1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (امام مالکؒ کا عقیدہ )

محمدابوبکرصدیق نے 'توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسی علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 28, 2015

  1. ‏ جون 28, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (امام مالکؒ کا عقیدہ )

    ۱… ’’وفی العتبیۃ قال مالک بینما الناس قیام یستصفون لاقامۃ الصلوٰۃ فتغشاہم غمامۃ فاذا عیسیٰ قد نزل‘‘

    (مکمل اکمال الاکمال شرح مسلم ج۱ ص۴۴۶، باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام)
    ’’امام مالکؓ فرماتے ہیں کہ لوگ نماز کی اقامت کو سن رہے ہوں گے۔ بس ان پر ایک بادل سایہ کر لے گا اور اچانک عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو جائیں گے۔‘‘
    اس عبارت میں کس صفائی کے ساتھ حضرت امام مالکؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول جسمانی ثابت کر رہے ہیں۔ اگر مراد اس نزول سے بروزی نزول لی جائے تو معنی اس کے یہ ہوں گے کہ کوئی شخص مثیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا (موافق دعویٰ قادیانی) ماں کے پیٹ سے اس وقت نازل ہوں گے جب کہ لوگ نماز کے لئے تیاری کر رہے ہوں گے اور بادل نے سایہ کیا ہوگا۔ حضرات کیا مضحکہ خیز تاویل ہے۔ ایسی واہیات تاویلات سے خدا کی پناہ۔
    ۲… مشہور ہے کہ: ’’الولد سرلابیہ‘‘ یعنی اولاد باپ کے لئے بھید ہوتا ہے۔ نیز یہ ایک مسلم اصول ہے۔ ’’درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘
    امام مالکؓ کا عقیدہ یقینا وہی ہوگا جو علماء مالکیہ رحمہمااﷲ نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مرزابشیرالدین محمود اپنے باپ کا قائم مقام ہے۔ اسی طرح شاگرد اپنے استاد ہی سے نقل کرتا ہے۔ ہم یہاں علماء مالکیہ کے اقوال نقل کر کے امام مالکؓ کے عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں۔
    قول علامہ زرقانی مالکیؒ
    شرح مواہب قسطلانی میں بڑی بسط سے لکھتے ہیں:
    ’’فاذا نزل عیسیٰ علیہ السلام فانہ یحکم بشریعۃ نبیناﷺ بالہام اواطلاع علی الروح المحمدی اوبمشاء اﷲ من استنباط لہ من الکتاب والسنۃ… فہو علیہ السلام وان کان خلیفۃ فی الامۃ المحمدیۃ فہو رسول ونبی کریم علی حالہ لا کما یظن بعض الناس انہ یأتی واحد من ہذہ الامۃ بدون نبوۃ ورسالۃ انہما لا یزولان بالموت کما تقدم فکیف بمن ھو حی نعم ہو واحد من ہذہ الامۃ مع بقائہ علیٰ نبوۃ ورسالۃ‘‘

    (شرح مواہب اللدنیہ ج۵ ص۳۴۷)
    ’’جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ رسول کریمﷺ کی شریعت کے مطابق حکم دیں گے۔ الہام کی مدد سے یا روح محمدی کی وساطت سے یا اور جس طرح اﷲ چاہے گا مثلاً کتاب اور سنت سے اجتہاد کر کے… پس اگرچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امت محمدی کے خلیفہ ہوں گے۔ مگر وہ اپنی نبوت ورسالت پر بھی قائم رہیں گے اور اس طرح نہیں ہوگا۔ جیسا کہ بعضے کہتے ہیں کہ وہ نبوت اور رسالت سے الگ ہوکر محض ایک امتی کی حیثیت سے ہوں گے۔ کیونکہ نبوت ورسالت تو موت کے بعد نبی ورسول سے الگ نہیں ہوتیں۔ پس اس شخص (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سے کیسے الگ ہوسکتی ہیں۔ جو ابھی تک زندہ ہے۔ ہاں وہ امتی ہوگا۔ مگر اس کی نبوت ورسالت بھی اس کے ساتھ ہی رہے گی۔‘‘
    یہ عبارت امام مالک کے مذہب کو کس بلند اور صریح آواز سے بیان کر رہی ہے۔ بروز وروز کے پرخچے اڑا رہی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے حیی کا لفظ استعمال کر کے قادیانیوں کی زبان بندی کا اعلان کر رہی ہے۔ مزید حاشیہ کی ضرورت نہیں ہے اور عاقل کے لئے تو اشارہ بھی کافی ہوتا ہے۔ یہاں تو صریح اعلان ہے۔ حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام کا۔
    قادیانی دھوکہ اور اس کا علاج
    مرزاقادیانی لکھتے ہیں:
    ۱… ’’امام مالکؓ نے کھلے کھلے طور پر بیان کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔‘‘

    (ایام الصلح ص۱۳۶،۱۳۷، خزائن ج۱۴ ص۳۸۱)
    ۲… ’’امام ابن حزم اور امام مالکؓ بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا گویا امت کے تمام اکابر کا قائل ہونا ہے۔ کیونکہ اس زمانہ کے اکابر علماء سے مخالفت منقول نہیں اور اگر مخالفت کرتے تو البتہ کسی کتاب میں اس کا ذکر ہوتا۔‘‘
    (ایام الصلح ص۳۹، خزائن ج۱۴ ص۲۶۹)
    ۳… یہی مضمون مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (عربی مکتوب ص۱۳۲، کتاب البریہ ص۲۰۳، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱) میں لکھتا ہے۔
    اس کا جواب اور اس دھوکہ دہی کا تجزیہ درج ذیل ہے۔
    ۱… امام مالکؓ کا عقیدہ اوپر مذکور ہوا اور باقاعدہ ان کے مذہب کی کتابوں کے حوالوں سے ہوا۔ مرزاقادیانی کا یہ بیان بغیر حوالہ کے کس طرح منظور کر لیا جائے۔
    ۲… ہم مرزاقادیانی کی خاطر خود وہ حوالہ نقل کرتے ہیں۔ مرزاقادیانی نے حوالہ یقینا اس واسطے نقل نہیں کیا کہ شاید کوئی خدا کا بندہ کتاب کو حوالہ کے مطابق کھول کر پڑھے تو راز طشت ازبام ہوکر الٹا ذلت کا باعث نہ بنے۔ مگر ہم تو اسی راز کے طشت ازبام کرنے کے لئے میدان میں نکلے ہیں۔ یہ حوالہ مرزاقادیانی نے مجمع البحار سے نقل کیا ہے۔ وہاں امام محمد طاہر مجدد صدی دہم نے یہ قول نقل کیا ہے۔مگر مرزاقادیانی نے اپنی خود غرضی اور دجل وفریب سے اگلی عبارت نقل نہیں کی۔ امام موصوف فرماتے ہیں۔
    ’’قالت مالک مات لعلہ اراد رفعہ علی السماء… ویجییٔ آخر الزمان لتواتر خبر النزول‘‘

    (مجمع البحار ج۱ ص۵۳۴، بلفظ حکم مصنفہ امام محمدطاہر گجراتی مجدد صدی دہم)
    ’’یعنی مالکؓ کا قول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سو گئے۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پراٹھانے کا ارادہ کر لیا۔ (جاگتے ہوئے اوپر کی طرف پرواز کرنا اور کروڑہا میل کا پرواز کرنا طبعاً وحشت کا باعث ہوتا ہے)… اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔ کیونکہ ان کے نزول کی خبر احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔‘‘
    نوٹ: ’’مات‘‘ کے معنی ’’مرگئے‘‘ کرنا اور انہی معنوں میں حصر کرنا قادیانی کی کمال چالاکی ہے۔ اس کے معنی ’’نام‘‘ یعنی سوگیا بھی ہیں۔ چنانچہ خود مرزاقادیانی لکھتے ہیں۔
    ۱… ’’مات‘‘ کے معنی لغت میں نام کے بھی ہیں۔ دیکھو قاموس۔

    (ازالہ اوہام ص۶۴۰، خزائن ج۳ ص۴۴۵)
    ۲… ’’ہواء ہوس سے مرنا بھی ایک قسم کی موت ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۶۴۰، خزائن ج۳ ص۴۴۵)
    ۳… ’’اماتت کے حقیقی معنی صرف مارنا اور موت دینا نہیں بلکہ سلانا اور بیہوش کرنا بھی اس میں داخل ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۹۴۳، خزائن ج۳ ص۶۲۱)
    ۴… ’’لغت کی رو سے موت کے معنی نیند اور ہر قسم کی بے ہوشی بھی ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۹۴۲، خزائن ج۳ ص۶۲۰)
    ۵… ’’لغت میں موت بمعنی نوم اور غشی بھی آتا ہے۔ دیکھو قاموس‘‘
    (ازالہ اوہام ص۶۶۵، خزائن ج۳ ص۴۵۹)
    اندریں صورت مرزاقادیانی کا کیا حق ہے کہ جہاں کہیں موت یا مات یا امات کا لفظ آجائے تو اس کے معنوں کو صرف مارنا یا مرنا ہی میں حصر کر دے۔ پھر ممکن ہے کہ بعض نے اس نیند ہی کو موت کی حالت سمجھ کر عارضی موت کا اقرار کر لیا ہو۔ ہماری بحث تو صرف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسدہ النعصری آسمان پر موجود ہیں اور وہی عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آسمان سے نزول فرما کر امت محمدی میں رسول کریمﷺ کے خلیفہ کی حیثیت سے کام کریں گے اور اسی پر امت کا اجماع ہے۔

اس صفحے کی تشہیر