1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

فتنہ پرویزیت

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'دیگر مذاھب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 19, 2015

  1. ‏ دسمبر 19, 2015 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ ستمبر 15, 2014
    مراسلے :
    165
    موصول پسندیدگیاں :
    104
    نمبرات :
    43
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    جرنلسٹ ، درس نظامی سٹوڈنٹ۔ معلم
    مقام سکونت :
    کھڈیاں خاص تحصیل و ضلع قصور
    فتنہ پرویزیت
    اس فرقے کا بانی ایک غلام احمد پرویز نامی شخص ہے جو اپنے آپ کو اہل قرآن کہہ کر لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے ۔ یہ فرقہ اس بنیاد پر تمام احادیث کا انکار کرتا ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے دو سو سال بعد لکھی گئی اس لیے یہ درست نہیں ہے
    یہ فرقہ ظاہرا" یہی کہتا ہے کہ صرف قران پر عمل کرو کیونکہ قرآن مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ دیکھنے میں اس کی بات بہت اچھی لگتی ہے لیکن اہل علم جانتے ہیں کہ قرآن کریم پر بغیر احادیث کی رہنمائی کے عمل ہو ہی نہیں سکتا مثلا" قران میں نماز اور زکوۃ ادا کرنے کا بار بار حکم دیا گیا ہے لیکن اسکے مکمل احکامات اور طریقہ کار نہیں بتایا گیا ۔ وہ تمام تفصیلات احادیث مبارکہ میں ملتی ہیں ۔ اب اگر کوئی شخص حدیث کو چھوڑ کر صرف قران پر عمل کرنے کو کہے تو وہ نماز کس طرح ادا کرے گا اور زکوتہ میں بھی اپنی مرضی چلائے گا
    ۔ اس لیے قرآن کے ساتھ ساتھ احادیث کو ماننا بھی بہت ضروری اور لازم ہے لیکن یہ فرقہ اپنے آپ کو اہل قران کہہ کر احادیث کا انکار کرتا ہے
    اس کی کتابوں سے کچھ اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں جن کو پڑھ کر خود فیصلہ کریں کہ یہ فرقہ مسلمان کہلانے کے لائق ہی نہیں ہے۔
    ۱…”قرآن کریم میں جہاں اللہ و رسول کا ذکر آیا ہے، اس سے مراد مرکز نظامِ حکومت ہے“۔
    ۲…”رسول کو قطعاً یہ حق نہیں کہ لوگوں سے اپنی اطاعت کرائے“۔

    ۳…”رسول کی اطاعت نہیں، کیونکہ وہ زندہ نہیں“۔
    ۴…”ختم نبوت“ سے مراد یہ ہے کہ اب دنیا میں انقلاب شخصیتوں کے ہاتھوں نہیں، بلکہ تصورات کے ذریعہ رونما ہواکرے گا۔ اب سلسلہ ٴ نبوت ختم ہوگیا ہے، اسکے معنی یہ ہیں کہ اب انسانوں کو اپنے معاملات کے فیصلے آپ کرنے ہوں گے الخ“۔
    ۵…”اب رہا یہ سوال کہ اگر اسلام میں ذاتی ملکیت نہیں تو پھر قرآن میں وراثت وغیرہ کے احکام کس لئے دیئے گئے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن انسانی معاشرے کو عبوری دور کے لئے بھی ساتھ کے ساتھ راہنمائی دیتا چلا جاتا ہے، ورثہ، قرضہ، لین دین اور خیرات سے متعلق احکام عبوری دور سے متعلق ہیں“۔
    ۶…”صحیح قرآنی خطوط پر قائم شدہ مرکزِ ملت اور اس کی مجلس شوریٰ کا حق ہے کہ وہ قرآنی اصول کی روشنی میں صرف ان جزئیات کو مرتب کرے، جن کی قرآن نے کوئی تصریح نہیں کی، پھر یہ جزئیات ہر زمانہ میں ضرورت پر تبدیل کی جاسکتی ہیں، یہی اپنے زمانہ کے لئے شریعت ہیں۔

    ۷…”جن اصول کا میں نے اپنے مضمون میں ذکر کیا ہے وہ قانون اور عبادت دونوں پر منطبق ہوگا، نماز کی کسی جزئ شکل میں جس کا تعین قرآن نے نہیں کیا، اپنے زمانے کے کسی تقاضے کے ماتحت کچھ رد وبدل ناگزیر سمجھے تو وہ ایسا کرنے کی اصولاً مجاز ہوگی الخ“۔
    ۸…مسلمانوں کو قرآن سے دور رکھنے کے لئے جو سازش کی گئی اس کی پہلی کڑی یہ عقیدہ پیدا کرنا تھا کہ رسول کو اس وحی کے علاوہ جو قرآن میں محفوظ ہے ایک اور وحی بھی دی گئی تھی، یہ وحی روایات میں ملتی ہے، دیکھتے دیکھتے روایات کا ایک انبار جمع ہوگیا اور اسے اتباعِ سنت ِرسول اللہ قرار دے کرامت کو اس میں الجھادیا، یعنی یہ جھوٹ مسلمانوں کا مذہب بن گیا، وحی غیر متلو اس کا نام رکھ کر اسے قرآن کے ساتھ قرآن کی مثل ٹھیرادیاگیا، ان احادیث مقدسہ کے جو حدیث کی صحیح ترین کتابوں میں محفوظ ہیں اور جو ملاّ کی غلط نگہی اور کوتاہ اندیشی سے ہمارے دین کا جز بن رہی ہیں، سلام علیک کیجئے اور ہاتھ ملا لیجئے، جنت مل گئی، دو مسلمان جب مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ انہیں بخش دیتا ہے، اب مسجد میں چلئے اور وضو کیجئے، جنت حاضر ہے الخ“۔
    ۹…”اور آج جو اسلام دنیا میں مروج ہے وہ زمانہ قبل از قرآن کا مذہب ہو تو ہو، قرآنی دین سے اس کا کوئی واسطہ نہیں الخ“۔
    ۱۰…”خدا عبارت ہے ان صفات ِ عالیہ سے جنہیں اپنے اندر منعکس کرنا چاہتا ہے، اس لئے قوانین ِ خداوندی کی اطاعت درحقیقت انسان کی اپنی فطرت ِ عالیہ کے نوامیس کی اطاعت ہے“۔
    ۱۱…”قرآن ماضی کی طرف نگاہ رکھنے کے بجائے ہمیشہ مستقبل کو سامنے رکھنے کی تاکید کرتا ہے، اسی کا نام ایمان بالآخرت ہے“۔
    ۱۲…”بہرحال مرنے کے بعد کی جنت اور جہنم مقامات نہیں، انسانی ذات کی کیفیات ہیں لہزا کوی جنت نہیں کوئ دوزخ نہیں۔
    ۱۳…”ملائکہ سے مراد وہ نفسیاتی محرکات ہیں جو انسانی قلوب میں اثرات مرتب کرتے ہیں، ملائکہ کے آدم کے سامنے جھکنے سے مراد یہ ہے کہ یہ قوتیں جنہیں انسان مسخر کرسکتا ہے، انہیں انسان کے سامنے جھکاہوا رہنا چاہئے الخ“۔
    ۱۴…”آدم کوئی خاص فرد نہیں تھا، بلکہ انسانیت کا تمثیلی نمائندہ تھا، قصہ آدم کسی خاص فرد کا قصہ نہیں، بلکہ خود آدمی کی داستان ہے جسے قرآن نے تمثیلی انداز میں بیان کیا ہے الخ“۔
    ۱۵…”رسول اکرم کو قرآن کے سوا کوئی معجزہ نہیں دیاگیا“۔
    ۱۶…”واقعہ ٴ اسراء“ اگر یہ خواب کا نہیں تو یہ حضور کی شبِ ہجرت کا بیان ہے، اس طرح مسجد اقصیٰ سے مراد مدینہ کی مسجد نبوی ہوگی جسے آپ نے وہاں جاکر تعمیر فرمایا“۔
    ۱۷…”مجوسی اساورہ نے یہ سب کچھ اس خاموشی سے کیا کہ کوئی بھانپ نہ سکا، انہوں نے ”تقدیر“ کے مسئلے کو اتنی اہمیت دی کہ اسے مسلمانوں میں جزء ایمان بنادیا“۔
    ۱۸…”اب ہماری صلاة وہی ہے جومذہب میں پوجا پاٹ یا ایشور بھگتی کہلاتی ہے، روزے وہی ہیں جنہیں مذہب میں برت کہتے ہیں، زکوٰة وہی شے ہے جسے مذہب دان خیرات کرکے پکارتا ہے، ہمارا حج مذہب کی یا تراہے، آپ نے دیکھا کہ کس طرح دین (نظام زندگی) یکسر مذہب بن کررہ گیا، ان امور کو نہ افادیت سے کچھ تعلق ہے نہ عقل وبصیرت سے کچھ واسطہ الخ“۔
    ۱۹…”قرآن کریم نے نماز پڑھنے کے لئے نہیں کہا بلکہ قیامِ صلاة یعنی نماز کے نظام کے قیام کا حکم دیا ہے، عجم میں مجوسیوں کے ہاں پرستش کی رسم کو نماز کہا جاتا تھا، لہذا صلاة کی جگہ نماز نے لے لی الخ“۔
    ۲۰…”زکوٰة اس ٹیکس کے علاوہ اور کچھ نہیں جو اسلامی حکومت مسلمانوں پر عائد کرے، اس ٹیکس کی کوئی شرح متعین نہیں کی گئی الخ“۔
    ۲۱…”حج عالم اسلامی کی بین الملی کانفرنس کا نام ہے، اس کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کے خورد ونوش کے لئے جانور ذبح کرنے کا ذکر قرآن میں ہے الخ“۔
    ۲۲…”یہ عقیدہ کہ بلا سمجھے قرآن کے الفاظ دہرانے سے ثواب ہوتا ہے، یکسر غیر قرآنی عقیدہ ہے، یہ عقیدہ درحقیقت عہد سحر کی یادگار ہے“۔
    جی تو پڑھی اپ نے پرویزیت ۔ میں زاتی طور پر خود یہ نقطہ اٹھاتا ہوں کہ اس طرح قران میں یہ کہیں نہیں لکھا کتا حرام ہے۔ تو یہ کاٹ کے کھا کیوں نہیں جاتے۔۔؟
    اس قسم کے فتنوں سے خود بھی آگاہ رہیں اور دوسروں کو آگاہ کرکے انکا ایمان بھی بچائیں۔۔
    • Like Like x 1
  2. ‏ دسمبر 19, 2015 #2
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    2,446
    موصول پسندیدگیاں :
    1,320
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    ٹیچنگ ، حکمت
    مقام سکونت :
    گوجرانوالہ
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر