1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (امام ابن قیمؒ کا عقیدہ)

محمدابوبکرصدیق نے 'تحریک ختم نبوت میں علماء و مشائخ کا کردار' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 1, 2015

  1. ‏ جولائی 1, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (امام ابن قیمؒ کا عقیدہ)

    عظمت شان
    ۱… امام ابن قیم ساتویں صدی کے مجدد تھے۔

    (قادیانی کتاب عسل مصفی ج۱ ص۱۲۴)
    ۲… قول مرزا: ’’فاضل ومحدث ومفسر ابن قیم جو اپنے وقت کے امام تھے۔‘‘
    (کتاب البریہ حاشیہ ص۲۰۳، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱)
    ناظرین! امام ابن قیمؒ امام ابن تیمیہؓ کے شاگرد تھے۔ استاد کا عقیدہ آپ نے ملاحظہ فرمالیا۔ قدرتی بات ہے کہ امام ابن قیم اس قدر ضروری عقیدہ میں یقینا اپنے استاد کے مخالف نہیں ہوسکتے۔ مگر ہم ذیل میں ان کی اپنی تصنیفات سے چند حوالے درج کرتے ہیں تاکہ قادیانی جماعت کی صداقت کی حقیقت معلوم ہوسکے۔
    ۱… ’’وہذا المسیح ابن مریم حی لم یمت وغذأہ من جنس غذاء الملئکۃ‘‘
    مسیح ابن مریم علیہ السلام زندہ ہیں فوت نہیں ہوئے اور ان کی غذا وہی ہے جو فرشتوں کی ہے۔

    (کتاب التبیان مصنفہ ابن قیمؒ)
    ۲… ’’ومسیح المسلمین الذی ینتظرو نہ ہو عبداﷲ ورسولہ وروحہ وکلمتہ القاہا الی مریم العذراء البتول عیسیٰ ابن مریم اخو عبداﷲ ورسولہ محمد بن عبداﷲ فیظہر دین اﷲ وتوحیدہ ویقتل اعداء الدین اتخذوہ وامہ الٰہین من دون اﷲ واعداء لا الیہود الذین رموہ وامہ بالعظائم فہذا ہو الذی ینتظرہ المسلمون وہو نازل علی المنارۃ الشرقیہ بدمشق واضعاً یدیہ علی منکبی ملکین یراہ الناس عیاناً بابصارہم نازلاً من السماء فیحکم بکتاب اﷲ وسنۃ رسولہ‘‘
    (ہدایہ الجباری مصنفہ امام ابن قیمؒ)
    ’’وہ مسیح جس کی انتظار مسلمان کر رہے ہیں۔ وہ عبداﷲ ہے۔ اﷲ کا رسول ہے۔ روح الٰہی ہے اور اس کا وہ کلمہ ہے جو اس نے حضرت مریم علیہ السلام بتول کی طرف نازل کیا۔ یعنی عیسیٰ ابن مریم اﷲ کے بندے اور اس کے رسول محمدﷺ ابن عبداﷲ کا بھائی ہے۔ وہ اﷲتعالیٰ کے دین اور اس کی توحید کو غالب بنائے گا اور اپنے ان دشمنوں کو قتل کرے گا۔ جنہوں نے اﷲ کو چھوڑ کر خود اس کو اور اس کی ماں کو معبود بنالیا اور اپنے ان یہودی دشمنوں کو قتل کرے گا۔ جنہوں نے اس پر اور اس کی ماں پر اتہام باندھے بس یہی وہ مسیح ہے۔ جس کی انتظار مسلمان کر رہے ہیں اور دمشق میں شرقی منارہ پر اس حالت میں نازل ہونے والے ہیں کہ اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوں گے۔ لوگ آپ کو اپنی آنکھوں سے آسمان سے اترتے ہوئے دیکھیں گے۔ آپ اﷲ کی کتاب (قرآن شریف) اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق حکم چلائیں گے۔‘‘
    ۳… ’’ومحمدﷺ مبعوث الی جمیع الثقلین فرسالتہ عامۃ لجمیع الجن والانس فی کل زمان ولو کان موسیٰ وعیسیٰ حیین لکانا من اتباعہ واذا نزل عیسیٰ ابن مریم فانما یحکم بشریعۃ محمدﷺ‘‘

    (مدارج السالکین ج۲ ص۲۴۳،۳۱۳)
    ’’آنحضرتﷺ کی نبوت تمام جنوں اور انسانوں کے لئے اور ہر زمانے کے لئے ہے۔ بالفرض اگر موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام (آج زمین پر) زندہ ہوں تو ضرور آنحضرتﷺ کا اتباع کریں اور جب عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ شریعت محمدیﷺ پر ہی عمل کریں گے۔ اس کے آگے فرماتے ہیں۔‘‘
    ’’فمن ادعی انہ مع محمد کالخضر مع موسیٰ اوجوز ذالک لاحد من الامۃ فلیجد اسلامہ ویشہد انہ مفارق لدین الاسلام بالکلیۃ فضلاً ان یکون من خاصۃ اولیاء اﷲ وانما ہو من اولیاء الشیطان‘‘
    تو جو کوئی اس بات کا دعویٰ کرے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام حضرت محمدﷺ کے ساتھ اس طرح ہوں گے جس طرح کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خضر یا اگر کوئی شخص امت محمدی میں سے کسی شخص کے لئے ایسا تعلق جائز قرار دے (نوٹ: مرزائی مرزاقادیانی کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ ابوعبیدہ) تو ضرور ہے کہ ایسا شخص اپنے اسلام کی تجدید کرے اور اسے اپنے ہی خلاف اس امر کی شہادت دینی پڑے گی۔
    (مرزائی جماعت مجدد وقت امام ابن قیم کی تنبیہ کا خیال کرے) کہ وہ دین اسلام سے باالکلیہ علیحدہ ہونے والا ہے۔ چہ جائیکہ وہ خاص اولیاء اﷲ میں سے ہو سکے۔ نہیں بلکہ ایسا شخص شیطانی ولی ہے۔
    ناظرین! غور کریں کہ کس طرح امام ابن قیم آج سے چھ سات سو سال پہلے مرزاغلام احمد قادیانی کا ناطقہ بندکر رہے ہیں۔ کیسے صاف الفاظ میں اعلان فرمارہے ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ امت محمد میں سے کوئی شخص ترقی کر کے مسیح ابن مریم والی پیش گوئی کا مصداق ہوسکتا ہے تو ایسا خیال کرنے والا بھی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ چہ جائیکہ خود مدعی کا اسلام قبول کیا جاسکے۔
    قادیانی اعتراض اور اس کی حقیقت
    مدارج السالکین میں ابن قیم نے لکھا ہے:
    ’’لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین لکانا من اتباعہ‘‘
    یعنی اگر موسیٰ وعیسیٰ زندہ ہوتے تو ضرور آنحضرتﷺ کے متبعین میں سے ہوتے۔
    الجواب
    ۱… ہم نے ترجمہ کرتے وقت ’’آج زمین پر‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کر دیا ہے اور یہ ہم نے اپنے پاس سے نہیں کیا بلکہ صحیح مراد ہے امام کی۔ صرف کند ذہن آدمی کے لئے اس کی ضرورت ہے۔ ورنہ خود کلام امام سے یہ بات ظاہر وباہر ہے۔ اگر اس کے معنی مطلق زندہ کے لئے جائیں تو پھر آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موت بھی قادیانیوں کو ماننی پڑے گی۔ حالانکہ مرزاقادیانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے قائل ہیں۔ پس یقینا مراد اس حی سے ارضی حیات ہے۔
    ۲… اتباع شریعت محمدی کے مکلف صرف اہل زمین ہیں۔ ’’اہل سمٰوات‘‘ اس کے مکلف نہیں۔ ورنہ اتباع شریعت محمدی کی شرط ’’نزول من السماء‘‘ کے ساتھ وابستہ نہ ہوتی۔ پس چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہونے کے سبب اتباع شریعت محمدیﷺ سے دیگر اہل سموات کی طرح مستثنیٰ ہیں۔ اس واسطے یقینا یہاں حی سے مراد ارضی حیات ہی ہوسکتے ہیں۔ کیا فرماتے ہیں۔ قادیانی حضرات اس بارہ میں اگر عیسیٰ علیہ السلام ان کے عقیدہ میں بھی زندہ بجسدہ العنصری موجود ہوتے تو کیا پھر وہ ضرور آنحضرتﷺ کی شریعت کا اتباع کرتے۔ کیا اب وہ رسول کریمﷺ کی اطاعت سے اس لئے مستثنیٰ ہیں کہ ان کا جسم عنصری نہیں بلکہ نورانی ہے۔ کیا اطاعت کے لئے صرف جسم عنصری ہی کو حکم ہے۔ نورانی جسم والے انسان آنحضرتﷺ کا حکم ماننے پر مجبور و مکلف نہیں ہیں۔ نہیں ایسا نہیں بلکہ صرف اہل زمین ہی پر اتباع نبویﷺ واجب ہے۔ حج، زکوٰۃ، نماز، روزہ صرف اہل زمین ہی کے لئے فرض ہوتے ہیں۔ پس اتباع محمدی کے لئے زمینی زندگی کی ضرورت ہے۔ اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام دونوں محروم ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو بوجہ وفات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بوجہ رفع جسمانی الیٰ السماء لہٰذا حیین کے معنی یقینا زمینی زندگی لینے پڑیں گے۔ ورنہ امام کی کلام بالکل بے معنی ٹھہرے گی۔ جیسا کہ ناظرین پر ظاہر کیاجاچکا ہے۔ کیونکہ امام ابن قیم نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کو اتباع محمدی کا مکلف نزول کے بعد ٹھہرایا ہے۔
    ۳… چونکہ امام نے اتباع کو حیی کے ساتھ مشروط ٹھہرایا ہے اور پھر خود ہی فرماتے ہیں کہ نازل ہوکر اتباع محمدی کریں گے تو ماننا پڑے گا کہ نزول سے پہلے وہ مردہ تھے۔ نزول کے وقت وہ زندہ ہو جائیں گے۔ ہم تو اس کو بھی قدرت باری کا ایک ادنیٰ کرشمہ سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ بات قادیانی خود قبول نہیں کریں گے۔ دوسرے خود امام کی اپنی مراد کے خلاف ہے۔ کیونکہ خود اسی عبارت میں اور دیگر جگہوں میں وہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ فرض قرار دے رہے ہیں۔ جیسا کہ ہم نقل کر چکے ہیں۔ پس کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ہم امام کی کلام کا مفہوم خود ان کے اپنے بیان کردہ عقیدہ کے خلاف لے لیں۔
    ۴… اگر مرزائی حضرات حیی کے معنی زندہ لینے میں اس بات پر اصرار کریں گے کہ اس سے مراد ہر جگہ کی زندگی ہے تو اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تمام انبیاء علیہم السلام کا آسمان پر مردہ ہونا ماننا پڑے گا۔ کیونکہ جس دلیل سے مرزائی حضرات عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا انکار کریں گے۔ اسی سے دیگر حضرات کی آسمانی زندگی کا انکار لازم آئے گا۔
    ۵… مرزاقادیانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
    ’’معراج کی رات میں آنحضرتﷺ نے تمام نبیوں کو برابر زندہ پایا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھا۔‘‘

    (آئینہ کمالات اسلام (قیامت کی نشانی) ص۶۱۱، خزائن ج۵ ص۶۱۱)
    کیا ہم قادیانی طرز استدلال کو اختیار کر کے تمام انبیاء علیہم السلام کے حیی (زندہ) ہونے پر اس عبارت کو بطور دلیل پیش نہیں کر سکتے۔ جب اس عبارت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہوچکی تو اب امام ابن قیمؒ کے قول کو پڑھئے: ’’لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین‘‘ اگر موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے۔ ’’لکانا من اتباعہ‘‘ تو وہ ضرور آپ کے تابعداروں میں سے ہوتے۔ پس ہم کہتے ہیں کہ چونکہ امام موصوف نے اتباع شرح محمدی کی جو شرط حضرت موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام کے لئے لگائی ہے۔ وہ ان میں بدرجہ اتم پائی گئی ہے۔ لہٰذا وہ ضرور آسمان پر حضرت رسول کریمﷺ کا ممکن اتباع کر رہے ہیں۔
    ۶… مرزاقادیانی نے جو قول نقل کیا ہے۔ اس کے معنی تو زیادہ سے زیادہ یہی ہیں کہ:
    ’’اگر موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام دونوں زندہ ہوتے تو آج رسول کریمﷺ کا اتباع کرتے۔‘‘
    اس سے مرزائی صاحبان نتیجہ نکالتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں۔ حالانکہ یہ نتیجہ ضرور نہیں ہے بلکہ اس میں رسول کریمﷺ کے اتباع کو حضرت موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام کے لئے واجب قرار دیا جارہا ہے۔ ہاں اس وجوب کو ان دونوں کی حیات کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے۔ چونکہ قادیانیوں کے نزدیک حضرت موسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور ہمارے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ پس اگر اس قول سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا ثبوت ملتا ہے تو یقینا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موت بھی ماننی پڑے گی اور اس کے بعد مرزاقادیانی ان کی حیات کو اپنا ضروری عقیدہ قرار نہیں دے سکتے۔ جیسا کہ لکھتے ہیں: ’’یہ وہی مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہوگیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ آسمان میں زندہ موجود ہے۔ ’’ولم یمت ولیس من المیتین‘‘ وہ مردوں میں سے نہیں۔‘‘

    (نور الحق حصہ اوّل ص۵۰، خزائن ج۸ ص۶۹)
    جو جواب قادیانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موت کے خلاف دیں گے وہی ہماری طرف سے سمجھ لیں۔

اس صفحے کی تشہیر