1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

ضعیف احادیث کے بارے جامعہ بنوری دوبندی فتویٰ

مبشر شاہ نے 'احادیث ضعیفہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 1, 2020

  • by مبشر شاہ, ‏ اپریل 1, 2020 6:31 شام
  • ‏ اپریل 1, 2020 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    2,555
    موصول پسندیدگیاں :
    1,325
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    ٹیچنگ ، حکمت
    مقام سکونت :
    گوجرانوالہ
    ضعیف احادیث پر عمل کرنا
    سوال

    صحاحِ ستہ میں بعض ضعیف احادیث بھی ہیں، ان پر عمل کرنا کیسا ہے؟

    جواب

    اگر کسی حدیث کو ایک محدث یا بعض محدثین ضعیف قرار دیں، لیکن دوسرا محدث یا کئی محدثین اس کی تصحیح کریں یا اسے عملاً قبول کرلیں، یا کسی حدیث کو بعد کے محدثین تو ضعیف قرار دیں (مثلاً بعد کے کسی راوی کے ضعف کی وجہ سے) لیکن امامِ مجتہد نے ان محدثین کے زمانے سے پہلے اس حوالے سے احادیث کی پرکھ کرنے کے بعد کسی حدیث کو قبول کرلیا ہو تو محدثینِ کرام رحمہم اللہ کے اس حدیث کو ضعیف قرار دینے سے امامِ مجتہد کا استدلال ضعیف یا ناقابلِ اعتبار نہیں ہوتا، اور نہ ہی اسے ضعیف حدیث پر عمل کہا جاتاہے، بلکہ قرونِ اولیٰ کا کسی حدیث کو عملاً قبول کرنا اس کی تصحیح ہے۔

    نیز یہ نکتہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ جو بات تواترِ قولی یا تواترِ عملی سے ثابت ہو، اس کے لیے روایات تلاش کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، ہاں اگر اس متواتر عمل کی موافقت میں کوئی حدیث منقول ہو تو وہ اس کی تائید شمار ہوتی ہے، اب اگر کسی متواتر ثابت شدہ چیز یا قرونِ اولیٰ میں اہلِ علم کے درمیان مشہور عمل کی تائید کسی ضعیف روایت سے بھی ہورہی ہو (مثلاً اس کی سند میں ضعف ہو) تو اس حدیث کو اس کے اثبات میں بیان کردیا جاتاہے، گو اصل عمل ضعیف سے ثابت نہیں ہوتا، لیکن اس کے ثبوت میں اسے بھی پیش کردیا جاتاہے۔

    مذکور الذکر صورتیں کتبِ ستہ کی بہت سی روایات کے حوالے سے پیش آتی ہیں، اس لیے کسی حدیث کو ایک جگہ ضعیف لکھا ہوا دیکھنے، یا کسی ایک محقق کے ضعیف قرار دینے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ حدیث قطعاً قابلِ استدلال نہیں رہی۔

    ہاں وہ حدیث جس کے ضعف کو جمہور محدثین و فقہاءِ کرام تسلیم کرتے ہوں اس کے حوالے سے جمہور محدثین وفقہاءِ کرام کی رائے یہ ہے کہ ضعیف حدیث کو فضا ئلِ اعمال ،ترغیب و ترہیب ،قصص اور مغازی وغیرہ میں دلیل بنایا جاسکتا ہے ،اور ان پر عمل کیاجاسکتا ہے، بشرطیکہ وہ حدیث ضعیف ہو موضوع نہ ہو ، اور اس کی اصل شریعت میں موجود ہو، اور اس عمل کی سنیت کا اعتقاد نہ رکھا جائے۔ چنانچہ ابن مہدی ، امام احمد وغیرہم سے منقول ہے :

    النكت على مقدمة ابن الصلاح (2/ 308):

    " أن الضعيف لايحتج به في العقائد والأحكام، ويجوز روايته والعمل به في غير ذلك، كالقصص وفضائل الأعمال، والترغيب والترهيب، ونقل ذلك عن ابن مهدي وأحمد بن حنبل، وروى البيهقي في المدخل عن عبد الرحمن ابن مهدي أنه قال : " إذا روينا عن النبي صلى الله عليه و سلم في الحلال والحرام والأحكام شددنا في الأسانيد، وانتقدنا في الرجال، وإذا روينا في فضائل الأعمال والثواب والعقاب سهلنا في الأسانيد، وتسامحنا في الرجال".

    فتح المغيث (1/ 289):

    "قد حكى النووي في عدة من تصانيفه إجماع أهل الحديث وغيرهم على العمل به في الفضائل ونحوها خاصةً، فهذه ثلاثة مذاهب". فقط واللہ اعلم




    فتوی نمبر : 143908200075

    دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

  • Categories: Uncategorized

تبصرے

مبشر شاہ نے 'احادیث ضعیفہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 1, 2020

  1. Atif Jameel
    اسلام و علیکم حضرت عا طف جمیل آئرلینڈ سے سوال یہ ہےکہ جو کہ حدیث میں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی عداوت یا محبت میں کچھ لوگ جھنم میں جائیں گے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت یا عداوت میں جائیں گے وضاحت کر دیں شکریہ
  2. محمد مدثر علی
    السلام و علیکم

    قبلہ ذیل میں دی گئی تحریر پر ذرا رہنامئی فرما دیں
    شب برات کے نام سے پتہ چلتاھے کہ یہ اک جھوٹ ھے اس رات یادن کو کسی خاص عبادت کیلے مخصوص کرنا بدعت ھے اس رات یا دن کے فضائل میں جو روایات ھے سب منگڑت اور ضعیف ھیں...
    شب_برات:

    15 شعبان کے روزے کے متعلق ابن_ماجہ کی روایت سند کے لحاظ سے نھایت ضعیف ھے
    #معارف الحدیث: 4/126 مولانامنظورنعمانی رحمہ اللہ

    شب_برات:

    15 شعبان کی رات میں دعاء واسغفار کے متعلق کوئ ایک حدیث بھی قابل_اعتماد نھیں ھے.
    #معارف_الحدیث: 4/126
    مولانامنظورنعمانی رح

    شب_برات:
    15 شعبان کی رات کوچوں، بازاروں اور اسی طرح مساجد میں چراغ جلانا (چراغاں کرنا) بدعت ھے.
    #البحرالرائق: 5/215

    شب_برات
    ابن العربی رحمہ اللہ کا فرمان؛
    15 شعبان کی رات کی فضیلت اور اس میں تقدیر لکھی جانے والی کوئی روایت قابل اعتماد نہیں۔
    (احکام القران۔ 117/4)

    *شب براءت:
    ملا علی قاری رحمہ االہ نے فرمایا:
    مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو حدیث کا تھوڑا بہت علم رکھتے ہیں. مگر پھر بھی 15 شعبان والی بکواس پر عمل کر کے (نفل) نماز پڑھتے ہیں۔
    "ملا علی قاری رحمہ اللہ"
    (موضوعات کبری۔ ص 462)

    شب برات
    ابن دحیہ ر.ح نےفرمایا:
    شب براءت کی (نفل) نماز والی روایات موضوع و من گھڑت ہیں
    (تذکرۃالموضوعات۔ ص 45)

    *شب براءت
    زيد بن اسلم ر.ح نے فرمایا:
    مشائخ و فقہاء میں سے کوئی بھی 15 شعبان کی فضیلت کی طرف متوجہ نہیں تھا۔
    (تذکرۃ الموضوعات۔ ص 45)

    شعبان کی پندرھویں رات کو اور بھی بعض کام ایسے کیے جاتے ہیں جن کاکوئی ثبوت نہیں، جیسے حلوے ،مانڈوں کاخصوصی اہتمام، لوگوں کاخیال ہے کہ اس روز مُردوں کی روحیں آتی ہیں ،حالانکہ یہ عقیدہ نصِ قرآنی کے بالکل خلاف ہے کیونکہ اگر دنیا سے جانے والے اللہ کے نافرمان ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قیدی ہیں ،وہ اللہ کی قید سے نکل کر آہی نہیں سکتے، اور اگر وہ نیک تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت میں بہترین نعمتیں تیار کررکھی ہیں ، وہ جنت کی اعلیٰ اورلذیذ ترین نعمتیں چھوڑ کردنیا میں کس طرح آئیں گے ؟یعنی کسی لحاظ سے بھی روحیں دنیا میں نہیں آسکتیں، اسی طرح رات کوچراغاں کااہتمام بھی کیا جاتا ہے اور خوب آتش بازی کی جاتی ہے ،مجوسیوں (آتش پرستوں) میں یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ خوشی کے موقع پر آتش بازی اور چراغاں کرتے ہیں، ان کا یہ طریقہ ہندوؤں نے اپنایا اور ان کو دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی اس کواختیار کرلیا۔

    عبادات کو شرعی نصوص کے بغیر خاص اوقات کے ساتھ مختص کرنا، مثلا: نصف شعبان کا روزہ اور رات کو قیام کرنا بدعت میں شامل ہیں
    شعبان میں کوئی جشن نہیں ہے، اور نہ ہی اسکے نصف یا آخر میں کوئی مخصوص عبادت ہے، جو کوئی بھی یہ کام کرتا ہے، وہ بدعت ہے۔

    واللہ اعلم .
    مولانا مفتی محمد ناہید حنفی

اس صفحے کی تشہیر