1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(فیصلہ) مقدمۂ بہاول پور

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 16, 2015

  1. ‏ فروری 16, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    2100ضمیمہ نمبر:۱

    فیصلہ

    مقدمۂ بہاول پور

    …محفل ارشادیہ سیالکوٹ…

    2101انتساب!

    میں اس اشاعت کو حضرت امام ربانی، قیوم دورانی، قطب زمانی، مجدد الف ثانی الشیخ احمد سرہندی الفاروقی قدس سرہ السبحانی کے نام نامی سے منسوب کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں اور خداوند رب العزت کی بارگاہ اقدس میں نہایت عجز وانکسار کے ساتھ دست بدعا ہوں کہ وہ مالک حقیقی اپنے حبیب کے صدقے اور حضرت مجدد علیہ الرحمتہ کے فیض کی برکت سے جو کہ بزرگوارم حضرت حافظ سید ارشاد حسین سرہندیؒ کے توسط سے ہم تک پہنچا ہے۔ ہمیں توفیق عطاء فرمائے کہ ہم جیسے نااہل حضرت مجددؒ کی اس سنت کو زندہ کر سکیں۔ جس کے لئے آپ اس دنیا میں تشریف لائے اور کفروالحاد، شرک وبدعت جیسی باطل قوتوں سے ٹکرا کر انہیں ریزہ ریزہ کر کے حق وصداقت کی روشنی سے دنیاکے کونے کونے کومنور کر دیا۔ خاکپائے سگان مجدد الف ثانی
    سید اختر حسین سرہندی
    2102’’ہندوستان کی سرزمین پر بے شمار مذاہب بستے ہیں۔ اسلام دینی حیثیت سے ان تمام مذاہب کی نسبت زیادہ گہرا ہے۔ کیونکہ ان مذاہب کی بناء کچھ حد تک مذہبی ہے اور ایک حد تک نسلی، اسلام نسلی تخیل کی سراسر نفی کرتا ہے اور اپنی بنیاد محض مذہبی تخیل پر رکھتا ہے اور چونکہ اس کی بنیاد صرف دینی ہے۔ اس لئے وہ سراپا روحانیت ہے اور خونی رشتوں سے کہیں زیادہ لطیف بھی ہے۔ اسی لئے مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں زیادہ حساس ہے جو اس کی وحدت کے لئے خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو۔ لیکن اپنی بناء نئی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے، مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ تصور کرے گا اور یہ اس لئے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔‘‘
    (حرف اقبال ص۱۲۱،۱۲۲)

اس صفحے کی تشہیر