1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قادیانیوں سے سوالات ( ۸۱ ’’سلطنت برطانیہ تاہشت سال‘‘ کے الہام سے مرزا انکاری، بیٹا اقراری)

محمدابوبکرصدیق نے 'میرا سوال یہ ہے کہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 19, 2014

  1. ‏ اکتوبر 19, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانیوں سے سوالات ( ۸۱ ’’سلطنت برطانیہ تاہشت سال‘‘ کے الہام سے مرزا انکاری، بیٹا اقراری)
    سوال نمبر:۸۱… انبیائ علیہ السلام کو سب سے پہلے اپنے الہام پر ایمان ہوتا ہے اور وہ ’’بلغ ما انزل‘‘ کے تحت مامور ہوتے ہیں کہ خدا کا لہام بلاکم وکاست لوگوں تک پہنچا دیں۔ خواہ انہیں اس جرم کی پاداش میں بھڑکتی ہوئی آگ یا تختہ دار سے ہمکنار ہونا پڑے۔ مگر افسوس کہ مرزاقادیانی اس مقام پر بھی بالکل فیل نظر آتے ہیں۔ ۱۸۶۰ء کے زمانہ میں ایک دفعہ انہیں الہام ہوا تھا کہ سلطنت برطانیہ ۷،۸سال تک کمزور ہو جائے گی۔ الہام کے اصل الفاظ یہ تھے کہ: ’’سلطنت برطانیہ تاہشت سال بعدازاں ایام ضعف واختلال‘‘ ان کے کسی مرید نے یہ الہام مولانا محمدحسین بٹالوی کو بتادیا اور انہوں نے اپنے اخبار ’’اشاعۃ السنہ‘‘ میں شائع کر دیا۔ پس پھر کیا تھا۔ مرزاقادیانی کو فکر پڑ گئی کہ انگریز بہادر ناراض ہوکر خودکاشتہ پودا کی جڑ ہی نہ اکھڑوا دے۔ فوراً ایک رسالہ ’’کشف الغطائ‘‘ لکھ مارا۔ جس کے ٹائٹل پر بحروف جلی لکھا کہ: ’’یہ مؤلف تاج عزت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام سے باادب گذارش کرتا ہے کہ براہ غریب پروری وکرم گستری اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھا جائے یا سنا جائے۔‘‘
    پھر ’’صفحہ ب‘‘ پر الہام مذکورہ سے انکار کرتے ہوئے لکھا کہ: ’’میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے اپنی عاجزانہ عرض کو گورنمنٹ پر ظاہر کروں کہ مجھے اس شخص کے ان خلاف واقعہ کلمات سے کس قدر صدمہ پہنچا ہے اور کیسے درد رساں زخم لگے ہیں۔ افسوس کہ اس شخص نے عمداً اور دانستہ گورنمنٹ کی خدمت میں میری نسبت نہایت ظلم سے بھرا ہوا جھوٹ بولا ہے اور میری تمام خدمات کو برباد کرنا چاہا ہے۔ خدا جھوٹے کو تباہ کرے۔‘‘
    گویا مرزاقادیانی نے خوب زوروشور سے الہام مذکورہ کا انکار کر دیا۔ چونکہ مولانا بٹالوی کے پاس مرزاقادیانی کی کوئی تحریر متعلقہ الہام نہیں تھی۔ اس لئے انہیں خاموش ہونا پڑا اور عرصہ ۲۵سال تک اس الہام پر انکار کا پردہ پڑا رہا۔ مگر ’’نہاں ماند کجا رازے کزد سازند محفلہا‘‘ کہی ہوئی بات کو چھپانا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ وہ کسی نہ کسی رنگ میں ظاہر ہو ہی جایا کرتی ہے۔ مذکورہ الہام کے سلسلہ میں بھی ایسا ہی ہوا کہ مرزاقادیانی نے انکار کیا اور دعا کی کہ: ’’جھوٹے کو خدا تباہ کرے۔‘‘ مگر ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادہ مرزابشیر احمد ایم۔اے نے (سیرۃ المہدی ج۱ ص۷۵، روایت نمبر۹۶) پر تسلیم کر لیا کہ حضرت صاحب کو واقعی یہ الہام ہوا تھا۔
    اب ناظرین یہ بتائیں کہ مرزاقادیانی کو کیا کہیں؟۔ مرزائیو! یہ کیا بات ہے؟ کہ باپ اپنے الہام سے منکر ہے اور صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ الہام واقعی ہوا تھا۔ ذرا سوچ سمجھ کر جواب دینا۔

اس صفحے کی تشہیر