1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

علما، کی آڑ میں احادیث نبویہ ﷺ کا مذاق

محمود بھائی نے 'روحانی خزائن جلد3' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 12, 2014

  1. ‏ اگست 12, 2014 #1
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مرا غلام احمد قادیانی نے روحانی خزائن جلد 3 کے صفحہ 122 اور 123 پر مسلمانوں اور علما، کی آڑ میں احادیث نبویہﷺ کا تمسخر اڑایا ہے ۔
    " مسلمانوں کا پُرانے خیالات کے موافق جو اُن کے دلوں میں جمے ہوئے چلے آتے ہیں یہ دعویٰ ہے کہ مسیح بن مریم سچ مچ دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ دھرے ہوئے آسمان سے اُترے گا اور منارہ مشرقی دمشق کے پاس آٹھہرے گا اور بعض کہتے ہیں کہ منارہ پر اُترے گا اور وہاں سے مسلمان لوگ زینہ کے ذریعہ سے اس کو نیچے اُتاریں گے اور فرشتے اُسی جگہ سے رخصت ہو جائیں گے اور عمدہ پوشاک پہنے ہوئے اُترے گا یہ نہیں کہ ننگا ہو۔اور پھر مہدی کے ساتھ ملاقات اور مزاج پُرسی ہو گی اور باوجود اس قدر مدت گزرنے کے وہی پہلی عمر بتیس ۳۲ یا تینتیس ۳۳ برس کی ہو گی اِس قدر گردش ماہ و سال نے اُس کے جسم و عمر پر کچھ اثر نہ کیا ہو گا اُس کے ناخن اور بال وغیرہ اس قدر سے نہ بڑھے ہوں گے جو آسمان پر اُٹھائے جانے کے وقت موجود تھے اور کسی قسم کا تغیر اس کے وجود میں نہ آیا ہوگا لیکن زمین پر اُتر کر پھر سلسلہ تغیرؔ ا ت کا شروع ہوگا وہ کسی قسم کا جنگ و جدل نہیں کرے گا بلکہ اس کے مُنہ کی ہوا میں ہی ایسی تاثیر ہو گی کہ جہاں تک اس کی نظر پہنچے گی کافر مرتے جائیں گے یعنی اُس کے دَم میں ہی یہ خاصیّت ہو گی کہ زندوں کومارے جیسی پہلے یہ خاصیت تھی کہ مُردوں کو زندہ کرے۔پھر ہمارے علماء اپنے اس پہلے قول کو فراموش کر کے یہ دوسرا قول جو اس کا نقیض ہے پیش کرتے ہیں کہ وہ جنگ اور جدل بھی کرے گا اور دجّال یک چشم اس کے ہاتھ سے قتل ہو گا یہودی بھی اس کے حکم سے مارے جائیں گے۔پھر ایک طرف تو یہ اقرار ہے کہ مسیح موعود وہی مسیح بن مریم نبی اللہ ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی جس پر حضرت جبریل اُتراکرتا تھا جو خدائے تعالیٰ کے بزرگ پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر ہے اور دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ دوبارہ زمین پر آکر اپنی نبوّت کا نام بھی نہیں لے گا بلکہ منصب نبوت سے معزول ہو کر آئے گا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں داخل ہو کر عام مسلمانوں کی طرح شریعت قرآنی کا پابند ہوگا۔نماز اَوروں کے پیچھے پڑھے گا جیسے عام مسلمان پڑھا کرتے ہیں بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ حنفی ہو گا امام اعظم صاحبؔ کو اپنا امام سمجھے گا۔مگر اب تک اس بارہ میں تصریح سے بیان نہیں کیا گیا کہ چار سلسلوں میں سے کس سلسلہ میں داخل ہو گا آیاوہ قادری ہو گا یا چشتی یا سہروردی یا حضرت مجدّد سرہندی کی طرح نقشبندی۔غرض ان لوگوں نے عنوان میں نبوت کا خطاب جما کر جس درجہ پر پھر اُس کا تنزل کیا ہے کوئی قائم الحواس ایساکام کبھی نہیں کر سکتا پھر بعد اس کے اُس کے خاص کا م استعارات کو حقیقت پر حمل کر کے یہ بیان کئے گئے ہیں کہ وہ صلیب کو توڑے گاخنزیروں کو قتل کرے گا۔اب جائے تعجب ہے کہ صلیب کو توڑنے سے اس کا کونسا فائدہ ہے ؟اور اگر اس نے مثلًا دس بیس لاکھ صلیب توڑ بھی دی تو کیا عیسائی لوگ جن کو صلیب پرستی کی دُھن لگی ہوئی ہے اور صلیبیں بنوا نہیں سکتے۔اور دوسرا فقر ہ جو کہا گیا ہے کہ خنزیروں کو قتل کرے گا یہ بھی اگر حقیقت پر محمول ہے تو عجیب فقرہ ہے۔کیا حضرت مسیح کا زمین پر اُترنے کے بعد عمدہ کام یہی ہو گا کہ وہ خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے اور بہت سے کتے ساتھ ہوں گے اگر یہی سچ ہے تو پھر سکھوں اور چماروں اور سانسیوں اورؔ گنڈیلوں وغیرہ کو جو خنزیر کے شکار کو دوست رکھتے ہیں خوشخبری کی جگہ ہے کہ ان کی خوب بن آئے گی۔مگر شاید عیسائیوں کو اُن کی اس خنزیر کشی سے کچھ چنداں فائدہ نہ پہنچ سکے کیونکہ عیسائی قوم نے خنزیر کے شکار کو پہلے ہی کمال تک پہنچا رکھا ہے بالفعل خاص لنڈن میں خنزیر کا گوشت فروخت کرنے کے لئے ہزار دُوکان موجود ہے اور بذریعہ معتبر خبروں کے ثابت ہوا ہے کہ صرف یہی ہزار دوکان نہیں بلکہ پچیس ہزار اَور خنزیر ہر روز لنڈن میں سے مفصلات کے لوگوں کے لئے باہر بھیجا جاتا ہے اب سوال یہ ہے کہ کیا نبی اللہ کی یہی شان ہونی چاہیئے کہ وہ دنیا میں اصلاح خلق کے لئے تو آوے مگر پھر اپنی اوقات عزیز ایک مکروہ جانور خنزیر کے شکار میں ضائع کرے حالانکہ توریت کے رو سے خنزیر کو چھونا بھی سخت معصیت میں داخل ہے پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اول تو شکار کھیلنا ہی کار بیکاراں ہے اور اگر حضرت مسیح کو شکار ہی کی طرف رغبت ہو گی اور دن رات یہی کا م پسند آئے گا تو پھر کیا یہ پاک جانور جیسے ہرن اور گورخر اور خرگوش دنیا ؔ میں کیا کچھ کم ہیں تا ایک ناپاک جانور کے خو ن سے ہاتھ آلودہ کریں۔ اب میں نے وہ تمام خاکہ جو میری قوم نے مسیح کے ان سوانح کا کھینچ رکھا ہے جو دوبارہ زمین پر اُترنے کے بعد اُن پر گزریں گے پیش کر دیا ہے عقلمند اس پر غور کریں کہ کہاں تک اس میں خلاف قانون قدرت باتیں ہیں۔کہاں تک اس میں اجتماع نقیضین موجود ہے۔کہاں تک یہ شان نبوت سے بعید ہے ؟لیکن اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ یہ تمام ذخیرہ رطب و یابس کا صحیحین میں نہیں ہے۔"

    مرزا غلام احمد قادیانی نے اس تحریر میں احادیث کو علما، اور عام مسلمانوں کا خیال قرار دیا اور بہت سی باتیں اپنی طرف سے گھڑ کر علما، کی طرف منسوب کر دی ہیں اور بیچ بیچ میں تمسخرانہ انداز بھی اپنایا ہے ۔
    مرزا غلام احمد کی یہ تحریر ہی اس بات کے ثبوت کے لئے کافی ہے کہ یہ کسی سنجیدہ اور مامور من اللہ کی تحریر نہیں ہو سکتی ۔
    حضرت عیسی علیہ السلام کے جسم میں تغیّر نہ آنے پر بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے ۔ کیا مرزا جی اصحاب کھف کا واقعہ بھول گئے اسی دنیا میں ہوتے ہوئے بھی کئی سو برس ان کے اجسام میں تغیّر نہیں آیا تھا ۔
    اور یہ بات بھی کہیں نہیں لکھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام جنگ و جدل نہیں کرے گا یہ مرزا جی کی ذہنی اختراع ہے ۔
    مرزا جی نے کہا مسلمانوں کے نزدیک حضرت عیسی نبوت سے معزول ہو کر آئیں گے ۔
    یہ بات بھی سو فیصد غلط ہے، کسی نبی کی نبوت سلب نہیں ہوتی لیکن ہر نبی کی نبوت دائرہ کار اور وقت مختلف ہے ۔ حضرت عیسی بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اور وہ اس فرض کو نباہ چکے ۔
    پھر مرزا جی کہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام آئیں گے تو مسلمانوں کی طرح نماز پڑھیں گے اور ان شریعت پر عمل کریں گے ۔
    تو اس میں اعتراض کیا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟
    اب قابل عمل تو ہے ہی شریعت محمدیہ پچھلی شریعتیں تو منسوخ ہو چکی ۔ اسی لئے نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر اس وقت حضرت موسی علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو وہ بھی اسی شریعت پر عمل کرتے(مفہوم)
    تو حضرت عیسی علیہ السلام اگر اس شریعت پر عمل کر لیں گے تو کیا قباحت ہے ؟؟؟؟
    یہ بھی یاد رہے حضرت عیسی علیہ السلام وہ واحد رسول ہیں جنہیں تورات و انجیل کے ساتھ ساتھ کتاب و حکمت کی تعلیم بھی دی گئی تھی ۔کتاب و حکمت سے مراد قرآن و سنت ہے ۔
    کسر صلیب کے حوالے سے بھی مرزا جی نے فضول سوال اٹھائے ہیں ۔
    حالانکہ یہ بات تو مرزا جی کو بھی تسلیم تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت سوائے اسلام کہ تمام ادیان مٹ جائیں گے۔
    جب کوئی عیسائی رہے گا ہی نہیں تو صلیبیں کون بنوائے گا ؟؟؟؟؟
    اور خنزیروں والی بات بھی غلط ہے احادیث میں صرف خنزیر کا لفظ ہے ۔اور باقی جو داستان مرزا جی نے بیان کی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جنگلوں میں جائیں گے وہ سب بھی جھوٹ ہے ۔
    مرزا جی نے کہا کہ یہ سب باتیں صحیحین میں نہیں ہیں ۔ حالانکہ اس میں سے اکثر باتیں صحیحین ہی میں ہیں ۔
    کیا فرشتوں کے ساتھ مینار پر اترنے کا ذکر صحیح مسلم میں نہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟
    کیا ان کے دم سے کافروں کے مرنے کا ذکر مسلم میں نہیں ؟؟؟؟؟؟؟
    کیا کسر صلیب کا ذکر بخاری و مسلم دونوں میں نہیں ؟؟؟؟؟
    قتل خنزیر کا ذکر بخاری و مسلم دونوں میں نہیں ؟؟؟؟؟؟
    آخری تدوین : ‏ اگست 12, 2014
    • Winner Winner x 2
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  2. ‏ اگست 12, 2014 #2
    عالیہ مغل

    عالیہ مغل رکن ختم نبوت فورم

    :007
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1

اس صفحے کی تشہیر