1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (امام ابن جریرؒ کا عقیدہ)

محمدابوبکرصدیق نے 'تحریک ختم نبوت میں علماء و مشائخ کا کردار' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 1, 2015

  1. ‏ جولائی 1, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (امام ابن جریرؒ کا عقیدہ)

    عظمت شان
    ۱… ’’ابن جریر رئیس المفسرین ہیں۔‘‘

    (آئینہ کمالات اسلام ص۱۶۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)
    ۲… ’’ابن جریر نہایت معتبر اور آئمہ حدیث میں سے ہے۔‘‘
    (چشمہ معرفت ص۲۵۰، خزائن ج۲۳ ص۲۶۱ حاشیہ)
    ۳… امام جلال الدین سیوطیؒ قادیانی جماعت کے مسلم امام ومجدد امام جریرؒ کی شان میں فرماتے ہیں:
    ’’اجمع العلماء المعتبرون علیٰ انہ لم یؤلف فی التفسیر مثلہ‘‘

    (اتقان ج۲ ص۳۲۵، مؤلفہ سیوطیؒ)
    قارئین! ہم آپ کے سامنے اس شان کے امام ومحدث ومفسر کی کلام پیش کرتے ہیں۔
    ۱… ہم امام ابن جریر کی روایت سے حدیث معراج درج کر آئے ہیں۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر اتر کر دجال کو قتل کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔
    ۲… ہم قادیانیوں کے امام ومجدد صدی ہشتم حافظ ابن حجر عسقلانی کے حوالہ سے ابن جریر کی روایت درج کر آئے ہیں۔ جس میں انہوں نے حضرت عبداﷲ بن عباسؓ کا عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام بیان کیا ہے۔
    ۳… ہم امام جریر کی ایک روایت سے ایک حدیث درج کر آئے ہیں۔ جس میں رسول کریمﷺ یہود کو فرماتے ہیں:
    ’’ان عیسیٰ لم یمت‘‘
    یعنی عیسیٰ علیہ السلام بے شک فوت نہیں ہوئے۔
    ’’وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘
    اور تحقیق وہ ضرور تمہاری طرف قیامت سے پہلے پہلے واپس آئیں گے۔ مفصل بحث اس حدیث کی حدیث کی بحث میں دیکھیں۔
    ۴… ہم بحوالہ درمنثور مصنفہ امام جلال الدین سیوطیؒ امام ابن جریر کی روایت سے ایک حدیث درج کر آئے ہیں۔ جس میں رسول کریمﷺ نصاریٰ کو فرماتے ہیں۔
    ’’الستم تعلمون ان ربنا حی لا یموت‘‘
    یعنی کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب زندہ ہے وہ نہیں مرے گا۔
    ’’وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء‘‘
    اور تحقیق عیسیٰ علیہ السلام ضرور فوت ہوں گے۔ نصاریٰ نے تصدیق کی اور کہا ’’بلیٰ‘‘ یعنی کیوں نہیں۔
    ۵… ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن‘‘ کی بحث میں امام موصوف فرماتے ہیں۔
    ’’اما الذی قال لیؤمنن بمحمد قبل موت الکتابی ممالا وجہ لہ لانہ اشد فسادا مماقیل لیؤمنن قبل موت الکتابی لانہ خلاف السیاق والحدیث فلا یقوم حجۃ بمحض الخیال فالمعنی لیؤمنن بعیسیٰ قبل موت عیسیٰ‘‘

    (ابن جریر ج۶ ص۲۳ ملخص)
    ’’اور جو کہتا کہ ’’لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘کے معنی ’’اہل الکتاب‘‘ اپنی موت سے پہلے محمدﷺ پر ایمان لے آتا ہے ۔ یہ بالکل بلادلیل ہے۔ کیونکہ ’’کتابی کی موت سے پہلے‘‘ معنی کرنے سے سخت فساد لازم آتا ہے۔ کیونکہ یہ معنی کلام اﷲ اور حدیث نبوی کے خلاف ہیں۔ پس محض خیالی باتوں سے دلیل قائم نہیں ہوا کرتی۔ معنی ’’لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ کے یہ ہیں کہ اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے پہلے ضرور ان کی رسالت کو قبول کر لیں گے۔‘‘
    ناظرین فرمائیے! اس سے بڑھ کر دلیل آپ کے سامنے اور کیا بیان کروں کہ قادیانیوں کی تصدیق درتصدیق ثم درتصدیق سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت دیتا جارہا ہوں۔ ’’فالحمد ﷲ رب العالمین‘‘
    ۶… امام ابن کثیرؒ مجدد صدی ششم کی تفسیر سے امام ابن جریر کا ایک قول نقل کر آئے ہیں۔ جس میں دونوں امام پر زور الفاظ اور دلائل سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت دے رہے ہیں۔ قابل دید ہے۔
    ۷… امام ابن جریر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:
    ’’واولی ہذا الا قوال بالصحۃ عندنا قول من قال معنی ذالک انی قابضک من الارض ورافعک الیّ لتواتر الاخبار عن رسول اﷲﷺ‘‘

    (تفسیر طبری ج۳ ص۲۹۱)
    ’’(انی متوفیک الخ کے متعلق) اقوال مفسرین میں سے ہمارے نزدیک یہ سب سے اچھا ہے کہ اس (متوفیک) کے معنی یہ ہیں۔‘‘ میں (اے عیسیٰ علیہ السلام) تجھے زمین سے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والاہوں۔ کیونکہ اس بارہ میں رسول کریمﷺ کی احادیث تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر دجال کو قتل کریں گے۔ ۴۰،۴۵سال تک دنیا میں رہ کر فوت ہوں گے۔
    ۸… امام ابن جریر اپنی تفسیر میں ’’انی متوفیک‘‘ کی بحث میں حضرت ابن جریج رومیؒ کا قول اپنی تصدیق میں اس طرح پیش کرتے ہیں۔
    ’’عن ابن جریج قولہ انی متوفیک ورافعک الیّٰ ومطہرک من الذین کفروا قال فرفعہ ایاہ الیہ توفیہ ایاہ وتطہیرہ من الذین کفروا‘‘

    (تفسیر طبری ج۳ ص۲۹۰)
    ’’حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی سے مراد ان کا رفع جسمانی اور کفار سے علیحدگی ہے۔‘‘
    ۹… پھر امام موصوف اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں اور حضرت ابن عباسؓ کا عقیدہ حیات مسیح دلائل سے ثابت کرتے ہوئے ایک روایت درج کرتے ہیں۔ وہ روایت ذیل میں درج ہے۔
    ’’عن سعید ابن جبیر عن ابن عباسؓ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ قال قبل موت عیسیٰ‘‘

    (تفسیر طبری ج۶ ص۱۸)
    ’’حضرت سعید ابن جبیر تابعی حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا آپ نے ’’وان من اہل الکتاب‘‘ کے معنی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔‘‘
    ۱۰… حضرت امام ابن جریرؒ نے حضرت کعبؓ سے یہ روایت نقل کی ہے۔
    ’’عن کعب قال لما رای عیسیٰ قلۃ من اتبعہ وکثرۃ من کذبہ شکیٰ الیٰ اﷲ فاوحی اﷲ الیہ انی متوفیک رافعک الیّ وانی سابعثک علی الاعور الدجال فتقتلہ‘‘

    (رواہ ابن جریر تفسیر طبری ج۳ ص۲۹۰)
    ’’حضرت کعبؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی امت کی قلت اور منکرین کی کثرت کو دیکھا تو اﷲتعالیٰ کے دربار میں شکایت کی۔ اﷲتعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور یقینا تجھے دجال کانے کے خلاف بھیجوں گا اور تو اسے قتل کرے گا۔‘‘ تلک عشرۃ کاملۃ!
    حضرات! ہم بخوف طوالت امام موصوف کی صرف دس روایات پر ہی اکتفار کرتے ہیں۔ ورنہ آپ کی تفسیر میں بے شمار اقوال حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں درج ہیں۔

اس صفحے کی تشہیر