1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (امام حافظ ابن کثیرؒ کا عقیدہ)

محمدابوبکرصدیق نے 'توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسی علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 30, 2015

  1. ‏ جون 30, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (امام حافظ ابن کثیرؒ کا عقیدہ)

    عظمت شان:
    ۱…قادیانی جماعت کے نزدیک حافظ موصوف بھی چھٹی صدی میں اصلاح خلق کے لئے مجدد وامام الزمان کی حیثیت سے مبعوث ہوئے تھے۔
    (عسل مصفی ج۱ ص۱۶۴)
    ۲… حافظ ابن کثیر ان اکابر ومحققین میں سے ہیں۔ جن کی آنکھوں کو خداتعالیٰ نے نور معرفت عطا کیا تھا۔
    (آئینہ کمالات اسلام طبع لاہور ص۱۵۸)
    ۱… ہم نے تفسیر ابن کثیر ج۳ کی عبارت نقل کی ہے۔ جو حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں فیصلہ کن ہے۔
    ۲… ہم نے ایک عبارت امام موصوف کی تفسیر سے نقل کی ہے۔ جس میں دلائل سے حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کرنے کے بعد آپ نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر صحابہ کرامؓ اور باقی امت کا اجماع ثابت کیا ہے۔ ذرا اس مضمون کو دوبارہ مطالعہ کر کے مجدد صدی ششم کے دلائل حیات عیسیٰ علیہ السلام کا لطف اٹھائیے۔
    ۳… ہم نے ایک اور عبارت حافظ ابن کثیر کی نقل کی ہے۔ جس میں آپ آیت کریمہ ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے حیات عیسیٰ علیہ السلام ورفع جسمانی کا بڑے زور دار الفاظ میں اعلان کر رہے ہیں۔
    ۴… ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ کا امام موصوف کا اعلان قابل دید ہے۔
    ۵… امام ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں ایک صحیح حدیث روایت کی ہے۔ جس سے بڑھ کر کوئی دلیل زیادہ وزنی متصور نہیں۔ حدیث یہ ہے۔
    ’’عن الحسن البصری قال قال رسول اﷲﷺ للیہود ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘
    (ابن کثیر ج۱ ص۳۶۶)
    امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا یہود کو کہ تحقیق عیسیٰ علیہ السلام ہرگز نہیں مرے اور یقینا وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف واپس آئیں گے۔
    نوٹ: اس حدیث کی مفصل بحث پہلے گزر چکی ملاحظہ کریں۔
    ۶… اس قسم کی ایک اور حدیث جو حیات عیسیٰ علیہ السلام کا اعلان کر رہی ہے اور جس کو امام ابن کثیرؒ نے روایت کیا ہے احادیث کی بحث میں ملاحظہ کریں۔
    ۷… امام ابن کثیر مجدد صدی ششم قادیانیوں کے محدث ومفسر اعظم ابن جریر
    (آئینہ کمالات اسلام طبع لاہور ص۱۵۸، چشمہ معرفت ص۲۵۰، خزائن ج۲۳ ص۲۶۱ حاشیہ) کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ’’ثم قال ابن جریر واولیٰ ہذہ الاقوال بالصحۃ القول الاول وھو انہ لا یبقیٰ احد من اہل الکتاب بعد نزول عیسیٰ علیہ السلام الا اٰمن بہ قبل موتہ ای قبل موت عیسیٰ علیہ السلام ولاشک ان ہذا الذی قالہ ابن جریر ہو الصحیح لانہ المقصود من سیاق الایۃ فی تقریر بطلان ماادعت الیہود من قتل عیسیٰ اوصلبہ وتسلیم من سلم الیہم من النصاری الجہلۃ ذالک فاخبر اﷲ انہ لم یکن الامر کذالک وانما شبہ لہم فقتلوا الشبہ وہم لا یتبینون ذالک ثم انہ رفعہ الیہ وانہ باق حی وانہ سینزل قبل یوم القیامۃ کمادلت علیہ الاحادیث المتواترہ التی سنوردھا ان شاء اﷲ قریباً فیقتل مسیح الضلالۃ… ولہذا قال وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای قبل موت عیسیٰ الذی زعم الیہود ومن وافقہم من النصاریٰ انہ قتل وصلب ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا ای باعمالہم التی شاہدہا منہم قبل رفعہ الی السماء وبعد نزولہ الیٰ الارض‘‘
    (تفسیر ابن کثیر ج۱ ص۵۷۷)
    ’’ابن جریر کہتا ہے کہ صحت کے لحاظ سے ان سب اقوال سے اوّل درجہ یہ قول ہے کہ اہل کتاب میں سے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد کوئی ایسا نہیں ہوگا۔ جو کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لے آئے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ابن جریر کا یہ قول بالکل صحیح ہے… تحقیق ان کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ بنادی گئی اور انہوں نے اس شبیہ کو قتل کیا… پھر اﷲتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا اور بیشک وہ ابھی تک زندہ ہے اور قیامت سے پہلے نازل ہوگا۔ جیسا کہ احادیث متواترہ اس پر دلالت کرتی ہیں… اور قیامت کے دن وہ شہادت دیں گے۔ ان کے ان اعمال کی جن کو عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان پر چڑھ جانے سے پہلے اور زمین پر اترنے کے بعد دیکھا۔‘‘

اس صفحے کی تشہیر