1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عیسی ّ حج کریں گے مرزا قادیانی حج پر کیوں نہ گیا ایک دلیل کا جائزہ

محب علی نے 'احادیثِ نزول و حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 19, 2015

  1. ‏ اپریل 19, 2015 #1
    محب علی

    محب علی رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ دسمبر 29, 2014
    مراسلے :
    52
    موصول پسندیدگیاں :
    38
    نمبرات :
    18
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    سٹوڈنٹ
    مقام سکونت :
    اٹلی
    ایک شخص نے عرض کی کہ مخالف مولوی اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب حج کو کیوں نہیں جاتے؟

    فرمایا:۔

    یہ لوگ شرارت کے ساتھ ایسا اعتراض کرتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم دس سال مدینہ میں رہے۔ صرف دو دن کا راستہ مدینہ اور مکہ میں تھا مگر آپ نے دس سال میں کوئی حج نہ کیا۔ حالانکہ آپ سواری وغیرہ کا انتظام کر سکتے تھے۔ لیکن حج کے واسطے صرف یہی شرط نہیں کہ انسان کے پاس کافی مال ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی قسم کے فتنہ کا خوف نہ ہو۔ وہاں تک پہنچنے اور امن کے ساتھ حج ادا کرنے کے وسائل موجود ہوں۔ جب وحشی طبع علماء اس جگہ ہم پر قتل کا فتویٰ لگا رہے ہیں اور گورنمنٹ کا بھی خوف نہیں کرتے تو وہاں یہ لوگ کیا نہ کریں گے لیکن ان لوگوں کو اس امر سے کیا غرض ہے کہ ہم حج نہیں کرتے۔ کیا اگر ہم حج کریں گے تو وہ ہم کو مسلمان سمجھ لیں گے؟ اور ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے؟ اچھا یہ تمام مسلمان علماء اوّل ایک اقرار نامہ لکھ دیں کہ اگر ہم حج کر آویں تو وہ سب کے سب ہمارے ہاتھ پر توبہ کر کے ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے اور ہمارے مرید ہو جائیں گے۔ اگر وہ ایسا لکھ دیں اور اقرار حلفی کریں تو ہم حج کر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے واسطے اسباب آسانی کے پیدا کر دے گا تاکہ آئندہ مولویوں کا فتنہ رفع ہو۔ ناحق شرارت کے ساتھ اعتراض کرنا اچھا نہیں ہے۔ یہ اعتراض ان کا ہم پر نہیں پڑتا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر بھی پڑتا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی صرف آخری سال میں حج کیا تھا۔
    (ملفوظات جلد پنجم صفحہ248)

    حج کیوں نہیں کرتے.png
    مرزائی کادیانی حج کے لئے کیونکر نہ گئے !!
    یہ وہ عبارت اور مرزا کا بیان ہے جو اس نے اپنی صفائی میں پیش کیا اور حسب عادت (جس پر آج دن تک ساری قادیانی مرزائی امت عمل پیرا ہے ) ساتھ میں اعتراض کو اپنے سے کمال پھرتی کے ساتھ سرور کائنات صلى الله عليه وسلم پر پھیر دیا...افسوس صد افسوس کہ آج بھی ہر مرزائی اسی تاویل کے سہارے زندگی گزار رہا ہے .. لیکن جیسے ہم آگے بیان کریں گے کہ یہ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے جسکا اصلیت سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں ہے .
    --------------------------------
    سب سے پہلے حضرت عیسی ع کی بابت اس پیشین گوئی کو تازہ کر لیں کہ
    حضرت عیسی ابن مریم بطور ایک عادل حاکم مسلمانوں میں نازل ہوں گے
    خنزیر کا قتل کریں گے ،کسر صلیب کریں گے ،قتل دجال کریں گے ،ساری دنیا میں ایک دین اسلام کا پرچم لہرائے گا
    اس کے بعد وہ حج ادا کریں گے ..

    --------------------------------
    میں اس موضوع کو رفع و نزول مسیح ابن مریم ع کی جانب لے جانے کی بجائے مرزا کادیانی کی دی ہوئی تمام تشریحات کو تسلیم کرتا ہوں ، میرے سامنے اس وقت روحانی خزائن جلد ١٤ صفحہ ٤١٧ ہے یہاں بھی مرزا صاحب اسی اعتراض کا جواب دے رہے ہیں کہ وہ حج پر کیوں نہیں جاتے .
    لکھتے ہیں کہ "جیسا احادیث میں وارد ہوا ہے کہ مسیح موعود کا اولین کام کسر صلیب ہوگا نہ کہ حج کرنا پہلے وہ دجال کو قتل کریں گے اور دجال سے مراد مفسدین کا گروہ ہے نا کہ کوئی مخصوص شخص لہٰذا یہ خلاف پیشین گوئی ہے کہ ہم اس کام کو چھوڑ کر پہلے حج کرنے چلے جائیں ..ہم تو تب حج پر جائیں گے جب دجال بھی کفر اور دجل سے باز آ کر طواف کعبہ کرے گادجال قتل نہ ہوگا بلکہ دجال اور مسیح دونوں حج کریں گے مطلب یہ کہ گروہ مفسدین میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئیں گے اور حج کریں گے سو جب دجال کو ایمان و حج کا خیال پیدا ہوگا وہی دن ہمارے بھی حج کے ہوں گے "(مفہوم )
    اب اس میں جناب نے کئی ایک چیزوں کو تسلیم کیا
    1 حضرت عیسی کا حج کرنا نبی کریم ص کی پیشین گوئی کا حصہ ہے
    2 دجال یعنی مفسدین کے گروہ کو دلائل کے ذریعے شکست دینے کے بعد ان میں سے لازما کچھ لوگ ایمان لے آئیں گے اور جناب ان کے ساتھ حج کو جائیں گے

    اگر کوئی بھی اہل عقل و فہم اپنے شعور کے ساتھ انصاف کرتے ہوۓ میرے ان سوالات کا جواب دے دے تو اسکی بہت بہت نوازش ہوگی
    کیا مرزا صاحب کسر صلیب میں کامیاب ہو گئے ، کیا انہوں نے دجال کا قتل کر دیا تھا اگر جواب نہیں میں ہے تو نفس پیشین گوئی کیسے پوری ہوئی جو نبی کریم نے کی تھی کیا مرزا ساری زندگی یہ دو کام کرنے میں ناکام رہا ؟
    اگر کر دیا تھا تو مرزا صاحب حج کے لئے کیوں نہ گئے جبکہ وہ خود تسلیم کر چکے تھے کہ وہ یہ دونوں کام نپٹانے کے بعد حج پر جائیں گے !!
    چلیں مرزا صاحب کو بھی چھوڑیں ساری زندگی جنھیں وہ دجال سے تعبیر کرتے رہے ان میں سے کوئی حج پر گیا ہو تو آگاہ کر دیں جبکہ مرزا نے لکھا ہے کہ وہی وقت اسکے حج کا ہوگا
    ذرائع ،حالات اور خطرات کا بہانہ یہاں بے جا ہے کیوں کہ ہم تو ہمیشہ سے عرض کرتے چلے آ رہے ہیں حضرت عیسی کا بطور حاکم نازل ہونا اور انکی قیادت میں مسلمانوں کا قیام کرنا نفس پیشین گوئی ہے جب آپ اسکی بے وجہ تاویل کریں گے تو بلآ خر یہی بہانے بنانےہوں گے . یہاں بات کسی عام مسلمان کے حج پر جانے کی نہیں ہے بلکہ ایک نبی نے پیشین گوئی کی ہے جو کہ ہر حال میں پوری ہونی ہے چاہے ساری دنیا مخالفت میں آ ن کھڑی ہو لیکن دنیا کی دشواریاں ختم کرنے کے لئے خدا اگر فرعون کے گھر میں موسی کو پیدا کر سکتا ہے تو اپنے محبوب سرور کائنات صلى الله عليه وسلم کی پیشین گوئی کی خاطر حضرت عیسی کو حج بھی کروا سکتا ہے .
    نبی اکر م صلى الله عليه وسلم کا اپنی زندگی میں ایک حج کرنا ہماری سر آنکھوں پر اسکی بھی ایک مکمل فلاسفی ہے مکمل وجہ ہے ، آج کل غیر مسلموں کی جانب سے کیے جانے والے اعتراضات میں سے ایک یہ بھی کہ مسلمان لاکھوں خرچ کر کہ حج پر کیونکر جاتے ہیں میرے آقا سرور کائنات صلى الله عليه وسلم نے اسی واسطے اپنی امت کی آسانی کی خاطر زندگی میں ایک ہی حج فرمایا تاکہ عاشقان رسول الله کہیں سنت کی اتباع میں اپنے دوسرے فرائض سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں
    اور سب سے بڑھ کر اس کی قید صرف ان لوگوں پر لگائی جو با آسانی اس کا خرچ برداشت کرنے والے ہوں ،لیکن میں قربان جاؤ ں اس قادیانی دجل پر جو اپنے مہدی موعود کو مثیل آقا دو جہاں ثابت کرتے نہیں تھکتے مگر اسی دو جہاں کے رہبر و مسیح اعظم نے جو پیشین گوئی فرمائی ہے اسکا انہیں کچھ خیال نہیں ہے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا اپنی زندگی میں ایک بار حج فرمانا ہمارے لئے نہیں آپ کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد تو حالا ت سازگار تھے ، اگر بلفرض مرزے پر بھی کوئی پابندی نہ ہوتی تب بھی اس نے یہ تاویل دے مارنی تھی کہ دیکھو سب کچھ ہوتے ہوۓ بھی نبی اکرم نے حج نہ کیا ،میں بھی وقت آنے پر کر لوں گا
    لمحہ فکریہ یہ کہ ساتھ میں ہمیں تڑیاں لگائی جا رہی ہیں کہ مولویوں سے لکھوا کر دیں کہ اگر میں حج کر آؤں وہ مجھے مہدی موعود مان لیں گے لعنت اللہ ال المنافقین ولکازبین کیسا دجل ہے کہ ہر بات کو مولویوں پر ڈال کر نبی کریم کی پیشین گویوں کے دجل و فریب کے ساتھ تاویل کی جا رہی ہے ،اتمام حجت کرنا ہر نبی پر لازم و ملزوم ہوتا ہے اس کے بعد کوئی عمر فاروق بنتا ہے یا ابو جھل یہ اسکا اپنا فیصلہ ہے !!
    مسیح حج کرےگا.PNG
    • Useful Useful x 1
  2. ‏ اپریل 20, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,123
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    پکچر میں لکھا گیا مواد ٹائپ بھی کریں شکریہ

اس صفحے کی تشہیر