1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عرض ناشر

حمزہ نے 'کذبات مرزا۔ علامہ نورمحمد ٹانڈوی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 7, 2015

  1. ‏ مارچ 7, 2015 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    عرض ناشر


    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    دنیا والوں کی نظر میں جھوٹ بولنا تمام برائیوں کی جڑ ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جھوٹ م الخبائث ہے اسی لیے تو جھوٹ بولنے والوں کو ہمیشہ برے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کا شمار دنیا کے اُن خوش بختوں میں ہوتا ہے جس کو دور حاضر میں پڑھے لکھے لوگ بھی باوجود اس کے مہا جھوٹا ہونے کے ”جناب“ اور صاحب“ جیسے معزز القابات سے یاد کرنے میں ہی اپنی دانشوری سمجھتے ہیں۔ اسی طرح قادیانی تحریک دنیا کی ایک ایسی تحریک ہے جس کا خمیر ہی جھوٹ ہی جھوٹ ہے لیکن اپنے جھوٹ کے بل بوتے آج اس کا شمار دنیا کے ”مذاہب“ خانہ میں ہونے لگا ہے۔ اور کچھ لوگ اس کے تقدس و پاکیزگی کے گیت گانے لگے ہیں۔

    بلاشبہ جھوٹ جیسے بدترین عیب کو خوشنما ہنر بنانے میں قادیانی تحریک نے کمال درجہ محنت کی ہے اور مخص اپنی محنت کے بل بوتے اُسے ترقی کی یہ منزل نصیب ہوئی کہ اُسکے غلیظ سے غلیظ جھوٹ کے سامنے مذاہب اسلام کی صداقت و سچائی بعض پڑھے لکھے لوگوں کی نظروں میں ہیچ معلوم ہوتی ہے اور ناخواندہ عوام کا تو پوچھنا ہی کیا! وہ تو نعوذ باللہ اپنی نجات تک قادیانیت سے وابستہ کر بیٹھے ہیں۔ کیا خوب کسی نے کہا ہے؎

    ایک تم ہو تم کو تیرا جھوٹ بھی راس آگیا
    ایک میں ہوں مجھ کو میری حق بیانی کھا گئی

    قادیانیت کے پروپیگنڈہ کی طاقت و قوت کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے پیغمبرانہ لب و لہجہ میں جھوٹ بولنے والوں کے متعلق کہا ہے کہ ” وہ کنجر جو ولد ا لزنا کہلاتے ہیں وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں “ (روحانی خزائن جلد ۲- شحنہء حق: صفحہ 385) یعنی بڑا ہی بدبخت وہ انسان ہے جسے جھوٹ بولتے ہوئے بھی شرم نہ آئے۔ مگر گستاخی معاف! مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹا بلکہ مہا جھوٹا ہونے کے ثبوت میں ہزار دلائل رکھنے کے باوجود اگر یہی لب و لہجہ علماء اسلام دہرا دیں یا یہ کہہ دیں کہ اس کا مصداق خود مرزا غلام احمد قادیانی ہے تو قادیانی بہادر بد زبانی کا الزام علماء پر لگا دیتے ہیں اور اس کا پروپیگنڈہ اتنا کرتے ہیں کہ بعض دفعہ اس سے متأثر ہو کر دور حاضر کی بے ڈھب تہذیب و شرافت کے دالدہ لوگ بھی علماء اسلام کو تہذیب و شرافت کا سبق پڑھانے بیٹھ جاتے ہیں۔ کوئی علماء کی ایسی تقریروں اور تحریروں کو معیار سے گرا ہوا بتاتا ہے، کوئی غیر سنجیدہ قرار دیتا اور کوئی مناظرانہ انداز کہہ کر بیزاری کرتا ہے۔

    ان پھبتیاں کسنے والوں کو اتنا شعور نہیں ہوتا کہ یہ جملے تو مرزا غلام احمد قادیانی ہی کے ہیں۔ اِس میں علماء کا کیا قصور ہے۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات یا اس کی تعلیمات و ہدایات میں اس کے علاوہ ہے ہی کی جسے پیش کیا جائے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جو کچھ مرزائیت کے برتن میں ہے وہی عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ اس کی صحیح حقیقت کھل کر سامنے آ جائے اور لوگ اس سے اپنے آپ کو بچائیں۔ پھر دلائل کی روشنی میں اگر مرزا غلام احمد قادیانی کو یہ کہا جائے کہ وہ جھوٹ بولتے ہوئے شرماتا بھی نہیں تھا اس میں بد زبانی اور بد تہذیبی کی کیا بات ہوئی؟۔

    حضرت مولانا نور محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ”کذبات مرزا“ اپنے موضوع پر ایک شاہکار کتاب اور ایسا آئینہ ہے کہ اس میں ہر مرزائی، مرزا غلام احمد قادیانی کا مکروہ چہرہ دیکھ کر قادیانی تحریک کے مکر و فریب سے خود کو بچا سکتا ہے نے مرزا غلام احمد قادیانی ہی کے زبان و قلم سے دو سو سے زاہد جھوٹ شمار کرائے ہیں جن میں ہر جھوٹ مرزا غلام احمد قادیانی کی قد آدم تصویر ہے۔

    اور ایک خاص بات یہ کہ مصنف نے مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹ پر تبصرہ و گرفت کرنے میں بھی وہی جملے استعمال کیے ہیں جو انگریزی نبوت کی پیغمبرانہ زبان سے نکلے ہوئے ہیں تاکہ کسی کو حرف شکایت زبان پر لانے کا موقع نہ رہے اور لوگ سمجھ لیں کہ جو شخص خود اپنی زبان و قلم کی روشنی میں ایک سچا، شریف انسان کہلانے کے قابل نہیں وہ پروپیگنڈہ اور دوسروں کے ڈھنڈورا پیٹنے سے مسیح، مہدی اور نبی نہیں بن جاوے گا۔

    ہمارے قارئین کو یہ بات بھی زہن نشین رکھنی چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے کذب و افتراء پر خدا و گرفت بھی انصاف پر مبنی اور خود مرزا غلام احمد قادیانی کے مقرر کردہ اصول و معیار کی روشنی میں ہے۔ اپنی کتابوں میں جابجا مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ دعوی کیا ہے کہ اُس کا خدا کی جانب سے ہونا یا نہ ہونا اگر کوئی جانچنا چاہتا ہے تو اُس کی پیشگوئیوں کا جانچے۔ اس سے بڑھ کر کوئی اور کسوٹی اس کے صدق و کذب کو جانچنے کے لئے نہیں ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے

    ” بد خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کیلئے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا “ (روحانی خزائن جلد ۵- آئینہ کمالات اسلام: صفحہ 288)

    لہٰذا اب کسی کو اس مسئلہ میں چوں چراں کی گنجائش نہیں اور حق بات یہ ہے کہ جس مرزائیت میں جھوٹ کی غلاظتوں کے انبار ہیں اس میں اور کون سی خوبی ہے جو تلاش کی جائے۔ دودھ بھرے پیالے میں پڑی غلاظت نظر انداز کرکے محض دودھ کی خوبی نہیں بیان کی جاتی۔ بہر حال مرزائی اصول کے مطابق یہ کتاب مرتب کی گئی ہے۔ لہٰذا مرزائیوں کو بھی اس سے استفادہ کرنا چاہئے۔

    راقم سطور نے کتاب ہٰذا کو اپنے موضوع پر ایک کتاب دیکھتے ہوئے اسے منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا اور استفادہ کو آسان سے آسان تر بنانے کے لیے جو کچھ بندہ ناچیز سے وہ سکا ہے اس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

    1)کتابت کے وقت راقم کے سامنے 1953ء کا مطبوعہ نسخہ ہے۔ قدیم طرز کتابت و رسم الخط کو جدید کمپوزنگ میں درست کر دیا گیا ہے اور پیراگراف وغیرہ بھی درست کر دئیے گئے ہیں۔ البتہ استفادہ کی غرض سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مطبوعہ نسخہ بھی سامنے رکھا ہے تا کہ دونوں میں یکسانیت رہے۔

    2)مرزائی کتب کے حوالوں میں قدیم صفحات کی جگہ مرزائیوں کی جانب سے طبع شدہ سیٹ ”روحانی خزائن“ کے حوالے درج کیے گئے ہیں اور اس بات کی کوشش کی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارتیں جس رسم الخط کے ساتھ ملا کر لکھا ہے تو ہم نے اسی طرح ملا کر اس کی کتابت کی ہے تاکہ مرزائی اپنے نبی کی کلام میں تحریف و تاویل کا الزام نہ لگا سکیں۔ مثلاً خدایتعالےٰ، اسپر، سچیار وغیرہ۔ ختیٰ کہ تذکیر و تانیث کے ساتھ علامات ترقیم اور اعراب وغیرہ بھی ویسے ہی لگائے گئے ہیں جیسا کہ مرزا نبی کی کتاب میں درج ہے تا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا سلطان القلم ہونا مرزائیوں پر واضح ہو جائے۔

    3)بعض جگہ حواشی کا اضافہ ناگریز تھا لیکن بعض جگہوں پر بندہ نے اپنے ذوق سے اختصار کے ساتھ حواشی کا اضافہ مفید سمجھا تاکہ گرفت کے مزید مواقع قارئین کے سامنے آ جائیں۔ قارئین کو حواشی پسند آئیں تو فبہا ورنہ غلطی کی نشاندہی فرمانے پر آئندہ ایڈیشن میں ترمیم و تصحیح کر لی جائے گی۔

    4)کتاب میں مندرج عربی اور فارسی عبارتوں کے ترجمے عموماً درج نہیں تھے جس سے عوام کا استفادہ مشکل تھا۔ بندہ نے کوشش کی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ہی قلم سے ترجمہ تلاش کر کے حاشیہ میں درج کر دیا جائے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا ترجمہ نہ ملنے پر ہی بندہ نے اپنی جانب سے ترجمہ لکھا ہے اور اس کی وضاحت کے لیے حاشیہ میں ”ش“ کی علامت لگا دی ہے۔

    5)مصنف کا لب لہجہ چونکہ مشرقی یوپی کا ہے تاہم کوشش کی گئی ہے کہ بغیر حذف و اضافہ کے علامات ترقیم کے ذریعہ عبارت کو واضح اور سلیس بنا دیا جائے۔ البتہ بعض مقامات پر اگر ضرورت پڑی تو بین القوسین مفید جملوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    اب اخیر میں شکر گذار ہوں جناب مولانا نور الحسن راشد صاحب مدظلہ کاندھلوی کا کہ موصوف نے بطور خاص اس کتاب کو منظر عام پر لانے کے لئے تحریک فرمائی بلکہ قدیم نسخہ کہیں دستیاب نہیں تھا تو ”مفتی الہٰی بخش لائبریری“ سے بصرفہ خود فوٹو کاپی کروا کے ”کذبات مرزا اور مغلظات مرزا“ کے نسخے فراہم کیے۔

    اہل علم خوب جانتے ہیں کہ اکابر میں سے حضرت اقدس شاہ عبد القادر صاحب رائپوری رحمۃ اللہ علیہ کی پوری خانقاہ ہی گویا تحفظ ختم نبوت کی خانقاہ تھی۔ وہاں مریدین کو وظیفہ بھی دیا جاتا تھا تو تحفظ ختم نبوت کا۔ باضابطہ تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر کتابیں سننا سنانا خانقاہ کے نظام میں شامل تھا۔ ناچیز نے اس موقع سے اپنے لیے سعادت سمجھا اور موضوع کے لحاظ سے بھی مناسب جانا کہ خانقاہ رائپوری کے فیض یافتہ اور حضرت رائپوری کے مستر شد خاص حضرت مولانا مفتی افتخار الحسن صاحب مدظلہ سے درخواست کرکے اس کتاب پر حضرت کے قیمتی ارشادات تقریظ کی صورت میں شامل اشاعت کر دیئے جائیں۔

    چنانچہ اس کے لیے راقم نے پھر ایک بار کاندھلہ کا سفر کیا اور حضرت والا سے درخواست کی، حضرت والا زید مجدہم نے بنظر عنایت قبول فرما کر ایک جامع اور وقیع تقریظ ارسال فرمائی جو شامل اشاعت ہے۔

    چونکہ دیگر رسائل کہیں دستیاب نہیں تھے اس کے لیے بندہ نے مکرم جناب مولانا عبد الرحمٰن یعقوب باوا صاحب مدظلہ امیر ختم نبوت اکیڈمی لندن سے رابطہ کیا۔ موصوف نے بندہ نا چیز کی حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے ہفتہ کے اندر اندر لندن سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کا مطبوعہ نسخہ احتساب قادیانیت کی جلد نمبر 17 فراہم فرمائی جس سے حوالوں کی تلاش کا کام بہت آسان ہو گیا۔ فجزاھم اللہ خیراً

    جدید کمپوزنگ و سیٹنگ کے ساتھ کتاب قارئین کے ہاتھوں میں ہے، امید ہے کہ اگر کوئی خامی نظر آئے تو مطلع فرمائیں گے تاکہ آئندہ اس کی اصطلاح کی جا سکے۔


    شاہ عالم گورکھپوری
    نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت
    دار العلوم دیوبند

اس صفحے کی تشہیر