1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

علمِ حدیث، تاریخِ حدیث، موضوعِ حدیث، ضرورتِ حدیث

وحید احمد نے 'احادیث ضعیفہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مئی 22, 2015

  • by وحید احمد, ‏ مئی 22, 2015 11:06 صبح
  • ‏ مئی 22, 2015 #1
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جولائی 10, 2014
    مراسلے :
    226
    موصول پسندیدگیاں :
    55
    نمبرات :
    28
    جنس :
    مذکر
    مقام سکونت :
    سعودی عرب
    حدیث کی لغوی تعریف
    حدیث کےمعنی بات اور گفتگو کے ہیں،علامہ جوہری صحاح میں لکھتے ہیں:
    ‘‘اَلْحَدِیْثُ الْکَلَامُ قَلِیْلُہُ وَکَثِیْرُہُ ’’۔
    حدیث بات کو کہتے ہیں خواہ وہ مختصر ہو یا مفصل۔

    حدیث کی اصطلاحی تعریف

    حضورﷺ کےاقوال ،افعال اور تقریرات کے مجموعہ کو حدیث کہتے ہیں،اقوال سے مراد آپﷺ کی زبان مبارک سے نکلےہوئے کلمات ہیں،افعال سے مراد آپﷺ کے اعضاءسے ظاہر شدہ اعمال ہیں اور تقریر سے مراد: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنےکسی صحابی نے کچھ کیا یا کہااور آپ نے اس پر سکوت فرمایا نکیر نہ کی اور اس سے یہی سمجھا گیاکہ اس عمل یا قول کی حضورﷺ نے تصدیق فرمادی ہے تو اسی تصدیق کو ‘‘تقریر’’ confirmationکہتے ہیں اور آپ کی یہ تصدیق تقریری صورت کہلاتی ہے۔

    حدیث کی حیثیت قرآن کریم میں

    شریعتِ اسلامیہ کی اساس اور بنیاد قرآن اور سنتِ رسول اللہ ہے ؛چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بحیثیتِ مطاع (یعنی جس کی اطاعت کی جائے) پیش کیا ہے، فرمانِ باری ہے:

    (۱)‘‘یَاأَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا أَطِیْعُو اللہَ وَأَطِیْعُوالرَّسُوْلَ وَلَاتُبْطِلُوْا أَعْمَالَکُمْ’’۔
    (محمد:۳۳)


    اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔
    اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کی طرح حضورﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات کی بھی اتباع کرنا ضروری ہے ،اللہ تعالیٰ نے مستقل طور سے اس کا حکم دیا ہے۔


    (۲)نیز ارشاد خدا وندی ہے:‘‘وَأَنْزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِنَّاسِ مَانُزِّلَ إِلَیْھِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ’’۔
    (النحل:۴۴)

    اور(اے پیغمبر!)ہم نے تم پر بھی یہ قرآن اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اُن باتوں کی واضح تشریح کردو جو اُن کے لیے اتاری گئی ہیں اور تاکہ وہ غور وفکر سے کام لیں۔
    اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیان کی جو ذمہ داری لی ہے اس کی تکمیل رسول اللہﷺ کریں گے، آپ کا بیان اللہ ہی کا بیان ہوگا اور یہ بات اسی وقت ممکن ہے کہ آپﷺ نے قرآن کی تبیین وتشریح وحی کے ذریعہ فرمائی ہو ورنہ اس کو اللہ کا بیان کیسے کہہ سکتے ہیں۔
    (۳)ایک اور جگہ ارشاد ہے‘‘وَمَایَنْطِقُ عَنِ الْھَوَیo إِنْ ھُوَإِلَّاوَحْیٌ یُوْحَی‘‘۔

    (النجم:۳،۴)
    اور یہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے،یہ تو خالص وحی ہے جو ان کے پاس بھیجی جاتی ہے ۔
    (۴)نیز اللہ تعالی کا ارشاد ہے:‘‘وَمَاآتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَانَھَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا’’۔

    (الحشر:۷)
    رسول تم کو جو کچھ دیں وہ لے لو اور جس چیز سے تم کو روک دیں رک جاؤ۔
    ان دونوں آیتوں میں واضح طور پر حدیث کا مقام معلوم ہورہا ہے کہ اللہ تعالی نے حضور اکرم ﷺ کے ارشادات کو وحی الہٰی سے تعبیر فرمایا اور امت کو حکم دیا کہ حضور اکرم ﷺ جس بات کا حکم دیں اس کو اختیار کرو اور جس بات سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔
    احادیث میں حدیثِ رسولﷺ کی حیثیت
    (۱)آپﷺ کی ارشاد ہے:"أَلَاإِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ

    (ابوداؤد، باب فی لزوم السنۃ، حدیث نمبر:۳۹۸۸)
    خبردار رہو کہ مجھے قرآن کے ساتھ اس کا مثل بھی دیا گیا ہے۔
    حضرت زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا :
    (۲)حدیث کے حفظ اور یادداشت کی ترغیب دیتے ہوئے آپﷺ نے فرمایا:نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ غَيْرَه۔

    (ترمذی،بَاب مَا جَاءَ فِي الْحَثِّ عَلَى تَبْلِيغِ السَّمَاعِ،حدیث نمبر:۲۵۸۰ شاملہ،موقع الاسلام)
    اللہ تعالی اس شخص کو تازگی بخشیں جس نے ہم سے کو ئی حدیث سنی اسے یاد رکھا؛ یہاں تک کہ اسے کسی دوسرے تک پہنچایا۔
    (۳)ایک اور حدیث میں ہے:فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ

    (مسلم، بَاب تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الدِّمَاءِ وَالْأَعْرَاضِ وَالْأَمْوَالِ،حدیث نمبر:۳۱۸۰،شاملہ، موقع الاسلام)
    جو حاضر ہے وہ اسے غائب تک پہنچادے۔
    خطبۂ حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے متنبہ فرمایا کہ آپ کی یہ حدیث آج صرف اسی اجتماع کے لیے نہیں یہ کل انسانوں کے لیے راہ ہدایت ہے جو آج موجود ہیں اور سن رہے ہیں وہ ان باتوں کو دوسروں تک پہنچادیں۔
    علاوہ ازیں ایک حدیث میں ہے:
    (۴)‘‘كان جبريل عليه السلام ينزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم بالسنة كماينزل عليه بالقرآن، ويعلمه إياها كمايعلمه القرآن’’۔

    (مراسیل ابوداؤد، باب فی البدع، حدیث نمبر:۵۰۷)
    حضرت جبرئیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سنتوں کا علم لے کر ایسے ہی نازل ہوتے تھے جیسے قرآن آپﷺ پر لےکرنازل ہوتے تھےاور اس کو ایسے ہی سکھاتے تھے جیسے قرآن کو سکھاتے تھے۔
    ان میں واضح طور پر یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ حدیثیں بھی قرآن کی طرح وحی ہیں،
    احکامِ اسلامیہ پر عمل کے لیےحدیث کی ضرورت
    اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لیے اور قرآن کریم کو اچھی طرح سمجھنے کےلیےاحادیث کا علم ضروری ہے ، اس کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں اسی ۸۰/سے زیادہ جگہوں میں نماز کا حکم دیا گیا، کہیں ‘‘اَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃ’’(نماز قائم کرو) کہا گیا ہے تو کہیں‘‘یُقِیْمُوْنَ الصَّلَوۃ’’ (نماز کو قائم کرتے ہیں)کہا گیا ہے؛ مگر سوال یہ ہے کہ نماز کس چیز کا نام ہے؟قیام،رکوع،سجدہ وغیرہ کس طرح کیا جاتا ہے،اس کی ترکیب کیا ہے ؟ قرآن کریم میں کہیں یہ بات بیان نہیں کی گئی ہے؛ البتہ قرآن میں نماز کے ارکان کا مختلف الفاظ سے مختلف جگہ تذکرہ آیا ہے، نبیٔ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازکے تمام ارکان کو جمع کرکے اس کوادا کرنے کا طریقہ بتایا ؛ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے فرائض، واجبات، سنن، مستحبات، آداب، مکروہات اور ممنوعات ہرایک کو تفصیل سے بیان کیا؛ اسی طرح نماز مسجد میں قائم کرنے کا حکم دیا ؛تاکہ نماز کا اہتمام ہو اور اذان وجماعت کا نظام بنایا، امام ومؤذن کے احکام بیان کئے اور پانچوں نمازوں کے اوقات متعین کئے اور ان اوقات کے اوّل وآخر کو بیان کیا؛ غرض تقریباً دوہزار حدیثیں ‘یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃ’’ کی تفسیر کرتی ہیں ان دوہزار احادیث کو اگر ‘‘یُقِیْمُوْنَ الصّلٰوۃ’’ کے ساتھ نہ لکھا جائے تو اقامتِ صلوٰۃ کی حقیقت سمجھ میں نہیں آسکتی، اور صرف نماز ہی نہیں؛ بلکہ اسلام کے تمام تفصیلی احکامات کا علم احادیث ہی سے مکمل ہوتا ہے۔
    • Like Like x 1
  • Categories: Uncategorized

تبصرے

وحید احمد نے 'احادیث ضعیفہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مئی 22, 2015

  1. وحید احمد
    صحابہؓ کے اعمال سے علم حدیث میں وسعت
    یہ وہ اعمال ہیں جو صحابہ کی روز مرہ زندگی سے تعلق رکھتے ہیں، جب ان میں صحابہ کرام مختلف العمل رہے اور ہر طریق عمل اپنی اپنی جگہ قائم رہا توبغیر اس کے متصور نہیں کہ ان حضرات نے خود حضور کو ان مختلف مواقع میں مختلف طریقوں پر عمل کرتے دیکھا ہو پھر جوں جوں آپ کی آخری زندگی کے طریقے ان کی نگاہوں میں ممتاز اور راجح ہوتے چلے گئے اپنی اپنی تحقیق اور ترجیح کے وجوہ ان کے سامنے روشن ہوتے چلےگئے؛ یہاں تک کہ ان اختلاف نے ائمہ اربعہ کی تحقیقات میں راجح اور مرجوح کی صورتیں اختیار کرلیں؛تاہم اس اقرار سے چارہ نہیں کہ علم حدیث میں اعمال صحابہ سے بھی تفصیلی بحث ہوتی ہے یہ حضرات تزکیہ صفات میں بھی حضور کی محنت کے مظہر ہیں، ضروری ہے کہ یہ بھی حدیث کا موضوع سمجھے جائیں،صحابہ کے عمل کو علم حدیث میں اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ اگر صحابی خود آنحضرت سے ایک روایت نقل کرے اور اس کا اپنا عمل اس کے خلاف ہوتو اس عمل سے اس حدیث کے نسخ پر یا اس کے عمومی حجت نہ ہونے پر استدلال کیا جاسکے گا، اس میں محدثین کی راہیں گو مختلف رہی ہیں،تاہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ صحابہ کے اپنے اعمال وفتاوے کو علم حدیث میں بہت اہمیت حاصل ہے اور یہ حضرات بھی حدیث کا ایک اہم موضوع رہے ہیں۔
    صحابیؓ کے فتوے سے ان کی روایت کی تحقیق
    حضرت ابو ھریرہؓ حضورؐ سے روایت کرتے ہیں کہ:جب کتا تم میں سے کسی کے برتن کو منہ لگادے تو اسے سات دفعہ دھونا چاہیے۔
    (مسلم،بَاب حُكْمِ وُلُوغِ الْكَلْبِ،حدیث نمبر:۴۱۸،شاملہ،موقع الاسلام)
    مگر جب حضرت ابو ھریرہؓ نے خود تین دفعہ دھونے کا فتوی دیا تو اس سے یہی سمجھا گیا کہ سات دفعہ دھونے سے محض تاکید مراد تھی اور پاک ہونے کا تقاضا تین دفعہ دھونے سے پورا ہوجاتا ہے(شرح معانی الآثار،باب سور الکلب:۱/۲۳،شاملہ) اور عربی اسلوب میں بے شک اس طرز تاکید کی گنجائش موجود ہے۔
    (حضرت شاہ صاحب کی عبارت "حجۃ اللہ" میں نہیں ملی)

    صحابہ ؓ اور عام راویوں میں فرق
    ایک صحابی بھی حضورسے روایت کررہا ہوتو یہ درست نہیں کہ انسان اس کی تائید میں اور صحابہؓ سے پوچھتا پھرے، عمل کے لیے یہی کافی ہے،صحابہ عام ثقہ راویوں کی طرح نہیں کہ کثرت روات سے روایت میں اور قوت آجائے،ورنہ حضرت عمرؓ حضرت سعدؓ سے روایت کے بعداس کی مزید تحقیق سے نہ روکتے،علم جس قدر پختہ ہواس میں کوئی حرج نہ تھا، معلوم ہوتا ہے کہ صحابی کا حضور سے کسی بات کو نقل کردینا علم کاوہ نقطۂ عروج ہے کہ اب اس کے بعد کوئی خلجان باقی نہیں رہتا، حضرت عمرؓ نے فرمایا:
    "إِذَا حَدَّثَكَ شَيْئًا سَعْدٌ عَنْ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَسْأَلْ عَنْهُ غَيْرَه

    (بخاری،بَاب الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ،حدیث نمبر:۱۹۵،شاملہ،موقع الاسلام)
    ترجمہ:جب سعد تمہارے سامنے حضور کی کوئی حدیث نقل کرے تو اس کے بارےمیں کسی اور سے نہ پوچھو۔

    پھر یہ بھی ہے کہ عام راوی کی وہی روایت معتبرہے جو مروی عنہ (جس سے روایت لی جارہی ہے)سے متصل ہو؛ لیکن صحابی رسولؐ کے بارے میں اس واقعہ کی خبر دے جس میں وہ خود موجود نہ تھے تو بھی یہ روایت محدثین کے نزدیک معتبر اور لائق قبول ہوگی، صحابی کی مرسل روایت کو قبول کیا جائے گا، صحابہ کی مرویات میں یہ سوال نہیں کیا جا تا کہ انہوں نے اس دور کی روایت جسے انہوں نےنہیں پایا کس سے لی ہے، صحیح بخاری کے شروع میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ(۵۷ھ)سے مروی ہے کہ آنحضرتؐ پروحی کا آغاز کیسے ہوا ؛حالانکہ آغاز وحی پر وہ پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں،بایں ہمہ وہ حدیث مقبول ومعتبر سمجھی گئی اور بے شک یہ صحیح ہے، کسی صحابی یا صحابیہ سے نہیں ہوسکتا کہ وہ حضور کے بارے میں کوئی بات خلاف واقعہ کہیں، سو ان کے لیے ضروری نہیں کہ ان کی روایت متصل ہو، ان کا مقام اسلام میں عام راویوں سے بہت اونچا ہے اللہ تعالی نے تقوی ان کی ذوات کےلیے لازم کردیا تھا اور وہ بے شک اس کے اہل تھے، محدثین کے ہاں وہ سارے کے سارے عدول ہیں، تحقیق روایت میں جہاں اور راویوں کے بارے میں جرح وتعدیل کی بحث چلتی ہے صحابہ کے بارے میں یہ بحث نہیں چلتی؛ یہاں اس کی گنجائش نہیں؛ یہاں تعدیل ہی تعدیل ہے جرح کو اس میں راہ نہیں۔
    صحابہ کی مرسل روایات بھی مقبول ہیں اور قانونی طور پر حجت ہیں اور ان ائمہ حدیث کے ہاں بھی معتبر ہیں جو دوسرے راویوں کی مرسل روایات سے حجت نہیں پکڑتے، صحابہ کرام سے نہ اتصال روایت کا مطالبہ ہے نہ ان کی تعدیل کی کہیں تلاش ہے۔

    (مزید تصیل کے لیے دیکھیے:مقدمہ شرح مسلم)

    صحابہ ؓ اور دوسرے راویوں میں فرق
    سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب دوسرے راویوں کے لیے جرح وتعدیل کی میزان ہے تو صحابہ اس قاعدہ سے کیوں نکل گئے؟نہ ان سے اتصال روایت کے مطالبہ ہے نہ ان پر جرح کی اجازت ہے نہ ان کی روایت کسی اور تائیدکی محتاج ہے کیا یہ حضرات عام بشری کمزوریوں سے بالا تھے کہ ان میں اور عام راویوں میں اتنا بڑا فاصلہ پیدا ہوگیا اتنا بڑا فرق آخر کیسے قائم ہوگیا؟۔
    واقعہ ہے کہ صحابہ کی بشریت سے انکار نہیں، ان میں بشری احساسات بھی تھے اور بشری نفوس بھی تھے؛ لیکن ان کے دلوں کی پاکیزگی پر کتاب اللہ کی کھلی شہادت موجود ہے، ان کی طہارت قلبی پر قسم کھائی جاسکتی ہے، سو وہ ان بشری کمزوریوں سے یقیناً بالا تھے جو سچ اور جھوٹ حق اور باطل امانت اور خیانت میں فرق نہ کرسکیں، ان کے نفوس بشریہ کا اقرار اسی صورت میں لائق ذکر ہے کہ ساتھ ہی ان کی طہارت قلبی کا اعتراف ہو، ایک ایسے ہی مبحث سے حضرت ملا علی قاری کو گزرنا پڑا تو فرمایا:

    "اعلم ان الصحابۃ مع نزاھۃ بواطنھم وطہارۃ قلوبھم کانوا بشرا کانت لھم نفوس والمنفوس صفات تظہر فقد کانت نفوسھم تظہر بصفۃ وقلوبھم منکرۃ لذلک لیرجعون الی حکم قلوبھم وینکرون ماکان عن نفوسھم
    (شرح فقہ اکبر:۸۲)

    اسلام میں اصل الاصول قرآن پاک کی ہدایات ہیں، قرآن کریم میں ہے کہ اللہ تعالی نے صحابہ کرام کی تعلیم وتربیت آنحضرت کی ایک ذمہ داری ٹھہرائی تھی اور ان کے باطن کو پاک کرنا آپ کے فرائض رسالت میں شمار کیا تھا تو اب ان کی طہارت قلبی کا اقرار نہ کرنا دوسرے لفظوں میں یہ کفری بات کہنا ہے کہ آنحضرت اپنے فرائض رسالت کو ادا نہ کرسکے اور آپ نے صحابہ کو عمومی پاکیزگی نہ بخشی یہ سراسر الحاد ہے، اس میں اخص صحابہ ہی مراد نہ تھے، جیسے حضرت ابو بکر اور حضرت علی المرتضی ان حضرات پر تو کفر کا ایک لمحہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ تعالی نے تو ان لوگوں کا تزکیہ (دلوں کو پاک کرنا)آپ کے ذمہ لگایا تھا جو پہلے کھلی گمراہی میں تھے، قرآن کریم میں آپ کے فرض رسالت زیادہ تر انہی لوگوں سے متعلق ہیں جو پہلے کفر میں مبتلا تھے۔
    "وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
    (ال عمران:۱۶۴)
    ترجمہ:اور بے شک اس سے پہلے وہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے۔

    آنحضرت نے اپنے فرائض رسالت اس خوبی سے سر انجام دئیے کہ آپ کا ایک صحابی بھی ایسا نہ تھا جو عمداً جھوٹ بولتا ہو اور غیر ثقہ ہو، شیخ الاسلام علامہ بدرالدین عینیؒ لکھتے ہیں"لیس فی الصحابۃ من یکذب وغیر ثقۃ"(عمدۃ القاری:۲/۱۰۵)صحابہ میں ایک بھی ایسا نہ تھا جو جھوٹ بولتا ہو اور ثقہ نہ ہو، یہ کسی عالم یا مجتہد کی بات نہیں، خود اللہ تعالی نے ان صحابہؓ کے باطن کی خبر دی تھی اور یہاں تک فرمایا کہ بے شک وہ اس کے اہل تھے:
    "وَاَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰى وَکَانُوْٓا اَحَقَّ بِہَا وَاَہْلَہَا
    (الفتح:۲۶)
    ترجمہ:اور قائم رکھا اللہ نے انہیں تقوی کی بات پر اور حق یہ ہے کہ وہ اس کے لائق تھے اوراس کے اہل تھے۔

    یہ قرآن پاک کی شہادت ہے جس میں کسی قسم کا شک نہیں کیا جاسکتا جو شخص عام صحابہ کے بارے میں کلمہ تقوی لازم ہونے کا قائل نہ ہواور ان کی اہلیت میں اس لیے شک کرے کہ وہ پہلے کھلی گمراہی میں تھے وہ صریح طور پر منکر قرآن ہے، حدیث میں کلمۃ التقوی کی تفسیر لاالہ الاللہسے کی گئی ہے؛ سو تقوے اور طہارت کی بنیاد یہی کلمہ ہے جس کو اٹھانے اور اس کا حق ادا کرنے کے لیے اللہ تعالی نے اصحاب رسول کو چن لیا تھا اور بلا شبہ اللہ کے علم میں وہی اس کے مستحق اور اہل تھے، اللہ تعالی نے صحابہ کرام کی شخصیات کریمہ کو اس طرح اخلاق فاضلہ سے جلا بخشی تھی کہ کفر گناہ اور نافرمانی سے انہیں طبعاً متنفرکردیا تھا اور ایمان کو ان کے دلوں کی طلب اور زینت بنادیا تھا،اللہ تعالی نے صحابہ کرام کو خطاب کرتے ہوئےفرمایا:
    "وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ
    (الحجرات:۷)

    ترجمہ:لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈالدی ہے اور اسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنادیا ہے اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھادی ہے۔
  2. وحید احمد

    صحابہؓ سب کے سب عادل ہیں کسی پر جرح نہیں
    قرآن کریم نے جب صحابہ کے باطن کی خبر دی کہ وہ سب دولتِ ایمان پاچکے تھے تو وہ سب تزکیہ وتعدیل پر فائز سمجھے جائیں گے، ان شخصیات کریمہ میں جرح کوقطعاً راہ نہ ہوگی،وہ سب کے سب عادل قرار پائیں گے،جب دوسرے راویوں کے لیے جرح وتعدیل کی میزان قائم کی جائے گی تو اس مقدس گروہ کو اس سے مستثنی رکھا جائے گا اور وہ ہر لحاظ سے قابل اعتماد سمجھے جائیں گے ان کے دلوں میں ایمان لکھا جاچکا،قرآن کریم میں ہے:
    "اُولٰئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِیْمَانَ
    (المجادلہ:۲۲)
    ترجمہ:یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ ایمان لکھ چکا۔

    خطیب بغدای(۴۶۳ھ) لکھتے ہیں:
    "ان عدالۃ الصحابۃ ثابتۃ معلومۃ بتعدیل اللہ لھم واخبارہ عن طھارتھم واختیارہ لھم فی نص القرآن
    (الکفایہ:۴۶)
    ترجمہ:صحابہ کا عادل ہونا یقینی طور پر ثابت ہے اللہ تعالی نے ان کی تعدیل کی اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کی خبر دی ہے اور انہیں نص قرآن کے مطابق اس نے (اپنے نبی کی صحبت کے لیے)چن لیا تھا۔
    مزید تفصیل کے لیے دیکھیے
    (الکفایہ:۴۶۔اسد الغابۃ:۱/۱،شاملہ،موقع الوراق۔کتاب التمہید:۳/۲۰۰)


    شریعت وطبیعت میں مطابقت
    اللہ تعالی جن لوگوں کو گناہ سے طبعاً متنفر کردیتے ہیں تو پھر شریعت ان کی طبیعت ہوجاتی ہے ان کے لیے پھر ممکن نہیں رہتا کہ وہ اپنے ارادہ سے اپنے آقا ومولی کے ذمہ روایۃ یا عملاً کوئی ایسی بات لگائیں جو آپ نے نہ کہی ہو اور نہ کی ہو اور اسلام میں اسلام کے نام سے کوئی ایسی بات داخل کریں جو اسلام نے نہ بتائی ہو، گناہ کے لیے بد نیتی ضروری ہے، جب تک نیت بری نہ ہو گناہ نہیں ہوسکتا، اللہ تعالی نے حضور کے فیض صحبت اور تزکیہ باطن سے ان حضرات قدسیہ کے دلوں سے بد نیتی کا پہلو مٹادیا تھا، ان سے کوئی خطاسر زد ہو بھی تو بد نیتی کے بغیر ہوگی اور اسے خطاء اجتہادی سمجھا جائے گا اور اس پر بھی یہ حضرات ایک اجر پائیں گے؛ جہاں تک صحابہ کے اخلاص وعمل کا تعلق ہے اسے حضرت مولانا ابوالکلام آزاد کے الفاظ میں مطالعہ کیجیے:
    ہر شخص جو ان کی زندگی کا مطالعہ کرے گا بے اختیار تصدیق کرے گا کہ انہوں نے راہ حق کی مصیبتیں صرف جھیلی ہی نہیں ؛بلکہ دل کی پوری خوشحالی اور روح کے کامل سرور کے ساتھ اپنی زندگیاں ان میں بسر کرڈالیں، ان میں جو لوگ اول دعوت میں ایمان لائے تھے ان پر شب وروز کی جانکاہیوں اورقربانیوں کے پورے تئیس برس گزر گئے؛ لیکن اس تمام مدت میں کہیں سے بھی یہ بات دکھائی نہیں دیتی کہ مصیبتوں کی کڑواہٹ ان کے چہروں پر کبھی کھلی ہو، انہوں نے مال وعلائق کی ہر قربانی اس جوش ومسرت کے ساتھ کی گویا دنیا وجہاں کی خوشیاں اور راحتیں ان کے لیے فراہم ہوگئی ہیں اور جان کی قربانیوں کا وقت آیا تو اس طرح خوشی خوشی گردنیں کٹوادیں گویا زندگی کی سب سے بڑی خوشی زندگی میں نہیں موت میں تھی۔
    اس تفصیل سے یہ بات از خود واضح ہوجاتی ہے کہ ان حضرات کی زندگیوں میں کس طرح تعلیم نبوت اتری تھی، ان کے سینے علم نبوی سے خوشحال اور ان کے قلوب تزکیہ کی دولت سے مالا مال تھے، ان کی کوئی بات منشائے رسالت پر نہ بھی ڈھلی ہو تو بھی اس پراجتہاد کا ایک اجر مرتب ہے،اس پر حکم معصیت نہیں آتا؛ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کے کسی عمل پر بدعت کا اطلاق نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ بدعت اور سنت کے نام پر کبھی ان میں کوئی باہمی فرقہ بندی قائم نہ ہوئی تھی۔
    صحابہؓ کے اعمال پر بدعت کا اطلاق نہیں
    حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ(۱۰۵۲ھ)لکھتے ہیں کے خلفائے راشدین کوئی بات اپنے اجتہاد اور قیاس سے بتائیں اور اس پر کوئی صریح نص ان کے پاس نہ ہو تو بھی اس پر بدعت کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا اور ان کی اس بات کو موافق سنت ہی سمجھا جائے گا:
    پس ہرچہ خلفائے راشدین بداں حکم کردہ باشند....اطلاق بدعت برآں نتواں کرد۔
    (اشعۃ اللمعات:۱/۱۲۰)

    حضرت شیخ کا یہ فیصلہ اہل سنت والجماعت کے اس بنیادی اصول کے تحت ہے کہ بدعت کی حدیں صحابہ کے بعد سے شروع ہوتی ہیں حافظ بن کثیرؒ(۷۷۴ھ)لکھتے ہیں:
    "وأماأهل السنةوالجماعة فيقولون في كل فعل وقول لم يثبت عن الصحابة: هوبدعة؛ لأنه لو كان خيرا لسبقونا إليه، لأنهم لم يتركوا خصلة من خصال الخير إلا وقد بادروا إليها
    (تفسیر ابن کثیر۔تفسیر الاحقاف:۱۱،شاملہ)
    ترجمہ:اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ ہر وہ قول وفعل جو حضور کے صحابہ سے ثابت نہ ہو بدعت ہے کیوں کہ اس(دینی کام)میں کوئی خیر ہوتی تو صحابہ کرام ہم سے پہلے اس کام کی طرف رخ کرتے انہوں نے نیکی کی کسی بات کو نہ چھوڑا مگر یہ کہ وہ اس کی طرف دوڑتے تھے۔

    صحابہ کرام خود بھی اس بات کو جانتے تھے کہ ان کی نیکی کا ہر عمل شرعی سند رکھتا ہے وہ نصاً ہو یااجتہاداً سب کے سب قولاً اورعملاًترجمان شریعت تھے، حضرت حذیفہ بن الیمانؓ(۳۶ھ)فرماتے ہیں:
    "کل عبادۃ لم یتعبد ھااصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلا تعبدوھا
    (الاعتصام:۱/۵۴)
    ترجمہ:دین کا ہر وہ عمل جسے صحابہ نے دین نہیں سمجھا اسے تم بھی دین نہ سمجھنا۔

    بدعت کا مبدا ہویٰ اور نفسانی خواہشات ہوتی ہیں؛ سو جن حضرات کے دل تزکیہ وطہارت کی دولت پاچکے تھے ان سے بدعت کا صدور قریب قریب ناممکن ہوگیا تھا، یہ صحیح ہے کہ وہ انسان تھے اور نفوس انسانی رکھتے تھے؛ لیکن حضور کی نظر کامل سے تزکیہ قلب کا فیض اس قدر لے چکے تھے کہ دوسرے رواۃ حدیث کی طرح ان پر جرح کی اجازت نہ ہوگی،جرح کا منشاءعدم رضا ہے، سوجن سے خدا راضی ہوچکا اور وہ خدا سے راضی ہوچکے ان پر جرح کیسے ہوسکے، ان پر جرح تو خدا سے عدم رضا کا اظہار ہوا(معاذاللہ)سو! ان حضرات قدسی صفات پر نہ جرح کی اجازت ہے نہ ان سے اتصال سند کا مطالبہ ہے اوروں کی روایت کثرت رواۃ سے قوت پائے گی ؛یہاں ایک صحا بی بھی کوئی بات کہہ دے تو اب اور کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، یہاں تک کہ اپنے ہر مسئلہ میں کسی ایک صحابی کو مرکز علم بنالیا جائے اور ہر مسئلے میں اس کی طرف رجوع کیا جائے تو یہ بالکل درست ہوگا۔
  3. وحید احمد

    ہر مسئلہ میں ایک ہی صحابی کی طرف رجوع کرنا
    نقل روایت میں تو ایک صحابی کے بعد کسی دوسرے صحابی سے مزید تحقیق کی ضرورت نہیں رہتی اس لیے کہ صحابہ سب کے سب عادل اور ثقہ ہیں؛ لیکن اخذ مسائل میں مجتہدین صحابہ کو عام صحابہ پر تفوق اور امتیاز ضرور حاصل تھا، ایک کے بعد دوسرے سے مسئلہ پوچھا جاسکتا تھا لیکن اکابراہل علم میں سے کسی ایک بزرگ کو مرکز علم بنانا اور ہر مسئلہ میں ان کی طرف رجوع کرنا بھی بالکل درست سمجھا جاتا تھا، حضرت ابو موسی اشعریؓ(۵۲ھ)سے وراثت کا ایک مسئلہ پوچھاگیا اور پھر وہی مسئلہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے پوچھا گیا، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا جواب حضرت ابو موسی اشعریؓ کے جواب سے مختلف تھا، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس اس باب میں صریح حدیث نبوی موجودتھی،حضرت ابو موسی اشعری کا جواب ان کے اجتہاد پر مبنی تھا،مجتہد کبھی مخطی ہوتا ہے اور کبھی مصیب،تاہم یہ صحیح ہے کہ نص کے مقابلے میں اجتہاد کی اجازت نہیں، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو حضرت ابو موسی اشعریؓ کا جواب بتلایا گیا تو آپ نے یہ تو نہیں کہا کہ وہ گمراہ ہوئے اپنے بارے میں فرمایا: اگر میں بھی یہی جواب دوں تو بےشک میں گمراہ ہوں گا(کیونکہ میرے پاس تو اس باب میں نص حدیث موجود ہے، نص کے ہوتے ہوئے اجتہاد کو کیا راہ)حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا یہ جواب جب حضرت ابو موسی اشعریؓ کو بتلایا گیا تو آپ نے فرمایا:
    "لَاتَسْأَلُونِي مَادَامَ هَذَا الْحَبْرُ فِيكُم
    (بخاری،بَاب مِيرَاثِ ابْنَةِ الِابْنِ مَعَ بِنْتٍ،حدیث نمبر:۶۲۳۹،شاملہ، موقع الإسلام)
    ترجمہ:جب تک یہ بڑے عالم تم میں موجود ہیں تو مجھ سے کوئی مسئلہ نہ پوچھا کرو۔

    سبحان اللہ کیا شانِ عقیدت تھی، حضرت ابو موسی اشعریؓ نے یہاں "ھذا لحبر" کہا ہے"ھذا الصحابی" نہیں کہا معلوم ہوا کہ ہر مسئلہ میں کسی ایک مرکز کی طرف رجوع کرنا ان کی منزلت علمی کی وجہ سے تھا، منزلت صحابیت کی وجہ سے نہیں، صحابی کے علاوہ سبھی اگر کوئی بزرگ اپنے علم وتفقہ میں ممتاز ہوں تو ہر مسئلے میں ان کی طرف رجوع ہوسکتا ہے اور علمی امتیاز میں تو صحابی بھی بے شک ایک دوسرے سے مختلف تھے، ہاں یہ بات صحیح ہے کہ ہر صحابی اپنی ذات میں علم کی اتنی روشنی اور دل میں اتنی پاکیزگی پاچکا تھا کہ ان کا کوئی دینی مسئلہ اور کوئی علمی موقف ہوائے نفسانی پر مبنی نہ ہوسکتا تھا اور عام افراد امت ان میں سے کسی کی پیروی بھی کرلیں تو یہ اتباع منیبین ہی تھی کہ سب انابت الی اللہ، حسن نیت اور تزکیہ قلب کی دولت سے مالا مال تھے، حضور سے ان کی نسبت اتنی گہری تھی کہ اور سب نسبتیں اس پر قربان ہوچکی تھیں۔
    مقام صحابہ ؓ تاریخ کے آئینہ میں
    محبت ایمان کی اس آزمائش میں صحابہ کرامؓ جس طرح پورے اترے اس کی شہادت تاریخ نے محفوظ کرلی ہے اور وہ محتاج بیان نہیں،بلاشائبہ ومبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کے کسی گروہ نے کسی انسان کے ساتھ اپنے سارے دل اوراپنی ساری روح سے ایسا عشق نہیں کیا ہوگا،جیسا کہ صحابہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے راہ حق میں کیا، انہوں نے اس محبت کی راہ میں وہ سب کچھ قربان کردیا جو انسان کرسکتا ہے اور پھر اس کی راہ سے سب کچھ پایاجو انسانوں کی کوئی جماعت پاسکتی ہے۔
    (ترجمان القرآن:۲)

    ان صحرانشینوں کے ایمانی کردار کا نقشہ کتنی ہی احتیاط اورفکری گہرائی سے کیوں نہ کھینچا جائے، عام انسانی سطح اس ایمان افروز نظارے کا تصور بھی نہیں کرسکتی،اقبال مرحوم نے بجا کہا تھا۔
    غرض میں کیا کہوں تم سے کہ وہ صحرا نشین کیا تھے
    جہاں گیرو جہاں دار وجہابان و جہاں آراء
    اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
    مگر تیرے تخیل سے فزوں تر ہے وہ نظارا
    یہ اتنی بڑی سچائی ہے کہ اس کے اُوپر اور کوئی نقطہ یقین نہیں، صحابہ کرام کو اسلام میں وہ مقام حاصل ہے جو عام افراد امت کونہیں اور اس حیثیت سے ان حضرات کے اقوال و اعمال بھی حدیث کا موضوع بن جاتے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ ان میں بھی حضورؓ کے اقوال و اعمال کی ہی جھلک ہے اوریہ حضرات اسی شمع رسالت سے مستنیر ہیں،ان حضرات کی تنقیص کسی پہلو سے بھی جائز نہیں،حافظ ابوزرعہ(۸۲۲ھ) کہتے ہیں۔

    "إذارأيت الرجل ينتقص أحدًا من أصحاب رسول اللهفاعلم أنه زنديق، وذلك أن الرسول عندنا حق والقرآن حق، وإنماأدى إلينا هذا القرآن والسنن أصحاب رسول الله، وإنما يريدون أن يجرحوا شهودنا ليبطلوا الكتاب والسنة، والجرح بهم أولى وهم زنادقة
    (تاریخ ابی زرعہ دمشقی:۱/۴۱۲)
    ترجمہ:اورجب توکسی کوحضور کے صحابہ میں سے کسی کی برائی کرتے دیکھے تو جان لے کہ وہ زندیق ہے اور یہ اس لیے کہ حضور پاک برحق ہیں اورقرآن کریم بھی برحق ہے اور ہمیں قرآن اور سنن صحابہ کرام ہی نے پہنچائے ہیں، صحابہؓ کی عیب جوئی کرنے والے چاہتے ہیں کہ ہمارے گواہوں(صحابہ) کو مجروح کردیں؛ تاکہ کتاب و سنت کو باطل کیا جاسکے،جرح کے لائق وہ خود ہیں اوریہ لوگ زندیق ہیں۔


    صحابہؓ کے بھی اعمال حدیث کا موضوع ہیں
    صحابہ کرامؓ کے اقوال و اعمال بھی بایں جہت کہ یہ حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تر بیت یافتہ تھے اورآپ کے فیض صحبت سے تزکیہ کی دولت پائے ہوئے تھے،ان کے افعال و اقوال میں حضور کی تعلیم قدسی کی ہی جھلک تھی اوران سے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا تسلسل قائم ہوا ہے حدیث کا موضوع ہیں۔
    سو علم حدیث وہ علم ہے جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات واعمال کے ساتھ ساتھ آپ کے اصحاب کرام کے اقوال و اعمال سے بھی بحث کی جاتی ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ اس میں سنت قائمہ کیا ہے؟ حدیث کی تقریبا سب کتابوں میں ان نفوس قدسیہ کے فضائل مناقب کے مستقل ابواب ہیں اور انہیں چھوڑ کر دین میں چلنے کی کوئی راہ نہیں۔
    محدثین کرام کتب حدیث میں صرف مرفوع حدیثیں(وہ حدیثیں جو حضور تک پہنچتی ہوں) ہی نہیں لکھتے،بلکہ ان میں ایک بڑا ذخیرہ ان روایات کا بھی ہوتا ہے جن میں صحابہ کے اقوال و اعمال مروی ہوں اور یہ سلسلہ روایات مرفوع احادیث کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اورانہی کی شرحساتھ ساتھ کرتا ہے، امام زہری(۱۲۴ھ) اورصالح بن کیسان (۱۴۰ھ) حدیث کی طالب علمی میں اکٹھے رہے اوردونوں نے جمع احادیث پر کمر باندھی، جب دونوں مرفوع روایات لکھ توچکے آپس میں مشورہ کیا، صحابہؓ کے اقوال و اعمال بھی ساتھ لکھے جائیں یا نہ؟ صالح بن کیسانؒ نے کہا کہ وہ سنت نہیں ہیں، مگر بعد میں انہیں احساس ہوا کہ ان کی بات درست نہ تھی،پھر انہوں نے برملا کہا کہ:

    "اجتمعت أنا وابن شهاب ونحن نطلب العلم، فاجتمعنا على أن نكتب السنن، فكتبنا كل شئ سمعناه عن النبي، ثم قال نکتب أيضا ما جاء عن أصحابه، فقلت : لا، ليس بسنة، وقال هو : بلى هو سنة، فكتب ولم أكتب، فأنجح وضيعت
    (مصنف عبدالرزاق،۱۱،:۲۵۸،بریکٹ کے الفاظ ہم نے شرح السنہ للبغوی،۱،:۲۹۶ سے لیکر المصنف کے متن کی تصحیح کی ہے، متن میں یہاں ثم کتبنا ایضا کے الفاظ کسی طرح صحیح نہیں فلیتنبہ)
    ترجمہ: میں اورابن شہاب زہری اکٹھے پڑہتے تھے، ہم نے باہمی اتفاق کیا کہ حدیثیں لکھیں،ہم نے ہر چیز جو حضور کے بارے میں سنی تھی لکھ ڈالی پھر ہم نے چاہا کہ وہ کچھ بھی لکھیں جو آپ کے صحابہ کے بارے میں روایت ہوا ہے میں نے کہا نہیں (ہم انہیں نہ لکھیں) یہ سنت نہیں ہیں اور انہوں نے (امام زہری نے) کہا کیوں نہیں وہ بھی سنت ہیں، سوانہوں نے لکھا اور میں نے نہ لکھا وہ کامیاب رہے اور میں ضائع ہوگیا۔

    معلوم ہوا کہ ہر وہ عالم جو صحابہ سے منہ موڑے گا، انہیں دین کا سرمایہ علم نہ سمجھے گا اوران کے عمل کو سنت اسلام تسلیم نہ کرے گا وہ ضائع ہوگا اور دین مسلسل میں اس کے لیے جگہ نہ ہوگی، امام زہری(۱۲۴ھ) ہی نہیں علامہ شعبی (۱۰۳ھ) بھی کہتے ہیں کہ صحابہؓ حدیث کا موضوع ہیں انہیں عام لوگوں کی طرح نہ سمجھنا چاہئے، دوسروں کی بات آپ مانیں یا نہ مانیں، لیکن صحابہ کی بات ہمیشہ لینی چاہئے یہ سرمایہ علم ہیں اوران کی ہربات لائق اخذ ہے۔
    (دیکھئے: الکفایہ خطیب بغدادی:۴۹)
    بہر حال یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ صحابہ کرام کے اقوال و اعمال بھی حدیث کا موضوع ہیں،صحیح بخاری اورصحیح مسلم کو ہی دیکھ لیجئے، ان میں صحابہ کی روایات کس قدر پائی جاتی ہیں،موطاامام مالک سے لے کر مستدرک حاکم اورسنن بیہقی تک کودیکھئے ہر کتاب میں صحابہ و تابعین کے ارشادات اور فتاوے بکثرت ملیں گے،انہیں دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ امام زہریؒ واقعی کامیاب رہے اور جنہوں نے صحابہ کی روایات کو حدیث کا موضوع نہ سمجھا ان کی محنتیں ضائع گئیں اور حق یہ ہے کہ علم حدیث کا موضوع صحابہ کی زندگیوں کو بھی شامل ہے اوران کے تعامل کو معلوم کئے بغیر حدیث کی معرفت واقعی بہت مشکل ہے، یہی اکابر امت ہیں کہ جب تک علم ان سے ملے گا، اس میں خیر ہے اورجب لوگ اپنے جیسوں سے علم لینے لگیں تو اس میں ہلاکت ہوگی، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ(۳۲ھ) فرماتے ہیں:
    "يزال الناس صالحين متماسكين ما أتاهم العلم من أصحاب محمد ومن أكابرهم، فإذا أتاهم من أصاغرهم هلكوا
    (المصنف عبدالرزاق،۱۱،:۱۴۶)
    ترجمہ: جب تک علم اصحاب رسول سے اوراپنے بڑوں سے آتا رہے لوگ نیک اورمضبوط رہیں گے اور جب لوگوں کو علم ان کے اصاغر سے ملنے لگے (جواوپر سے علم لینے والے نہیں اپنے طورپر سوچنے والے اہل اہواء ہیں وہ) ہلاک ہونگے۔

    حضرت عبداللہ بن مبارکؓ فرماتے ہیں کہ یہاں اصاغر سے مراد اہل بدعت ہیں، سو اصاغر ہم میں اضافت عام لوگوں کی طرف ہے، اصحاب محمد کی طرف نہیں، حضرت امام اوزاعی(۷۵۱ھ) نے بقیہ بن ولید کو نہایت واضح الفاظ میں کہا تھا کہ جو چیز صحابہ سے منقول نہ ہو وہ علم ہی نہیں:
    "یابقیۃ العلم ماجاء عن اصحاب محمد وما لم یجی عن اصحاب محمد فلیس علم
    (جامع بیان العلم وفضلہ للقرطبی، باب معرفۃ اصول العلم وحقیقتہ:۲/۶۵)

    حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی منزلت وعظمت صحابہ میں محتاج بیان نہیں،آپ اکابر اہل علم سے ہیں جن کا قول و عمل اسلام میں سند سمجھا جاتا ہے، آپ کھل کر کہتے ہیں کہ حضورؓ کے بعد اگر کوئی قابل اقتداء ہے تو وہ اصحاب رسول ہیں، ان کا علم گہرا تھا،وہ تکلف سے کوسوں دور تھے اوران کے دل نیک تھے،اللہ تعالی نے انہیں اپنے نبی پاک کی صحبت کے لیے چن لیا تھا۔
    "من كان مستنا فليسن بمن قد مات فإن الحي لا تؤمن عليه الفتنة، أولئك أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا أفضل هذه الأمة أبرها قلوبا وأعمقها علما وأقلها تكلفا اختارهم الله لصحبة نبيه ولإقامة دينه فاعرفوا لهم فضلهم واتبعوهم على آثارهم وتمسكوا بما استطعتم من أخلاقهم وسيرهم فإنهم كانوا على الهدى المستقيم، رواه رزين
    (مشکاۃ،:۳۲،دہلی،حدیث نمبر:۱۹۳،شاملہ،المكتب الإسلامي، بيروت)
    ترجمہ: جو شخص کسی کی پیروی کرنا چاہے اسے فوت شدگان کی پیروی کرنا چاہئے،کیونکہ زندہ کوفتنے سے محفوظ نہیں سمجھا جاسکتا،وہ فوت شدگان اصحاب رسول ہیں جو اس امت کا بہترین طبقہ تھے،ان کے دل نیک تھے ان کا علم گہرا تھا،تکلف سے بہت دور تھے،اللہ نے انہیں اپنے نبی کی صحبت کے لیے اور اس کے دین کی اقامت کے لیے چن لیا تھا ان کے فضل کو پہچانوان کے نقش پاکی پیروی کرو، جہاں تک ہوسکے ان کے اخلاق اوران کی عادات سے سند پکڑو، بے شک وہ سیدھی راہ پر تھے۔

    امام بغوی نے شرح السنہ میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں:
    "اختارھم اللہ لصحبۃ نبیہ ونقل دینہ فتشبھواباخلافھم وطرائقھم فہم کانوا علی الھدی المستقیم
    (شرح السنہ:۱/۲۱۴)
    ترجمہ: چن لیا اللہ تعالی نے ان کو اپنے نبی کی مصاحبت کے لیے اور آپ کے دین کو آگے پہنچانے کے لیے سو ان کے اخلاق اور طریقوں کو اپناؤ وہ سب راہ مستقیم پر تھے۔

    حضرت حسن بصری(۱۱۰ھ) نے تو اسے قسم کھا کر بیان کیا ہے اور انہی کے عمل کو صراط مستقیم ٹھہرایا ہے۔
    "فتشبھوا باخلاقھم وطرائقہم فانھم ورب الکعبۃ علی الصراط المستقیم
    (فتح الملہم،۱،:۴۸)
    ترجمہ:ان کے اخلاق اورعادتوں کو اپناؤ، رب کعبہ کی قسم صحابہ سب صراط مستقیم پر تھے۔

    پھر فرماتے ہیں:
    "ماحدثوك عن أصحاب رسول الله فخذ به، وما قالوا برأيهم قبل عليه
    (مصنف عبدالرزاق:۲/۲۵۶،حدیث نمبر:۲۰۴۷۶، موقع يعسوب)
    ترجمہ: علماء جو باتیں تمہارے پاس اصحاب رسول سے روایت کریں انہیں تو لے لو اور جو بات وہ اپنی رائے سے کہیں سو اس کو جانے دو۔

    اپنی رائے سے مرادیہ ہے کہ ان کی وہ بات جو قرآن و حدیث یا آثار صحابہ سے مستنبط نہ ہو وہ ان کی اپنی رائے ہوگی،ان کا قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک اجتہاد ہوگا، اس سے اختلاف تو کیا جاسکتا ہے،لیکن اس کے بارے میں قیل علیہ کے سے سخت الفاظ نہیں کہے جاسکتے، سو رائے سے یہاں مراد محض رائے ہے اس سے کسی طرح اجتہادِ مجتہد مراد نہیں۔
    یہ صحابہ کے کسی معتقد یا کسی عام امتی کی رائے نہیں، ایک جلیل القدر صحابی کی ہے، جو خود علم کی دولت سے مالا مال تھے، وہ یہاں صحابہ کرام کے صرف اخلاص و ایثار کی تعریف نہیں کررہے ؛بلکہ ان کے گہرے علم کی شہادت دے رہے ہیں، ایک اتنے بڑے عالم سے ان کے علم کی شہادت جمیع صحابہ کی علمی گہرائی اورفکری گیرائی کا پتہ دیتی ہے اور یہ تعریف بھی صرف خلفائے راشدین یا چنداکابر صحابہ کی ہی نہیں، بلکہ علی الاطلاق عام اصحاب رسول کی بیان ہورہی ہے اور اس میں انہیں مقتداء ٹھہرایا جارہا ہے، یہ صورت عمل اور انداز فکر خود پتہ دے رہا ہے کہ صحابہ کرام کو اسلام میں اس وقت بھی وہ درجہ حاصل تھا جو عام افراد امت میں کسی بڑے سے بڑے عالم اورکسی بڑے سے بڑے ولی کو حاصل نہیں اور یہ صحیح ہے کہ وہ سب صراط مستقیم کے عملی نمونے تھے۔
    حضرت حسن بصری(۱۱۰ھ) نے تو اسے قسم کھاکر بیان کیا ہے اور صحابہ کے عمل کو ہی صراط مستقیم قرار دیا ہے،یہ قریب قریب وہی مضمون ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے،صحابہ پراپنی حیثیت کچھ اس طرح واضح تھی کہ وہ برملا لوگوں کو اپنے نقش پاپر آنے کی دعوت دیتے تھے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ایک اورموقع پر فرمایا:

    "اتبعوااثارناولاتبتدعوافقد کفیتم
    (الاعتصام للشاطبی:۱/۵۴)
    ترجمہ:تم ہم صحابہ کے نقش قدم پر چلتے رہو، نئی نئی باتیں نہ نکالو، ہماری پیروی تمہارے لیے کافی ہے۔

    آپ نے اس میں صحابہ کے آثار کو پوری امت کے لیے نمونہ کہا ہے اور اس پر بھی متنبہ فرمایا کہ بدعت کی حد صحابہ کے بعد سے شروع ہوتی ہے، حضور کے بعد پیدا ہونے والی ہر دینی ضرورت صحابہ کے علم کفایت کے سائے میں تمہارے لیے کافی نمونہ ہے۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی صحابہ کرام کو فرمادیا تھا کہ لوگ تمہارے مقتدی ہوں گے دنیا کے مختلف کناروں سے تم سے دین لینے آئیں گے، حضرت ابو سعید الخدریؓ(۷۴ھ) کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "إِنَّ النَّاسَ لَكُمْ تَبَعٌ وَإِنَّ رِجَالًا يَأْتُونَكُمْ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرَضِينَ يَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ
    (جامع ترمذی:۲/۲۷۱،حدیث نمبر:۲۵۷۴،موقع الإسلام)
    ترجمہ:بے شک (بعد میں آنے والے) لوگ تمہارے پیرو ہوں گے وہ دنیا کے کناروں سے تمہارے پاس پہنچیں گے تاکہ دین میں (اپنے لیے ) کچھ سمجھ پیدا کرلیں۔

    اس میں یہ نہیں فرمایا کہ وہ میری روایات لینے کے لیے تمہارے پاس پہنچیں گے، بلکہ"يَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ" فرمایا کہ وہ دین کی سمجھ لینے کے لیے تمہارے پاس پہنچیں گے، اس سے معلوم ہوا کہ امت کے لیے فہم صحابہ حجت اورسند ہے اور بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے ان کی پیروی اوران کے پاس دین سیکھنے کے لیے آنا اور ان سے دین سمجھنا لازم و ضروری ہے، حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
    "فیہ ان الصحابۃ متبوعون یجب علی الناس متابعتھم والایتان علیہم لطلب العلم
    (لمعات التنقیح:۱/۲۷۱)
    ترجمہ:اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ مقتدا اورپیشوا ہیں لوگوں پر ان کی پیروی کرنا اورطلب علم کے لیے ان کے پاس آنا واجب ہے۔

    یہ نہ سمجھا جائے کہ صحابہ صرف اپنے تابعین کے لیے ہی متبوعون ہیں اوران کی پیروی صرف ان کے دورحیات میں ہی ہوگی، نہیں ہرگز نہیں؛ بلکہ ان کی پیروی ان کے بعد بھی جاری رہے گی اورامت ان کے عہد میں بھی اوران کے بعد بھی ہمیشہ ان کو اپنا مقتدا اور پیشوا سمجھے گی،حضرت امام نوویؒ (۶۷۶ھ) لکھتے ہیں:
    "انہم ائمۃ الاعلام وقادۃ الاسلام ویقتدی بھم فی عصرھم وبعدھم
    (شرح صحیح مسلم للنووی:۱/۳۸۶)
    ترجمہ:بے شک یہ حضرات (صحابہ کرام) مرکزی پیشوا ہیں اور یہی حضرات قافلہ اسلام کے قائد ہیں ان کی پیروی ان کے اپنے وقتوں میں بھی تھی اوران کے بعد بھی جاری رہے گی۔

    امام نویؒ نے "یقتدی بہم" کی یہ تعبیر اپنی طرف سے نہیں کی، اکابر صحابہ سے لی ہے، صحابہ میں صرف ایک بزرگ تھے جن کا علمی مرتبہ اور مقام عرفان حضرت فاروق اعظم سے بھی اونچا تھا، وہ کون تھے؟حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ،اب دیکھئے حضرت عمرؓ اپنی نسبت ان سے کس طرح قائم کرتے ہیں، آپ انہیں "یقتدی بہم" کے تحت ہمیشہ اپنا پیشوا سمجھتے تھے(مسند امام احمد:۳/۴۱۰) حضور کی پیروی کے ساتھ آپ کی پیروی کو بھی لازمی سمجھتے رہے،حضرت ابووائل کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:
    "هُمَا الْمَرْءَانِ أَقْتَدِي بِهِمَا
    (بخاری:۹/۱۱۴،حدیث نمبر:۱۴۹۱، موقع الإسلام)
    ترجمہ:یہ وہ دو مرد ہیں جن کی پیروی میں کرتا ہوں۔

    یہ آپ اپنے لیے کہہ رہے تھے،باقی احادامت کے لیے آپ نے کل صحابہ کرام کو پیشوا ٹھہرایا ہے،ایک دفعہ آپ نے طلحہ بن عبیداللہ پر حالت احرام میں رنگ دار چادر دیکھی،طلحہ نے کہا جناب اس رنگ میں خوشبو نہیں، عام لوگوں کے لیے اس میں مغالطے کا اندیشہ تھا، اس پر حضرت عمرؓ نے حضرت طلحہ کو مخاطب کرکے کہا:
    "إِنَّكُمْ أَيُّهَا الرَّهْطُ أَئِمَّةٌ يَقْتَدِي بِكُمْ النَّاسُ
    (موطا امام مالک:۱۳۲،کتاب الحج،حدیث نمبر:۶۲۶)
    ترجمہ: اے لوگو! تم امام ہو، لوگ تمہاری پیروی کریں گے۔

    ایک اور موقعہ پرفرمایا:
    "إنَّكُمْ مَعْشَرَ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ مَتَى تَخْتَلِفُونَ تَخْتَلِفُ النَّاسُ بَعْدَكُمْ وَالنَّاسُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجْمِعُوا عَلَى شَيْءٍ يَجْمَعُ عَلَيْهِ مَنْ بَعْدَكُمْ
    (فتح القدیر لابن الہمام:۲/۱۲۳)
    ترجمہ: بیشک تم حضور کے صحابہ ہو جب تم اختلاف میں پڑوگے تو تمہارے بعد اور اختلاف کرنے لگیں گے، لوگ ابھی ابھی جاہلیت سے نکلے ہیں، تم ایک بات پر جمع ہوکر رہو، بعدوالے بھی اس پر جمع رہیں گے۔

    حضرت حذیفہ بن الیمان نے مدائن میں ایک یہودی عورت سے نکاح کرلیا تو باوجود یکہ اہل کتاب سےنکاح حلال تھا، حضرت عمرؓنے انہیں حکم دیا کہ وہ فورا اسے طلاق دے دیں، اس کےوجہ آپ نے یہ فرمائی کہ صحابی کی حیثیت چونکہ مقتدا کی ہے، اس لیے اندیشہ ہے کہ اور مسلمان بھی اس راہ پر نہ چل پڑیں،آپ نے انہیں لکھا:
    "اعزم علیک ان لا تضع کتابی حتی تخلی سبیلھا فانی اخاف ان یقتدیک المسلمون فیختا روانساء اھل الذمہ لجمالھن
    (کتاب الآثارامام محمد:۵۶)
    ترجمہ:میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ میرا یہ خط رکھنے سے پہلے پہلے اس عورت کو فارغ کردو، مجھے ڈر ہے کہ مسلمان تمہاری پیروی کریں اور اہل ذمہ کی عورتوں کو ان کے حسن و جمال کی وجہ سے پسند کرنے لگیں۔

    اسلام میں صحابہ کی مقتداء والی حیثیت ہمیشہ سے مسلم رہی ہے،حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کو ایک خاص قسم کے موزے پہنے دیکھا، آپؓ نے فرمایا:
    "عزمت علیک ان لا نزعتہا فانی اخاف ان ینظر الناس الیک فیقتدون بک
    (مسنداحمد، حدیث عبدالرحمن بن عوف، حدیث نمبر:۱۶۶۸)
    ترجمہ:میں تمھیں قسم دیتا ہوں کہ انہیں ابھی اتار دو مجھے ڈر ہے کہ لوگ تمہیں اس طرح دیکھیں اور تمہاری پیروی کرنے لگیں۔

    صحابہ کی مقتدا ہونے والی حیثیت مسلم نہ ہوتی تو بار پیروی کرنے والے پر آتا، صحابہ کو اتنا محتاط چلنے کا حکم نہ ہوتا، حضرت فاروق اعظمؓ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو جب کوفہ بھیجا تو ان کے ساتھ حضرت عمار بن یاسرؓ بھی تھے، دونوں کی عبقری شخصیت صحابہ میں خوب معروف تھی، حضرت فاروق اعظمؓ نے سب اہل کوفہ کو ان کی اقتداء کا حکم دیا۔
    "فاقتدوا بهما واسمعوا،من قولھما قد آثرتكم بعبد الله بن مسعود على نفسي
    (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۴،موقع يعسوب)
    ترجمہ: تم ان دونوں کی اتباع کرو اوران کی بات مانو اور بے شک میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ نعہ کو تمہارے ہاں بھیج کر تمہیں اپنی ذات پر ترجیح دی ہے۔

    صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ اتباع تابعین میں جاری رہی اور ہر ہر روایت پر کوئی نہ کوئی صحابی ضرور عامل رہا اور اس طرح جملہ احادیث تابعین میں پھیلتی چلی گئیں اورصحابہ کی مقتدا والی پوزیشن تابعین اور تبع تابعین میں مسلم رہی،حافظ ابن حجرعسقلانی فرماتے ہیں کہ تعلیم شریعت رہتی دنیا تک اس تسلسل سے رہنی چاہئے۔
    "تَعَلَّمُوا مِنِّي أَحْكَامَ اَلشَّرِيعَةِ وَلْيَتَعَلَّمْ مِنْكُمْ اَلتَّابِعُونَ بَعْدكُمْ وَكَذَلِكَ أَتْبَاعهمْ إِلَى اِنْقِرَاض الدُّنْيَا
    (فتح الباری:۲/۱۷۱)
    ترجمہ: تم مجھ (حضور) سے احکام شریعت سیکھو تم سے تابعین اور اسی طرح تبع تابعین ان سے سکھیں یہاں تک کہ دنیا اپنے آخر کو جا پہنچے۔

    حضرت سالم بن عبداللہ نے حضرت ابوبکرصدیقؓ کے پوتے حضرت قاسم بن محمد سے قراۃ خلف الامام (امام کے پیچھے قرآن پڑھے یا نہ) کا مسئلہ پوچھا آپ نے فرمایا:
    "إن تركت فقد تركه ناس يقتدى بهم وإن قرأت فقد قرأه ناس يقتدى بهم
    (موطا امام محمد:۹۶،حدیث نمبر:۱۱۹، دارالقلم،دمشق)
    ترجمہ:اگر قرأۃ خلف الامام کو چھوڑدو تو بیشک اسے ان لوگوں نے ترک کیا جو امت کے مقتدا تھے (یعنی صحابہ کرامؓ) اور تم پڑھ لو بیشک اسے ان لوگوں نے پڑھا ہے جن کی امت میں پیروی کی جارہی ہے۔

    تابعین میں اس پیرایہ میں صحابہ کا ذکر ان کی مقتدا والی حیثیت کو واضح کرتا ہے؛ انہی سے سنت اسلام جاری ہوئی اوروہ اس کے اہل تھے،حضرت سعدبن ابی وقاصؓ(۵۵ھ) جب گھر میں نماز پڑھتے تو نماز لمبی کرتے،رکوع وسجود طویل کرتے اورجب مسجد میں نماز پڑہتے توجلدی کرتے، آپ کے بیٹے حضرت مصعب نے اس کی وجہ پوچھی،آپ نے فرمایا:
    "یا بنی انا ائمۃ یقتدی بنا
    (المصنف عبدالرزاق:۲/۳۶۷۔ مجمع الزواید للہثیمی:۱/۱۸۲)

    ترجمہ: اے میرے بیٹے بے شک ہم صحابہ ائمہ ہیں ہماری پیروی(امت میں) کی جاتی رہے گی۔

اس صفحے کی تشہیر