1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ العزیز کا عقیدہ)

محمدابوبکرصدیق نے 'تحریک ختم نبوت میں علماء و مشائخ کا کردار' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 1, 2015

  1. ‏ جولائی 1, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ حیات عیسیؑ اور مجددین امت (حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ العزیز کا عقیدہ)

    عظمت شان
    مرزاقادیانی نے شیخ ابن عربی کی اپنی عبارت کا ترجمہ ازالہ اوہام میں درج کیا ہے۔
    ۱… ’’جب اہل ولایت کو کسی واقعہ میں حدیث کی حاجت پڑتی ہے تو وہ آنحضرتﷺ کی زیارت سے مشرف ہوجاتا ہے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتے ہیں اور آنحضرت جبرائیل علیہ السلام سے وہ مسئلہ جس کی دل کو حاجت ہوتی ہے۔ پوچھ کر اس ولی کو بتادیتے ہیں۔ یعنی ظلی طور پر وہ مسئلہ نزول جبرائیلی علیہ السلام منکشف ہو جاتا ہے۔ پھر شیخ ابن عربی نے فرمایا ہے کہ ہم اس طریق سے آنحضرتﷺ سے احادیث کی تصحیح کرالیتے ہیں۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۱۵۱،۱۵۲، خزائن ج۳ ص۱۷۷)
    ۲… ’’شیخ ابن عربی صاحب فتوحات مکیہ بڑے محقق اور فاضل ہونے کے علاوہ اہل زبان بھی تھے۔‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام ص۱۶۷، خزائن ج۵ ص ایضاً)
    اس مرتبہ والے شیخ قدس سرہ کے اقوال ہم ناظرین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
    ۱… ’’فاستفتح جبرائیل السماء الثانیۃ کما فعل فی الاولیٰ فلما دخل اذا بعیسیٰ علیہ السلام بجسدہ عینہ فانہ لم یمت الی الاٰن بل رفعہ اﷲ الی ہذہ السماء واسکنہ بہا‘‘

    (فتوحات مکیہ ج۳ ص۳۴۱، باب ۳۶۷)
    ’’پس کھولا جبرائیل علیہ السلام نے دوسرا آسمان جس طرح کھولا تھا پہلا۔ پس جب رسول کریمﷺ (دوسرے آسمان میں) داخل ہوئے تو اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کو پایا کہ اپنے جسم عنصری کے ساتھ موجود تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ اﷲتعالیٰ نے ان کو اس آسمان پر اٹھا لیا اور ان کو وہیں رکھا ہوا ہے۔‘‘
    ۲… ’’انہ لا خلاف انہ ینزل فی آخر الزمان‘‘

    (فتوحات مکیہ ج۲ ص۳، باب ۷۳)
    ’’اس بارہ میں کسی کا اختلاف نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں نازل ہوں گے۔‘‘
    نوٹ: اس عبارت سے پہلے شیخ قدس سرہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ہی کا ذکر کر رہے ہیں۔ ابوعبیدہ!
    ۳… ’’ثم ان عیسیٰ اذا نزل الی الارض فی آخر الزمان‘‘

    (فتوحات مکیہ ج۳ ص۵۱۴، باب ۳۸۲)
    پھر آخری زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نزول فرمائیں گے۔
    ۴… ’’لابد ان ینزل فی ہذہ الامۃ فی آخرالزمان ویحکم بسنۃ محمدﷺ مثل ما حکم الخلافا المہدییون الراشدون فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویدخل بدخولہ من اہل الکتاب فی الاسلام خلقا کثیر‘‘

    (فتوحات مکیہ ج۲ ص۱۲۵، باب ۷۳، سوال۱۴۵)
    ’’پکی بات ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں امت محمدیہ ﷺ میں نازل ہوں گے۔ حضورﷺ کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے۔ جیسے ہدایت یافتہ راشدین خلفاء کرتے رہے۔ عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑنے خنزیر کو قتل کرنے کا حکم فرمائیں گے اور اہل کتاب کی خلق کثیر اسلام میں داخل ہوجائے گی۔‘‘
    ۵… ناظرین! کتاب ہذا کے گذشتہ صفحات کا دوبارہ مطالعہ کریں اور شیخ قدس سرہ کی روایت کردہ صحیح حدیث سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر صحابہ کرامؓ کے اجماع کا فیصلہ کن ثبوت ملاحظہ کریں۔

    پہلی حدیث
    دوسری حدیث

اس صفحے کی تشہیر