1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

ضمیمہ

حمزہ نے 'کذبات مرزا۔ علامہ نورمحمد ٹانڈوی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 7, 2015

  1. ‏ مارچ 7, 2015 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    الحمدللہ وحدہ و الصلوۃ و السلام علی نبی لا نبی بعدہ و علی آلہ و اصحابہ اجمعین

    مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت ابن آدم کے عدوُّ مُّبین کی طرح اس قدر شہرت پذیر ہو چکی ہے کہ اب محتاج تعارف نہیں۔ جب آپ کو اشاعت اسلام کی نام نہاد و سحر طراز تدبیر کے باعث خور دو نوش کی الجھنوں و پریشانیوں سے نجات ملی تو کہنے لگے کہ میں رسول ہوں، مسیح موعود ہوں، مہدی معہود ہوں، کرشن اوتار ہوں، معجون مرکب ہوں، حجر اسود ہوں، بیت اللہ ہوں اور چنیں و چناں ہوں۔ غرض کہ آپ نے اتنے لمبے لمبے اور اس قدر چوڑے چوڑے، رنگ برنگ غیر معمولی دعاوی کے مدعی بنے کہ عالم میں باطل پرستی کا ایک ہنگامہ بپا ہو گیا۔ اور وہ روحیں جو ازل سے شقاوت و بدبختی کا جامہ پہن کر دنیا میں آئی تھیں مرزائیت کے دلفریب و طلسمی جال میں پھنس کر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے کنارہ عاطفت و ظل رحمت سے الگ ہو گئیں۔

    مرزائیت کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب و گمراہ کن فتنہ کی تخریب و استیصال کے لئے مسلمانان عالم و علمائے حق کے مقدس گرہ نے ایسی سرفروشی و تندہی کے ساتھ سعی بلیغ و جدوجہد کی ہے کہ اگر استعماری طاقتیں پشت پناہ نہ بن جاتیں تو کب کا یہ فرقہ ملعونہ دریا برد و پیوند زمین ہو گیا ہوتا۔ لیکن قدرت الہٰی کا غیر مرئی و پوشیدہ ہاتھ ایسے مفسدوں، ظالموں، کاذبوں، مفتریوں اور باطل پرستوں کی تکذیب و ابطال کے لیے اندر ہی اندر اتنا اور ایسا سامان مہیا کر دیتا ہے کہ اس کے فنا و موت کے واسطے بیرونی حملوں و خارجی ضربوں کی احتیاج باقی نہیں رہتی اور اُس گھر کو گھر کے چراغ ہی سے آگ لگ جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے کاذب و مفتری کا پر شکوہ قصر، خاکستر ہو کر عبرت گاہ عالم بن جاتا ہے۔ سچ ہے کہ خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں۔؎

    دل کے پھپھولے جل اٹھے سینہ کے داغ سے
    اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

    مرزا جی بھی اس کی تائید کرتے ہیں، لکھتے ہیں کہ:

    ”قانون قدرت صاف گواہی دیتا ہے کہ خدا کا یہ فعل بھی دنیا میں پایا جاتا ہے کہ وہ بعض اوقات بے حیا اور سخت دل مجرموں کی سزا ان کے ہاتھ سے دلواتا ہے سو وہ لوگ اپنی ذلت اور تباہی کے سامان اپنے ہاتھ سے جمع کر لیتے ہیں“ (روحانی خزائن جلد ۱۲- اِستفتاء: صفحہ 116)

    چنانچہ اسی قانون قدرت کے مطابق مرزا جی آنجہانی کی زندگی کے گوشہ گوشہ کی خانہ تلاشی کی گئی تو معلوم ہوا کہ قدرت نے مرزائیت کی تباہی و بربادی کا خود مرزا جی کے ہاتھوں سے اتنا سامان و ذخیرہ جمع کرایا ہے کہ اس گمراہ فرقہ و شجرۂ خبیثہ کے استیصال و ابطال کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ مرزا صاحب کے خانۂ زندگی میں تو کہیں تو کفریات و اختلافات کا ناہموار انبار ہے اور کہیں کذبات و اتہامات کا ایک بد نما ڈھیر اور کہیں ہفوات و خرافات کا ایک تودۂ ریت۔ تو پھر ایسے اسباب و سامان کے ہوتے ہوئے ”مرزائیت“ کے دفن کرنے کے لئے کسی اور طرف متوجہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔؎

    صیاد نے لگائے ہیں پھندے کہاں کہاں
    سارے پتے عیاں ہیں اسی سبز باغ میں

    جیسا کہ اس سے پہلے مرزا صاحب کے چند کفریات و اختلافات کو دو مستقل رسالوں ”کفریات مرزا“ اور ”اختلافات مرزا“ کے نام سے شائع کرکے مرزائیت کی موت کا سامان مہیا کر چکا ہوں ایسے ہی آج اس رسالہ میں مرزا صاحب کے ذخیرۂ حیات میں سے چند ایسے کذبات و اتہامات کو منظر عام پر لا رہا ہو جو مرزائیت کی تکفین و تدفین میں بہت کچھ سہولتیں باہم پہنچائیں گے اور مسلمانوں کو اس دام تزویر سے بچائیں گے۔

    مگر اس سے پہلے آپ مرزائیت کے سبز باغ کے کذبات و اتہامات کو ملاحظہ کریں اس مسلمہ و متفقہ حقیقت کو بھی پیش نظر رکھیں کہ جھوٹ اور جھوٹ بولنے کی مذمت و برائی اس قدر ظاہر ہے کہ ہر قوم، ہر جماعت، ہر مذہب اور ہر ملت کے افراد و انسان نے جھوٹ کو ایک بد ترین لعنت و بد ترین معصیت کہا اور جھوٹ بولنے والے کو ملعون، مردود بتایا ہے۔ چنانچہ مقدس اسلام نے بھی مفتری و کاذب کو بے ایمان، ملعون، مردود، ذلیل و نامراد قرار دیا اور خصوصیت سے اُس شخص کو مغضوب و معتوب اور ابدی جہنمی و دوزخی کہا ہے جو اللہ و رسول پر افتراء کرے اور جھوٹی باتیں ان کی جانب منسوب کرے۔

    یہاں تک کے مرزا صاحب جن کی زبان و قلم جھوٹ کی گندگی میں آلودہ ہے وہ بھی اس کی مذمت میں تمام قوموں اور مِلّتوں کی ہمنوائی کرتے ہوئے راقمطراز ہیں کہ:

    1)” جھوٹے پر اگر ہزار لعنت نہیں تو پانچ سو سہی “ (روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 572)

    2)”جھوٹا آدمی ایک گیند کی طرح گردش میں ہوتا ہے“ (ترجمہ روحانی خزائن جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 137)

    3)”جھوٹ اور تلبیس کی راہ کو چھوڑ دو “ (روحانی خزائن جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 201)

    4)” جھوٹے پر بغیر تعین کسی فریق کے لعنت کرنا کسی مذہب میں ناجائز نہیں “ (روحانی خزائن جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 31)

    5)” وایٹ نے کہا کہ لعنت اللہ علی الکاذبین یعنی جھوٹوں پر لعنت ہو۔ میں(مرزا غلام احمد قادیانی-مصنف) نے کہا کہ بیشک جھوٹوں پر لعنت وارد ہوگی “ (روحانی خزائن جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 31)

    6)”ہم جھوٹے کو دندان شکن جواب سے ملزم تو کرسکتے ہیں مگر اس کا منہ کیونکر بند کریں اس کی پلید زبان پر کونسی تھیلی چڑھا ویں؟“ (روحانی خزائن جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 38)

    7)”جھوٹ کے مردار کو کسی طرح نہ چھوڑنا۔ یہ کتوں کا طریق ہے نہ انسانوں کا “ (روحانی خزائن جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 43)

    8)” خنزیر کی طرح جھوٹ کی نجاست کھائیں گے “ (روحانی خزائن جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 328)

    9)”دروغ گو کو خدا تعالیٰ اِسی جہان میں ملزم اور شرمسار کر دیتا ہے“ (روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 42، روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 56)

    10)”خدا کی جھوٹوں پر نہ ایک دم کے لئے لعنت ہے بلکہ قیامت تک لعنت ہے “ (روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 398)

    11)”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں“ (روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 407)

    12)”ہمارا ایمان ہے کہ خدا پر افترا کرنا پلید طبع لوگوں کا کام ہے“ (روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 406)

    13)”افسوس کہ یہ لوگ خدا سے نہیں ڈرتے۔ انبار در انبار اُن کے دامن میں جھوٹ کی نجاست ہے “ (روحانی خزائن جلد ۱۹- اعجاز احمدِی: صفحہ 118)

    14)”اے مفتری نابکار کیا اب بھی ہم نہ کہیں کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت“ (روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 275)

    15)”دروغ گو کا انجام ذلّت اور ؔ رسوائی ہے“ (روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 253)

    16)”اے بیباک لوگو! جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے “ (روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 215)

    17)”جھوٹ بولنے سے بد تر دنیا میں اور کوئی بُرا کام نہیں “ (روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 459)

    18)”سچ بات تو یہ ہے کہ جب انسان جھوٹ بولنا روا رکھ لیتا ہے تو حیا اور خدا کا خوف بھی کم ہو جاتا ہے “ (روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 573)

    19)” بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین(جھوٹوں پر اللہ کی لعنت-مصنف) “ (روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 575)

    20)”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اُس پر اعتبار نہیں رہتا“ (روحانی خزائن جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 231)

    ان حوالجات مذکورہ کے ساتھ مرزا صاحب کے ان کذبات اور اتہامات کو ملاحظہ فرمائیں جو آپ کی زبان و قلم سے نکلے ہیں تاکہ دعاوی مرزا کی حقیقت گور ابطال میں مدفون ہو جائے اور مرزائیت کا طلسمی جال کا کوئی مار باقی نہ رہ جائے۔؎

    پڑا فلک کو کبھی دل جلوں سے کام نہیں
    جلا کے خاک نہ کر دوں تو داغ نام نہیں


    ...................................................................................................................................................................................................
    روحانی خزائن جلد ۱۸- دافَعُ البَلاَ ءِ وَ مِعیَارُ اھلِ الا صطِفَاءَ: صفحہ 231 ، ،روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 442، 3؎تذکرہ صفحہ 209 چوتھا ایڈیشن،روحانی خزائن جلد ۲۰- لیکچر سیالکوٹ: صفحہ228، روحانی خزائن جلد ۱۵- تریَاق القلوُب: صفحہ 273، روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 445، روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 445

اس صفحے کی تشہیر