1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کا عقیدہ)

محمدابوبکرصدیق نے 'تحریک ختم نبوت میں علماء و مشائخ کا کردار' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 1, 2015

  1. ‏ جولائی 1, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کا عقیدہ)

    عظمت شان
    حافظ ابن حجر عسقلانیؒ آٹھویں صدی ہجری کے مجدد اعظم تھے۔ قادیانیوں نے ان کے مجدد ہونے پر اپنی کتاب (عسل مصفی ج۱ ص۱۶۴) پر مہر تصدیق ثبت کی۔
    حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں ابن حجر عسقلانیؒ کے اقوال

    ۱… ہم حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کے الفاظ میں بخاری شریف کی ایک حدیث کی شرح درج کر آئے ہیں۔ جس میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت ابن حجر عسقلانیؒ نے جرالامت حضرت ابن عباسؓ اور دیگر صحابہ کرام سے دے کر اہل سنت والجماعت کے عقیدہ پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
    ۲… ہم ایک اور حدیث درج کر آئے ہیں جو حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ضروری قرار دیتی ہے اور جس کی صحت پر ان حجر نے فتح الباری میں مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
    ۳… ’’واما رفع عیسیٰ علیہ السلام فاتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علی انہ رفع ببدنہ حیا وانما اختلفوا ہل مات قبل ان یرفع اونام فرفع‘‘
    (تلخیص الحبیر ج۳ ص۴۶۲، کتاب الطلاق)
    ’’عیسیٰ علیہ السلام کے اٹھائے جانے کے بارہ میں محدثین اور مفسرین امت کا اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ جسم عنصری کے ساتھ اٹھائے گئے تھے۔ اگر کسی نے اختلاف کیا ہے تو اس بارہ میں کہ وہ رفع جسمانی سے پہلے فوت ہوئے تھے یا سوگئے تھے۔‘‘
    ۴… ’’ان عیسیٰ ایضاً قد رفع وھو حیی علی الصحیح‘‘
    (فتح الباری ج۶ ص۲۶۷، باب ذکر ادریس علیہ السلام)
    ’’بے شک عیسیٰ علیہ السلام بھی حضرت ادریس علیہ السلام کی طرح اٹھائے گئے اور صحیح یہی ہے کہ وہ زندہ ہیں۔‘‘
    ۵… ’’کیف انتم اذ نزل ابن مریم وامامکم منکم۰ وعند مسلم فیقال لہم (ای للعیسیٰ) صل لنا فیقول لا ان بعضکم علیٰ بعض امراء تکرمۃ لہذہ الامۃ‘‘
    (فتح الباری ج۶ ص۳۵۸)
    نیز اسی صفحہ پر ہے کہ:
    ’’بان المہدی بہذہ لامۃ وان عیسیٰ یصلی خلفہ‘‘
    (فتح الباری ج۶ ص۳۵۸)
    حدیث بخاری شریف ’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم وامامکم منکم‘‘ کی اسلامی تشریح پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہیں گے کہ ہمیں نماز پڑھائیے اور وہ عذر کریں گے… مسیح علیہ السلام مہدی کے پیچھے اقتداء کریں گے۔
    ۶… ’’ینزل عیسیٰ ابن مریم مصدقاً بمحمدﷺ علی ملتہ‘‘
    (فتح الباری ج۶ ص۳۵۶)
    ’’عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نازل ہوں گے درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والے ہوں گے۔ رسول کریمﷺ کی اور آنحضرتﷺ کی ملت پر ہوں گے۔‘‘

اس صفحے کی تشہیر