1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

ضمیمہ نمبر:۲ مقدمہ راولپنڈی کا فیصلہ ۔۔۔ مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 2, 2015

  1. ‏ مارچ 2, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    2261ضمیمہ نمبر:۲
    ’’قل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا‘‘


    شیخ محمد اکبر ڈسٹرکٹ جج کیمبل پور بمقام راولپنڈی
    کا
    فیصلہ
    مرزائی
    دائرہ اسلام سے خارج ہیں


    ناشر
    مرکزی مکتبہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان
    فون نمبر:۳۳۴۱
    2262سلسلہ اشاعت نمبر(۱۸)

    طبع اوّل
    ۱۳۸۸ھ
    ۱۹۶۸ء


    ؎ ناشر: مرکزی مکتبہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان
    ؎ کتابت: ابوزبیر شاد خوشنویس شاہین مارکیٹ
    ؎ طباعت: حسینیہ پرنٹنگ پریس ملتان شہر
    ؎ صفحات: باون صفحات (۵۲)
    ؎ تعداد: پانچ ہزار (۵۰۰۰)
    ؎ قیمت: پچاس پیسے (۵۰ئ۰)

    ملنے کا پتہ:
    مرکزی مکتبہ مجلس تحفظ ختم نبوت۔ ملتان شہر
    تغلق روڈ بیرون لوہاری گیٹ۔ فون نمبر:۳۳۴۱
    2263بسم اﷲ الرحمن الرحیم!
    تعارف
    فروری ۱۹۵۳ء میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں جب اس وقت کی گورنمنٹ نے مجلس عمل کے راہنماؤں کو اچانک پابند سلاسل کر کے جیل بھیج دیا تو راہنمایان ملت کی گرفتاری کے بعد اس وقت کی حکومت کے متشدانہ فیصلہ نے عوام کے جذبات میں جو اشتعال پیدا کیا اس سے حالات امن وقانون کے دائرہ اختیار سے باہر چلے گئے۔ آخری حربہ حکومت وقت نے یہ استعمال کیا کہ لاہور میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ جب جولائی میں حالات پرسکون ہوئے تو نئی وزارت نے جو ملک فیروز خان نون نے قائم کی۔ ان ہنگامی حالات کی تحقیقات کے لئے ایک کمیشن مقرر کیا جو مسٹر جسٹس محمد منیر اور جسٹس اے آر کیانی مرحوم پر مشتمل تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اس کیس کی پیروی میں مصروف تھی اور فروری ۱۹۵۴ء میں یہ کیس آخری مراحل میں داخل تھا۔ اس وقت جماعت کا ڈیفنس آفس حکیم عبدالمجید صاحب سیفی مرحوم جو بی۔اے علیگ تھے اور مرحوم اصل شاہ پور ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔ ان کا دولت کدہ واقع بیڈن روڈ تھا۔
    ۱۸؍فروری(۱۹۵۴ئ) کو اچانک ایک بزرگ راولپنڈی سے تشریف لائے جنہوں نے آتے ہی مولانا محمد علی جالندھری(رحمتہ اﷲ علیہ ) کانام پوچھا حضرت مولانا محمد علی صاحب سے ملاقات کرائی گئی۔ وہ غالباً لیفٹیننٹ نذیر الدین جو اس مقدمہ میں مدعا علیہ ہیں۔ ان کا بھائی تھا یا کوئی دوسرا عزیز تھا۔ انہوں نے اس کیس کی نوعیت ذکر کی کہ: ’’قادیانی عورت نے اپنے مرکز ربوہ سے امداد حاصل کر کے میرے بھائی کے خلاف حق مہر وغیرہ کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔ ہماری طرف سے آپ اس مقدمہ کی پیروی کریں۔‘‘
    حضرت مولانا محمد علی صاحب نے وعدہ فرمالیا کہ ہم مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اخترؒ کو کیس کی پیروی کے لئے روانہ کریں گے۔ چنانچہ سال ڈیڑھ سال کیس زیرسماعت رہا۔ جس کا 2264دفاع اہل اسلام کی طرف سے مولانا موصوف کرتے رہے اور راولپنڈی میں بحیثیت گواہ صفائی مدعا علیہ کے پیش ہوتے رہے۔ جس کا نتیجہ (لوئر کورٹ سے لے کر سیشن کورٹ تک) اہل اسلام کے حق میں نکلا۔ اﷲتعالیٰ دونوں جج صاحبان کو ان کی دینی وقانونی فراست پر جزائے خیر عطاء فرمائے۔ ہماری دعا ہے کہ خداتعالیٰ ایسے باخبر دینی احساس رکھنے والے ججز اور افسروں کو ان کے مناصب پر قائم رکھے تاکہ اسلامی ملک میں کفر وارتداد، اسلام سے جدا ہوکر سامنے آجائے اور مسلمان، قادیانی مکرو فریب سے بچ جائیں۔
    یاد رہے پاکستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا کیس تھا۔ کیونکہ یہ فیصلہ صرف ایک عورت کے خلاف نہ تھا۔ بلکہ پوری امت قادیانیہ کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کرنا تھی۔ چنانچہ اس فیصلہ سے قادیانی کیمپ میں کھلبلی مچ گئی۔ جس کی وجہ سے پوری جماعت کے لیڈر اور وکلاء نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرنے پر غور وخوض کیا۔ ہماری اطلاع کے مطابق اپیل تیار کر لی گئی۔ وکیل مقرر کیا گیا۔ لیکن جب چوہدری ظفر اﷲ خان سے مشورہ کیاگیا تو اس نے کہا کہ ’’اپنی ذمہ داری پر اپیل دائر کریں میں کوئی ذمہ داری نہیں لیتا۔‘‘ چنانچہ ۳؍جون ۱۹۵۵ء سے آج تک امت قادیانیت نے خاموشی اختیار کر کے اپنے کفر کی تصدیق کر دی ہے۔
    قبل ازیں یہ فیصلہ انگریزی میں چالیس ہزار کی تعداد میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کیا۔ پھر ڈاکٹر عبدالقادر صاحب نے گجرات سے کافی تعداد میں شائع کیا۔ پھر کراچی مجلس تحفظ ختم نبوت نے پانچ ہزار کی تعداد میں شائع کر کے اندرون وبیرون ملک مفت تقسیم کیا۔
    انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرنے کی وجہ سے بعض حوالہ جات اور عبارات میں خلجان پڑ گیا تھا۔ اس وجہ سے انگریزی فیصلہ کی طرح اب مجلس تحفظ ختم نبوت اسے اپنے مرکزی مکتبہ سے نہایت احتیاط سے بہ تصحیح تام چھاپ کر مسلمانوں کے سامنے پیش کر رہی ہے تاکہ روشن ضمیر ججز کے فیصلوں سے پڑھا لکھا طبقہ اپنے دل کا اطمینان کرے اور ملت کے اس باغی گروہ کے جال کفروارتداد سے اپنے آپ کو بچائے۔
    ناظم شعبہ نظر واشاعت، مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان

اس صفحے کی تشہیر