیال ہوا تھا کہ احمدی حضرات اس کے بعض اشعار کو اپنی تعریض پر محمول کریں گے۔ چنانچہ 10 اکتوبر کے (ہفت روزہ) سن رائز میںجو ’’ریویو‘‘ اس کتاب پر شائع ہواہے اس نے خیال کی تصدیق کردی۔ احمدی حضرات نے علامہ مدظلہ کے بعض اشعارکو ’’سلسلۂ عالیہ‘‘ کی طرف منسوب کرکے ادیانی خانہ ساز نبوت کا راز اس خوبصورتی کے ساتھ فاش کیا ہے اور اپنی تضحیک کا ایسا دلکش سامان بہم پہنچایا ہے کہ بے اخیار روداد دینے کو دل چاہتا ہے۔ غالباً اسی لیے کسی دانا نے یہ کہا ہے کہ خدا انسان کو نادان دوستوں سے محفوظ رکھے۔
    مدیر ’’سن رائز‘‘ کو کیا خبر کہ اس کتاب میں افراد دو اشخاص سے بحث نہیں کی گئی بلکہ فلسفیانہ طریق پر عہد حاضر کا تجزیہ کیا گیا ہے اور اس کی غلط روش‘ غلط تعلیمات ‘ غلط خیالات اور غلط منطق کی نہایت واضح الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ افرنگ اور دانشِ افرنگ کے ساتھ ساتھ عرب و عجم اور ایران و ہندوستان پر بھی تنقیدی نظر ڈالی گئی ہے اور مسلمانوں کے حیاتِ اجتماعیہ کے مختلف شعبوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ الغرض ضربِ کلیم مغرب اور مشرق دونوں پر بے لاگ تبصرہ ہے جس کی نظیر اردو تو کیا ا سوقت تمام ایشیائی لٹریچر میں بھی ڈھونڈے سے نہیں مل سکتی۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کے انحطاط خیز رجحانات اور ملوکیت پسند تاویلات کی تشریح کے آئینہ میں جو علامہ کے قلمِ معجز رقم نے کی ہے‘ ادیانی اور ارباب قادیان کو اپنی صورت نظر آگئی اوگرنہ ہم مدیر’’سن رائز‘‘ کو یقین دلاتے ہیں کہ قادیانیت اس درجہ اہم نہیں کہ علامہ اس کے تذکرہ سے ضربِ کلیم کے صفحات سیاہ فرماتے۔
    اس ریویو کو پڑھنے کے بعد جو چیز نمایاں طور پر نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ لکھتے وقت مدیر ’’سن رائز‘‘کا توازن دماغی قائم نہ رہ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ریویو ضربِ کلیم پر تنقید کے بجائے احمدیت کی تائید کی شکل میں بدل گیا۔
    مدیر مذکورہ نے جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ڈاکٹر اقبال جہاد کے قدیم پارینہ اور خونی تصور کے قائل ہیں۔ برطانی ملوکیت کے دشمن ہیں اور بے قوت نبوت کو برگِ حشیش سے تعبیر کرتے ہیں۔
    لیکن جب ہم احمدیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریکِ جہاد کو منسوخ اور ناجائز قرار دیتی ہے۔ برطانوی ملوکیت کی ثنا خواں ہے بلکہ اسے آیۂ رحمت سمجھتی ہے اور بے قوت نبوت پر ایمان رکھتی ہے۔
    جب صورتحال یہ ہے تو ہماری سمجھ مہیں آتا کہ مدیر مذکور ڈاکٹر صاحب سے اس قدر خفا کیوں ہیں؟ اور ان کی تنقید کو Oblique Remarks یعنی درپردہ تعریض کیوں سمجھتے ہیں۔ اس درجہ تفاوت ہے کہ بعد المشرقین نظر آٹا ہے تو مدیر کو شکایت کرنے کا کیا حق ہے؟ظاہر ہی کہ ڈاکٹر صاحب اپنے مسلک کی اشاعت میں آزاد اور مختار ہیں۔ اگر اس کی بنا پر تمہارے مسلک پر زد پڑتی ہے تو کوئی کیا کرے؟ کیا علامہ موصوف محض اس خیال سے اعلائے کلمۃ الحق سے باز رہیں کہ ان کے کلام معجزہ نظام کی ضرب سے احمدیت کے آبیگنے چکنا چور ہوجائیںگے؟
    اگر ہم چوری کی مذمت کریں اور کوئی چور اس مذمت کو سن کر یہ کہنے لگے کہ یہ مجھ پر درپردہ تعریض کی گئی ہے تو یہا س کیا پنی سمجھ کا قصور ہے۔ اس معاملہ میں سوائے اس کے کہ اس شخص کے ساتھ ہمدردی کی جائے اور چارہ کار ہی کیا ہے؟
    قرآن مجید میں اس فعل کی بار بار مذم تکی گئی ہے۔ سُوء اتفاق سے ابولہب نے خانہ کعبہ سے سونے کا ایک ہرن چرایا تھا لہٰذا جب کبھی وہ ان آیات کو جن میں چوری کی مذمت کی گئی ہے‘ سنتا تھا‘ تو یہی کہتا تھا کہ حضرت محمدؐ نے درپردہ مجھ پر چوٹ کی ہے۔ بعینہ یہی حال ہمارے احمدی دوستوں کا ہے حالانکہ بات بالکل صاف ہے۔ تم ان تینوں باتوں کے قائل ہو۔ ڈاکٹر صاحب ان تینوں باتوں کے سخت مخالف ہیں اور ان کو علیٰ وجہ البصیرت اسلام کی روح کے منافی خیال فرماتے ہیں۔پھر تم ان کی تنقید کو پڑھ کر نعل اور آتش کیوں ہوتے ہو اور ان سے وجہ شکایت کس لیے پیدا کرتے ہو؟ تمہارا مذہب اور ‘ان کا مسلک اور ‘وہ رہ نوردِ کعبہ‘ تم عازم ترکستان! جب فی مابین‘کوئی وجہ اتحاد خیال ہی نہیں تو اس واویلا کی کیا ضرورت ہے!
    آیئے! اب نہایت سکونِ قلب کے ساتھ ان حقائق سہ گانہ کا مذہبی اور عقلی زاویہ نگاہ سے تجزیہ کرکے دیکھیں تاکہ ڈاکٹر صاحب کا مسلکِ زریں ہر شخص پر روزِ روشن کی طرح ہویدار ہوجائے۔
    (1) اسلامی جہاد کی تعریف
    اپنے مذہب یا اس شے کی حفاظت اور بقا کی خاطر ‘ جسے انسان مقدس اور محترم سمجھتا ہو اپنی زندگی تک قربان کردینا‘ یہ اسلامی جہاد کی تعریف ہے۔ عقل‘ تاریخ اور مشاہدہ تینوں اس کی تائید کرتے ہیں۔
    (الف) اگر کوئی شخص اپنے مذہب‘ ثقافت(کلچر) یا مقدس رو ایات یا وطن عزیز کی حفاظت کے لیے بھی تلوار نہیںاٹھاسکتا تو پھر خدا جانے اس کی تلوار کس دن کام آئے گی؟ تلوار تو بنائی ہی اس لیے گئی تھی کہ اپنی جان و مال اور دین و ایمان کی حفاظت و حمایت میں بلند کی جائے اور یہی تعلیم اسلام کی ہے کہ اس کو اس وقت نیام سے باہر نکالا جائے جب دشمن تم پر یا تمہارے مذہب پر یا تمہارے ملک پر حملہ آو رہو۔
    (ب) آنحضرتؐ کا طرز عمل بھی اسی حقیقت پر شاہد ہے۔ آپ نے اسلام کی اشاعت کے لیے یا لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانے کے لیے دوسروں کو ان کے وطن سے محروم کرنے کے لیے کبھی ہرگز تلوار نہیں اٹھائی۔ آپ نے بلاشبہ جنگوں میں حصہ لیا لیکن وہ سب رفعِ فتنہ کے لیے تھیں۔
    (ج) اپنے مذہب اور اپنے مقاماتِ مقدسہ مثلاً بہشتی مقبرہ اور منارۃ المسیح کی حفاظت کے لیے اپنا خون بہانے اور اپنی جانیں قربان کرنے کا اعلان خود قادیان کی سرزمین سے بھی کئی دفعہ ہوچکا ہے۔
    الغرض جہاد کرنا انسانی فطرت کا تقاضا ہے‘ ہر شخص کو دنیا میں جینے اور آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی روایات پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے اور اگر کوئی طاقت اس معاملہ میں اس کی مزاحم ہو تو اسکا مقابلہ کرنا حتیٰ یکون الدین کلمت اللہ سراسر قرینِ عقل و صواب ہے۔
    اور حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان جب تک اسے یقین نہ ہوجائے کہ میں کس مقصد کی تکمیل کررہا ہوں‘ اس وقت تک اپنی تلوار نیازم سے باہر نہیں نکال سکتا۔ انسان اس وقت جنگ کرتا ہے جبا پنے آپ کو برسرحق یقین کرتا ہے۔ حکومتیں انسانی فطرت کے اس پہلو سے آگاہ ہیں۔ اس لیے وہ دنیاوی جنگوں کو بھی جن کا مقصد قتل و غارت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا ‘ مقدس بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ صلیبی جنگوں کا مقصد دراصل یہ تھا کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکا جائے لیکن حکومتوں نے پادریوں کی وساطت سے ان جنگوں کو ’’مقدس‘‘ قرار دلوایا تاکہ لوگ آمادۂ پیکار ہوسکیں۔ حالانکہ صلیبی اقوام نے ارضِ شام میں جس بربریت اور سفاکی کا مظاہرہ کیا اسے تقدس سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ خود ہمارے زمانہ میں جو محاربہ عظیم یورپ میں برپا ہوا‘ برطانوی مدبرین نے اسے بھی پادریوں کے ’’مقدس‘‘ ہاتھوں سے تقدس و بپتسمہ دلوایا۔ چنانچہ کنٹر بری کے اسقفِ اعظم نے اعلانات شائع کیے کہ شریکِ جنگ ہونے سے برطایہ ک انا کوئی نفع مدنظر نہیں ہے۔ اس نے محض حق و صداقت کی حمایت میں تلوار اٹھائی ہے۔اور کمزور کی حمایت کی غرض سے شریکِ جنگ ہوا ہے۔ حال ہی میں ایک انگریز مصنف نے جس کا نام Irene Cooper Wills ہے‘ جنگ عظیم کے متعلق ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے England`s Holy War ’’انگلستان کی جنگِ مقدس‘‘ الغرض اسلامی تبلیغ و اشاعت کے لیے تلوار چلانا ‘ رسولؐ کے زمانہ میں بھی ممنوع تھا(’’لا اکراہ فی الدین‘‘) اور آج بھی ممنوع ہے اور اسلام کی حمایت اور حفاظت کے لیے تلوار اٹھانا ابتدائے اسلام میں بھی جائز تھا اور آج بھی جائز ہے اور قیامت تک جائز رہے گا۔ مرزا صاحب سے جو غلطی دانستہ یا نادانستہ طور پر سرزد ہوئی‘ وہ یہ تھی کہ انہوں نے اسلامی جہاد کے غلط معنی دنیا کے سامنے پیش کیے چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
    اے دوستو جہاد کا اب چھوڑ دو خیال
    دِیں کے یے حرام ہے اب جنگ اور قتل
    ان دونوں مصرعوں میں جو لفظ ’’اب‘‘ آیا ہے اگرچہ ادبی زاویۂ نگاہ سے اس کی تکرار بہت مذموم ہے لیکن مرزا صاحب کی اسلام سے ناواقفیت کا ثبوت دینے کے لیے بہت کافی ہے یعنی ان کا مطلب یہ ہے کہ دین کے لیے جنگ و قتال پہلے جائز تھا‘ اب جائز نہیں ہے۔کس قدر عظیم الشان مغالطہ ہے جو انہوں نے دنیا کو دیا!
    کاش انہیں تاریخ و فلسفۂ اسلام سے واقفیت ہوتی! بندۂ خدا! دین کی اشاعت کے یے جہاد کرنا پہلے کب جائز تا؟ جو تم آج ناجائز قرار دے رہے ہو؟ اسلام پہلے کب بزورِشمشیر پھیلایا گیا جو آج تم ناصح مشفق بن کر اس کی ممانعت کررہے ہو؟
    اگر جوع الارض کو تسکین دینے کے لیے یا ملوکیت اور شہنشاہیت قائم کرنے کے لیے یا بے گناہ اقوام کو غلام بنانے کے لیے جہاد کیا جائے تو وہ جہاد ہی کب ہے؟ وہ تو غارت گری ہے۔ خود علامہ فرماتے ہیں:
    جنگ شایانِ جہاں غارت گری است
    جنگِ مومن سنتِ پیغمبری است
    تعجب ہوتا ہے تعلیم یافتہ احمدی حضرات پر کہ یہ لوگ کیوں کر اس سفسطہ کا شکار ہوتے ہیں؟کیا احمدیوں میں کوئی ایسا روشن خیال انسان نہیں جو اسلامی فلسفہ و تاریخ کا مطالعہ کرکے اس مغالطہ کی دلدل سے باہر نکل سکے؟ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوسکتی ہے کہ اسلام میں جہاد کا معنی اور مفہوم کیا ہے؟ جنگ اور قتال اگر اس کا محرک ہوسِ ملک گیری اور استعماری حکمتِ عملی ہو تو یہ بات اسلام میں کبھی بھی جائز نہ تھی۔ پھر مرزا صاحب اپنے اس ’’الہامی شعر‘‘ میں کس چیز کو حرام قرار دے رہے ہیں؟ اسی بات کونا‘ جو پہل ہی حرام ہے‘ تو حرام کو حرام قرار دینا یہ کون سی دانشمندی ہے؟ اور اگر ان کا مطلب یہ ہے کہ خطر کے وقت بھی مسلمانوں کا اپنے مذہب کی حمایت میں تلوار اٹھاناحرام ہے‘ تو وہ مذہبا سلام سے اپنی ناواقفیت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں سے قادیانی حضرات جو صورت پسند کریں اختیار فرمالیں‘ مرزا صاحب کی علمی اور مذہبی پوزیشن بہرحال متزلزل ہوجائے گی۔ اگر پہلی صورت صحیح ہے تو مرزا صاحب مغالطہ کے مرتکب ثابت ہوتے اور دوسری صورت کو تسلیم کیا جائے تو اسلام کے اصولوں سے کورے نظر آتے ہیں۔
    اسی لیے حکیم الامت علامہ اقبال مدظلہ نے مسلمانوں کو مرزا صاحب اور مرزائیت دونوں خی غلط تعلیمات سے محفوظ کرلینے کے لیے اسرارِخودی میں اس حقیقت کو آشکار فرمادیا ہے کہ اسلام میں جہاد کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد وحید اعلائے کلمۃ اللہ ہے اور اگر کوئی طاقت مسلمان کو اس کے اس مذہبی فریضہ کی تکمیل سے باز رکھنا چاہے یا اس میں مزاحمت کرے تو وہ حق و صداقت کی حمایت میں تلوار اٹھاسکتا ہے۔ لیکن وہ جہاد جس کا مقصد جوع الارض ہو‘ تسخیرِ ممالک ہو یا قتل و غارت گری ہو‘ اسلام میں بالکل حرام ہے۔ چنانچہ علامہ فرماتی ہیں:
    ہر کہ خنجر بہرِ غیر اللہ کشید
    تیغ اُو در سینۂ اور آرمید
    اب جو شخص بھی مرزا صاحب کے مذکورہ بالا شعر کو پڑھے گا وہ لامحالہ یہی سمجھے گا کہ دین کی اشاعت کے لیے پہلے اسلام میں جگن وقتال جائز تھا یعنی نعوذ باللہ قرونِ اولیٰ میں اسلام کی اشاعت کے اس کے پاکیزہ اصولوں کی وجہ سے نہیں بلکہ تلوار کے زور سے ہوئی اور تیرہ سو سال کے بعد جاکر مرزا صاحب نے اس بات کو حرام قرار دیا ہے۔
    معلوم نہیں کہ مرزا صاحب نے جہاد کے متعلق یہ غلط خیال کیوں پھیلایا۔ شاید حکومت کی نظروں میں عزت حاصل کرنے کے لیے ورنہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دین کی اشاعت کے لیے تلوار چلانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی جائز نہ تھا اور نہ قرآن مجید کی اس صریح آیت کی موجودگی میں (لااکراہ فی الدین) کسی کو برزور شمشیر مسلمان کرنا جائز ہوسکتا ہے اور اسلام تو سرتاپا معقولیت پسند مذہب ہے۔ وہ کب اس بات کو روا رکھ سکتا ہے کہ لوگوں کو تلوار کے زور سے مسلمان بنایا جائے۔
    اگر دین کے لیے جنگ وقتال مرزا صاحب سے پہلے حلال ہوتا تو ڈاکٹر آرنلڈ جو ایک سچا مسیحی تھا اور یقینا مسلم نہ تھا کسی طرح اپنی مشہور کتاب ’’پریچنگ آف اسلام‘‘ مرتب کرسکتا تھا؟ اس کتاب میں اس مصنف مزاج انگریز نے اسلامی تاریخ کی بنا پر یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچادی ہے کہ اسلام اپنی ابتداء سے آج تک تلوار کے زور سے نہیں پھیلا۔
    (2) قادیان کے مسلکِ جاسوسی پر عمل کرنے کے لیے دوسرا اعتراض مدیر ’’سن رائز ‘‘نے یہ کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب اسلامی ممالک پر برطانی اقتدار کو ناپسند کرتے ہیں اور وولِ مغرب کی استعماری حکمت عملی کے خلاف ہیں۔
    جہاں تک میں نے غور کیا اس باب میں بھی مدیر مذکورہ کی ناراضگی کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی۔ تمہارا مسلک انگریزوں کی غلامی ہے۔ یہ تمہیں مبارک رہے۔ ڈاکٹر صاحب کا مسلک درسِ حریت و آزادی ہے وہ انہیں مبارک رہے‘ آختر تم کو ان پر اعتراض کرنے اور ان کی تعلیم پر ناک بھوں چڑھانے کا کیا حق حاصل ہے؟ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنے مسلک کی یا اس بات کی جسے وہ صحیح سمجھتا ہے تبلیغ کرے اور بلاخوف و خطر تبلیغ کرے۔ دیکھنا اگر ہے تو یہ اور غور کے قابل اگر کوئی بات ہے ت ویہ کہ کس کی تعلیم منشائے اسلام کے مطابق ہے؟
    قادیانیوں کے مذہب میں مسلمانوں کو غلامی کا سبق پڑھانا جائز بلکہ فرض عین ہے۔ چنانچہ مرزا صاحب خود لکھتے ہیں کہ ہمارے مذہب کے دو خاص جزو ہیں: ایک خدا کی اطاعت دوسرا گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت۔ اور ان کی تمام عمر مسلمانوں کو درسِ غلامی دینے اور ان کے جذباتِ حریت کو فنا کرنے میں گزری اور کیوں نہ گزرتی؟ وہ اپنے قائم کردہ سلسلہ کو جسے وہ حقیقی اسلام کہتے تھے‘ سرکارِ انگلشیہ کا ’’خود کاشتہ پودا‘‘ قرار دیتے ہیں اور اس بات کو بڑے فخر و مباہات سے بیان کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو اسلام برطانیہ کے زیر حمایت سرسبز ہو وہ یقینا اس اسلام سے کوئی نسبت نہیں رکھتا جس کی صداقت کا آفتاب فاران کی چوٹیوں سے طلوع ہوا تھا۔ وہ اسلام تو دنیا میں حریت اور آزادی کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ اس میں دوئی کی مطلق گنجائش نہیں‘ وہ تو صرف ایک ذاتِ مطلق کی اطاعت کا حکم دیتا ہے اور وہ ذات اللہ ہے چنانچہ مسلمان صرف اللہ کا مطیع ہوسکتا ہے‘ غیر اللہ کے سامنے اس کی گردن قیامت تک نہیں جھک سکتی۔ شریعت کا مسئلہ ہے کہ دنیاوی حکومت کا کوئی حکم‘ خدا کے حکم کے خلاف ہو تو مسلمان کا فرضِ اولین یہ ہے کہ غیر اللہ کے حکم کو ٹھکرادے۔ چنانچہ اسوۂ حسینی اس پر شاہد عادل ہے:
    تا قیامت قطع استبداد کرد
    موجِ خون اور چمن ایجاد کرد
    تاریخ شاہد ہے کہ انبیاء اپنی قوم کو درسِ حریت دینے کے لیے مبعوث ہوا کرتے ہیں حضرت موسیؑ نے اپنی قوم کو مصریوں کی غلامی سے نجات دلائی‘ حضرت دائودؑ نے اپنی قوم کو حکومت اور طاقت عطا کی‘ حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی یہود کو رومیوں کی غلامی سے نجات دلانے کی کوشش کی‘ حضرت ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی قوم کو حکومت اور طاقت عطا کی لیکن چودھویں صدی ہجری میں جو ’’نبی‘‘ پیدا ہوا اس نے اپنی تمام عمر قوم کو غلامی کا درس دیا اور
    گفت دیں را رونق از محکومی است
    زندگانی از خودی محرومی است
    دولتِ اغیار را رحمت ثمرد
    رقص ہا گردِ گکلیسا کرد و مرد
    اگر مرزا صاحب کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کا درد ہوتا تو وہ کبھی اپنی قوم کو اغیار کی غلامی کا درس نہ دیتے لیکن وہ تو تمام عمر منارۃ المسیح‘ بہشتی مقبرہ اورتوسیعِ مکان کی تکمیل کی فکر میں سرگرداں رہے۔ قوم کی فکر تھی ہی کب اور ہوتی بھی تو کیوں کر؟
    اس کے برخلاف علامہ کے دل میں اپنی قوم کا درد ہے! او ریہی درد تو انہیں مسلمانوں سے اس طرح خطاب کرنے پر مجبور کرتا ہے:
    اے مسلماں! اندریں دیر کہن
    تا کجا باشی اسیرِ اہرمن؟
    زیستن تا کے بہ بحر اندر چو خس
    سخت شو چوں کوہ از ضبط نفس
    پھر کہتے ہیں
    دانی از افرنگ و از کارِ فرنگ
    تا کجا در قیدِ زنارِ فرنگ
    اخم او نشتر ازو سوزن ازو
    ما و جوئے خون و امید رفو؟
    یہی درد تو انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے افراد کو بیداری‘ سخت کوشی اور جدوجہد کا پیغام دیتے ہیں:
    شیخ ملت با حدیثِ دل نشیں
    بر مراد او‘ کند تجدیدِ دیں
    (3) تیسری بات جس پر مدیر مذکورہ کو ڈاکٹر صاحب سے خفا ہیں یہ ہے کہ وہ بے قوت و شوکت نبوت کو برگ حشیش سے تعبیر کرتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ جب تم خود تسلیم کرتے ہو کہ مرزا صاحب قادیانی کی نبوت و بے قور تھی تو پھر ڈاکٹر صاحب نے اے برگِ حشیش سے تعبیر کیا تو کیا برا کیا‘ کیا دو اور دو کو چار کہان جرم ہے! بلاشبہ
    وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگِ حشیش
    جس نبوت میں نہیں قوت و شو کت کا پیام
    ڈاکٹر صاحب نے ا س شعر میں مرزا صاحب کا نام نہیں لیا۔ صرف ایک حقیقت بیان کی ہے لیکن تم نے اس شعر کو ان کی طرف منسوب کرکے خود پر دۂ نبوت کو چاک چاک کردیا۔
    تم بے قوت نبوت کو آیۂ رحمت سمجھتے ہو۔ ڈاکٹر صاحب اسے برگِ حشیش تصور فرماتے ہیں پھر جب فی مابین اتحادِ خیال ہی نہیں تو ڈاکٹر صاحب سے شکوہ کس بات کا ہے؟
    چونکہ ڈاکٹر صاحب ایسی نبت کو برگِ حشیش سمجھتے ہیں اس لیے ان کا فرض تھا کہ مسلمانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کردیں کہ ایسی نبوت جو مسلمانوں کو غلامی کا سبق پڑھائے ان کے حق میں برگِ حشیش سے خم نہیں۔ علامہ نے مسلمانوں کو اس فتنہ سے آگاہ کرکے اپنا وہ فرض ادا کیا ہے جو حکیم الامت مصلح قوم اور دانائے راز ہونے کی حیثیت سے ان پر عائد ہوتا تھا۔
    خدارا ہمیں یہ تو بتایا جائے کہ مرزا صاحب کی اس نبوت اور ان کے لاتعداد الہامات سے مسلمانوں خو من حیث القوم کیا فائدہ پہنچا؟ نبوت بلاشبہ رحمت الٰہی ہے ُیکن اس نبوت کو کس چیز سے تعبیر کیا جائے جو قوم کی غلامی کی زنجیروں کو اور زیادہ مضبوط کرے۔
    اس وقت ہمارے سامنے یہ سوال نہیں کہ مرزا صاحب نے جو الہامات شائع کیے وہ صحیح تھے غلط؟ سچے تھے یا جھوٹے؟ سوال ت ویہ ہے کہ خدائے قدوس نے جوالہامات ان پر نازل فرمائے ہمارے لیے ان کی قیمت کیا ہے؟ کیا ان کی مدد سے یا ان پر عمل کرنے سے مسلمانوں کی موجودہ سیاسی اقتصادی اور تمدنی مشکلات کا خاتمہ ہوسکتا ہے

اس صفحے کی تشہیر