1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

عقیدہ ختم نبوت اور جھوٹے مدعیان نبوت کا انجام

مبشر شاہ نے 'جھوٹے مدعیانِ نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 14, 2014

  1. ‏ نومبر 14, 2014 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    عقیدہ ختم نبوت اور جھوٹے مدعیان نبوت کا انجام




    اﷲ تعالیٰ کے یہاں دین حق اسلام ہی ہے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ۔ان الدین عند اللّٰہ الاسلام۔(پارہ 3سورۃ آل عمران)اور اس دین کے علاوہ اس کے یہاں کوئی دین قبول نہیں چنانچہ فرمایا ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ ج وھو فی الآخرۃ من الخٰسرین ۔(پارہ3آل عمران) نیز مومن وہی ہے جو اس دین اسلام پر سچے دل سے ایمان لائے اور اس کی تصدیق کرے جیسا کہ ارشاد ہوا ۔ ’’ایمان والے تو وہی ہیں جو اﷲ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے پھر شک نہ کیا اور اپنی جان اور مال سے اﷲ کی راہ میں جہاد کیا وہی سچے ہیں۔‘‘(پارہ 26سورۃ الحجرات)

    ایمان اسے کہتے ہیں کہ سچے دل سے ان سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریات دین سے ہیں اور کسی ایک ضرورت دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں اگر چہ باقی تمام ضرورریات کی تصدیق کرتا ہو ۔ ضروریات دین وہ مسائل دینیہ ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتا ہے جیسے اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت ،انبیاء کرام کی نبوت ، جنت ودوزخ ،حشر و نشر وغیرہا مثلاً یہ اعتقاد کہ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ آخری نبی ہیں ۔حضور اکرم ﷺ کے زمانے میں یا آپ ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا ۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنی سچی اور آخری کتاب میں ارشاد فرمایا ہے ’’(اے لوگو) حضرت محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہاں وہ اﷲ تعالیٰ کے رسول اور سب نبیوں میں پچھلے (سب سے آخری نبی)ہیں اور اﷲ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے ۔‘‘(پارہ 22سورۃ الاحزاب)اور دوسرے مقام پر ارشاد ہوا ۔ ’’اور جو ایمان لائے ہیں اس پر ( اے حبیب ﷺ) جو اتارا گیا ہے آپ پر اور جو اتارا گیا آپ ﷺ سے پہلے اور نیز آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔‘‘(پارہ 1سورۃ البقرہ)

    ارشادباری تعالیٰ ہے ۔اور (جو) مسلمان ہیں ایمان لاتے ہیں اس پر جو اتارا گیا آپ کی طرف اور جو اتارا گیا آپ سے پہلے ۔‘‘(پارہ 6سورۃ النساء )

    آخری کی مذکورہ دونوں آیتیں بھی حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کی بین دلیل ہیں کیونکہ وحی جس پر ایمان لانا ضروری ہے وہ یا تو حضور اکرم ﷺ پر نازل ہوئی یا آپ ﷺ سے پہلے انبیاء کرام میں سے کسی نبی پر ۔اگر حضور اکرم ﷺ کے بعد بھی سلسلۂ نبوت جاری رہتا یا کسی نئے نبی کا ہونا ممکن ہوتا تو ایمان کا انحصار صرف حضور اکرم ﷺ اور انبیاء سابقین پر نازل شدہ وحی پر نہ ہوتا بلکہ عبارت مثلاً یوں ہوتی وما انزل من قبلک وما ینزل من بعدک ۔ان آیات کی مزید تفسیر احادیث مبارکہ سے واضح ہو جاتی ہے ۔حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کا ارشاد پاک ہے ۔’’حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے گھر بنایا اور اس کے سجانے اور سنوارنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی مگر کسی گوشے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی ۔لوگ اس کے گرد پھرتے اور تعجب سے کہتے ،بھلا یہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی ؟ فرمایا (ﷺ) وہ اینٹ میں ہوں اور میں ہی آخری نبی ہوں۔‘‘(صحیح بخاری، صحیح مسلم شریف)

    ’’حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا میری اور انبیاء (سابقین ) کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے گھر بنایا اور اس کے مکمل اور کامل ہونے میں کوئی کمی نہ چھوڑی مگر کسی گوشے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھو ڑدی۔ لوگ اس کے گرد پھرتے اور تعجب سے کہتے ! بھلا یہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی ؟ رسول ﷺ نے فرمایا میں اس اینٹ کی جگہ آیا ہوں اور میں نے انبیاء (کی آمد) کو ختم کر دیا ۔‘‘(صحیح مسلم شریف )

    ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔۔مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھ پر نبوت ختم کر دی گئی ۔‘‘(صحیح مسلم شریف)

    ’’حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا بے شک رسالت و نبوت ختم ہو گئی میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ ہی نبی ۔‘‘(جامع ترمذی شریف)

    ’’حضرت ابو امامہ باہلی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺنے ہمیں خطبہ دیا ۔۔۔ اور میں تمام انبیاء کے اخیر میں ہوں اور تم بھی آخری امت ہو ۔ ‘‘(سنن ابن ماجہ شریف)

    ’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر رضی اﷲ عنہ بن خطاب ہوتا۔ ‘‘(جامع ترمذی شریف)

    حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘(صحیح مسلم شریف،جامع ترمذی شریف)

    حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے میں نے رسول اﷲ ﷺ سے سنا ۔آپ ﷺ حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے گفتگو فرما رہے تھے آ پ ﷺ نے انہیں کسی غزوہ کے موقعہ پر اپنا نائب مقرر کیا حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم میرے نزدیک ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے ۔لیکن تحقیق میرے بعد نبوت نہیں ۔ ‘‘(جامع ترمذی شریف)

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا بنو اسرائیل میں حکومت پیغمبر کیا کرتے تھے جب ایک نبی کا وصال ہوتا تو دوسرا نبی اس کا خلیفہ ہوتا ۔لیکن یاد رکھو میرے بعد ہر گز کوئی نبی نہیں ہے ۔ہاں عنقریب خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے ۔(صحیح بخاری شریف)

    ان احادیث مبارکہ کی روشنی میں بھی بالکل واضح ہو گیا کہ حضور اکرم ﷺ آخری نبی ہیں آپ کے زمانہ میں اور آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آسکتا ۔ مگر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو کچھ نام ایسے ملتے ہیں جنہوں نے آخری نبی حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے زمانہ میں اور آپ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد اپنے آپ کو نبی سمجھا تو یہ کون لوگ ہیں ؟ آئیں احادیث مبارکہ کی روشنی میں ان لوگوں کا جائزہ لیتے ہیں چنانچہ نبی غیب داں عالم ما یکون و ماکان حضور ختم المرسلین خاتم النبیین احمد مجبتیٰ حضرت سیدنا محمد مصطفےٰ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :’’حضرت ثوبان رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا اور عنقریب میری امت میں تیس کذاب (جھوٹے) ہوں گے ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا حالانکہ میں سب سے آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔ ‘‘(سنن ابی داؤد)

    ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہو گی یہانتک کہ بہت جھوٹے دجال نکل آئیں جو تیس (30)کے قریب ہوں گے ان میں سے ہر ایک رسول اﷲ ہونے کا دعویٰ کرے گا۔‘‘(صحیح بخاری شریف ، صحیح مسلم شریف)

    حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ کے عہد کرامت میں مسیلمہ کذاب آکر کہنے لگا اگر محمدﷺ مجھے اپنا جانشین مقرر کر دیں تو میں ان کی پیروی کرنے کے لئے تیار ہوں اور اپنی قوم کے بہت سے آدمی لے آیا پس رسول اﷲ ﷺ اس کی طرف گئے اور آپ کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس تھے اور رسول اﷲ ﷺ کے دست اقدس میں ایک چھوٹی سی لکڑی تھی یہانتک کہ آپ مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں کے پاس پہنچے اور فرمایا اگر تم مجھ سے اس لکڑی کے برابر بھی کوئی چیز مانگو تو تمہیں نہیں دوں گا تیرے بارے میں اﷲ تعالیٰ کا فیصلہ غلط نہیں ہو سکتا اگر تم نے پیٹھ پھیری (اسلام سے)تو اﷲ تعالیٰ تمہیں تباہ و برباد کر دے گا اور بے شک میں تمہیں وہی کچھ دیکھ رہا ہوں جو خواب میں دکھایا گیا تھا ۔راوی کا بیان ہے کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے بتایا رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن دیکھے ،انہیں دیکھ کر مجھے فکر لاحق ہوئی اس خواب میں میری طرف وحی فرمائی گئی کہ ان پر پھونک ماری تو وہ اڑ گئے ۔پس میں نے اس خواب کی تعبیر دو کذاب ٹھہرائے جو میرے بعد نکلیں گے ان میں سے ایک عنسی (اسود) اور دوسرایمامہ کارہنے والا مسیلمہ کذاب ہے ۔‘‘(صحیح بخاری )

    امام بخاری رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنی صحیح البخاری میں مسیلمہ کذاب اور اسودعنسی کے متعلق احادیث کتاب المغازی ،کتاب التعبیر اور کتاب التوحید میں ذکر کی ہیں ۔

    اسود عنسی کو فیروز نے قتل کیا اور مسیلمہ کذاب نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو امیر المؤمنین خلیفہ رسول حضر ت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے نتائج کی پرواہ کئے بغیر اس کے خلاف لشکر کشی کی اور تب چین کا سانس لیا جب اس جھوٹے نبی کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ بے شک اس جہاد میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان شہید ہوئے جن میں سینکڑوں حفاظ قرآن اور جلیل المرتبت صحابہ تھے لیکن امیر المؤمنین رضی اﷲ عنہ نے اتنی قربانی دے کر بھی اس فتنے کو کچلنا ضروری سمجھا ۔ آپ نور صدیقیت سے دیکھ رہے تھے کہ اگر ذرا بھی تساہل برتاتو یہ امت سینکڑوں گروہوں میں نہیں سینکڑوں امتوں میں بٹ جائے گی ہر امت کا اپنا نبی ہو گا اور ہر ہر امت اپنے اپنے نبی کی منہ بولی شریعت کو اپنائے گی ۔قارئین کو یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ مسیلمہ کذاب ،آخری نبی حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی نبوت کا منکر نہیں تھا بلکہ اپنے دعویٰ نبوت کے ساتھ ساتھ وہ حضور اکرم ﷺ کی رسالت کو بھی تسلیم کرتا تھا ۔ چنانچہ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی ظاہری زندگی کے آخری ایام میں اس نے جو عریضہ ارسال خدمت کیا تھا ،اس کے الفاظ یہ ہیں ۔
    ’’من مسیلمۃ الرسول الی محمد رسول اﷲ ‘‘
    ’’کہ یہ خط مسیلمہ کی طرف سے جو اﷲ کا رسول ہے محمد رسول اﷲ کی طرف لکھا جا رہا ہے ‘‘

    علامہ طبری نے اس امر کی بھی تصریح کی ہے کہ اس کے ہاں جو اذان مروج تھی اس میں اشھد ان محمد الرسول اﷲ بھی کہا جاتا تھا بایں ہمہ خلیفہ رسول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اس کو مرتد اور واجب القتل یقین کر کے اس پر لشکر کشی کی اور اس کو واصل جہنم کر کے آرام کا سانس لیا ۔

    جھوٹے مدعیان نبوت کا انجام:
    احادیث مبارک کی روشنی میں قیامت تک مختلف ادوار میں نبوت کا دعویٰ کرنیوالے کذاب (جھوٹے ) ظاہر ہوں گے ۔ لہٰذا ہر دور میں ایسے کذاب پیدا ہوئے اور فدائیان ختم نبوت نے ان کذابوں کی گردنیں اڑا کر ان کو واصل جہنم کیا ۔
    1۔ اسود عنسی (۱۱ھ) نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔فیروز دیلمی نے محل میں گھس کر اس کی گردن توڑ کر ہلاک کیا ۔
    2۔ مسیلمہ کذاب (۱۲ھ)نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔حضرت وحشی رضی اﷲ عنہ نے جنگ یمامہ میں اس کو نیزہ مارکر ہلاک کیا ۔
    3۔ مختار ثقفی (۲۷ھ) نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔حضرت مصعب بن زبیر رحمۃ اﷲ علیہ سے جنگ میں مارا گیا ۔
    4۔ حارث کذاب دمشقی (۶۹ھ) نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔خلیفہ عبد الملک مروان کے حکم پر ہلاک کیا گیا ۔
    5۔ مغیرہ عجلی(۱۱۹ھ) نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔خلیفہ ہشام بن عبد الملک کے دور میں امیر عراق خالد بن عبد اﷲ قسری نے اسے زندہ جلا کر راکھ کر دیا ۔
    6۔ بیان بن سمعان تمیمی (۱۱۹ھ) نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔ امیر عراق خالد بن عبد اﷲ قسری نے اسے زندہ جلا کر راکھ کر دیا ۔
    7۔ بہا فرید نیشا پوری نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ،عبد اﷲ بن شعبہ رحمۃ اﷲ علیہ نے اسے گرفتار کر کے ابو مسلم خراسانی کے دربار میں پیش کیا جنہوں نے تلوار سے اس کا سر قلم کر دیا ۔
    8۔ اسحا ق اخرس مغربی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔خلیفہ ابو جعفر منصور کی فوج سے شکست کھا کر ہلاک ہوا ۔
    9۔ استاد سیس خراسانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔خلیفہ ابو جعفر منصور کے حکم پر خازم بن خزیمہ نے اس کی فوج کو شکست دی اور اس کو گرفتار کر کے اس کی گردن اڑا دی۔
    10۔ علی بن محمد خارجی (۲۰۷ھ)نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔خلیفہ معتمد کے زمانے میں موفق نے اس کی فوج کو شکست دے کر اس کا سر کاٹ کر نیزوں پر چڑھایا ۔
    11۔ بابک بن عبد اﷲ (۲۲۲ھ)نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔خلیفہ معتصم کے حکم پر اس کا ایک ایک عضو کاٹ کر الگ کرکے ہلاک کر دیا۔
    12۔ علی بن فضل یمنی (۳۰۳ھ) نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔بغداد کے لوگوں نے اُ س کو زہر دے کر ہلاک کر دیا۔
    13۔ عبد العزیز باسندی (۳۲۲ھ) نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔لشکر اسلامی نے محاصرہ کر کے شکست دی اور سر کاٹ کر خلیفہ المسلمین کو بھیجوا دیا ۔
    14۔ حامیم مجلسی (۳۲۹ھ) نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔قبیلہ معمودہ سے احواز کے مقام پر ایک لڑائی میں مارا گیا ۔
    15۔ ابو منصور عسبی بر غواطی (۳۶۹ھ)نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔بلکین بن زہری سے جنگ میں شکست ہوئی اور ہلاک ہوا۔
    16۔ اصغر تغلبی (۴۳۹ھ)نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔حاکم نصر الدولہ بن مروان نے ایک دستہ بھیج کر اس کو گرفتار کروایا اور جیل میں ڈال دیا جہاں یہ ہلاک ہوا۔
    17۔ احمد بن قسی (۵۶۰ھ) نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔حاکم عبد المومن نے گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا جہاں یہ ہلاک ہو ا۔
    18۔ عبد الحق مرسی (۶۶۸ھ) نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔اس نے ایک روز فصد کھلوایا ۔قہر الہٰی سے خون بہتا رہا ۔یہاں تک کہ ہلاک ہوا ۔
    19۔ عبد العزیز طرابلسی (۷۱۷ھ) نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ،حاکم طرابلس کے حکم پر ایک لشکر نے اس کو گرفتار کر کے قتل کر دیا ۔
    سابقہ چاروں صدیوں میں سلاطین اسلام کے باہمی انتشار اور دین سے دوری کی بناء پر ممالک اسلامیہ میں فرنگیوں کا تسلط بڑھ گیا ۔ اس وجہ سے بایزید روشن ۹۹۰ھ بہاء اﷲ نور ی ۱۳۰۸ھ اور غلا م احمد قادیانی ۱۳۲۶ھ وغیرہ کذاب (جھوٹے مدعی نبوت) سزائے موت سے بچے رہے البتہ قہر الہٰی سے بے نام و نشان مٹ گئے ۔
    • Like Like x 1
  2. ‏ جنوری 15, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    یوسف علی سے یوسف کذاب اور اسکے خلیفہ زید زمان تک ..
    یوسف علی والد وزیرعلی فیصل آباد کے تحصیل جڑانوالہ میں پیدا ھوۓ.
    فوج میں کمشینڈ آفیسر بنے مگر قبیح حرکات کے بنا پر کپتان بنتے ھی اسے فوج سے نکال دیا گیا .اسکے بعد ایم اے اسلامیات کیا مزید تعلیم کیلئے ایران چلے گئے ایران سے واپسی پر گلبرگ گرلزکالج کی اسسٹنٹ پروفیسر طیبہ صاحبہ سے شادی کی معروف سکالرڈاکٹرملک غلام مرتضی کی توسط سے سعودیہ چلے گئے اور جدہ میں ڈاکٹر کے گھر ہی رہنے لگے باطل نظریات رکھنے پر ڈاکٹر نے 1988کو سعودیہ سے دھتکار کر وطن بھیج دیا . واپسی پر لوگوں کو لوٹنے کیلئے یہ شوشہ چھوڑا کہ وہ سعودیہ میں سفیر مقرر کئےگئے ھیں.
    پھر اس نے ایک علامہ کا روپ دھار کر مختلف اخبارات ورسائل میں یوسف علی کے نام سے دینی موضوعات اور سیرت النبی۴ پر مضامین لکھنا شروع کئے پھریوسف علی سے ابوالحسنین بن گئے.
    1992کو زیدزمان جیسا مخلص ھم خیال ملا یہاں سے یہ دونوں ملکر گمراہی کے راستوں پر چل نکلے.
    شادمان لاھور کے ایک مسجدکو اپنے باطل نظریات کی پرچار کیلئے چنا مگر اہل محلہ نے بروقت یہاں سے چلتا کئے .
    بالآخر ملتان روڈ پر واقع دربار بیت الرضا اور اسکے ملحقہ مسجد پر ڈیرے ڈال دۓ یہاں پر لوگوں کو دیدار نبی کے جھانسے دیتے رھے رنگ برنگے مخلوط محفلیں سجاتے رھے لوگ اپنے مال و دولت ان پر نچھاور کرنے لگے تین چار سال میں کروڑوں کے مالک بن گئے ڈیفنس میں عالی شان کوٹھی خرید لی قیمتی گاڑیاں نوکر چاکر تو اسکے علاوہ تھیں.
    28 فروری 97 کو "ورلڈ اسمبلی آف مسلم یونائٹی کے نام سے بیت الرضا میں ایک اجلاس کا انعقاد کیا اور اسی اجلاس میں اس خناس نے نبوت کا دعوی کیا . اجلاس میں موجود سو مریدوں کو صحابہ اور زید زمان کو اپنا خلیفہ کا قرار دیا اور کہا کہ زیدزمان میرا نعوذباللہ حضرت ابوبکرصدیق رض جیسا خلیفہ ھے .
    29 مارچ97 کو تمام مکاتب فکر کے علما ایک فلیٹ فارم پر جمع ھوۓ اور سیشن کورٹ لاھور میں اس کے خلاف توھین رسالت کا مقدمہ درج کیا .
    زید زمان اسکا وکیل بن گئے . اور اسکو چڑوانے کا تگ و دو کرنے لگے . کیس تقریبا تین سال تک چلتا رھا
    5 اگست 2000 کو سیش کورٹ جج جناب میاں محمد جہانگیر نے اس کو سزاۓ موت دینے کا حکم دیا اور اس پر ڈیڑھ لاکھ جرمانہ عائد کیا اور اسکے نام سے "علی" کا لاحقہ حذف کرکے "کذاب" کے لاحقہ ملانے کا بھی حکم دیا
    اور یوں وہ یوسف علی سے یوسف کذاب بن گئے

    زیدزمان نے اس فیصلہ کو عدل و انصاف کا خون قرار دیکر یوسف کذاب کی حق میں کانفرنسیں کرنے شروع کیۓ . امریکی برطانوی سفارت خانوں کے چکر کاٹنے شروع کئے یورپی یونیں کے ذریعے اسکو یورپ بھگانے کا مکمل پلان بنایا جہاز کے سیٹ بھی بک کرادیے کہ اچانک کوٹ لکھپت جیل میں ایک جانثار قیدی غازی طارق نے اس کذاب کو گولیوں سے بھون ڈالا . نہ رھے بانس نہ بجے بانسری .
    اسکے بعد زیدزمان روپوش ھوگئے کچھ عرصے بعد کھال بدل کر زیدحامد کے نئے نام کے ساتھ نمودار ھوۓ . آجکل اعلی دفاعی تجزیہ نگار اور بڑے مذھبی سکالر بنے عوام کو ورغلا رھے ھیں .

اس صفحے کی تشہیر