1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

غیر احمدی کافر ہیں ان کے پیچھے نماز پنجگانہ ، نماز جنازہ نہ پڑھا جائے

مبشر شاہ نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 27, 2019

  1. ‏ اگست 27, 2019 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    غیر احمدی کافر ہیں ان کے پیچھے نماز پنجگانہ ، نماز جنازہ نہ پڑھا جائے


    قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ کے چند فتوے ملاحظہ فرمائیں
    سوال: کیا غیر مبائع امام کے پیچھے نما زہو سکتی ہے یا نہیں ؟
    جواب: جو غیر مبائع غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنے کے قائل نہیں اس کے پیچھے بوقت ضرورت نماز جائز ہے۔
    (الفضل ۲۲ مئی۱۹۲۲ ؁ئ)

    غیر احمدی اگر اپنی مساجد میں نماز سے نہ روکیں
    سوال: اگر ( کسی مسجد میں)غیر احمدی نما زپڑھ رہے ہوں تو ہم احمدی وہاںعلیحدہ نما ز پڑھ لیں؟
    جواب: ہاں۔مگر ان کی نماز میں روک نہیں ہونی چاہئے۔
    (الفضل ۱۹ جنوری ۱۹۲۲؁ئ)

    سوال: اگر غیر احمدیوں نے اذان کہی ہو تو اسی اذان کی بنا ء پر احمدی نماز پڑھ سکتے ہیں؟
    جواب: اذان علیحدہ طور پر خود کہنی چاہئے کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ اذان سے شیطان بھاگتا ہے ۔جس کی اذان نہیں اس سے شیطان نے کیا بھاگنا تھا۔
    (الفضل ۱۹ جنوری ۱۹۲۲؁ئ)

    غیر مبایعین کے پیچھے نماز
    ایک مستفسر کو لکھایا جس نے غیر مبایعین کو امام بنانے کے متعلق بعض مقامی مجبوریوں کا ذکر کیا تھا۔
    ’’ اگر اس شرط پر نماز اکٹھی ہو سکے کہ امام مبایعین میں سے ہواور خطبہ میں خلافت کا کوئی ذکر نہ ہوتو کرلیں۔میں یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ مستقل امام ان کا ہو۔ان کے پیچھے نماز کی اجازت کے یہ معنی ہیں کہ اگر کبھی اتفاق ہو جائے تو پڑھ لیں۔یعنی حرام نہیں۔‘‘
    ( الفضل ۲ مارچ ۱۹۱۵؁ء نمبر۱۱۱)
    غیر مبائع کے پیچھے نماز
    سوال: کیا غیر مبائع امام کے پیچھے نما زہو سکتی ہے یا نہیں ؟
    جواب: جو غیر مبائع غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنے کے قائل نہیں اس کے پیچھے بوقت ضرورت نماز جائز ہے۔
    (الفضل ۲۲ مئی۱۹۲۲ ؁ئ)
    ۲:۔
    جو احمدی غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اس کے پیچھے نماز جائز نہیں۔
    ( الفضل ۱۳ جون ۱۹۱۵؁ئ)
    ۳:۔
    سوال: جنھوں نے بیعت نہیں کی ( غیر مبائع) کیا ان کے پیچھے ہماری نماز جائز ہے؟
    جواب: ہاں کچھ حرج نہیں ،ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو۔
    ( الفضل ۱۸ اپریل ۱۹۱۴؁ئ)
    ۴:۔
    متقی اور پر ہیز گا ر غیر مبائع ( جو غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھتا ہو) کے جنازہ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق فرمایا:
    ’’ جنازہ کا تو سوال ہی نہیں نماز بھی ایسے شخص کے پیچھے جائز ہے بشرطیکہ اپنا امام نہ ہو ۔نماز کا انتظام صرف حرمت ملت کی وجہ سے نہیں جیسا کہ غیر مبائع سمجھتے ہیںبلکہ جماعتی تنظیم کے لئے بھی اس مسئلہ کو اہمیت حاصل ہے۔
    (فائل مسائل دینی 32-A/23.9.54۔DP 4523)

    ایسا شخص جس نے باوجود علم کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے احمدی لڑکی کا رشتہ غیر احمدی سے کرنا منع فرمایا ہے اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے دی۔اگر وہ تائب نہیں ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنی منع ہے۔
    ( الفضل ۱۹ دسمبر ۱۹۱۵ ؁ئ)

    سوال: ایک احمدی جو متقی اور پرہیز گار ہے چندہ بھی دیتا ہے مگر غیر احمدی کو رشتہ لڑکی کا دے دیا ہے اس کے بارہ میں کیا حکم ہے؟
    جواب: جس نے حضرت اقدس ؑکا صریح حکم ٹال دیا وہ احمدی کہاں ہے۔جب تک وہ توبہ نہ کرے اور اپنی توبہ ثابت نہ کر دکھائے وہ احمدی نہیں۔حضرت اقدس ؑ نے تو یہاں تک فرمایا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنے والے کے پیچھے نماز نہ پڑھو ۔پھر جو غیر احمدی کو لڑکی دے وہ احمدی کس بات کا ہے۔
    ( الفضل یکم اپریل ۱۹۱۵؁ئ)

    ( ہمار ایہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیںاوران کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔)
    ( انوار خلافت صفحہ ۹۰۔۸۹)

    حج کے ایام میں غیراحمدی امام کے پیچھے نماز
    نانا صاحب جناب میر صاحب نے فرمایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح ؓکا حکم ہے کہ مکہ میں ان کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہئے۔۔۔۔
    حکیم محمد عمر صاحب نے یہ ذکر حضرت خلیفۃ المسیح ؓکے پاس شروع کر دیا ۔آپ نے فرمایا ہم نے ایسا کوئی فتویٰ نہیں دیا۔ہماری یہ اجازت تو ان لوگوں کے لئے ہے جو ڈرتے ہیںاور جن کے ابتلاء کا ڈرہے۔وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ اگر کسی جگہ گھِر گئے ہوں تو غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیں اور پھر آکر دہرا لیں۔
    (آئینہ صداقت صفحہ ۹۲)

    سوال: آپ نے فرمایا تھا کہ احمدی غیر احمدی کے پیچھے نماز وغیرہ نہ پڑھیں مگر جو لوگ حج کے لئے جاتے ہیں وہ تو وہاں پر حج کی نماز تو دوسرے لوگوں کے پیچھے ہی پڑھتے ہوںگے۔اگر احمدی لوگ وہاںپر ان کے پیچھے ہی نماز پڑھتے ہیں تو اس طرح تو آپ کا فرمان پورا نہیں ہوتا؟
    جواب: نماز کے متعلق تو فقہا ء کا مسئلہ ہے کہ نیت سے نماز ہوتی ہے اگر آدمی نیت کر لے کہ میں اپنی الگ نماز پڑھ رہا ہوںتو وہاں ساتھ شامل ہونے میں کیا حرج ہے؟یہ اجازت صرف حج کے لئے ہے اور نمازوں کے لئے نہیں۔دوسری نمازیں تو انسان گھر پر ہی پڑھ سکتاہے۔حج صرف وہاں ہی ہوتا ہے۔
    ( فائل مسائل دینی۔ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری)

    سوال: کیا غیر احمدی متوفی والدین کے لئے نماز میں دعائے مغفرت جائز ہے؟
    جواب: دعا تو جنازہ ہی ہے(اور جنازہ ناجائز) ان کو خدا کے حوالہ کر و۔
    ( الفضل ۲ مارچ ۱۹۱۵ ؁ء نمبر ۱۱۱)

    غیر مبائع بچے کا جنازہ
    سوال: ایک صاحب نے عرض کیا کہ غیر مبائع کہتے ہیں غیر احمدی کے بچے کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔وہ تو معصوم ہوتا ہے اور کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ بچہ جوان ہو کر احمدی ہوتا؟
    جواب: فرمایا:۔ جس طرح عیسائی کے بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے اسی طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا جنازہ بھی نہیں پڑھا جاسکتا جس طرح ایک غیر احمدی بچے کے متعلق امکان ظاہر کیا جاتاہے کہ وہ بڑا ہو کر احمدی ہوتا اسی طرح کا امکان ایک عیسائی کے بچے کے متعلق بھی ہو سکتا ہے۔
    (الفضل ۲۳اکتوبر ۱۹۲۳ ؁ء نمبر ۳۲)
    غیر احمدیوں کا جنازہ
    کہا جاتا ہے کہ فلاں غیر احمدی کا جنازہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پڑھایا تھا۔ممکن ہے آپ نے کسی کی درخواست پر پڑھایا ہو لیکن کوئی خدا کی قسم کھا کر کہہ دے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ کہا تھا کہ فلاں غیر احمدی فوت ہو گیا ہے آپ اس کا جنازہ پڑھ دیں۔اصل بات یہ ہے کہ آپ کو کہا گیا کہ فلاں کا جنازہ پڑھ دیں اور آپ نے یہ سمجھ کر کہ وہ احمدی ہوگا پڑھ دیا ۔اسی طرح ہوا ہوگا ۔میرے متعلق تو سب جانتے ہیں کہ میں کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں سمجھتالیکن مجھے بھی اس طرح کی ایک بات پیش آئی تھی اور وہ یہ کہ یہاں ایک طالب علم ہے اس نے مجھے کہا کہ میری والدہ فوت ہو گئی ہیں اس کا جنازہ پڑھ دیں۔میںنے پڑھ دیا بعد میں معلوم ہو ا وہ غیر احمدی تھی۔وہ لڑکا مجھ سے اپنی والدہ کے لئے دعا بھی کرواتا رہا کہ وہ احمدی ہو جائے لیکن اس وقت مجھے یاد نہ رہا ۔اسی طرح اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی کا جنازہ پڑھ دیا تو وہ ہمارے لئے حجت نہیں ۔ہاں اگر چند معتبر آدمی حلفیہ بیان کریں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کہا تھاکہ فلاں غیر احمدی فوت ہو گیا ہے آپ اس کا جنازہ پڑھ دیںاور پھر آپ نے پڑھ دیا تو ہم مان لیں گے ۔کیا کوئی ایسے مشاہد ہیں۔
    پس جب تک کوئی اس طرح نہ کرے یہ بات ثابت نہیں ہو سکتی کہ آپ نے کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز قرار دیا ہے۔اور ہمارے پاس غیر احمدی کا جنازہ نہ پڑھنے کے متعلق ایک بہت بڑا ثبوت ہے اور وہ یہ کہ یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے بیٹے کی لاش لائی گئی اور آپ کو جنازہ پڑھنے کے لئے کہا گیا تو آپ نے انکار کر دیا۔پھر سر سید کے جنا زہ پڑھنے کے متعلق مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کا خط موجود ہے کہ آپ نے اس کا جنازہ نہیں پڑھا ۔کیا وہ آپ کو کافر کہتے تھے ہر گز نہیں ۔ان کا تو مذہب ہی یہی تھا کہ کوئی کافر نہیں ہے۔جب ان کے جنا زہ کے متعلق خط لکھا گیا تو جیسا کہ مولوی عبد الکریم صاحب مندرجہ ذیل خط میں ایک دوست کو تحریر فرماتے ہیں ۔آپ نے اس پر خفگی کا اظہا ر فرمایا۔
    ’’متوفی کی خبر وفات سن کر حضرت خاموش رہے ۔ہماری لاہور جماعت نے متفقانہ زور شور سے عرضداشت بھیجی کہ وہاں جنازہ پڑھا جائے اور پھر نوٹس دیا جائے کہ سب لوگ جماعت کے ہر شہر میں اس تقلید پر جنازہ پڑھیں اور اس سے نوجوانوں کو یقین ہو گا کہ ہمارا فرقہ صلح کل کا فرقہ ہے۔اس پر حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔فرمایا:اور لوگ نفاق سے کوئی کاروائی کریں تو بچ بھی جائیں مگر ہم پر تو ضرور غضب الٰہی نازل ہو ۔اور فرمایا ہم تو ایک محرک کے تحت میں ہیں ۔بے اس کی تحریک کے کچھ نہیں کر سکتے نہ ہم کوئی حکم بد اس کے حق میں کہتے ہیں تفویض الی اللّٰہ کرتے ہیں۔
    فرمایا جس تبدیلی کے ہم منتظر بیٹھے ہیں اگر ساری دنیا خوش جائے اور ایک خدا خوش نہ ہو تو کبھی ہم مقصود حاصل نہیںکرسکتے۔‘‘۲۸ مارچ۔۔۔
    پس ہم کس طرح کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز سمجھ سکتے ہیں۔
    (ذکر الٰہی صفحہ ۲۶۔۲۵ ۔۔۔۔۔ایڈیشن)

    ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منکر ہوئے اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو مسیح موعود کا مکفر نہیں۔
    میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتاہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذھب ہو تا ہے شریعت وہی مذھب ان کے بچے کا قرار دیتی ہے۔
    پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہوا ۔اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔پھر میں کہتا ہوں بچہ تو گنہگا ر نہیں ہوتااس کو جنازہ کی ضرورت ہی کیا ہے۔بچہ کا جنازہ تو دعا ہوتی ہے اس کے پسماندگان کے لئے۔اورا س کے پسماندگان ہمارے نہیں بلکہ غیر احمدی ہوتے ہیں اس لئے بچہ کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔
    باقی رہا کوئی ایسا شخص جو حضرت صاحب کو تو سچا مانتا ہے لیکن ابھی اس نے بیعت نہیں کی یا ابھی احمدیت کے متعلق غورکر رہا ہے اور اسی حالت میں مر گیا اس کو ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی سزا نہ دے لیکن شریعت کا فتویٰ ظاہری حالات کے مطابق ہوتا ہے اس لئے ہمیں اس کے متعلق بھی یہی کرنا چاہئے کہ اس کا جنازہ نہ پڑھیں۔
    (انوار خلافت صفحہ ۹۳)

اس صفحے کی تشہیر