1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت ( حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلویؒ کا عقیدہ)

محمدابوبکرصدیق نے 'تحریک ختم نبوت میں علماء و مشائخ کا کردار' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 2, 2015

  1. ‏ جولائی 2, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت ( حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلویؒ کا عقیدہ)

    عظمت شان
    ۱… از مرزاقادیانی: ’’رئیس المحدثین تھے۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۱۵۳)
    ۲… از مرزاقادیانی: ’’شاہ ولی اﷲ رئیس المحدثین تھے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۱۵۵، خزائن ج۳ ص۱۷۹)
    ۳… از مرزاقادیانی: ’’شاہ ولی اﷲ کامل ولی صاحب خوارق وکرامات بزرگ تھے۔‘‘
    (کتاب البریہ ص۷۴، خزائن ج۱۳ ص۷۲)
    ۴… ازمولوی نورالدین قادیانی خلیفہ اوّل: ’’میرے پیارے ولی اﷲ محدث دہلویؒ۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص، خزائن ج۳ ص۶۲۷)
    ۵… ’’حضرت احمد شاہ ولی اﷲ محدث دہلویؒ بارھویں صدی میں مجدد وامام الزمان گزرے ہیں۔‘‘
    (عسل مصفی ج۱ ص۱۶۵)
    اب ہم قادیانیوں کے نزدیک رئیس المحدثین، کامل ولی، صاحب خوارق وکرامات بزرگ اور قادیانیوں کے پیارے ولی اﷲ محدث دہلویؒ کے اقوال دربارہ حیات عیسیٰ علیہ السلام پیش کرتے ہیں۔
    ۱… ’’ونیز از ضلالت ایشان یکے آنست کہ جزم مے کنند کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقتول شدہ است، وفی الواقع درحق عیسیٰ علیہ السلام اشتبا ہے واقع شدہ بود رفع بر آسمان را قتل گمان کردند۔‘‘

    (فوز الکبیر ص۱۰، مصنفہ شاہ ولی اﷲ صاحب)
    ’’ان کی گمراہی ایک یہ تھی کہ انہوں نے یقین کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام قتل کئے گئے ہیں۔ حالانکہ فی الواقع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں انہیں اشتباہ واقع ہوا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے جانے کو انہوں نے قتل خیال کر لیا۔‘‘
    نوٹ: دیکھئے یہاں شاہ صاحب قتل کے مقابلہ پر رفع آسمانی کا استعمال کر کے اعلان کر رہے ہیں کہ جیسا قتل کا فعل یہود اور نصاریٰ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم عنصری پر ہوا تھا۔ فی الواقع اسی جسم عنصری پر رفع کا فعل وارد ہوا۔ ورنہ دونوں میں ضد کیسے ہوسکتی ہے؟ ابوعبیدہ!
    ۲… تین ہزار سے زائد صحابہ کا اجماع حیات عیسیٰ علیہ السلام پر ہم ایک صحیح حدیث سے بیان کر آئے ہیں۔ اس حدیث کو رئیس المحدثین شاہ ولی اﷲ صاحب نے صحیح تسلیم کیا ہے۔

    (ازالۃ الخفاء باب ذکر حضرت عمرؓ)
    ۳… ہم حضرت شاہ ولی اﷲ صاحبؒ کی کتاب ’’تاویل الاحادیث‘‘ سے نقل کر آئے ہیں۔ اس کا ملاحظہ کیا جائے۔ وہ عبارت اس مبحث میں فیصلہ کن ہے۔
    ۴… ہم شاہ صاحب کی ایک عبارت درج کر آئے ہیں۔
    جو انہوں نے ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ کی تفسیر میں فرمائی ہے۔ وہ بھی قابل دید ہے۔ ناظرین کے استفادہ کے لئے دوبارہ درج کرتے ہیں۔
    ’’ونباشد ہیچ کس از اہل کتاب البتہ ایمان آورد بہ عیسیٰ علیہ السلام پیش از مردن عیسیٰ علیہ السلام وروز قیامت باشد عیسیٰ علیہ السلام گواہ برایشان۔‘‘

    (فتح الرحمن مصنفہ شاہ صاحب)
    ۵… شاہ صاحب قدس سرہ کا مرتبہ آپ ملاحظہ کر ہی چکے ہیں۔ آپ صریح الفاظ میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا اعلان فرمارہے ہیں۔ فرماتے ہیں تمام اہل کتاب (یہودی ونصاریٰ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے پہلے ایمان لے آئیں گے۔ پس جب تک ایک یہودی یا عیسائی بھی دنیا میں اپنے مذہب پر قائم رہے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت نہیں آئے گی۔ کیونکہ اس سے پہلے موت عیسیٰ علیہ السلام کا واقع ہونا باری تعالیٰ کے وعدہ کی خلاف ورزی ہے۔
    ۶… قادیانی جماعت کے مسلم مجدد ورئیس المحدثین ’’انی متوفیک ورافعک الیّ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
    ’’من برگرندہ توام یعنی ازیں جہاں وبردارندۂ توام بسوئے خود وپاک سازندہ توام از صحبت کسانیکہ کافر شدند۔‘‘

    (تفسیر فتح الرحمن مؤلفہ شاہ صاحب قدس سرہ العزیز)
    ’’(اے عیسیٰ علیہ السلام) میں تجھے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے ان کافروں کی صحبت سے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘
    ۷… حضرت شاہ صاحب اپنی تفسیر فتح الرحمن میں زیر آیت ’’وما قتلوہ وما صلبوہ‘‘ فرماتے ہیں۔
    ’’ونہ کشتہ اند اورا وبردار نہ کردہ انداورا… وبیقین نکشتہ اند اورا بلکہ برداشت اورا خدا تعالیٰ بسوئے خود۔‘‘
    ’’یہودیوں نے نہ تو قتل کیا عیسیٰ علیہ السلام کو اور نہ سولی پر ہی چڑھایا ان کو… یقینی بات ہے کہ نہیں قتل کر سکے یہود ان کو بلکہ اٹھا لیا ان کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی طرف۔‘‘
    حاشیہ پر شاہ صاحب قدس سرہ فرماتے ہیں: ’’مترجم گوید یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ علیہ السلام البتہ ایمان آرند۔‘‘
    ’’میں (حضرت شاہ صاحب) کہتا ہوں۔ اہل کتاب سے مراد وہ یہودی ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں ہوں گے۔‘‘
    ۸… حضرت رئیس المحدثین آیت’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کے متعلق فرماتے ہیں:
    ’’وہر آئینہ عیسیٰ علیہ السلام نشان ہست قیامت را۔‘‘
    ’’بے شک عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے۔‘‘

اس صفحے کی تشہیر