1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عنوان :قادیانی دجال کی تحریری گستاخیاں ( پارٹ 2)

عبیداللہ لطیف نے 'جھوٹے مدعیانِ نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 26, 2017

  1. ‏ جون 26, 2017 #1
    عبیداللہ لطیف

    عبیداللہ لطیف رکن ختم نبوت فورم

    تحریر:۔عبیداللہ لطیف
    عنوان :قادیانی دجال کی تحریری گستاخیاں ( پارٹ 2)
    توہین قرآن وحدیث:۔
    مرزا قادیانی قرآن مقدس کے متعلق اپنی گندی ذہنیت کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے:
    * ’’قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘
    (بحوالہ تذکرہ صفحہ 77، طبع چہارم )
    * ’’میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اس طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خدا کاکلام یقین کرتا ہوں۔‘‘
    (حقیقۃ الوحی صفحہ 220، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22صفحہ 220)
    * مرزا قادیانی قرآن مجید میں تحریف کرتے ہوئے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں رقم طراز ہے:
    ’’ جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیاں میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا انا انزلناہ قریبا من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کانام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انھوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہ الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ واقع طور پر قادیان کانام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزا زکے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ ، مدینہ اور قادیان۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 77,76 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 140)
    اسی طرح اپنی کتاب ’’نور الحق‘‘ حصہ اول مندرجہ روحانی خزائن جلد 8صفحہ63 پر مرزا رقم طراز ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: وَجَادِلْھُمْ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ یہ عربی درج کرنے کے بعد حاشیہ میں سورہ النحل آیت نمبر126کا حوالہ دیا گیا ہے، جب کہ پورے قرآن پا ک میں یہ عبارت کہیں پر بھی موجود نہیں۔
    * ’’اور ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اوروہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی ۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘
    (اعجاز احمدی صفحہ 36، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 ،صفحہ 140)
    * ’’اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہو اس کو اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار سے چاہے خدا سے علم پاکر قبول کر لے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پاکر رد کر دے۔‘‘
    (تحفہ گولڑویہ صفحہ 15، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17، صفحہ 51)
    * محترم قارئین!یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قرآن مجید کلام الٰہی ہے نہ کہ ا للہ تعالیٰ کی مخلوق۔تاریخ گواہ ہے کہ اسی ایک مسئلہ کی وجہ سے امام احمدابن حنبل رحمۃاللہ علیہ کونہ صرف قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کرناپڑیں بلکہ شدیدترین ظلم وتشددکاشکاربھی ہوناپڑالیکن اُن کے پایہ استقلال میں کمی نہ آئی اور وہ قرآن مجید کے کلام الہٰی ہونے کے مؤقف پرڈٹے رہے جبکہ مخالفین قرآن مجید کو مخلوق ثابت کرنے کے لیے کوئی بھی ٹھوس دلیل پیش نہ کرسکے ۔
    محترم قارئین!یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ مرزاقادیانی بھی ایسا انسان تھا جس کے دوسرے انسانوں کی طرح ماں با پ اوردوسرے عزیزرشتہ دار تھے ۔ اوربحثیت انسان وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق تھا۔مرزاقادیانی اس کے برعکس اپنے آپ کو قرآن مجید کی مانندقرقردیتے ہوئے رقمطراز ہے کہ
    ’’مَآنَااِلَّاکَالْقُرْاٰنِ وَسَیَظْھَرُعَلٰی یَدَیَّ مَاظَھَرَمِنَ الْفُرْقَانِ
    میں توبس قرآن ہی کی طرح ہوں اورعنقریب میرے ہاتھ پرظاہرہوگاجوکچھ فرقان سے ظاہرہوا۔‘‘
    (بحوالہ تذکرہ صفحہ570طبع چہارم ازمرزاقادیانی)
    توہین صحابہ j:۔
    محترم قارئین ! جہاں پررب کائنات اور انبیاء کرام علیہم السلام کی مقدس اور پاکباز ہستیاں مرزا قادیانی کے قلم کے شرکا شکار ہوئیں وہیں پر صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی بابرکات ذاتیں بھی اس ملعون کے شر سے نہیں بچ سکیں۔ آئیے! میں آپ کو مرزا کذاب کی طرف سے توہین صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے چند نمونے بھی دکھاتا چلوں۔ چنانچہ مرزا قادیانی رقم طراز ہے :
    * مرزا قادیانی اپنی جماعت کے بارے میں لکھتا ہے:
    ’’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہوگا کہ وہ آنحضرت aکا بروز ہوگا۔ اس لیے اس کے اصحاب آنحضرت aکے اصحاب کہلائیں گے۔‘‘
    (تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 68مندرجہ روحانی خزائن جلد 22صفحہ502)
    ’’ پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا درحقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔‘‘
    (خطبہ الہامیہ صفحہ 71 مندرجہ روحانی خزائن جلد16، صفحہ 258)
    * مرزاقادیانی کا فرزندمرزابشیراحمداپنی کتاب سیرت المہدی میں رقمطرازہے کہ
    ’’میاں امام دین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریرمجھ سے بیان کیاکہ جب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے تین سوتیرہ اصحاب کی فہرست تیارکی توبعض دوستوں نے خطوط لکھے کہ حضورہمارانام بھی اس فہرست میں درج کیاجائے یہ دیکھ کرہم کوبھی خیال پیداہواکہ حضورعلیہ السلام سے دریافت کریں کہ آیاہمارانام درج ہوگیاہے کہ نہیں؟تب ہم تینوں برادران مع منشی عبدالعزیزصاحب حضورکی خدمت میں حاضرہوئے اوردریافت کیا۔اس پرحضورنے فرمایاکہ میں نے آپ کے نام پہلے ہی درج کیے ہوئے ہیں مگر ہمارے ناموں کے آگے ’’مع اہل بیت‘‘کے الفاظ بھی زائدکیے تھے ۔خاکسار عرض کرتاہے کہ یہ فہرست حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے 1896-97ء میں تیارکی تھی اوراسے ضمیمہ انجام آتھم میں درج کیاتھا۔احادیث سے پتہ لگتاہے کہ آنحضرت ﷺنے بھی ایک دفعہ اسی طرح اپنے اصحاب کی فہرست تیار کروائی تھی ۔نیزخاکسارعرض کرتاہے کہ تین سوتیرہ کاعدداصحاب بدرکی نسبت سے چناگیاتھا۔کیونکہ ایک حدیث میں ذکرآیاہے کہ مہدی کے ساتھ اصحاب بدرکی تعدادکے مطابق 313اصحاب ہوں گے جن کے اسماء ایک مطبوعہ کتاب میں درج ہوں گے۔
    ( دیکھو ضمیمہ انجام آتھم صفحہ40تا45)*
    (سیرت المہدی جلداوّل صفحہ633روایت نمبر692طبع چہارم)
    ّّ* محترم قارئین !اصحاب بدرکی عظمت اورشان توکسی سے پوشیدہ نہیں کیونکہ نبی کریمﷺکا فرمان اقدس ومقدس ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدر والوں کودیکھ کرفرمایا
    ((اِعْمَلُوْامَاشِءْتُمْ فَقَدْوَجَبَتْ لَکُمُ الْجَنَّۃاَوْفَقَدْغَفَرْتَ لَکُمْ))
    یعنی تم جیسے چاہو کام کروتمہارے لیے توجنت واجب ہوگئی یامیں نے تم کوبخش دیا
    (صحیح بخاری کتاب المغازی )
    محترم قارئین!مرزاقادیانی نے انجام آتھم میں اصحاب بدر کے مقابل جو313افراد کی فہرست ترتیب دی ہے اس کے آغازمیٍں مرزاقادیانی رقمطرازہے کہ
    ’’اب ظاہرہے کہ کسی شخص کوپہلے اس سے یہ اتفاق نہیں ہواکہ وہ مہدی موعو د ہونے کا دعویٰ کرے اوراس کے پاس چھپی کتاب ہو جس میں اس کے دوستوں کے نام ہوں لیکن میں پہلے اس سے بھی ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘میں تین سو تیرہ نام درج کرچکاہوں اوراب دوبارہ اتمام حجت کے لیے ۳۱۳تین سوتیرہ نام ذیل میں درج کرتاہوں تاہرایک منصف سمجھ لے کہ یہ پیشگوئی بھی میرے ہی حق میں پوری ہوئی اوربموجب منشاء حدیث کے یہ تمام اصحاب خصلت صدق وصفا رکھتے ہیں اورحسب مراتب جس کواللہ تعالیٰ بہترجانتاہے بعض بعض سے محبت انقطاع الی اللہ اورسرگرمی دین میں سبقت لے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کواپنی رضاکی راہوں میں ثابت قدم کرے ۔‘‘
    (ضمیمہ انجام آتھم صفحہ41مندرجہ روحانی خزائن جلد11صفحہ325)
    * ’’میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکر کے درجے پر ہے توانھوں نے جواب دیا کہ ابوبکر تو کیا بعض انبیاء سے بہتر ہے۔‘‘
    (مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ396طبع چہارم)
    مندرجہ بالاتحریرمیں مرزاقادیانی نے اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام کابھی ذکرکیاہے کہ ان 313 افراد کے نام اس کتاب میں بھی شامل ہیں اس کتاب کی فضیلت بیان کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے اس کتاب کے آخر میں ایک اشتہاردیاہے جس میں مرزاقادیانی لکھتاہے کہ
    ’’اخیرمیںیہ بات بھی لکھناچاہتاہوں کہ اس کتاب کی تحریرکے وقت دودفعہ جناب رسول اللہﷺکی زیارت مجھ کوہوئی اور آپ ﷺنے اس کتاب کی تالیف پر بہت مسرت ظاہر کی اور ایک رات یہ بھی دیکھا کہ ایک فرشتہ بلند آوازسے لوگوں کیدلوں کواس کتاب کی طرف بلاتا ہے اور کہتا ہے ھٰذاکتاب مبارک فقومواللاجلال والاکرام یعنی یہ کتاب مبارک ہے اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام صفحہ652مندرجہ روحانی خزائن جلد5صفحہ652)
    محترم قارئین !آنجہانی مرزاقادیانی نے اصحاب بدر کے مقابل جو 313افراد کی فہرست مرتب کی ہے اس فہرست میں159ویں نمبرپرایک نام ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کا بھی ہے جومرزاقادیانی کے نزدیک صاحب صدک وصفاہے اور اس کانام اس کتاب(آئینہ کمالات اسلام)میں بھی درج ہے جسے بقول مرزاقادیانی تحریرکرتے ہوئے نبی کریمﷺ کی دومرتبہ زیارت ہوئی ہے اوراس کتاب کے اکرام وعزت میں فرشتوں کو قیام کرنے کاحکم ملا ہے ۔یہی ڈاکٹرعبدالحکیم پٹیالوی قادیانیت سے تائب ہو کرمسلمان ہواتومرزاقادیانی نے اس کے بارے میں لکھاکہ
    ’’ایک شخص (عبدالحکیم)ہے جوبیس برس تک میرامریدرہاہے اورہرطرح سے میری تائید کرتارہاہے اورمیری سچائی پراپنی خوابیں سناتارہاہے ۔اب
    * ’’پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو ۔ اب نئی خلافت لو ، ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کو تلاش کرتے ہو۔‘‘
    (ملفوظات مرزاغلام احمدقادیانی جلداوّل صفحہ400طبع چہارم)
    مرتدہوکراس نے ایک کتاب لکھی ہے جس کانام اس نے میری طرف منسوب کر کے کانادجال رکھاہے۔‘‘
    (ملفوظات جلد5صفحہ397طبع چہارم)
    مذیدآنجہانی مرزاقادیانی ایک اشتہار بعنوان ’’خداسچے کاحامی ہو‘‘میں لکھتاہے کہ
    ’’ڈاکٹرعبدالحکیم صاحب جوتخمیناًبیس برس تک میرے مریدوں میں داخل رہے ‘چنددنوں سے مجھ سے برگشتہ ہوکرسخت مخالف ہوگئے ہیں اوراپنے رسالہ مسیح الدجال میں میرانام کذاب‘مکار‘شیطان ‘دجال‘شریر‘حرام خوررکھاہے اورمجھے خائن اورشکم پرست اوراورنفس پرست اورمفسداورمفتری اورخداپرافتراء کرنے والاقراردیاہے اورکوئی ایساعیب نہیں جو میریذمہ نہیں لگایا۔‘‘
    (مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ672طبع چہارم ازمرزاقادیانی)
    مذیدایک مقام پر مرزاقادیانی لکھتاہے کہ
    ’’عبدالحکیم نامی ایک شخص جو پٹیالہ کی ریاست میں اسسٹنٹ سرجن ہے جوپہلے اس سے ہمارے سلسلہ بیعت میں داخل تھامگربباعث کمی ملاقات اورقلت صحبت دینی حقائق سے محضبے خبراورمحروم تھااورتکبراورجہل مرکب اوررعونت اوربدظنی کی مرض میں مبتلاء تھا۔(یادرہے کہ انہی عبدالحکیم پٹیالوی کومرزاقادیانی اپنی کتاب ضمیمہ انجام آتھم میں صاحب صدق وصفابھی قراردے چکا ہے اور ان کے لیے ثابت قدمی کی دعاکرچکاہے مذیداپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام میں بھی ان کا نام درج کرچکاہے اوریہ وہی کتاب ہے جسے تحریر کرتے وقت بقول آنجہانی مرزاقادیانی دومرتبہ نبی کریم ﷺکی زیارت ہوئی اورآپﷺنے اس کتاب کی تحریر پر مشرت کااظہارفرمایا)اپنی بدقسمتی سے مرتدہوکراس سلسلہ کادشمن ہوگیاہے۔‘‘
    * عزیز مسلمان ساتھیو! قادیانی گروہ مرزا قادیانی کی بیوی نصرت بیگم کو ام المومنین کہتا ہے چنانچہ مرزاقادیانی کے ملفوظات پرمشتمل کتاب میں لکھاہے :
    ’’ام المومنین کالفظ جومسیح موعودکی بیوی کی نسبت استعمال کیاجاتاہے اس پربعض لوگ اعتراض کرتے ہیں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے سن کرفرمایا:
    اگرامہات المومنین نہیں ہوتی ہیں توکیاہوتی ہیں؟خداتعالیٰ کی سنت اورقانونِ قدرت کے اس تعامل سے بھی پتہ لگتاہے کہ کبھی کسی نبی کی بیوی سے کسی نے شادی نہیں کی ہم کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے جواعتراض کرتے ہیں کہ ام المومنین کیوں کہتے ہو؟ پوچھنا چاہیے کہ تم بتاؤجومسیح موعود تمہارے ذہن میں اورجسے تم سمجھتے ہوکہ وہ آکرنکاح بھی کرے گا۔کیااس کی بیوی کوام المومنین کہوگے کہ نہیں؟‘‘
    (ملفوظات جلداوّل صفحہ555طبع چہارم)
    (حقیقت الوحی صفحہ112مندرجہ روحانی خزائن جلد22صفحہ112)
    مندرجہ بالا تحریروں اوربحث کے بعدسوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا اصحاب بدر میں بھی کوئی ایسی شخصیت تھی جومرتدہوگئی ہو اگرایسانہیں ہوااوریقیناًنہیں ہواتو پھرمرزاقادیانی نبی کریم ﷺکاظل اوربروزکیونکرہوسکتاہے؟جبکہ اس نے جن لوگوں کواصحاب بدر کے مقابل کھڑاکیا تھااورجن کوصاحب صدق وصفاقراردیاتھا انہی میں سے ایک شخص(ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی)کومرتدقراردے رہاہے۔
    دوسرے نمبر پریہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ مرزاقادیانی نے ڈاکٹرعبدالحکیم پٹیالوی کے کے لیے دعابھی کی تھی کہ ’’ اللہ تعالیٰ ان سب (انجام آتھم میں شائع ہونے والی فہرست میں شامل افراد)کواپنی رضاکی راہوں میں ثابت قدم رکھے‘‘تواس کے باوجود ڈاکٹر پٹیالوی بقول مرزاقادیانی مرتد کیوں ہوگیاجبکہ دوسری طرف مرزاقادیانی اس بات کابھی دعویدار ہے کہ اس کی دعاردنہیں ہوتی چنانچہ مرزاقادیانی رقمطرازہے کہ
    ’’اوردعا کے بعد یہ الہام ہوا اجیب کلّ دعائک الافی شرکائک
    * مرزاقادیانی نصرت بیگم کوسیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنھاسے تشبیہ دیتے ہوئے رقمطرازہے کہ
    ’’اشکرنعمتی رئیت خدیجتی۔ براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۸ ترجمہ :۔ میراشکرکرکہ تونے میری خدیجہ کوپایا۔ یہ ایک بشارت کئی سال پہلے اس نکاح کی طرف تھی۔جوسادات کے گھرمیں دہلی میں ہواجس سے بفضلہ تعالیٰ چارلڑکے پیداہوئے۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ146مندرجہ روحانی خزائن جلد18صفحہ 524ازمرزاقادیانی)
    میں تمہاری ساری دعائیں قبول کروں گامگرشرکاء کے بارے میں نہیں۔‘‘
    (تریاق القلوب صفحہ82مندرجہ روحانی خزائن جلد15صفحہ210)
    سوال یہ پیداہوتاہے کہ ڈاکٹرعبدالحکیم پٹیالوی کے حق میں مرزاقادیانی کی دعاقبول کیوں نہ ہوئی جبکہ وہ اس کا شریک بھی نہیں تھا؟کیاہم یہ سمجھنے میں حق بجانب نہیں ہیں کہ مرزاقادیانی کامندرجہ بالا الہام جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’میں تمہاری ساری دعائیں قبول کروں گامگرشرکاء کے بارے میں نہیں۔‘‘اﷲتعالیٰ کی ذات پرافتراء ہے ۔اگرافتراء نہیں توڈاکٹرعبدالحکیم پٹیالوی مرزائیت سے تائب ہوکرمسلمان (بقول مرزامرتد) کیوں ہوا؟
    محترم قارئین !ڈاکٹرپٹیالوی جب قادیانیت سے تائب ہواتواس نے بھی دعویٰ کیاکہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرزاقادیانی کے متعلق الہام ہواہے کہ مرزاقادیانی تین سال کے اندراندرہلاک ہوجائے گاقطع نظراس بات کے کہ ڈاکٹرپٹیالوی کایہ دعویٰ سچاتھایاباطل ‘اس سلسلہ میں ہم مرزاقادیانی کی مذیدتحریریں ملاحظہ کرتے ہیں۔
    مرزاقادیانی نے 16اگست1906ء کوایک اشتہارشائع کیااس میں مرزاقادیانی نے لکھاکہ
    ’’میاں عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی میری نسبت پیشگوئی جواخویم مولوی نورالدین صاحب کی طرف اپنے خط میں لکھتے ہیں ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں
    * ’’حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سررکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔‘‘
    (ایک غلطی کا ازالہ (حاشیہ) صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18، صفحہ213)
    ’’مرزاکے خلاف 12جولائی 1906ء کویہ الہامات ہوئے ہیں۔مرزامسرف کذاب اورعیار ہے صادق کے سامنے شریر فناہوجائے گااوراس کی میعادتین سال بتائی گئی ہے۔‘‘
    اس کے مقابل پروہ پیشگوئی ہے جوخداتعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی جس کے الفاظ یہ ہیں
    ’’خداکے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اوروہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں ان پرکوئی غالب نہیںآسکتا۔فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوارتیرے آگے ہے پرتونے وقت کو پہچانانہ دیکھانہ جانا۔رب فرق بین صادق وکاذب انت تریٰ کل مصلح صادق۔‘‘
    (مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ673‘674طبع چہارم ازمرزاقادیانی)
    اس کے کچھ عرصہ بعدڈاکٹرپٹیالوی صاحب نے پھردعویٰ کیا کہ اسے الہام ہواہے کہ مرزاقادیانی جولائی 1907ء سے چودہ ماہ تک مرجائے گاتومرزاقادیانی نے اس الہام پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اسے بھی اﷲتعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ
    ’’میں تیری عمر کوبھی بڑھاؤں گایعنی دشمن جوکہتاہے کہ صرف جولائی 1907ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیںیاایساہی جودوسرے دشمن پیشگوئی کرتے ہیں ان سب کوجھوٹاکروں گااورتیری عمر کوبڑھادوں گاتامعلوم ہوکہ میں خداہوں اورہرایک امرمیرے اختیارمیں ہے۔‘‘
    یہ عظیم الشان پیشگوئی ہے جس میں میری فتح اوردشمن کی شکست اورمیری عزت اوردشمن کی ذلت اورمیرااقبال اوردشمن کاادبار بیان فرمایاہے اوردشمن پرغضب اور عقوبت کاوعدہ کیا ہے مگرمیری نسبت لکھاہے کہ دنیامیں تیرانام بلندکیاجائے گااورنصرت
    * کربلائے است سیرہر آنم صدحسین است درگریبانم
    ترجمہ: میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے سو (100) حسین ہر وقت میری جیب میں ہیں۔
    (نزول المسیح صفحہ 99، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18صفحہ 477)
    اورفتح تیرے شامل حال ہوگی اوردشمن جومیری موت چاہتاہے خودمیری آنکھوں کے روبرواصحاب الفیل کی طرح نابوداورتباہ ہوگا۔‘‘
    (مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ720اشتہاربعنوان ’’تبصرہ‘‘طبع چہارم)
    مذیدایک مقام پرمرزاقادیانی لکھتاہے کہ
    ’’ہاںآخری دشمن اب ایک اورپیداہواہے جس کانام عبدالحکیم خاں ہے اوروہ ڈاکٹرہے اورریاست پٹیالہ کارہنے والاہے جسکا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی 4اگست 1908ء تک ہلاک ہوجاؤں گااوریہ اس کی سچائی کے لیے ایک نشان ہوگا۔یہ شخص الہام کادعویٰ کرتاہے اورمجھے دجال اورکافراورکذاب قراردیتاہے پہلے اس نے بیعت کی اور برابربیس برس تک میرے مریدوں اورمیری جماعت میں داخل رہا۔۔۔۔۔۔۔۔آخر میں نے اسے اپنی جماعت سے خارج کردیاتب اس نے پیشگوئی کی میں اس کی زندگی میں ہی4۱گست 1908ء تک اس کے سامنے ہلاک ہوجاؤں گا۔مگرخدانے اسکی پیشگوئی کے مقابل پرمجھے خبردی کہ وہ خودعذاب میں مبتلاکیاجائے گا اورخدااس کوہلاک کرے گااورمیں اس کے شرسے محفوظ رہوں گا سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کافیصلہ خداکے ہاتھ میں ہے بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جوشخص خداتعالیٰ کی نظرمیں صادق ہے خدااس کی مددکرے گا۔‘‘
    (چشمہ معرفت صفحہ321‘322مندرجہ روحانی خزائن جلد23صفحہ336‘337)
    اس چیلنج بازی کانتیجہ یہ نکلاکہ مرزاقادیانی 26مئی 1908ء کوہلاک ہوگیا چنانچہ مورخ مرزائیت دوست محمدشاہد تاریخ احمدیت میں رقمطرازہے کہ
    * ’’ اور انھوں نے کہا کہ اس شخص (مرزاقادیانی) نے امام حسن اور حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا میں کہتا ہوں کہ ہاں میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔‘‘
    (اعجاز احمدی، صفحہ 52مندرجہ روحانی خزائن جلد 19، صفحہ 164)
    ’’وفات کے وقت حضورکی عمر سواتہترسال کے قریب تھی دن منگل کا تھااورشمسی تاریخ 26مئی1908ء تھی۔‘‘
    (تاریخ احمدیت جلد3صفحہ472ازدوست محمد شاہد قادیانی)
    ڈاکٹرعبدالحکیم پٹیالوی کے متعلق دوست محمد شاہدقادیانی لکھتاہے کہ
    ’’وہ یکم جون 1920ء کی شب گمنامی کی حالت میں سل کی مرض میں چندمبتلارہ کراپنے الہامات کی صریح ناکامی اورسلسلہ احمدیہ کی کامیابی دیکھتا ہواچل بسا۔‘‘
    (تاریخ احمدیت جلد3صفحہ472)
    آخرکارنتیجہ یہ نکلاکہ مرزاقادیانی کذاب تھابقول فاتح قادیاں مولاناثناء اللہ امرتسری رحمۃاللہ علیہ
    لکھاتھاکاذب مرے گا پیشتر
    کذب میں پکاتھاپہلے مرگیا
    عموماًقادیانی حضرات ڈاکٹر پٹیالوی کو جھوٹاقراردیتے ہیں اورناکام کوشش کرتے ہوئے قادیانی مورخ دوست محمدشاہدلکھتاہے کہ
    ’’خدائے حکیم وخبیرنے جواپنے پیار ے مسیح سے یہ وعدہ کرچکا تھا کہ میں دشمنوں کوجھوٹا کروں گاعبدالحکیم کی پیشگوئی کے دونوں اجزاء کویوں باطل کردیاکہ حضوراپنے بعض گذشتہ الہامات کی بنا پر26مئی1908ء کوانتقال فرماگئے اورصاف طور واضح کر دیاکہ عبدالحکیم کاذب ومفتری انسان ہے حقیقت اتنیواضح اورنمایاں تھی کہ ’’پیسہ اخبار‘‘کے ایڈیٹرکے علاوہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے بھی اس کااقرارکیاچنانچہ لکھا’’ہم خدالگتی کہنے سے رک نہیں سکتے کہ ڈاکٹرصاحب اگراسی پربس کرتے یعنی چودہ ماہیہ پیشگوئی کرکے مرزاکی موت کی تاریخ مقررنہ کردیتے جیساکہ انہوں نے کیاچنانچہ 15مئی 1908ء کے
    * ’’بعض نادان صحابی جن کودرایت سے کچھ حصہ نہ تھا‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم مندرجہ روحانی خزائن جلد 21صفحہ285)
    * ’’جیسا کہ ابوہریرہ جو غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا۔‘‘
    (اعجاز احمدی صفحہ 18، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19، صفحہ 127)
    * جو شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے ، اسے چاہیے کہ ابوہریرہ کے قول کو ردی متاع کی طرح پھینک دے۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص 610، مندرجہ روحانی خزائن ج 21ص 41)
    اہلحدیث میں ان کے الہامات درج ہیں کہ 21ساون یعنی 4اگست کو مرزامرے گا تو آجوہ اعتراض نہ ہوتا جومعزز ایڈیٹر’’پیسہ ‘‘اخبارنے ڈاکٹرصاحب کے اس الہام پرچبھتاہواکیاہے کہ 21ساون کوکی بجائے 21ساون تک ہوتاتوخوب ہوتا۔‘‘
    (تاریخ احمدیت جلد3صفحہ472)
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کوسچاثابت کرنے کے لیے اﷲتعالیٰ نے کونساطریقہ اختیار کرناتھا مرزاقادیانی کی عمر کم کرنے کا یابڑھانے کا؟یہمعلوم کرنے کے لیے مرزاقادیانی کو ہونے والا الہام دوبارہ ملاحظہ فرمائیے اورخودفیصلہ کیجیے کہ مرزا قادیانی کیونکر سچاہوسکتاہے؟جبکہ مرزاقادیانی واضح طورپر مدعی مسیحیت‘نبوت ہے اوراس کے برعکس ڈاکٹر پٹیالوی تومحض الہامی ہونے کا دعوے دارتھانہ کہ مدعی مسیحیت یانبوت ۔‘اب مرزاقادیانی کا الہام دوبارہ ملاحظہ فرمائیں
    ’’میں تیری عمرکوبھی بڑھاؤ ں گایعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی 1907ء سے چودہ مہینے تک تیری عمرکے دن رہ گئے ہیںیاایساہی جودوسرے دشمن پیشگوئی کرتے ہیں ان سب کو میں جھوٹاکروں گا اور تیری عمرکو بڑھا دوں گا تامعلوم ہوکہ میں خداہوں اورہرایک امرمیرے اختیار میں ہے۔‘‘
    یہ عظیم الشان پیشگوئی ہے جس میں میری فتح اور دشمن کی شکست اورمیری عزت اوردشمن کی ذلت اورمیرااقبال اوردشمن کاادباربیان فرمایاہے اوردشمن پرغضب
    * ’’ بعض کم تدبر کرنے والے صحابہ جن کی درایت اچھی نہیں تھی (جیسے ابوہریرہ) ۔۔۔۔۔۔اکثر باتوں میں ابوہریرہ بوجہ اپنی سادگی اور کمی درایت کے ایسے دھوکوں میں پڑ جایا کرتا تھا ۔ چنانچہ ایک صحابی کے آگ میں پڑ جانے کی پیش گوئی میں بھی اس کو یہی دھوکا لگا تھا اور آیت وَاِنْ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ کے ایسے الٹے معنی کرتا ہے جس سے سننے و الے کو ہنسی آ تی تھی۔‘‘
    (حقیقۃ الوحی صفحہ 34روحانی خزائن جلد 22صفحہ 36)
    توہین حرمین شریفین:۔
    * مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے جس کی نسبت براہین احمدیہ میں خدا کا کلام یہ ہے۔ مبارک، ومبارک کل امر مبارک یجمل فیہ اور یہ مبارک کا لفظ جو بصیغہ مفعول اور فاعل واقع ہوا ہے، قرآن شریف کی آیت بارکناحولہ کے مطابق ہے۔ پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے جیسا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
    (سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہ‘)
    (خطبہ الہامیہ حاشیہ صفحہ21مندرجہ روحانی خزائن جلد 16صفحہ 25)
    اورعقوبت کاوعدہ کیاہے مگرمیری نسبت لکھاہے کہ دنیانیں تیرانام بلندکیاجائے گااورنصرت اورفتح تیرے شامل حال ہوگی اوردشمن جومیری موت چاہتا ہے خودمیری آنکھوں کے روبرو اصحاب الفیل کی طرح نابوداورتباہ ہوگا۔‘‘
    (مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ720اشتہار بعنوان’’تبصرہ‘‘طبع چہارم)
    محترم قارئیں!مندرجہ بالاتحریروں کومدنظر رکھتے ہوئے خودفیصلہ کیجیے کہ کیا مرزاقادیانی کی عمر میں اضافہ ہوایاکمی ‘ڈاکٹرعبدالحکیم پٹیالوی مرزاقادیانی کی زندگی ہی اصحاب الفیل کی طرح نابوداورتباہ ہوایاکہ مرزاقادیانی خودعمر کی کمی کی وجہ سے ڈاکٹرعبدالحکیم پٹیالوی کی زندگی میں ہی ہلاک ہوا۔
    * ’’ والمسجد الاقصی المسجد الذی بناہ المسیح الموعود فی القادیان۔‘‘
    یعنی مسجد اقصیٰ سے مراد وہ مسجد ہے جسے قادیان میں مسیح موعود نے بنایا۔‘‘
    (خطبہ الہامیہ حاشیہ صفحہ 25مندرجہ روحانی خزائن جلد 16صفحہ 25)
    ٍ* ’’معراج میں جو آنحضرت aمسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے وہ مسجد اقصیٰ وہی ہے، جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے۔ جس کانام خدا کے کلام نے مبارک رکھا ہے‘‘
    (خطبہ الہامیہ صفحہ 22مندرجہ روحانی خزائن جلد 16صفحہ 22)
    * اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر97 میں بیت اﷲ کے بارے میں ارشاد فرمایا: وَمَنْ دَخَلَہُ کَانَ اٰمِنًاجو اس میں داخل ہو گیا، اس کے لیے امن ہے۔ مرزا قادیانی اس آیت کو قادیان کی مسجد پہ چسپاں کرتے ہوئے کہتا ہے کہ
    ’’ ا س مسجد مبارک کے بار ے میں پانچ مرتبہ الہام ہوامنجملہ ان کے ایک عظیم الشّان الہام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فِیْہِ بَرَکَاتٌوَمَنْ دَخَلَہُ کَانَ اٰمِنًا۔‘‘
    (تذکرہ صفحہ83، طبع چہارم)
    * ’’لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس جگہ (قادیان میں آنا) نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطرہ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 352مندرجہ خزائن جلد 5صفحہ 352)
    * خداکاہم پہ بس لطف وکرم ہے وہ نعمت کون سی باقی جوکم ہے
    زمین قادیاں اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
    (درّثمین اردو صفحہ56ازمرزاقادیانی)

اس صفحے کی تشہیر