1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عقیدہ ختم نبوت اور قرآن مجید کا اسلوب بیان نمبر۲

محمدابوبکرصدیق نے 'آیاتِ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 16, 2014

  1. ‏ جولائی 16, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقیدہ ختم نبوت اور قرآن مجید کا اسلوب بیان نمبر۲

    اب چند وہ آیات بھی ملاحظہ فرمائیے جن میں خدا تعالیٰ نے ماضی کے صیغہ میں انبیاء کا ذکر فرمایا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کا منصب جن لوگوں کو حاصل ہونا تھا وہ ماضی میں حاصل ہوچکا ہے اور انہی کا ماننا داخل ایمان ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسی شخصیت نہیں جس کو نبوت بخشی جائے اور اس کا ماننا ایمان کی جزولازمی قرار دی گئی ہو۔
    (۱)……قولوا آمنا باللہ وما انزل الینا وما انزل الی ابراھیم ۰ بقرہ 136“(تم کہہ دو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو اتراہم پر اور جو اترا ابراھیم پر۔)
    (۲)…… قل آمنا باللہ وما انزل الینا وما انزل الی ابراھیم ۰ آل عمران 84“(تو کہہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو کچھ اترا ہم پر اور جو کچھ اترا ابراھیم پر۔)
    (۳)……انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنبین من بعدہ و او حینا الی ابراھیم واسماعیل ۰ نساء 123“(ہم نے وحی بھیجی تیری طرف جیسے وحیبھیجی نوح پر اور ان نبیوں پر جو اس کے بعد ہوئے۔ اور وحی بھیجی ابراھیم پر اور اسماعیل پر۔)
    ان تینوں آیتوں میں اور ان جیسی اور آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں گذشتہ انبیاء اور ماضی کی وحی کو منوانے کا اہتمام کیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کی نبوت ورسالت کو کہیں صراحۃً وکنایۃً ذکر نہیں فرمایا۔ جس سے صاف ثابت ہوگیا کہ جن جن حضرات کو خلعت نبوت ورسالت سے نوازنا مقدر تھا۔ پس وہ ہوچکے اور گزرگئے۔ اب آئندہ نبوت پر مہر لگ گئی ہے اور بعد میں نبوت کی راہ کو ابدالآ باد تک کے لئے مسدود کردیا گیا ہے اور اب انبیاء کے شمار میں اضافہ نہ ہوسکے گا۔
    • Like Like x 3
    • Winner Winner x 2
  2. ‏ جولائی 16, 2014 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر