1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

ظلی اور بروزی نبوت کی کہانی

محمدابوبکرصدیق نے 'عقیدہ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 28, 2014

  1. ‏ ستمبر 28, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    مرزا قادیانی نے لکھا:
    ’’ لیکن اگر کوئی شخص اس خاتم النبیین میں ایسا گم ہوا کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا انعکاس ہوگیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔ کیونکہ وہ محمد ﷺ ہے۔ گو ظلی طور پر ۔ پس باوجود اس شخص کے دعوائے نبوت کے جس کانام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا ہے۔ پھر بھی سیدنا محمد ﷺ ہی رہا۔ یہ محمد ثانی اسی محمد ﷺ کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص ۵خزائن ص ۲۰۹ج۱۸)
    مرزا قادیانی کی اس عجیب وغریب تحقیق کا جائزہ تو بعد میں لیاجائے گا۔ پہلے اس پر نظر فرمائیے کہ (حقیقت الوحی ص ۱۰۰) پر خاتم النبیین کی تفسیر میں لکھا کہ آنحضرت ﷺ کی توجہ روحانی سے نبی بنتے ہیں۔ ان کے دعوائے نبوت سے خاتم النبیین کی مہر ٹوٹنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    اوراشتہار (ایک غلطی کا ازالہ) کی نئی تحقیق پر کسی شخص کا دعوائے نبوت خاتم النبیین کی مہر توڑنے کا مترادف تسلیم کیا گیا ہے۔ یعنی خاتم النبیین کے یہی معنی لئے گئے جو تمام امت نے لئے ہیں۔ لیکن نبی بننے کے شوق کو تناسخ وحلول کے ہندوانہ عقیدہ کی پناہ لے کر پور ا کیا جارہا ہے۔کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کا ظل یا بروز بن جائے وہ عین محمد ہے۔ اس کے آنے سے خاتم النبیین کی مہر نہیںٹوٹتی ۔ کیونکہ اس کا آنا آپ ﷺ کے سوا کسی اور نبی کا آنا نہیں خود آپ ﷺ ہی کا آنا ہے۔
    اب پہلے تو مرزا صاحب اور ان کی امت سے یہ پوچھئے کہ ان دونوں باتوں میں سے کونسی صحیح اور کونسی غلط ہے۔ خاتم النبیین کے معنی (حقیقت الوحی) کے بیان کے مطابق یہ ہیں ۔ کہ آپ ﷺ کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں یا غلطی کے ازالہ کی تحریر کے مطابق یہ ہیں ۔ کہ آپ ﷺ پرنبوت ختم ہوچکی ہے۔ مگر خود آپ کا دوبارہ دنیا میں آنا اس کے منافی نہیں۔
    اب ایک غلطی کے ازالہ کی غلطیاں دیکھئے:
    ۱… اس کا حل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے کامل اتباع سے کوئی شخص ظلی یا بروزی طور عین محمد ﷺ بن جاتا ہے۔
    اگر یہ صحیح ہے تو ہم دریافت کرتے ہیں کہ ابتدائے اسلام سے مرزاقادیانی کی پیدائش تک کیا کسی اور کو بھی یہ کامل اتباع نصیب ہوئی یا نہیں؟۔ صدیق اکبر ؓفاروق اعظم ؓ عثمان غنی ؓعلی مرتضی ؓجو خیر الخلائق بعد الانبیاء کے مصداق ہیں اور حدیث میں :’’ لوکان بعدی نبی لکان عمر ؓ۰‘‘وغیرہ کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں۔ کیا یہ حضرات بھی اپنی عمر بھرکی جان نثارانہ خدمات اور انتہائی پیروی کے باوجود ظلی طور پر محمد ﷺ بن گئے تھے یا نہیں؟۔
    ان کے علاوہ وہ صحابہ کرام ؓ جنہوں نے اپنے جسموں کو آنحضرت ﷺ کی ڈھال بناکر دشمن کی طرف سے آنے والے تیروں سے اپنے پورے بدن کو چھلنی بنالیا۔ جنہوں نے آپ ﷺ کے ادنیٰ اشارہ پر ساری دنیاکو چھوڑ دیا۔ جنہوںنے آپ ﷺ کی محبت وپیروی کے لئے اپنے ماں باپ ‘ بھائیوں سے قتال کیا۔ اور حضور ﷺ کی ایک ایک سنت پر جان دی۔ ان میں سے کوئی اس قابل نہ ہوا کہ ان میں محمدی ﷺ چہرہ کا انعکاس ہو؟ اور اگر ان بزرگوں کو بھی یہ درجہ حاصل ہوا ہے تو کیا مرزا صاحب ان میں سے کسی کی تاریخ میں دعوائے نبوت کا کوئی ادانیٰ اشارہ بھی دکھا سکتے ہیں؟۔
    ۲… مرزا قادیانی نے یہ ظل وبروز کی کہانی شاید ہندوئوں کے عقیدہ تناسخ وحلول سے اخذ کی ہے۔ لیکن بڑے شرم کی بات ہے کہ انہوں نے اس کو بھی سمجھ کر نہ لیا۔ظل وبروز کے جو لوگ قائل ہیں وہ کبھی اس کے قائل نہیں کہ بذریعہ تناسخ جو شخص کسی دوسرے جون میں آجائے وہ بعینہ پہلے شخص جیساہوتا ہے۔ اس کے احکام اور حقوق وہی ہوتے ہیں جوپہلے شخص کے تھے۔ مثلاً فرض کرلو کہ زید مرگیا اور پھر وہ کسی دوسرے جون میںآیا ۔ اس کا ماں باپ نے نام عمر رکھا تو کسی مذہب وعقیدہ میں عمر کے جون میں آنے والے زید کو یہ حق نہیں کہ قدیم حقوق کا مطالبہ کرے۔ اپنی سابق بیوی کو بیوی سمجھے۔ سابق ماں باپ کو ماں باپ کہے۔ وارثوں میں تقسیم شدہ جائیداد کو اپنی ملک قرار دے دے۔ مرزا قادیانی کا فلسفہ سب سے نرالا ہے کہ اسلامی عقیدہ کو تو خراب کیا ہی تھا۔ ظل وبروز کے عقیدہ کا بھی ستیاناس کردیا کہ جس شخص کو آنحضرت ﷺ کا ظل وبروز قرار دیا اس کو یہ حق بھی دے دیا کہ وہ اپنے کو رسول ونبی کہے اور ساری دنیا کو اپنی نبوت ماننے پر مجبور بھی کرے۔ اور جو نہ مانے اس کو کافر کہے۔
    ؎ ایں کاراز تومی آید ومرداں چنیں کنند
    ۳…اس کے بعد کوئی مرزا صاحب سے یہ پوچھے کہ نبوت ورسالت کے معاملہ میں آپ کے ظل وبروز کے فلسفہ پر کیا کوئی قرآن وحدیث کی شہادت بھی موجود ہے؟کہیں قرآن کریم نے ظلی اور بروزی نبی کا ذکر کیا ہے؟۔ یاکسی حدیث میں اس کا کوئی اشارہ ہے؟ اور اگر ایسا نہیں تو پھر اسلام کا دعویٰ رکھتے ہو ئے اسلام کے بنیادی عقیدہ رسالت میں اس ہندوانہ عقیدہ کو ٹھونسنا کونسی دینی روایت یا عقل وشریعت ہے؟۔
    ۴… صرف یہی نہیں کہ بروزاور نبی بروزی کے پیدا ہونے سے احادیث وقرآن کی نصوص خالی اور ساکت ہیں۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کی بہت سی احادیث اس کے بطلان کا اعلان صاف صاف کررہی ہیں۔
    ملاحظہ ہو وہ حدیث جوآخری نبی ﷺ نے اپنے آخری اوقات حیات میں بطور وصیت ارشاد فرمائی اور جس کے الفاظ یہ ہیں:
    ’’ یا ایھا الناس انہ لم یبق من مبشرات النبوۃ الا الرویاء الصالحۃ الحدیث۔ رواہ مسلم والنسائی وغیرہ عن ابن عباس ؓ۰‘‘{اے لوگو ! مبشرات نبوت میں سے سوائے اچھے خوابوں کے اور کچھ باقی نہیں رہا۔ روایت کیا اس کو مسلم ونسائی وغیرہ نے ابن عباس ؓ سے۔}
    اور اسی مضمون کی ایک اور حدیث بخاری ومسلم وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ ؓسے بھی روایت کی ہے ۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:
    ’’ لم یبق من النبوۃ الا المبشرات۰بخاری کتاب تفسیر ومسلم‘‘{نبوت میں سے کوئی جزو باقی نہیں رہا سوائے اچھے خوابوںکے۔}
    اور اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت حذیفہ بن اسید ؓسے طبرانی نے روایت کی ہے۔اور نیز امام احمد ؒ اور ابوسعید ؒ اور ابن مردویہ ؒنے اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت ابوطفیل ؓسے بھی روایت کی ہے۔ اور احمد ؒ اور خطیب ؒ نے بھی یہی مضمون بروایت عائشہ ؓ نقل کیا ہے۔ جن میں سے بعض کے الفاظ یہ ہیں:
    ’’ ذھبت النبوۃ وبقیت المبشرات۰‘‘{نبوت تو جاتی رہی اور اچھے خواب باقی رہ گئے۔}
    الغرض ان متعدد احادیث کے مختلف الفاظ کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ نبوت ہر قسم کی بالکل مختتم اور منقطع ہوچکی ۔ البتہ اچھے خواب باقی ہیں جوکہ نبوت کا چھیالیسواں جزو ہیں۔ (جیسا کہ بخاری ومسلم وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔)
    لیکن ظاہر ہے کہ کسی چیز کے ایک جزو موجود ہونے سے اس چیز کا موجود ہونا لازم نہیں آتا۔ اور نہ جزو کا وہ نام ہوتا ہے جو اس کے کل کا ہے۔ورنہ لازم آئے گا کہ صرف نمک کو پلائو کہا جائے۔ کیونکہ وہ پلائو کا جزو ہے۔ اور یا ناخن کو انسان کہا جائے کیونکہ وہ انسان کا جزو ہے۔ اسی طرح ایک مرتبہ اﷲ اکبر کہنے کو نماز کہا جائے کیونکہ وہ نماز کا جزو ہے۔ یا کلی کرنے کو غسل کہا جائے کیونکہ وہ غسل کا جزو ہے۔ اور پانی کو روٹی کہا جائے کیونکہ وہ روٹی کا جزو ہے۔
    غرض کوئی اہل عقل انسان جزو اور کل کو نام میں بھی برابر نہیں کرسکتا۔ احکام کا تو کہنا کیا۔ پس اگر نمک کو پلائو اور پانی کو روٹی اور ایک ناخن یا ایک بال کو انسان نہیں کہہ سکتے تو نبوت کے چھیالیسویں جزو کو بھی نبوت نہیں کہہ سکتے۔
    خلاصہ یہ کہ میں نبوت کے بالکلیہ انقطاع کی خبر دے کر اس میں سے نبوت کی کوئی خاص قسم یا اس کا کوئی فرد مستثنیٰ نہیں کیا گیا۔بلکہ استثناء کیا گیاتو صرف چھالیسویں جزو کا کیا گیاہے۔ جس کو کوئی انسان نبوت نہیں کہہ سکتا۔
    اب مصنف مزاج ناظرین ذرا غور سے کام لیں کہ اگر نبوت کی کوئی نوع یا کوئی جزئی مستقل یا غیر مستقل ‘تشریعی یا غیر تشریعی‘ ظلی یا بروزی عالم میں باقی رہنے والی تھی تو بجائے اس کے کہ آنحضرت ﷺ نبوت کے چھیالیسویں جزو کا اسثنا ء فرمائیں ضروری تھا کہ اس نوع نبوت کا استثنا ء فرماتے۔
    اور جب کہ آپ ﷺ نے استثنا ء میں صرف نبوت کے چھالیسویں جزو کو خاص کیا ہے ۔ تو یہ کھلا ہوا اعلان ہے کہ یہ بروزی نبوت جو مرزا قادیانی نے ایجاد کی ہے (اگر بالفرض کوئی چیز ہے اور اس کا نام نبوت رکھا جاسکتا ہے) تو آنحضرت ﷺ کے بعد یہ بھی عالم میں موجود نہ رہے گی۔
    ۵… حضرت ابوہریرہ ؓروایت کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺنے فرمایا:
    ’’کانت بنواسرائیل تسوسھم الا نبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی وانہ لانبی بعدی وسیکون خلفاء فیکشرون قالوا فما تأمرنا یا رسول اﷲ قال فوابیعۃ الا ول فالا ول اعطوھم حقھم ۰ بخاری ص ۴۹۱ ج ۱ ‘مسلم کتاب الایمان ومسند احمد ص ۲۹۷ ج ۲ وابن ماجہ وابن جریر وابن ابی شیبہ۰‘‘{بنو اسرائیل کی سیاست انبیاء علیہم السلام کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی وفات پاتاتو دوسرا نبی اس کا خلیفہ ہوجاتا تھا۔ اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ البتہ خلفاء ہوں گے اور زیادہ ہوں گے۔ صحابہ کرام ؓنے عرض کیاکہ خلفاء کے بارے میں آپ ﷺ کا کیا ارشاد ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ یکے بعد دیگرے ان کی بیعت کا حق ادا کرو۔}
    آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد میں غور کرو کہ کس طرح اول تو نبوت کے باالکلیہ انقطاع اور اختتام کی خبر دی۔ اور پھر جو چیز نبوت کے قائم مقام آپ ﷺ کے بعد باقی رہنے والی تھی اس کو بھی بیان فرمادیا۔ جس میں صرف خلفاء کا نام لیا گیا ہے۔
    اگر آپ ﷺ کے بعد کوئی بروزی نبی آنے والا تھا اور نبوت کی کوئی قسم بروزی یا ظلی مستقل یا غیر مستقل ‘ تشریعی یا غیر تشریعی دنیا میں باقی رہنے والی تھی تو سیاق کلام کا تقاضا تھا کہ اس کو ضرور اس جگہ ذکر فرمایا جاتا ۔
    اور جب آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد نبوت کا قائم مقام صرف خلافت کو قرار دیا ہے ۔ تو صرف اس کا اعلان ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی بروزی وغیرہ نہیں ہوسکتا۔
    ۶… حضرت ابومالک اشعری ؒروایت فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:
    ’’ ان اﷲ بداء ھذا الا مربنبوۃ ورحمۃ وکائناً خلافۃ ًورحمۃً۰ رواہ الطبرانی فی الکبیر‘‘{اﷲ تعالیٰ نے اس کام کو ابتدائً نبوت اور رحمت بنایا اور اب خلافت اور رحمت ہوجانے والا ہے۔}
    اس حدیث میں بھی اختتام نبوت اور اس کے باالکلیہ انقطاع کے ساتھ یہ بھی ارشاد فرمادیا کہ نبوت رحمت ختم ہوکر خلافت رحمت باقی رہے گی۔ جس میں صاف اعلان ہے کہ نبوت کی کوئی قسم بروزی یاظلی وغیرہ نہیں رہے گی۔ ورنہ ضروری تھا کہ بجائے خلافت کے اس کے ذکر کو مقدم رکھا جاتا۔
    ۷… آخر میں ہم ناظرین کی توجہ ایک ایسی امر کی طرف منعطف کرتے ہیں کہ جس میں تھوڑا سا غور کرنے سے ہر شخص اس پر بلا تامل یقین کرے گا ۔ کہ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی بروزی‘ظلی وغیرہ نہیں ہوسکتا۔
    جس کا حاصل یہ ہے کہ غالباً کوئی ادنیٰ مسلمان اس میں شک نہیں کرسکتا کہ نبی کریم ﷺ اپنی امت پر سب سے زیادہ شفیق اور مہربان ہیں۔آپ ﷺکو دنیا کی تمام چیزوں میں اس سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں کہ ایک آدمی کو ہدایت ہوجائے اور اسی طرح اس سے زیادہ کوئی چیزرنج دہ اور باعث تکلیف نہیں کہ لوگ آپ ﷺ کی ہدایت کو قبول نہ کریں۔خداوند سبحانہ اپنے رسول کی رحمت وشفقت کو اس طرح بیان فرماتا ہے:
    ’’عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم باالمؤمنین رؤف رحیم۰‘‘{سخت گراں ہے رسول اﷲ ﷺ پر تمہاری تکلیف۔ وہ تمہاری ہدایت پر حریص ہیں اور مسلمانوں پر شفیق ومہربان ۔}
    اور دوسری جگہ آپ ﷺ کی تبلیغی کوششوں کو ان وزن دار الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
    ’’ لعلک باخ نفسک علیٰ آثارھم ان لم یکونوا مؤمنین۰‘‘ {شاید آپ اپنی جان کو ان کے پیچھے گنوادیں گے اگر وہ ایمان نہ لائیں۔}
    پھر اس نبی امی (فداہ ابی وامی) کے ارشاد وتبلیغ پر جان کا ہ کوشش ‘ مخلوق کی ہدایت کے لئے سخت ترین جفاکشی۔ ان کی سخت سے سخت ایذائوں پر صبر وتحمل۔ کفار کی جانب سے پتھروں کی بارش کے جواب میں :
    ’’ اللھم اھد قومی فانھم لایعلمون۰‘‘{اے اﷲ!میری قوم کو ہدایت کر کیونکہ وہ جانتے نہیں۔}فرمانا ایک ناقابل انکار مشاہدہ ہے جو آپ ﷺ کی اس شفقت کی خبر دے رہا ہے۔ جو کہ آپ ﷺ کو خلق اﷲ کی ہدایت کے ساتھ تھی۔
    اور اسی وجہ سے آپ ﷺ نے امت کو ایسی سیدھی اورصاف وروشن شاہراہ پر چھوڑا ہے کہ قیامت تک اس پر چلنے والے کے کئے کوئی خطرہ نہیں۔ بلکہ :’’ لیلھا ونھارھا سواء ۰‘‘ کا مصداق ہے۔ یعنی اس کا رات دن برابر ہے۔
    آپ ﷺ کے بعد قیامت تک جس قدر فتنے پیدا ہونے والے تھے۔ اگر ایک طرف ان کی ایک ایک خبردے کر ان سے محفوظ رہنے کی تدبیر یں امت کے لئے بیان فرمائیں۔ تو دوسری جانب اس امت میں جس قدر قابل اتباع دراتباع وتقلید انسان پیداہونے والے تھے۔ ان میں ایک ایک سے امت کو مطلع فرماکر ان کی اقتدا ء کا حکم دیا۔ غرض کوئی خیر باقی نہیں کہ جس کی تحصیل کے لئے امت کو ترغیب نہ کی ہو۔ اور کوئی شرباقی نہیں کہ جس سے امت کو ڈرا کر اس سے بچنے کی تاکید نہ فرمائی ہو۔
    چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے بعد امت کو حضرت ابوبکر صدیق ؓاور فاروق اعظم ؓکی اقتدا کا حکم کیا اور فرمایا :
    ’’ اقتدوا باالذین من بعدی ابی بکرؓ وعمرؓ۰بخاری ومسلم‘‘{ان دوشخصوں کا اقتداء کرو جو میرے بعد خلفیہ ہوں گے۔ یعنی ابوبکر ؓ وعمر ؓ}نیز آپﷺ نے ارشاد فرمایا :
    ’’ علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین۰‘‘{میری سنت کو لازم پکڑو اور خلفائے راشدین کی سنت کو ۔} اور فرمایا :
    ’’ انی ترکت فیکم ماان اخذتم بہ لن تضلوا کتاب اﷲ وعترتی نسائی ‘ترمذی ص ۴۴ج۱‘‘{میں تمہارے لئے ایسی دو چیزیں چھوڑتا ہوں کہ اگر تم نے ان کے اتباع کو لازم پکڑا تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ ایک خدا کی کتاب دوسری میری عترت واہل بیت۔}
    پھر اطلاع دی کہ ہر سو سال کے بعد ایک مجدد پیدا ہوگا جو امت کی عملی خرابیوں کی اصلاع فرماکر ان کو نبی ﷺ کی ٹھیک سنت پر قائم کرے گا۔ اور آپ ﷺ کی مردہ سنتوں کو زندہ کرے گا۔ ( رواہ ابوداؤد والحاکم والبیہقی فی المعرفہ)
    اور ارشاد فرمایا کہ آخرزمانہ میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہماالسلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ اوراس امت کے لئے امام ہوکر ان کی عملی خرابیوں کی اصلاح فرمائیں گے۔ یہاں تک کہ اپنے بعد ہونے والے خلفاء کی اطاعت کا حکم فرمایا۔ اور اس کی یہاں تک تاکید فرمائی کہ ارشاد ہوتا ہے:
    ’’ اوصیکم بتقوی اﷲ والسمع والٹاعۃ ولوامر علیکم عبد حبشی مجدع الا طراف۰ مسند احمد ‘ ابوداؤد ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ ‘ حاکم ‘‘{میں تم کو اﷲ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ اور خلفاء کی اطاعت وفرمانبرداری کی۔ اگرچہ تم پر ایک حبشی غلام لنگڑا لولا حاکم بنادیا جائے۔}
    اب منصف ناظرین ! غور فرمائیں کہ اگر اس امت میں کوئی کسی قسم کا نبی بروزی یا ظلی وغیرہ پیدا ہونے والا تھا تو ضروری تھا کہ آنحضرت ﷺ سب سے زیادہ اس کا ذکر فرماتے۔ اور اس کے اتباع کی تاکید فرماتے۔ تاکہ یہ امت مرحومہ ان کے انکار وتکذیب سے کافر نہ ہوجائے۔ ورنہ ایک عجیب حیرت انگیز معاملہ ہوگا۔ کہ آپ ﷺ اپنی امت کو اپاہج حبشی غلام کی اتباع کا تو حکم فرمائیں۔ اور اس کی نافرمانی سے ڈرائیں۔ لیکن ایک خدا کا نبی جو دنیا میں آپ ﷺ کے بعد (برنگ بروز) پیدا ہونے والا ہے۔ اس کا کوئی تذکرہ ہی نہ فرمائیں۔ حالانکہ یہ بھی ظاہر ہے کہ خلفیہ کی اطاعت سے باہر ہونا زیادہ سے زیادہ فسق ہوسکتا ہے۔ بخلاف نبی کے کہ اس کا انکار قطعی کفر ہے۔ ایک شخص اگر تمام قرآن پر عمل کرے اور تمام انبیاء پر ایمان لائے مگر صرف ایک نبی کا انکار کرے تو وہ بنص قرآن اور باجماع امت کافر ہے۔
    خداکے لئے سوچو اور غورکرو! کہ وہ نبی جس کو خدا وند عالم ‘ رئوف رحیم اور رحمۃ للعالمین کا خطاب دیتا ہے۔ مخلوق کو چھوٹی چھوٹی باتوں کی خبر دیتا ہے۔ اور خلفاء وامراء بلکہ ایک حبشی غلام کے اتباع کی طرف بلاتا ہے۔ مگر آئندہ پیدا ہونے والے نبی کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ اور کسی ایک حدیث میں اشارہ بھی نہیں دیتا۔ کہ چودھویں صدی میں ہم خود دوبارہ برنگ بروز دنیا میں آئیں گے۔ اس وقت ہماری تکذیب نہ کرنا۔ امت کو معمولی گناہوں سے بچنے کی تو ہدایت کرتا ہے مگر ان کو کفرصریح میں مبتلا ہونے سے نہیں روکتا۔
    اگر معاذ اﷲ واقعہ یہی ہے تو وہی مثل صادق آئے گی کہ :
    ’’ فرمن المطرو وقع تحت المیزاب۰‘‘{یعنی بارش سے بھاگ کر پرنالہ کے نیچے آپڑے}
    جس کی دھار بارش سے کہیں زائد ہے۔ اور خاکم بدہن یہ کہنا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ نے رسالت میں خیانت اور امت کی خیر خواہی میں کوتاہی کی ان کو چھوٹی چھوٹی باتوں میں لگاکر اہم کاموں سے غافل کردیا۔ والعیاذ باﷲ العظیم۰
    خلاصہ یہ ہے کہ حدیث میں اس کا صاف اعلان ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی کسی قسم کا نبی بروزی ‘ ظلی ‘ تشریعی ‘ غیر تشریعی پیدا نہیں ہوسکتا۔
    • Like Like x 3
  2. ‏ ستمبر 28, 2014 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    ظلی اور بروزی پر ایک ضروری اور اہم گذارش
    (۱)…’’مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا آنا بعینہ محمد رسول اﷲ کادوبارہ آنا ہے۔ یہ بات قرآن سے صراحۃً ثابت (معاذاﷲ)ہے۔ کہ محمد رسول اﷲ ﷺ دوبارہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بروزی صورت اختیار کرکے آئیں گے۔‘‘ (اخبار الفضل ج ۲ نمبر۲۴)
    (۲)… ’’پھر مثیل اور بروز میں بھی فرق ہے۔ بروز میں وجود بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ نام بھی ایک ہوجاتا ہے۔۔۔ ۔۔۔ بروز اور اوتار ہم معنی ہیں۔‘‘(الفضل ۲۰ اکتوبر ۱۹۳۱ئ)
    (۳)…’’میں احمدیت میں بطور بچہ کے تھا۔ جو میرے کانوں میں یہ آواز پڑی۔ مسیح موعود (مرزا قادیانی) محمد است وعین محمد است۔‘‘(اخبار الفضل قادیان ۱۷ اگست ۱۹۱۵ء ج ۲ نمبر۲۴)
    (۴)… ’’ اس بات میں کیا شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اﷲ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا ۔‘‘(کلمۃ الفصل ص ۱۰۵)
    (۵)…’’ پس مسیح موعود (مرزا قادیانی)خود محمد رسول اﷲ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائے۔‘‘(کلمۃ الفصل ص۱۵۸)
    (۶)…’’محمد رسول اﷲ والذین معہ۰‘‘اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘(ایک غلطی کا ازالہ ص ۳‘ روحانی خزائن ص۲۰۷ج۱۸)
    مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور حضور ﷺ ہر لحاظ سے ایک ہیں۔لیکن دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا دونوں جسم وروح ہر دو لحاظ سے ایک تھے۔ یا حضور ﷺ کی صرف روح مرزا قادیانی میں داخل ہوئی تھی۔ پہلی صورت بداہتہً غلط ہے۔ اس لئے کہ حضور ﷺ کا جسد مطہر گنبد خضرامیں مدفون ہے اور دوسری صورت میں تناسخ کا قائل ہونا پڑے گا جو عقائد اسلام کے خلاف ہے۔ علاوہ ازیں قرآن حکیم شہداء کی حیات کا قائل ہے۔ انبیاء کا درجہ شہداء سے بہت بلند ہوتا ہے۔ لازماً انبیاء بھی حیات کی نعمت سے بہرہ ور ہیں۔ احادیث میں مذکور ہے کہ شب معراج کو حضور ﷺ کی ملاقات کئی انبیاء سے ہوئی تھی۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حضرات عالم برزخ میں بقید حیات ہیں۔ زندگی روح کا کرشمہ ہے۔ اگر انبیاء کرام کی روح خود ان کے برزخی اجسام میں موجود ہے تو پھر مرزا قادیانی میں حضور ﷺ کی روح کہاں سے آگئی تھی؟۔ کیا ایک انسان میں کئی ارواح ہوتی ہیں؟۔ کہ ایک اپنے پاس رکھ لی اور باقی بانٹ دیں ۔ آریائی فلسفے کی رو سے تو بروز واوتار کا مسئلہ سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ یہ لوگ تناسخ کے قائل ہیں۔ لیکن اسلام کی سیدھی سادی تعلیم ان پیچیدگیوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
    اور اگر عینیت سے مراد وحدت اوصاف وکمالات ہو۔ تب بھی بات نہیں بنتی۔ اس لئے کہ :
    ۱… حضور ﷺ امی تھے۔ اور مرزا چھ درجن کتابوں کے مصنف
    ۲… وہ عربی تھے ۔ یہ عجمی ہے۔
    ۳… وہ قریشی تھے اور یہ فارسی نسل۔
    ۴… وہ دنیوی لحاظ سے بے برگ وبے نوا تھے۔اور یہ زمین وباغات کے مالک۔
    ۵… انہوں نے مدنی زندگی کے دس برس میں سارا جزیرہ عرب زیر نگیں کرلیا تھا۔ اور مرزا قادیانی جہاد وفتوحات کے قائل ہی نہ تھے۔
    ۶… وہاں قیصر وکسریٰ کے استبداد کو ختم کرنے کا پروگرام تھا ۔ اور یہاں انگریزکے جابر انہ تسلط کو قائم رکھنے کے منصوبے۔
    ۷… وہاں اسلام کو آزادی کا مترادف قرار دیا گیا تھا۔ اور یہاں غلامی کا مترادف۔
    الغرض نہ وحدت جسم وروح کا دعویٰ درست ہے نہ وحدت اوصاف وکمالات کا تو پھر ہم یہ کیسے باور کرلیں کہ مرزا غلام احمدقادیانی عین محمد ﷺ ہے۔ (معاذاﷲ۰ لاحول ولاقوۃ الا بااﷲ)
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر