1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

غرور نہیں بلکہ مصلحت

محمدابوبکرصدیق نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مئی 3, 2015

  1. ‏ مئی 3, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    غرور نہیں بلکہ مصلحت

    ایک حکیم جنگل میں گھوم رہا تھا۔ سر سبز و شاداب جگہ میں اس نے ایک مور کو دیکھا۔ مور اپنے خوبصورت پروں کو اُکھیڑ رہا تھا۔ حکیم کو یہ ماجرا دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی۔ وہ مور کے قریب گیا ور کہنے لگا، اے طاؤس! کیا تیرے حواس جاتے رہے کہ اتنے حسین اور خوبصورت پروں کو اس بے دردی سے اکھیڑ رہا ہے کیا تجھے یہ احساس نہیں کہ تیرا ایک ایک پر لوگ کس شوق سے سنبھال کر رکھتے ہیں۔ نشانی کے طور یہ پاک ورکوں میں رکھے جاتے ہیں۔ پھرے تیرے نازک پروں کی پنکھیاں بنائی جاتی ہیں۔ ارے حیوان! تیرا خالق کون ہے؟ کس نے تیرے بدن پر یہ نقش و نگار بنائے ہیں؟ کیا تُو اس مصور کو بھول گیا ہے جس نے اپنی مصوری کے لئے تجھے منتخب کیا؟ معلوم ہوت اہے تو غُرور میں آ کر اپنی کوئی نئی وضع قطع بنانے کے درپے ہے۔ مور نے دانش ور کے جب یہ کلمات سنے تو بے چین سا ہو کر رونے لگا۔ اس کے رونے میں ایسا درد اور ایسا اثر تھا کہ وہ حکیم جس نے مور سے پر اکھیڑنے کا سبب پوچھا تھا۔ نادم اور پریشان ہو کر دل میں کہنے لگا میں نے نا حق اس مور کو چھیڑا۔ پتا نہیں یہ کس پریشانی میں گھِرا ہوا تھا۔
    کاش! وہ حکیم جان سکتا کہ مور کے ایک ایک آنسو میں کیا کیا راز پوشیدہ ہے۔ اسے ان آنسوؤں کی کیا قدر۔ طاؤس نے کہا اے نادان! افسوس ہے تیرے عقل و بصیرت پر کہ ابھی تک تُو طلسمِ رنگ و بو میں گرفتار ہے۔ اُلٹا مجھے پَر اکھیڑنے پر مطعون کرتا ہے اور مجھے ہی ملزم ٹھہراتا رہا ہے۔ کیا تُو نہیں جانتا کہ ہر طرف سے سینکڑوں بلائیں انھیں بازوؑں کے لئے میری طرف آتی ہیں۔ ظالم شکاری انھی پروں کے لئے ہر طرف جال بچھاتا ہے۔ کتنے ہی سنگ دل تیر انداز ہیں جو انھی پروں کی خاطر مری جان ناتواں سے کھیلتے ہیں۔ مجھے ان سب مصیبتوں سے بچانے کی طاقت نہیں اس لئے یہ راستہ اختیار کیا کہ پروں کو اکھیڑ ڈالا اور اپنی صورت کو مکروہ بنا لوں تا کہ پہاڑوں اور میدانوں میں بے فکر ہو جاؤں۔

اس صفحے کی تشہیر