1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عقیدہ ختم نبوت اور قرآن مجید کا اسلوب بیان

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مئی 5, 2017

  1. ‏ مئی 5, 2017 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    عقیدہ ختم نبوت اور قرآن مجید کا اسلوب بیان

    اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء کرام کے بعد تشریف فرماہوئے ہیں۔ جتنے نبی ہوچکے ہیں وہ سب کے سب آپ ﷺ سے پہلے ہی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد اب کسی کو نبوت سے نہ نوازا جائے گا۔
    واذ اخذاﷲ میثاق النبیین لما آتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ۔ آل عمران ۸۱‘‘{اور جب لیا اﷲ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور علم پھر آوے تمہارے پاس کوئی رسول کہ سچا بتاوے تمہارے پاس والی کتاب کو تو اس رسول پر ایمان لائو گے اور اس کی مدد کروگے۔}
    اس جگہ یہ متعین کردیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء کے بعد آئیں گے۔اوراسی آیت کو مرزا قادیانی نے بھی حقیقت الوحی صفحہ ۱۳۰’۱۳۱’ روحانی خزائن صفحہ ۱۳۴’۱۳۳‘ جلد ۲۲ میں نقل کرکے اس کے بعد تحریر کیا ہے کہ:’’ اس آیت میں ’’ثم جاء کم رسول‘‘ سے مراد آنحضرت ﷺ ہی ہیں۔‘‘
    قرآن مجید کو اول سے آخر تک پڑھئے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ اﷲ تعالیٰ نے سلسلہ نبوت حضرت آدم صفی اﷲ سے شروع کیا اور آنحضرت ﷺ پر ختم کردیا ۔ خود مرزا قادیانی بھی اس کا اقراری ہے ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:
    ’’ سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کافر وکاذب جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اﷲ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اﷲ محمد مصطفیﷺ پرختم ہوگئی۔ ‘‘ (مجموعہ اشتہارات ص ۲۳۱’۲۳۰ ج ۱‘ حقیقت النبوۃ ص ۸۹)
    آیات مندرجہ بالا کے علاوہ ایک ایسی آیت بھی ملاحظہ ہو جو کہ آنحضرتﷺ کے بعد نبوت کی ضرورت ہی کو اٹھا دے اور وہ ایسی فلاسفی بتادے کہ جس پر یقین کرکے ہر مومن اطمینان حاصل کرے کہ اب آئندہ کسی کو نبوت حاصل نہ ہوگی اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہے۔
    ’’ الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الا سلام دینا۰ مائدہ ۳۳‘‘{آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا اورپورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کودین۔}
    اس ارشاد خدا وندی نے بتادیا کہ دین کے تمام محاسن مکمل اور پورے ہوچکے ہیں۔ اب کسی پورا کرنے یا مکمل کرنے والے کی ضرورت نہیں۔ ظاہر ہے جب کسی کے پورا کرنے یا مکمل کرنے کی ضرورت نہیں رہی تو یقینا آج کے بعد کسی کو نبی بنانے کی بھی کوئی حاجت نہیں۔
    حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ؒ نے عربی میں کتاب تحریر فرمائی تھی۔ اس کا نام ہدیۃً المہدین فی تفسیر آیۃً خاتم النبیین ہے۔ اس کا اردو ترجمہ ’’ ختم نبوت کامل‘‘ کے نام سے مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس میں آپ نے قرآن مجید کی ننانوے آیات مبارکہ سے مسئلہ ختم نبوت پر استدلال فرمایا ہے۔
    آیت خاتم النبیین کی تفسیر
    ماکان محمد ابا احدمن رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین وکان اﷲبکل شیٔ علیما۰ احزاب ۴۰‘‘{محمدؐ باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اﷲ کا اور مہر سب نبیوں پر اور ہے اﷲ سب چیزوں کو جاننے والا۔}

    شان نزول( نازل ہونے کا سبب)
    اس آیت شریفہ کا شان نزول یہ ہے کہ آفتاب نبوت ﷺ کے طلوع ہونے سے پہلے تمام عرب جن تباہ کن اور مضحکہ خیز رسومات قبیحہ میںمبتلا تھے ان میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ متبنٰی یعنی لے پالک بیٹے کو تمام احکام واحوال میں حقیقی اور نسبی بیٹا سمجھتے ۔ اسی کا بیٹا کہہ کر پکارتے تھے اور مرنے کے بعد شریک وراثت ہونے میں اور رشتہ ناتے اور حلت وحرمت کے تمام احکام میں حقیقی بیٹا قرار دیتے تھے۔ جس طرح نسبی بیٹے کے مرجانے یا طلاق دینے کے بعد باپ کے لئے بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے۔ اسی طرح وہ لے پالک کی بیوی سے بھی اس کے مرنے اور طلاق دینے کے بعد نکاح کو حرام سمجھتے تھے۔
    یہ رسم بہت سے مفاسد پر مشتمل تھی۔ اختلاط نسب ‘ غیر وراث شرعی کو اپنی طرف سے وارث بنانا‘ ایک شرعی حلال کو اپنی طرف سے حرام قرار دینا وغیر وغیرہ۔
    اسلام جوکہ دنیا میں اسی لئے آیا ہے کہ کفر وضلالت کی بیہودہ رسوم سے عالم کو پاک کردے۔ اس کا فرض تھا کہ وہ اس رسم کے استیصال (جڑ سے اکھاڑنے ) کی فکر کرتا۔ چنانچہ اس نے اس کے لئے دو طریق اختیار کئے۔ ایک قولی اور دوسرا عملی۔ ایک طرف تو یہ اعلان فرمادیا:
    ’’وما جعل ادعیاء کم ابناء کم ذٰلکم قولکم باافوٰھکم واﷲ یقول الحق وھو یھدی السبیل ادعوھم لاباء ھم ھو اقسط عنداﷲ۰ احزاب ۴‘۵‘‘{اور نہیں کیا تمہارے لئے پالکوں کو تمہارے بیٹے۔ یہ تمہاری بات ہے اپنے منہ کی ‘ اور اﷲ کہتا ہے ٹھیک بات اور وہی سمجھاتا ہے راہ۔ پکار ولے پالکوں کو ان کے باپ کی طرف نسبت کرکے‘ یہی پورا انصاف ہے اﷲ کے یہاں۔}
    اصل مدعا تو یہ تھا کہ شرکت نسب اور شرکت وراثت اور احکام حلت وحرمت وغیرہ میں اس کو بیٹا نہ سمجھا جائے۔ لیکن اس خیال کو بالکل باطل کرنے کے لئے یہ حکم دیا کہ متبنٰی یعنی لے پالک بنانے کی رسم ہی توڑ دی جائے۔ چنانچہ اس آیت میں ارشاد ہوگیا کہ لے پالک کو اس کے باپ کے نام سے پکارو۔
    نزول وحی سے پہلے آنحضرت ﷺ نے حضرت زید بن حارث ؓ کو (جوکہ آپ ﷺ کے غلام تھے) آزاد فرماکر متبنٰی(لے پالک بیٹا) بنالیا تھا اور تمام لوگ یہاں تک کہ صحابہ کرام ؓ بھی عرب کی قدیم رسم کے مطابق ان کو’’ زید بن محمدؐ ‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔
    حضرت عبداﷲ ؓبن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت مذکورہ نازل ہوئی اس وقت سے ہم نے اس طریق کو چھوڑکر ان کو’’ زیدؓ بن حارثہ‘‘ کہنا شروع کیا۔
    صحابہ کرام ؓ اس آیت کے نازل ہوتے ہی اس رسم قدیم کو خیر باد کہہ چکے تھے۔ لیکن چونکہ کسی رائج شدہ رسم کے خلاف کرنے میں اعزاء واقارب اور اپنی قوم وقبیلہ کے ہزاروں طعن وتشنیع کا نشانہ بننا پڑتا ہے جس کا تحمل ہر شخص کو دشوار ہے۔اس لئے خدا وند عالم نے چاہا کہ اس عقیدہ کو اپنے رسول ہی کے ہاتھوں عملاً توڑا جائے۔ چنانچہ جب حضرت زید ؓ نے اپنی بی بی زینب ؓ کو باہمی ناچاقی کی وجہ سے طلاق دے دی تو خدا وند عالم نے اپنے رسول ﷺ کو حکم فرمایا کہ ان سے نکاح کرلیں۔ تاکہ اس رسم وعقیدہ کا کلیۃً استیصال ہوجائے۔ چنانچہ ارشاد ہوا:
    ’’ فلما قضی زید منھا وطراً زوجنکھا لکیلا یکون علی المؤمنین حرج فی ازواج ادعیاء ھم ۰۰ الا حزاب ۳۷‘‘{ پس جبکہ زید ؓ زینب ؓ سے طلاق دے کر فارغ ہوگئے تو ہم نے ان کانکاح آپ ﷺ سے کردیا۔ تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالک کی بییوں کے بارے میں کوئی تنگی واقع نہ ہو۔}
    آپ ﷺ نے بامر خدا وندی نکاح کیا۔ ادھر جیسا کہ پہلے ہی خیال تھا۔ تمام کفار عرب میں شور مچا کہ لو‘ اس نبی کو دیکھو کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کربیٹھے۔
    ان لوگوں کے طعنوں اور اعتراضات کے جواب میں آسمان سے یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی:
    ’’ماکان محمد ابا احدمن رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین۰ احزاب ۴۰۰‘‘{ محمدؐ باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اﷲ کا اور مہر سب نبیوں پر۔}
    جس میں یہ بتلادیا گیا کہ آنحضرت ﷺ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں تو حضرت زید ؓ کے نسبی باپ بھی نہ ہوئے۔ لہذا آپ ﷺ کا ان کی سابقہ بی بی سے نکاح کرلینا بلاشبہ جائز اور مستحسن ہے۔ اور اس بارے میں آپ ﷺ کو مطعون کرنا سراسر نادانی اور حماقت ہے۔
    ان کے دعوے کے رد کے لئے اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ آپ ﷺ حضرت زید ؓ کے باپ نہیں۔ لیکن خدا وند عالم نے ان کے مطاعن کو مبالغہ کے ساتھ رد کرنے اور بے اصل ثابت کرنے کے لئے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا کہ یہی نہیں کہ آپ ﷺ زید ؓکے باپ نہیں۔ بلکہ آپ ﷺ تو کسی مرد کے بھی باپ نہیں۔ پس ایک ایسی ذات پر جس کا کوئی بیٹا ہی موجود نہیں یہ الزام لگانا کہ اس نے اپنے بیٹے کی بی بی سے نکاح کرلیا کس قدر ظلم اور کجروی ہے۔
    اور اگر کہو کہ آنحضرت ﷺ کے چار فرزند ہوئے ہیں۔ قاسم اور طیب اور طاہر حضرت خدیجہ ؓ سے اور ابراھیم ماریہ قبطیہ ؓ کے بطن سے۔ پھر یہ ارشاد کیسے صحیح ہوگا کہ آپ ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں؟۔
    تو اس کا جواب خود قرآن کریم کے الفاظ میں موجود ہے۔ کیونکہ اس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں اور آپ ﷺ کے چاروں فرزند بچپن ہی میں وفات پاگئے تھے۔ ان کو مرد کہے جانے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ آیت میں ’’ رجالکم‘‘ کی قید اسی لئے بڑھائی گئی ہے۔ بالجملہ اس آیت کے نزول کی غرض آنحضرت ﷺسے کفار ومنافقین کے اعتراضات کا اٹھانا اور آپﷺ کی برا ت اور عظمت شان بیان فرمانا ہے اور یہی آیت کا شان نزول ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے:
    ’’ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین۰‘‘ { لیکن رسول ہے اﷲ کا اور مہر سب نبیوں پر۔}
    خاتم النبیین کی قرآنی تفسیر
    اب سب سے پہلے دیکھیںکہ قرآن مجید کی رو سے اس کاکیا ترجمہ وتفسیر کیا جانا چاہئیے؟۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ لفظ ’’ ختم‘‘ کے مادہ کا قرآن مجید میں سات مقامات پر استعمال ہوا ہے۔
    ۱…’’ ختم اﷲ علیٰ قلوبھم۰ بقرہ ۷‘‘{مہر کردی اﷲ نے ان کے دلوں پر۔}
    ۲…’’ ختم علیٰ قلوبکم۰ انعام ۴۶‘‘{اور مہرکردی تمہارے دلوں پر۔}
    ۳…’’ ختم علیٰ سمعہ وقلبہ۰ الجاثیہ ۲۳‘‘{ مہر کردی اس کے کان پراور دل پر۔}
    ۴…’’ الیوم نختم علیٰ افواھم۰ یٰسین ۶۵‘‘{آج ہم مہر لگادیں گے ان کے منہ پر۔}
    ۵…’’ فان یشاء اﷲ یختم علیٰ قلبک ۰ الشوریٰ ۲۴‘‘{سو اگر اﷲ چاہے مہر کردے تیرے دل پر۔}
    ۶…’’ رحیق مختوم۰ مطففین ۲۵‘‘{مہر لگی ہوئی۔}
    ۷…’’ ختامہ مسک ۰ مطففین ۲۶‘‘{جس کی مہر جمتی ہے مشک پر۔}
    ان ساتوں مقامات کے اول وآخر‘ سیاق وسباق کو دیکھ لیں ’’ ختم‘‘ کے مادہ کا لفظ جہاں کہیں استعمال ہوا ہے۔ ان تمام مقامات پر قدر مشترک یہ ہے کہ کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا ۔ اس کی ایسی بندش کرنی کہ باہر سے کوئی چیز اس میں داخل نہ ہوسکے۔ اور اندر سے کوئی چیز اس سے باہر نہ نکالی جاسکے۔ وہاں پر ’’ ختم ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مثلاً پہلی آیت کو دیکھیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ان کافروں کے دلوں پر مہر کردی۔ کیا معنی؟ کہ کفر ان کے دلوں سے باہر نہیں نکل سکتا اور باہرسے ایمان ان کے دلوں کے اندر داخل نہیں ہوسکتا۔ فرمایا:’’ ختم اﷲ علیٰ قلوبھم۰‘‘اب زیر بحث آیت خاتم النبیین کا اس قرآنی تفسیر کے اعتبار سے ترجمہ کریں تو اس کا معنی ہوگا کہ رحمت دو عالم ﷺ کی آمدپر حق تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ پر ایسے طور پر بندش کردی‘ بند کردیا‘ مہر لگادی‘ کہ اب کسی نبی کو نہ اس سلسلہ سے نکالا جاسکتا ہے اور نہ کسی نئے شخص کو سلسلہ نبوت میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ فھوالمقصود ۔ لیکن قادیانی اس ترجمہ کو نہیں مانتے۔

    خاتم النبیین کی نبویؐ تفسیر

    آنحضرت ﷺ نے خاتم النبیین کی تفسیر لانبی بعدی کے ساتھ وضاحت سے فرمادی۔ آپ ﷺ کی معروف حدیث شریف جس کا آخری جملہ ہے ’’ انا خاتم النبیین لانبی بعدی‘‘ اس کاحوالہ و توضیح آگے آرہی ہے۔ سردست یہاں پر اپنے فریق مخالف کے سامنے مرزا قادیانی کے ایک حوالہ پر اکتفا کیا جاتا ہے:
    ’’ قال اﷲ عزوجل ماکان محمد ابا احدمن رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمی نبینا ﷺ خاتم النبیین خاتم الانبیاء بغیر استثناء وفسرہ نبینافی قولہ لانبی بعدی ۰ ببیان واضح للطالبین ۰ حمامۃ البشری ص ۲۰روحانی خزائن ص ۲۰۰ ج۷‘‘
    دیکھئے کس صراحت سے مرزا قادیانی تسلیم کررہا ہے کہ خاتم النبیین کی تفسیر حضور ﷺ نے واضح بیان کے ساتھ لانبی بعدیسے کردی ہے۔ لیکن قادیانی گروہ رحمت دو عالم ﷺ کے ترجمہ وتفسیر کو ماننے کے لئے آمادہ نہیں۔
    خاتم النبیین کی تفسیر صحابہ کرام ؓ سے
    حضرات صحابہ کرام ؓ وتابعین ؒ کا مسئلہ ختم نبوت سے متعلق کیا موقف تھا۔خاتم النبیین کا ان کے نزدیک کیا ترجمہ تھا؟ اس کے لئے حضرت مفتی محمد شفیع صاحب ؒ کی کتاب ھدیۃ ً المہدین کے تیسرے حصہ کا مطالعہ فرمائیں۔ یہاں پر صرف دو صحابہ کرام ؓ کی آراء مبارکہ درج کی جاتی ہیں۔
    امام ابو جعفر ابن جریر طبری ؒ اپنی عظیم الشان تفسیر میں حضرت قتادہ ؓ سے خاتم النبیین کی تفسیر میں روایت فرماتے ہیں:
    ’’عن قتادۃؓ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین ای آخرھم۰ ابن جریر ص ۱۱ ج ۲۲‘‘{ حضرت قتادۃ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت کی تفسیرمیں فرمایا۔ اور لیکن آپ ﷺ اﷲ کے رسول اور خاتم النبیین یعنی آخرالنبیین ہیں۔}
    حضرت قتاددہ ؓ کا یہ قول شیخ جلال الدین سیوطی ؓ نے تفسیر درمنشور میں عبدالرزاق اور عبدابن حمید اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم سے بھی نقل کیا ہے۔( در منشور ص ۲۰۴ج ۵)
    اس قول نے بھی صاف وہی بتلادیاجو ہم اوپر قرآن عزیز اور احادیث سے نقل کرچکے ہیں کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین ہیں۔ کیا اس میں کہیں تشریعی غیر تشریعی اور بروزی وظلی وغیرہ کی کوئی تفصیل ہے؟ ۔
    نیز حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓ کی قرات ہی آیت مذکور میں :’’ ولکن نبینا خاتم النبیین۰‘‘ ہے۔ جو خود اسی معنی کی طرف ہدایت کرتی ہے جو بیان کئے گئے ۔ اور سیوطی ؒ نے درمنشور میں بحوالہ عبدابن حمید حضرت حسن ؓ سے نقل کیا ہے:
    ’’عن الحسن فی قولہ وخاتم النبیین قال ختم اﷲ النبیین بمحمد ﷺ وکان آخرمن بعث۰ درمنشور ص ۲۰۴ ج ۵‘‘{حضرت حسن ؓ سے آیت خاتم النبیین کے بارہ میں یہ تفسیر نقل کی گئی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو محمد ﷺ پر ختم کردیا اور آپ ﷺ ان رسولوں میں سے جو اﷲ کی طرف سے مبعوث ہوئے آخری ٹھہرے۔}
    کیا اس جیسی صراحتوں کے بعد بھی کسی شک یا تاویل کی گنجائش ہے؟ اور بروزی یا ظلی کی تاویل چل سکتی ہے؟۔
    خاتم النبیین اور اصحاب لغت
    خاتم النبیین ’’ت‘‘کی زبر یا زیرسے ہو قرآن وحدیث کی تصریحات اور صحابہ وتابعین کی تفاسیر اور آئمہ سلف کی شہادتوں سے بھی قطع نظر کرلی جائے اور فیصلہ صرف لغت عرب پر رکھ دیا جائے تب بھی لغت عرب یہ فیصلہ دیتا ہے کہ آیت مذکورہ کی پہلی قرات پر دو معنی ہوسکتے ہیں۔ آخرالنبیین اور نبیوں کے ختم کرنے والے اور دوسری قرات پر ایک معنی ہوسکتے ہیں یعنی آخر النبیین۔
    لیکن اگر حاصل معنی پر غور کیا جائے تو دونوں کا خلاصہ صرف ایک ہی نکلتا ہے۔ اور بہ لحاظ مراد کہا جاسکتا ہے کہ دونوں قراتوں پر آیت کے معنی لغۃ ً یہی ہیں کہ آپ ﷺ سب انبیاء علیہم السلام کے آخر ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ تفسیر روح المعانی میں تبصریح موجود ہے۔
    ’’ والخاتم اسم آلۃ لما یختم بہ کا لطابع لما یطبع بہ فمعنی خاتم النبیین الذی ختم النبییون بہ ومآ لہ آخر النبیین ۰ روح المعانی ص ۵۹ ج ۷‘‘{ اور خاتم بالفتح اس آلہ کا نام ہے جس سے مہر لگائی جائے ۔ پس خاتم النبیین کے معنی یہ ہوں گے :’’ وہ شخص جس پر انبیاء ختم کئے گئے ‘‘ اور اس معنی کا نتیجہ بھی یہی آخرالنبیین ہے۔}

اس صفحے کی تشہیر