1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

فیصلہ

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 2, 2015

  1. ‏ مارچ 2, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    فیصلہ
    مقدمہ کے تمام پہلوؤں پر نظر غائر ڈالنے اورسامعین پرمرافعہ نگار کی تقریر کے اثرات کااندازہ کرنے سے میںاس نتیجہ پرپہنچا ہوں کہ مرافعہ گزار تعزیرات کی دفعہ ۱۵۳ کے ماتحت جرم کا مرتکب ہواہے اور اس کی سزا قائم رہنی چاہئے۔ مگر سزا کی سختی اورنرمی کا اندازہ کرتے وقت ان واقعات کو پیش نظررکھنا بھی ضروری ہے جو قادیان میں رونما ہوئے۔ نیز یہ بات نظرانداز کئے جانے کے قابل نہیں کہ مرزا نے خود مسلمانوں کو کافر سور اوران کی عورتوں کو کتیوں کاخطاب دے کر ان کے جذبات کوبھڑکایا۔میراخیال یہی ہے کہ اپیلانٹ کا جرم محض اصطلاحی تھا۔ چنانچہ میں اس کی سزا کو کم کرکے اسے اختتام عدالت قید محض کی سزا دیتاہوں۔
    گورداسپور دستخط
    ۶؍جون۱۹۳۵ئ جی۔ ڈی۔ کھوسلہ
    سیشن جج
    2347جناب چیئرمین: بہت بہت شکریہ۔ مولاناعبدالحق صاحب!
    مولوی مفتی محمود: جناب والا!ایک بات عرض کرنا ہے کہ یہ بیان قومی اسمبلی کے ۳۷ ارکان کی طرف سے ہے اوراس وقت تک ہمارے پاس ۳۹ اراکین کے دستخط ہیں۔ یہ دستخط ہمارے پاس موجود ہیں اوریہ تمام پارٹیوں سے بالاتر ہوکر کیا ہے۔
    جناب چیئرمین: ہم ساری پارٹیوں سے بالاتر ہوکر کریں گے۔
    مولوی مفتی محمود: اگر کوئی رکن اس قرارداد پر دستخط کرنا چاہیں،تو کردیں؟
    جناب چیئرمین: اگر ان کو دینا چاہیں تو دے دیں۔مولاناعبدالحکیم صاحب! آپ شروع کریں۔
    مولانا عبدالحکیم: دستخط ہو جانے دیں۔
    جناب چیئرمین: آپ شروع کریں۔
    مولانا عبدالحکیم: باتیں ہورہی ہیں۔
    جناب چیئرمین: ملک اختر !باتیں نہ کریں۔ مولانا!شروع کریں۔
    7th is comming to close.
    سات تاریخ بہت قریب آرہی ہے۔
    آپ ۲۵۰صفحات کی کتابیں لکھ کر لائے ہیں۔
    If you read it,you have to sit.
    اگر آ پ یہ پڑھیں گے تو آپ کو بیٹھنا پڑے گا۔
    مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب والا!
    جناب چیئرمین: مولانا!پہلے وہ ختم کرلیں،پھر اس کے بعد۔
    2348مولانا عبدالحکیم:
    بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔
    الحمد ﷲ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ۔

اس صفحے کی تشہیر