1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

ضمیمہ نمبر:۳۔۔۔پاکستانی عدلیہ کا محققانہ فیصلہ ۔۔۔مرزائی مرتد وکافر ہیں

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 2, 2015

  1. ‏ مارچ 2, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    2296ضمیمہ نمبر:۳
    ’’قل جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زھوقا‘‘

    پاکستانی عدلیہ کا محققانہ فیصلہ

    مرزائی مرتد وکافر ہیں
    از
    جناب شیخ محمد رفیق گریجہ جج سول اور فیملی کورٹ
    جیمس آباد سندھ

    ناشر
    مکتبہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان، پاکستان
    2297سلسلہ اشاعت نمبر (۲۳)
    بار اوّل



    ؎ ناشر: مرکزی مکتبہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان
    ؎ کتابت: خادم الفقراء منیر احمد روزنامہ مشرق لاہور
    ؎ طباعت: وفاق پریس لاہور
    ؎ صفحات: ۴۸ صفحات
    ؎ تعداد: ۱۰۰۰۰
    ؎ قیمت: نیوز ۔/۳۷ سفید ۔/۵۰ پیسے
    ؎ تاریخ اشاعت: شعبان ۱۳۹۰ھ، مطابق اکتوبر ۱۹۷۰ء

    ملنے کا پتہ:

    مرکزی مکتبہ مجلس تحفظ ختم نبوت
    تغلق روڈ ملتان شہر۔ فون نمبر:۳۳۴۱

    2298پیش لفظ
    ’’الحمد ﷲ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ وعلیٰ اصحابہ الذین اوفوا عہدہ‘
    سلسلۂ نبوت جس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور انتہاء سرکار دوعالم ﷺ کی ذات گرامی پر ہوگئی۔ دین اسلام کی بنیاد وذریعۂ نجات تصدیق واقرار توحید الٰہی ورسالت محمدی اور عقیدہ ختم نبوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ نے بلاقید زمان ومکان ہر دور میں کسی مدعی نبوت کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے وجود کو برداشت نہیں کیا۔ امیر المؤمنین خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ نے باتفاق تمام اصحاب کرام واہل بیت عظام مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کیا۔ جس میں بارہ سو اصحاب رسول ﷺ نے جام شہادت نوش کیا اور مسیلمہ اپنے اٹھائیس ہزار پیروکاروں کے ساتھ ہلاک وبرباد ہوا۔ خلافت راشدہ سے لے کر چودھویں صدی تک تمام ممالک اسلامیہ میں جس شخص نے دعویٰ نبوت کیا۔ اگر بصورت قائمی ہوش وحواس کیا، مقتول ہوا اور اگر بوجہ خلل دماغی کیا محبوس ہوا۔
    انیسویں صدی کا نصف آخر مسلمانوں کے زوال وانحطاط کا اندوہ ناک دور تھا۔ جس میں مسلمان باہمی اختلاف وافتراق کا شکار ہوگئے۔ عیسائی جو کبھی مسلمانوں کی قوت وطاقت کا مقابلہ نہ کر سکتے تھے۔ ان کے آپس میں اختلافات وتنازعات کی بدولت ہندوستان پر قابض ہوگئے۔ کفر کے تسلط پر ہندوستان دارالحرب ہوگیا۔ اسلامی وشرعی تعزیر وحدود یک قلم منسوخ کر دی گئیں۔ انا الحق کہو اور سولی نہ پاؤ والی حکومت قائم ہوگئی۔
    ان حالات میں انگریزو ں نے اپنے خود کاشتہ پودے مرزاغلام احمد قادیانی کو کھڑا کیا۔ جس نے اپنی خانہ ساز نبوت کا اعلان واشتہار دینا شروع کر دیا۔ اس دعویٰ نبوت پر ہندوستان کے جملہ مکاتب فکر مثلاً سنی، شیعہ، اہل حدیث، بریلوی، دیوبندی کے علماء وفضلاء نے متفقہ طور پر مرزاصاحب کے ارتداد وکفر کا فتویٰ دے دیا۔ نہ صرف ہندوستان کے علماء نے بلکہ افغانستان، ایران، 2299مصر وحجاز، شام وعراق کے علمائے کرام نے بھی مرزاغلام احمد قادیانی کے کفر وارتداد پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔
    ۱۸۹۱ء میں مرزاصاحب نے امیر عبدالرحمان والی افغانستان کو اپنی خود ساختہ نبوت کی تصدیق وتائید کے لئے خط ارسال کیا۔ جس کے جواب میں امیر موصوف نے لکھا کہ ایں جابیا۔ یعنی یہاں آکر بات کرو۔ مرزاصاحب میں اتنا حوصلہ وجرأت کہاں؟ کہ افغانستان جاتے اور اسلامی حدود وتعزیرات کا سامنا کرتے۔
    ۱۹۰۲ء میں عبداللطیف افغانی نے امیر حبیب اﷲ صاحب والی افغانستان سے حج وزیارت کی اجازت حاصل کی۔ امیر موصوف نے نہ صرف فریضہ حج کی ادائیگی کی اجازت دی بلکہ اپنی طرف سے زادراہ کے لئے رقم بھی دی۔ عبداللطیف نے سفر حجاز براستہ ہندوستان اختیار کیا۔ یہاں پہنچ کر یہ سادہ لوح شخص مرزاغلام احمد قادیانی کے دام تزویر میں پھنس گیا اور متاع ایمان کھو بیٹھا۔ بجائے اس کے کہ یہ شخص فریضہ حج ادا کرتا اور زیارت حرمین شریفین سے مشرف ہوتا۔ افغانستان واپس چلا گیا۔ اس بات کا علم جب امیر موصوف کو ہوا تو انہوں نے اس معاملہ کو عدالت عالیہ افغانستان کے سامنے پیش کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ عدالت عالیہ نے عبداللطیف کے بیان وعقیدہ کی بناء پر اس کے مرتد ہو جانے کا فیصلہ کیا اور چنانچہ عدالت کے اس فیصلہ کے مطابق عبداللطیف کو سنگسار کر دیا گیا۔ اس اسلامی فیصلے کا اثر ونتیجہ ہے کہ آج تک مملکت افغانستان میں ایک شخص بھی مرزائی نہیں ہوا۔
    ۱۹۳۴ء میں حکومت افغانستان نے ملا عبدالحکیم قادیانی اور انور علی قادیانی کو مرتد ہونے اور انگریزوں کی جاسوسی کرنے پر پھانسی کی سزا دی۔ ان اسباب ووجوہات کی بناء پر شاید سرظفر اﷲ نے اپنی وزارت خارجہ کے عہد میں پاکستان وافغانستان کو لڑانے کی ناپاک کوشش کی۔ ظفر اﷲ کے فاسد خیالات اور مذموم حرکات کی وجہ سے ۱۹۶۷ء میں جب یہ ساؤتھ افریقہ گئے تو وہاں کے مسلمانوں نے ان کا سیاہ جھنڈیوں سے استقبال کیا اور ظفر اﷲ ’’گو بیک‘‘ کے نعرے لگائے۔
    2300۱۹؍نومبر ۱۹۲۷ء ماریشس (جزیرہ بحیرہ ہند) کے چیف جسٹس نے مرزائیوں کے عقائد باطلہ کی بناء پر ان کے مرتد ہو جانے کا فیصلہ صادر فرمایا۔
    ۲۰؍جنوری ۱۹۳۵ء کو مصطفی کمال نے ترکیہ کے علماء کے فتویٰ کی تصدیق کی اور مرزائیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔
    حال ہی میں حجاز، مصر، شام وعراق کی مقتدر حکومتوں نے مرزاقادیانی کو مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے اور مقامی قادیانیوں کی املاک کو ضبط کر لیا ہے۔ ۱۹۳۲ء میں ایک مسلمان عورت مسماۃ عائشہ نے اپنے خاوند مسمی عبدالرزاق مرزائی کے خلاف احمد پور شرقیہ کے سول جج کی عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کر دیا۔ مقدمہ کی اہمیت کے پیش نظر والی ریاست بہاول پور عالی جناب سرمحمد صادق نے مسٹر محمد اکبر صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاول نگر کو بطور اسپیشل جج خاص بہاول پور میں مقدمہ کی سماعت کا حکم صادر فرمایا۔ چنانچہ جج صاحب موصوف نے ۷؍فروری ۱۹۳۵ء کو طویل سماعت کے بعد اپنا تاریخی فیصلہ سنا دیا۔ جس کی گونج سارے ہندوستان میں سنی گئی۔ فاضل جج نے مرزائیوں کو کافر قرار دے کرمسماۃ عائشہ کے نکاح کے فسخ ہو جانے کا حکم دیا۔
    ۳؍جون ۱۹۵۵ء کو راولپنڈی کے سیشن جج جناب شیخ محمد اکبر نے ایک مسلمان عورت اور مرزائی مرد کے متنازعہ مقدمہ میں مرزائیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔
    زیر نظر کتابچہ عالی جناب شیخ محمد رفیق صاحب گوریجہ سول جج بااختیارات فیملی کورٹ جیمس آباد ضلع تھرپارکر سندھ کا فاضلانہ فیصلہ ہے جو موصوف نے مقدمہ تنسیخ نکاح مسماۃ امت الہادی مسلمہ بنام حکیم نذیر احمد برق مرزائی میں صادر فرمایا ہے۔ فاضل جج نے فریقین کے مذہبی عقائد وخیالات کے تفاوت کو قرآن وسنت اور مرزائیوں کی تصنیفات کی روشنی میں واضح کیا ہے۔ یہ فیصلہ انہوں نے مسلسل مطالعہ اور بڑی محنت شاقہ کے بعد کیا ہے۔ اس فیصلہ میں موصوف نے مرزائیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہوئے اس نکاح کو غیرقانونی اور غیرمؤثر قرار دیا ہے۔ اس فاضلانہ فیصلہ کا خیرمقدم جس جوش وخروش سے مسلمانوں نے کیا ہے اور ہمارے 2301اخبارات جرائد ورسائل نے پہلے صفحات اور جلی عنوانات کے ساتھ کیا ہے اس کی نظیر پہلے نہیں ملتی۔
    اس فیصلے سے جہاں مسلمانوںمیں بے پناہ مسرت ہوئی ہے۔ مرزائیوں کے گھروںمیں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ سنا جاتا ہے کہ اس محققانہ فیصلہ کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرنے کے سلسلے میں ظفر اﷲ، ناصر احمد، بھٹو اور قصوری باہم مشورے کر رہے ہیں۔ مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت بڑی بے تابی سے اس اپیل کی منتظر ہے اور اپنے اس یقین کا اظہار کرنا ضروری خیال کرتی ہے کہ ؎
    نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
    یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
    مرزائی قرآن وسنت اور علم ودانش کی روشنی میں اپنا مؤقف نہ آج تک صحیح ثابت کر سکے ہیں اور نہ قیامت تک ثابت کر سکیں گے۔
    مجلس تحفظ ختم نبوت جناب محمد عثمان صاحب ایڈووکیٹ جیمس آباد کی شکرگزار ہے کہ انہوں نے مسلمانوںکی طرف سے نہایت فاضلانہ بحث کی اور قرآن وسنت کے ناقابل تردید براہین کی روشنی میں مرزائیوں کے خارج از اسلام ثابت کرنے میں فاضل عدالت کو امداد دی۔ ’’فجزاہ اﷲ احسن الجزائ‘‘ (شعبہ نشرواشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، ملتان)
    تنسیخ نکاح کا یہ مقدمہ کراچی کی ایک خاتون امۃ الہادی کی طرف سے ایک شخص حکیم نذیر احمد برق (جو ساٹھ سالہ بوڑھا ہے) کے خلاف سول جج جناب شیخ محمد رفیق صاحب گوریجہ کی عدالت میں دائر کیا تھا۔ (جن کو فیملی کورٹ کے بھی اختیارات حاصل ہیں) جج صاحب کا فیصلہ انگریزی ٹائپ کے ۳۴صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں احمدیوں کے مذہبی عقائد پر تفصیلی بحث کی گئی ہے اور اس سلسلے میں فرقہ احمدیہ کے بانی مرزاغلام احمد کی تصانیف سے متعدد اقتباسات کے علاوہ قرآن وحدیث کے بے شمار حوالے دئیے گئے ہیں۔ حضرت علامہ اقبالؒ سر امیر علی اور دیگر مسلمان اکابر کی آراء بھی درج کی گئی ہیں۔
    2302مقدمہ کی بحث کے اہم نکات یہ ہیں:
    ۱… کیا عدالت اس مقدمہ کی سماعت کی مجاز ہے؟
    ۲… کیا فریقین کی سابقہ مقدمہ بازی کے تصفیہ کے بعد مدعیہ کو مقدمہ دائر کرنے کا حق ہے؟
    ۳… کیا مدعیہ شادی کے وقت بالغ تھی؟
    ۴… کیا یہ دھوکے کی شادی تھی؟
    ۵… کیا فریقین کی شادی غیرقانونی تھی؟
    ۶… کیا مدعیہ اپنا نکاح فسخ کرنے کا اعلان کر سکتی ہے؟
    ۷… کیا واقعی مدعا علیہ دو سال سے زائد عرصہ تک مدعیہ کو خرچ دینے میں ناکام رہا؟
    ۸… کیا مدعیہ کو خلع لینے کا حق ہے؟ اگر ہے تو کن شرائط پر؟

اس صفحے کی تشہیر