1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

ضمیمہ … بعض مرزائی مغالطے(خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں) (چند شبہات کا ازالہ)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 15, 2015

  1. ‏ فروری 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    1988ضمیمہ … بعض مرزائی مغالطے
    1989خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
    1990چند شبہات کا ازالہ

    جب مسلمانوں کی طرف سے مرزائیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو مرزائی صاحبان طرح طرح سے مغالطے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں مختصراً ان مغالطوں کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے۔

    کلمہ گو کی تکفیر کا مسئلہ
    مرزائیوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ جو شخص کلمہ گو ہو، اور اپنے مسلمان ہونے کا اقرارکرتا ہو، کسی بھی شخص کو اسے کافر قرار دینے کا حق نہیں پہنچتا۔ یہاں سب سے پہلے تو یہ بوالعجبی ملاحظہ فرمائیے کہ یہ بات ان لوگوں کی طرف سے کہی جارہی ہے جو دنیا کے ستر کروڑ مسلمانوں کو کھلم کھلا کافر کہتے ہیں اور جو کلمہ ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ پر اور اس کے تمام ضروری تقاضوں پر صحیح معنی میں ایمان رکھنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج، شقی، بدطینت، یہاں تک کہ ’’کنجریوں کی اولاد۱؎‘‘ قرار دینے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ گویا ہر ’’کلمہ گو‘‘ کو مسلمان کہنا صرف یک طرفہ حکم ہے جو صرف غیراحمدیوں پر عائد ہوتا ہے اور خود مرزائی صاحبان کو کھلی چھٹی ہے کہ خواہ وہ مسلمانوں کو کتنی شدومد سے کافر کہیں، خواہ انہیں بازاری گالیاں دیں۔ خواہ ان کے اکابر
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    ۱؎ مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ: ’’میری کتابوں کو ہر شخص محبت کی نگاہ سے دیکھ کر ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے۔ سوائے ’’بغایا‘‘ (فاحشہ عورتوں، کنجریوں) کی اولاد کے جن کے دلوں پر اﷲ نے مہر لگادی، وہ انہیں نہیں مانتے۔‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اور مقدس ترین شخصیات کی ناموس پر حملہ آور ہوں۔ ان کے ’’اسلام‘‘ میں کبھی کوئی فرق نہیں آسکتا اور نہ ان پر کلمہ گو کو کافر کہنے کا الزام لگ سکتا ہے۔ یہ ہے اس مرزائی مذہب کا انصاف جو شرم وحیا اور دیانت واخلاق کا منہ نوچ کر اپنے آپ کو روحانیت ’’محمدﷺ‘‘ کا ظہور ثانی قرار دیتا ہے۔
    1991پھر خدا جانے یہ اصول کہاں سے گھڑا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو وہ مسلمان ہے اور اسے کوئی شخص کافر قرار نہیں دے سکتا؟ سوال یہ ہے کہ کیا مسیلمہ کذاب کلمہ شہادت نہیں پڑھتا تھا؟ پھر خود آنحضرتﷺ اور صحابہ کرامؓ نے اسے کافرقرار دے کر اس کے خلاف جہاد کیوں کیا؟ اور خود مرزاغلام احمد نے جابجا نہ صرف مسیلمہ کذاب بلکہ آپﷺ کے بعد اپنے سوامدعی نبوت کو کافر اور کذاب کیوں کہا؟ اگر آج کوئی نیا مدعی نبوت کلمہ پڑھتا ہوا اٹھے اور آنحضرتﷺ کے سوا تمام انبیاء کو جھٹلائے۔ آخرت کے عقیدے کا مذاق اڑائے، قرآن کریم کو اﷲ کی کتاب ماننے سے انکار کرے، اپنے آپ کو افضل الانبیاء قرار دے، نماز روزے کو منسوخ کر دے۔ جھوٹ، شراب، زنا، سود اور قمار کو جائز کہے اور کلمہ ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ کے سوا اسلام کے ہر حکم کی تکذیب کر دے تو کیا اسے پھر بھی ’’کلمہ گو‘‘ ہونے کی بنا پر مسلمان ہی سمجھا جائے گا؟ اگر اسلام ایسا ہی ڈھیلا ڈھالا جامہ ہے۔ جس میں کلمہ پڑھنے کے بعد دنیاکا ہر برے سے براعقیدہ اور برے سے برا عمل سماسکتا ہے تو پھر فضول ہی اسلام کے بارے میں یہ دعوے کئے جاتے ہیں کہ وہ دنیا کے تمام مذاہب میں سب سے زیادہ بہتر، مستحکم، منظم اور باقاعدہ مذہب ہے۔
    جو لوگ ہر ’’کلمہ گو‘‘ کو مسلمان کہنے پر اصرار کرتے ہیں۔ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کلمہ (معاذ اﷲ) کوئی منتر یا ٹونا ٹوٹکا ہے جسے ایک مرتبہ پڑھ لینے کے بعد انسان ہمیشہ کے لئے ’’کفر پروف‘‘ ہو جاتا ہے اور اس کے بعد برے سے برا عقیدہ بھی اسے اسلام سے خارج نہیں کر سکتا؟
    اگر عقل وخرد اور انصاف ودیانت دنیا سے بالکل اٹھ ہی نہیں گئی تو اسلام جیسے علمی اور عقلی دین کے بارے میں یہ تصور کیسے کیا جاسکتا ہے کہ محض چند الفاظ کو زبان سے ادا کرنے کے بعد انسان جہنمی سے جنتی اور کافر سے مسلمان بن جاتا ہے۔ خواہ اس کے عقائد اﷲ اور رسول کی مرضی کے بالکل خلاف ہوں؟
    واقعہ یہ ہے کہ کلمہ ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ (معاذ اﷲ) کوئی جادو یا طلسم نہیں ہے یہ ایک معاہدہ اور اقرارنامہ ہے اور اس میں اﷲتعالیٰ کو معبود واحد قرار دینے اور حضرت محمدﷺ 1992کو اﷲ کا رسول ماننے کا مطلب یہ معاہدہ کرنا ہے کہ میں اﷲ اور اس کے رسولﷺ کی ہر بات کی تصدیق کروں گا۔ لہٰذا اﷲ یا اس کے رسولﷺ کی بتائی ہوئی جتنی باتیں ہم تک تواتر اور قطعیت کے ساتھ پہنچی ہیں ان سب کو درست تسلیم کرنا ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ پر ایمان کا لازمی جز اور اس کا ناگزیر تقاضا ہے۔ اگر کوئی شخص ان متواتر قطعیات میں سے کسی ایک چیز کو بھی درست ماننے سے انکار کر دے تو درحقیقت وہ کلمہ توحید پر ایمان نہیں رکھتا، خواہ زبان سے ’’لا الہ الا اﷲ‘‘ پڑھتا ہو۔ اس لئے اس کو مسلمان نہیں کہا جاسکتا۔ عقیدہ ختم نبوت چونکہ قرآن کریم کی بیسیوں آیات اور سرکار دوعالمﷺ کے سینکڑوں ارشادات سے بطریق تواتر ثابت ہے۔ اس لئے باجماع امت وہ انہی قطعیات میں سے ہے جن پر ایمان لانا کلمہ طیبہ کا لازمی جز ہے اور جس کے بغیر انسان مسلمان نہیں ہوسکتا۔
    اس سلسلے میں بعض ان احادیث سے استدلال کی کوشش کی جاتی ہے جن میں سے آنحضرتﷺ نے مسلمان کی علامتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’جو ہماری طرح نماز پڑھے، ہمارے قبلے کی طرف رخ کرے اور ہمارا ذبح کیا ہوا جانور کھائے وہ مسلمان ہے۔‘‘ لیکن جس شخص کو بھی بات سمجھنے کا سلیقہ ہو وہ حدیث کے اسلوب وانداز سے یہ سمجھ سکتاہے کہ یہاں مسلمان کی کوئی قانونی اور جامع ومانع تعریف نہیں کی جارہی۔ بلکہ مسلمانوں کی وہ معاشرتی علامتیں بیان کی جارہی ہیں جن کے ذریعہ مسلم معاشرہ دوسرے مذاہب اور معاشروں سے ممتاز ہوتا ہے اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جس شخص کی ظاہری علامتیں اس کے مسلمان ہونے کی گواہی دیتی ہوں اس پر خواہ مخواہ بدگمانی کرنا یا بلاوجہ اس کی عیب جوئی کرنا درست نہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ اگر وہ خود مسلمانوں کے سامنے اعلانیہ کفریات کا اقرار کرتا پھرے، بلکہ ساری دنیا کو ان کفریات کی دعوت دے کر اپنے متبعین کے سوا تمام مسلمانوں کو کافر قرار دے تب بھی وہ صرف مسلمانوں کا ذبیحہ کھانے کی وجہ سے مسلمان کہلانے کا مستحق ہوگا۔ خواہ ’’لا الہ الا اﷲ‘‘ اور اس کے تقاضوں کا بھی قائل نہ ہو۔
    1993درحقیقت اس حدیث میں مسلمان کی تعریف نہیں بلکہ اس کی ظاہری علامتیں بیان کی گئی ہیں۔ مسلمان کی پوری تعریف درحقیقت آنحضرتﷺ کے اس ارشاد میں بیان کی گئی ہے۔
    ’’امرت ان اقاتل الناس حتی یشہدوا ان لا الہ الا اﷲ ویؤمنوا بی وبما جئت بہ‘‘

    (رواہ مسلم عن ابی ہریرہؓ ج۱ ص۳۷، باب الامربقتال الناس حتی یقولون لا الہ الا اﷲ)
    مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں۔ یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اﷲ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور مجھ پر ایمان لائیں اور ہر اس بات پر جو میں لے کر آیا ہوں۔
    اس میں مسلمان کی پوری حقیقت بیان کر دی گئی ہے کہ نبی کریمﷺ کی لائی ہوئی ہر تعلیم کو ماننا ’’اشہد ان محمداً رسول اﷲ‘‘ کا لازمی جز ہے اور آپﷺ کا یہ ارشاد قرآن کریم کی اس آیت سے ماخوذ ہے۔ جس میں اﷲتعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکّموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجاً مما قضیت ویسلّموا تسلیماً (النسائ:۶۵)‘‘ {پس نہیں، تمہارے رب کی قسم یہ لوگ مؤمن نہ ہوں گے جب تک یہ تمہیں اپنے ہر متنازعہ معاملے میں حکم نہ مان لیں۔ پھر تمہارے فیصلے سے اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے خوشی سے تسلیم نہ کریں۔}
    یہ ہے کلمہ گو کی حقیقت اور اس کے برخلاف محض کلمہ پڑھ لینے کے بعد ہمیشہ کے لئے کفر سے محفوظ ہو جانے کا تصور، ان دشمنان اسلام کا پیداکردہ ہے جو یہ چاہتے تھے کہ اسلام اور کفر کی درمیانی حد فاصل کو مٹا کر اسے ایک ایسا معجون مرکب بنا دیا جائے جس میں اپنے سیاسی اور مذہبی مفادات کے مطابق ہر برے سے برے عقیدے کی ملاوٹ کی جاسکے۔
    انتہاء یہ ہے کہ بعض لوگ مسلمان کی تعریف کے سلسلے میں اس آیت قرآنی کو بھی پیش کرنے 1994سے نہیں چوکتے۔ جس میں ارشاد ہے: ’’لاتقولوا لمن القیٰ الیکم السلام لست مؤمناً (النسائ:۹۴)‘‘ {یعنی جو شخص تمہیں سلام کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مؤمن نہیں۔}
    چلئے پہلے تو مسلمان ہونے کے لئے کم ازکم کلمہ پڑھنا ضروری تھا۔ اس آیت کو مسلمان کی تعریف میں پیش کرنے کے بعد اس سے بھی چھٹی ہوگئی۔ اب مسلمان ہونے کے لئے صرف ’’السلام علیکم‘‘ بلکہ صرف ’’سلام‘‘ کہہ دینا بھی کافی ہوگیا اور ہر وہ ہندو، پارسی، بدھسٹ اور عیسائی، یہودی بھی مسلمان بننے کے قابل ہوگیا جو مسلمان کو ’’سلام‘‘ کہہ کر خطاب کر لے۔ والعیاذ باﷲ العظیم!

اس صفحے کی تشہیر