1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

طبری میں کتبه قبر مسیح کا ذکر هے ؟

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'احادیثِ نزول و حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 12, 2019

  1. ‏ جنوری 12, 2019 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ ستمبر 15, 2014
    مراسلے :
    165
    موصول پسندیدگیاں :
    104
    نمبرات :
    43
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    جرنلسٹ ، درس نظامی سٹوڈنٹ۔ معلم
    مقام سکونت :
    کھڈیاں خاص تحصیل و ضلع قصور
    طبری میں کتبه قبر مسیح کا ذکر هے ؟
    سوال: تاریخ طبری مخمر 739 جلد2 میں حضرت عیسی علیہ السلام کے قبر کے کتب کی یہ عبارت نقل کی گئی ہے۔
    هذا قبر رسول الله عیسی علیه السلام الى هذه البلاد جواب...........1 سب سے پہلے احمدی حضرات یہ بتائیں کہ بالفرض اگر تاریخ طبری کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر مدینہ میں ہے تو وہ اسے چ
    سمجھتے ہیں یا جھوٹ؟ اگر وہ اسے چکھتے ہیں تو پھر ان کو ماننا پڑے گا کہ مرزا صاحب نے حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر سری نگر علی خانیار میں بنا کر جھوٹ بولا ہے ... اور اگر دو طبری والی بات کو جھوٹ تے ہیں ...........تو ایک ایسی بات جسے وہ خود چھوٹ جھتے ہیں ، ہمارے
    سامنے کیوں پیش کرتے ہیں؟
    جواب..........2 كتاب الوفاء باب 3یں قصه جر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: |
    فاخرجت اليهما الحجر فقراه فاذا فيه الا عبدالله الاسود رسول رسول الله عیسی بن مریم علیه السلام الى اهل قرى عرينة الخ. اور باپ 7صل 4میں ہے کہ وروى الزبير عن موسی بن محمد عن أبيه قال وجد قبر ادمی علی راس جاء ام خالد مكتوب فيه انا اسود بن سوادة رسول رسول الله عیسی بن مریم علیه السلام الى اهل هذه القريه. وعن ابن شهاب قال وجد قبر علی جماء ام خالد اربعون ذراعافی اربعین ذراعا مكتوب في حجر فيه انا عبدالله من اهل نينوى رسول رسول الله عیسی بن مریم علیهم السلام اے اهل هذه القرية فادركنى الموت فاوصيت ان ادفن في جماء ام خالد الخ
    پس معلوم ہوا کہ یکی واری میٹی علیہ السلام اسودين سواده تانی کی قبر ہے اور اس پتھر پر ... رسول رسول الیسی بن مریم علیہ السلام لکھا ہے۔ لیکن تاریخ طبری میں قلم تاریخ سے لفظ رسول مضاف ساقط ہوگیا ہے اور احمدیوں کا اس سے ایمان ساقط ہو گیا اور اس کو موت عیسی علیہ السلام پر جھت بنالیا....... الحجب
    كل الجب۔
    جواب...........3 قارئین کرام! آپ کو خوشی ہوگی ہم مسکینوں کی اس محنت پر کہ جب احمدیوں کا یہ اعتراض پڑھا تو اس کتاب کی تلاش شروع کی ۔ ہمارے
    کتب خانہ میں اردو ترجمہ تھا۔ اصل تاریخ طبری رہی تھی۔ چنانچہ 11 مئی 2004 کو کراچی سے کتاب عربی ایشن خرید کیا ۔ ملتان دفتر کر حوالہ تلاش کیا۔ جدید ایڈیشن دارالکتب العلمیة بیروت کی ج1
    355ر عبارت مل گئی۔ 1 صفحہ 345 سے مصنف نے سیدنا مسیح علیہ السلام کے زمانہ کے حالات قلمبند کرنے شروع کیے۔ صفحہ 345-348-352-354 (اس صفحہ پر چار بار) ....... به تایم علیہ السلام کے رفع کا ... حضرت ابن جریر طبری نے ذکر فرمایا ہے۔ جو دلیل ہے اس بات کی کہ وہ سیدنا نوح علیہ السلام کے رفع کے قائل ہیں ....... هذا قبر رسول الله عیسی بن مریم میں ہے۔ اصل میں هذا قبر رسول. رسول الله عیسی بن مریم تھا۔ این بی کت عیسی علیہ السلام کے واری کی قبر کا ہے۔ 2 ...اس پر ایک مزید دلیل بھی ہے کہ اس کے بعد کی صفات تک سیدنا مسیح علیہ السلام کے حواریوں کا ذکر ہے۔
    جواب...........4 ہم میا علیہ السلام کی حیات رفع الی السماء ونزول الى الارض پرقرآنی دلائل میں این جی کی تعمیر کے پیسوں والے قتل کر چکے ہیں۔ اس
    کے باوجوداگرامی تاریخ طبری کوی حجت کھتے ہیں ....... تو ہم تمام بجٹ کو اسی کتاب تاریخ طبری پر منحصر کر لیتے ہیں ........... جو تاریخ طبری
    کہ دے وہ آپ بھی مان لیں ہم بھی برویم تسلیم کر لیتے ہیں لیتے۔ تاریخ طبری کی ای جلدنمبر 1 سنه 495 پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت موجود ہے۔ إن اللة رفقه بجيرو وانه لكى الان. تحقیق الله تعالی نے عیسی علیہ السلام کو جسم سمیت اٹھالیا اور وہ اس وقت تک زندہ ہیں ۔
    غرض ادیوں میں انصاف نام کی کسی چیز کی کوئی رمق باقی ہے تو وہ اس صرت عبارت اور ابن عباس رضی اللہ عنہ وابن جرير رحمة اللہ علیہ کے فیصلہ کے مطابق اپنا عقیدہ بنالیں ۔ الله تعالی توفیق بخشی۔
    هوالهادي وهو يهدى الى السبيل الحق امین بحرمة النبي الكريم صلى الله عليه وآله وسلم۔

اس صفحے کی تشہیر