1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عیسیٰ علیہ اسلام کا نزول علامت قیامت

خادمِ اعلیٰ نے 'آیاتِ علامات قیامت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 1, 2014

  1. ‏ جولائی 1, 2014 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثلاً اِذَا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّوْنَ اِلٰی قَوْلِہٖ تَعَالٰی وَانَّہٗ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِھَا وَاتَّبِعُوْنِ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ وَلَا یَصُدَّ نَّکُمْ الشَّیْطَانُ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۔(پ۲۵ الزخرف : ۵۷،۶۲)
    '' اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو نہی ابن مریم کا ذکر کیا جاتا ہے تیری قوم (کفار مکہ و قادیان وغیرہ) جل اٹھتے ہیں (انہیں اپنی بد ذوقی و بے ایمانی میں رہنے دے) لاریب وہ تو قیامت کی نشانی ہے (ان کو کہہ دے کیوں شامتیں آئی ہیں) اس نشانی (یعنی اس کے قیامت کی نشانی از روئے نزول من السماء ہوتے ہیں) شک نہ کرو اور میری اتباع کرو یہ سیدھا راستہ ہے، شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے (جو نزول مسیح کے متعلق طرح طرح کے وساویں ڈال کر تمہیں اس ایمان سے علیحدہ کرنے میں ساعی ہے) سو تم اس کے شکارِ فریب نہ بنو۔''
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کتابِ حدیث ابن ماجہ میں موقوفاً اور مسند احمد میں مرفوعاً مروی ہے عن عبداللہ ابن مسعود قال لما کان لیلۃ اسری برسول اللّٰہ ﷺ لقی ابراھیم و موسی وعیسی فتذکروا الساعۃ فَبَدَأوا بِا بْرَاھِیْمَ فَسَأَلُوْہُ عَنْھَا فَلَمْ یَکُنْ عِنْدَہٗ مِنْھَا عِلْمٌ فرد الحدیث الی عیسی ابن مریم فقال قد عھد الی فیما دون وجبتھا فاما وجبتھا فلا یعلمھا الا اللّٰہ فذکر خروج الدجال قال فانزل فاقتلہ الحدیث۔(اخرجہ ابن ماجۃ فی السنن ص۳۰۹ کتاب الفتن باب فتنۃ الدجال و خروج عیسٰی ابن مریم و احمد فی مسندہٖ ص۳۷۵،ج۱ وابن ابی شیبہ فی مصنفہٖ ص۱۵۸ ج۱۵، کتاب الفتن باب ما ذکر فتنۃ الدجال والحاکم فی المستدرک ص۴۸۸،ج۴ وابن جریر فی تفسیرہٖ ص۷۲،ج۱۷ و البیھقی فی کتاب البحث والنشور، عزاہ السیوطی فی الدر المنثور ص۳۳۶، ج۴ واوردہ الحافظ فی فتح الباری ص۷۶،ج۱۳ کتاب الفتن باب ذکر الدجال مستشھداً بما فھو عندہ حدیث صحیح أو حسن کما صرح بذالک فی کتابہٖ ۔ ھدیۃ الساری مقدمۃ فتح الباری ص۴۔ ابو صہیب)
    معراج کی رات انبیاء سے ملاقات کے وقت قیامت کا تذکرہ شروع ہوا تو سب نے اس کے وقت سے لا علمی ظاہر کی۔ آخر جناب مسیح علیہ السلام سے سوال کیا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: علم تو مجھے بھی نہیں البتہ مجھ سے وعدہ ہوا قیامت کے نزدیک کا۔ آپ علیہ السلام نے دجال کا ذکر فرمایا اور کہا کہ میں نازل ہو کر اس کو قتل کروں گا۔
    اسی طرح بہت سی احادیث میں قیامت کے قریب مسیح کا نزول لکھا ہے جو آئندہ باب ثبوت حیات مسیح از احادیث میں نقل ہوں گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
    آیت اِنَّہٗ لعلم للساعۃ کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے جن کو بدعا نبوی علم قرآن حاصل تھا جو مرزا کو بھی مسلم ہے۔ مسند احمد جلد اول ص۳۱۷، ۳۱۸ در منثور جلد ۶ ص۲۰ فتح البیان جلد ۸ ص۳۱۱ ابن کثیر جلد ۹ ص۱۴۴ وغیرہ میں مروی ہے کہ اس آیت میں مسیح کا نزول قبل از قیامت مطلوب و مقصود ہے۔(اخرجہ من حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ مرفوعاً ، ابن حبان فی صحیحہ بترتیب الاحسان رقم الحدیث ۶۷۷۸ واحمد فی مسندہٖ ص۳۱۷، ج۱ والطبرانی فی معجمہ اوردہ الھیثمی فی مجمع الزوائد ص۱۰۷،ج۷ ابن جریر فی تفسیرہٖ ص۵۴،ج۲۵ وابن ابی حاتم وابن مردویہ اوردہ السیوطی فی الدر المنثور ص۲۰،ج۶ والحافظ ابن کثیر فی تفسیرہٖ ص۱۳۲، ج۴) ایسا ہی '' ابن جریر رئیس المفسرین'' کی تفسیر جلد ۲۵ ص۴۸ میں ہے۔
    اسی طرح محدث عبد بن حمید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی روایت کی ہے۔ (درالمنثور ص۲۰،ج۶)
    اعتراض:

    اِنَّہٗ کی ضمیر مسیح کی طرف نہیں۔ قرآن کی طرف ہے۔ ساعۃ سے مراد قیامت نہیں۔(احمدیہ پاکٹ بک ص۳۸۶)
    جواب:

    قرآن پاک کی آیت و حدیث نبوی و اقوال صحابہ کے ہوتے ہوئے یوں دلیری کرنی سخت غلطی ہے۔ اب آؤ ہم مرزا صاحب کے دستخط اس پر کرا دیں:
    '' قرآن شریف میں ہے انہ لعلم للساعۃ یعنی اے یہودیو! عیسیٰ کے ساتھ تمہیں قیامت کا پتہ لگ جائے گا۔'' (عجاز احمدی ص۲۱ و روحانی ص۱۳۰،ج۱۹ و تفسیر مرزا ص۳۰۹،ج۷)
    صاف ظاہر ہے کہ اِنَّہٗ کی ضمیر بطرف مسیح تسلیم کی گئی ہے:
    ان فرقۃ من الیھود لکانوا کافرین بوجود القیامۃ فاخبرھم اللّٰہ علی لسان بعض انبیائہ ان ابنا من قومھم یولد من غیراب وھذا یکون ایۃ لھم علی وجود القیامۃ۔(مامۃ البشرٰی ص۹۰ و روحانی ص۳۱۶، ج۷ و تفسیر مرزا ص۳۰۸، ج۷)
    '' یعنی ایک فرقہ یہود کا قیامت کے وجود سے منکر تھا، خدا نے بعض انبیاء کی زبانی ان کو خبر دی کہ تمہاری قوم میں ایک لڑکا بلا باپ پیدا ہوگا، یہ قیامت کے وجود پر ایک نشانی ہے۔''
    اس عبارت سے ثابت ہے کہ قیامت سے مراد حقیقی قیامت ہے نہ کوئی اور گھڑی۔ اسی طرح خود مصنف مرزائی پاکٹ بک میں انہ کی ضمیر بطرف مسیح پھیری ہے۔ اور ساعۃ سے مراد حقیقی قیامت لکھی ہے۔ (ملاحظہ ہو ص۳۳۹)
    اعتراض:

    مسیح کا نزول تو آئندہ ہونا تھا پہلے سے ہی کیسے کہہ دیا کہ شک نہ کرو جب ابھی نشانی نے مدت کے بعد آنا ہے تو ان کو شک سے کس برتے پر روکا جانا ہے؟ (احمدیہ پاکٹ بک ص۳۹۱)
    الجواب
    :
    اے جناب! ایک سچ مچ واقعہ ہونے والی بات پر شک نہ کرنے کی ہدایت کرنا کیا ناجائز ہے؟ یہاں تو کفار مخاطب ہیں جو آمد مسیح کے منکر ہیں۔ خدا تعالیٰ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے مصدق و مصدق رسول کو بھی بطور ہدایت فرماتا ہے:
    اِنَّ السَّاعَۃُ اٰتِیَۃٌ اِلٰی قَوْلِہٖ فَلَا یَصُدَّنَّکَ عَنْھَا مَنْ لاَّ یُؤْمِنُ بِھَا اَلْایۃ۔(پ ۱۶ طٰہٰ : ۱۵،۱۶)
    اے موسیٰ علیہ السلام قیامت بے شک و شبہ آنے والی ہے۔ خبردار کوئی بے ایمان تجھے اس کے ماننے سے روک نہ دے بھلا اس جگہ کوئی مخالف آریہ وغیرہ تم پر اعتراض کرے کہ موسیٰ علیہ السلام کو قیامت پر شک نہ تھا پھر یہ وعظ کیا معنی رکھتا ہے تو کیا کہو گے؟
    آؤ تمہیں تمہارے گھر سے مثال دیں لعلکم تعقلون سنو!
    مرزا جی کا نکاح آسمانی دنیا میں نہ ہونا تمہارے مسلمات سے ہے باوجود اس صریح جھوٹی پیشگوئی کے مرزا صاحب کا الہام کنندہ قبل از وقت کہتا تھا۔ اے مرزا:
    '' اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ یہ نکاح تیرے رب کی طرف سے حق واقع ہونے والا ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔'' (ازالہ اوہام ص۳۹۸ و مجموعہ اشتہارات ص۲۷۷،ج۲ وانجام آتھم ص۵۶ وآئینہ کمالات اسلام ص۵۷۶ وتذکرہ ص۲۲۰،۲۲۲،۲۴۲،۲۸۰)
    کیوں جناب یہ کیا بات ہے کہ نکاح سے پہلے ہی شک سے روکا جاتاہے۔
    لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
    ---------------------------------
    جاری ہے ....
    آخری تدوین : ‏ جنوری 1, 2015
    • Like Like x 3
  2. ‏ جولائی 6, 2014 #2
    دین محمد

    دین محمد رکن ختم نبوت فورم

    مرزا کی ہر پیشگوئی میں تضاد نظر اتا ہے یہاں تک کہ اپنی ذات کے بارے میں مشکوک نظر اتا ہے۔ کیا چیز اسکے طلبگار بڑھا رہی ہے یا محض یہ باتوں کا ہی بڑھاوا ہے؟
    • Like Like x 1
    • Dumb Dumb x 1
  3. ‏ نومبر 26, 2014 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    السلام علیکم ورحمۃُ اللہ وبرکاتہ
    محترم بھائی خادم اعلی اس کا اگلا حصہ کہاں ہے جی؟
    • Like Like x 1
  4. ‏ دسمبر 30, 2015 #4
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    نزول عیسیٰ علیہ السلام من السماء پر قرآن و حدیث سے دلائل اس پی ڈی ایف میں پڑھیں

اس صفحے کی تشہیر