1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

عیسیٰ علیہ اسلام کو قران وسنت کی تعلیم کیسے حاصل ہوگی ؟

خادمِ اعلیٰ نے 'حیات عیسیٰ علیہ السلام پر شبہات کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 15, 2014

  1. ‏ اگست 15, 2014 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    قادیانی سوال : حضرت عیسیٰ علیہ اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے رسول ہیں ، انہیں تو قران وسنت کا علم ہی نہیں ہے جب انہیں قران وسنت کا علم ہی نہیں تو وہ اس پر عمل کیسے کریں گے .

    جواب :
    قران سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو چار چیزوں کا علم عطا فرمایا ہے ،
    (1 ) کتاب ... ( 2 ) حکمت ... ( 3 ) تورایت ... ( 4 ) انجیل ..
    ثبوت کے طور پر ملاخط فرمائیے قران کی مندرجہ ذیل آیات ...
    ( 1 ) اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی پیدائش کی خوشخبری دیتے ہوۓ فرماتے ہیں.
    وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ (العمران 48 )
    اللہ تعالیٰ اسے کتاب وحکمت اور تورایت وانجیل کی تعلیم دے گا
    ( 2 ) اور قرآن مجید میں ہے کے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز حضرت عیسیٰ علیہ اسلام پر اپنے انعامات کا ذکر فرمائیں گے.

    وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ
    اور جبکے ہم نے تم کو کتاب اور حکمت اور تورایت اور انجیل تعلیم کی .
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے تورایت اور انجیل کا تو ہمیں معلوم ہے باقی دو چیزیں یعنی کتاب اور حکمت کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو سیکھائی ہیں ؟
    اس کا جواب یہ ہے کے
    کتاب وحکمت سے مراد قرآن وسنت کا علم ہے جیسا کے قرآن مجید میں کی مقامات پر اس کا ذکر ہے مثَلاً
    حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے ہوۓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ دعا فرمائی
    رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ (البقرہ 129 )
    آے ہمارے رب ان میں انہی میں سے رسول بیجھہ جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے انہیں کتاب وحکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے .
    دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
    كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِنْكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ "(البقرہ 151 )
    جس طرح ہم نے تمیں میں سے رسول بیجھا جو ہماری آیتیں تمھارے سامنے تلاوت کرتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمیں کتاب وحکمت اور وہ چیزیں سکھاتا ہے جن سے تم بے علم تھے .
    اللہ تعالیٰ قران مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے ،
    لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ( سورۂ العمران 164 )
    بے شک مومنوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ انہی میں سے ایک رسول ان میں بیجھا ، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے ، یقیناً یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے .
    ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فرماتے ہیں ،
    وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهِ ( سورۂ البقرہ 231 )
    تم اللہ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ بناؤ اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب وحکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے اسے بھی
    قادیانی مغالطہ
    قادیانی حضرات اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ " کتاب سے مراد خط وکتابت ( یعنی لکھنا پڑھنا ) ہے
    جواب :
    اگر قادیانیوں کی یہ دلیل مان لی جائے تو مندرجہ بالا آیات کا مطلب ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خط وکتابت ( پڑھنا لکھنا ) سکھایا کرتے تھے . جبکہ یہ دلیل اس وجہ سے باطل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصف تھا کہ وہ امّی تھے .
    مندرجہ بالا قرانی آیات سے یہ بات پایا ثبوت تک پہنچ گئی کے کتاب وحکمت کے علم سے مراد قران وسنت کا علم ہے یعنی شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا علم ... جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو تورایت وانجیل کے علاوہ عطا فرمایا لہذا جب اپ دوبارہ تشریف لائیں گے تو شریعت موسوی پر نہیں بلکے شریعت محمدی پر عمل پیرا ہوں گے کیونکہ شریعت محممدی صلی اللہ علیہ وسلم آجانے کے بعد شریعت موسوی قابل عمل نہیں رہی ...
    • Like Like x 2
    • Winner Winner x 1

اس صفحے کی تشہیر