1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

( قادیانیوں کا مسلمانوں سے معاشرتی بائیکاٹ)

محمدابوبکرصدیق نے 'مسلمانوں سے نفرت اور معاشرتی بائیکاٹ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 1, 2014

  1. ‏ اکتوبر 1, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقائد مرزا ( مسلمانوں سے معاشرتی بائیکاٹ)

    مرزائیوں کا عجیب معاملہ ہے کہ وہ ایک طرف تو مسلمانوں سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ انہیں اپنا حصہ سمجھا جائے۔ انہیں برابر کے حقوق ملیں اور مسلمان معاشرتی زندگی میں ان سے مل جل کر رہیں۔ اس کو آپ حقیقت کا نام دیں گے یا منافقت کا کہ ان کی یہ جملہ خواہشیں اور جملہ تقاضے ان کے گرو اور ان کے پسماندگان کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔
    مرزائی دنیا کی تحریرات میں شادی بیاہ سے لے کر جنازہ اور تدفین تک جملہ معاملات میں بائیکاٹ اور انقطاع کی تعلیم ہے اور اس پر بھرپور زور دیا گیا ہے کہ مسلمانوں سے کسی قسم کا معاملہ نہ رکھیں۔ حتیٰ کہ ان کے معصوم بچوں کا جنازہ تک نہ پڑھیں۔
    سوال یہ ہے کہ جب مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کے خلفاء کی تعلیمات یہ ہیں تو پھر وہ مسلمانوں سے باہمی روابط کا کیوں مطالبہ اور تقاضا کرتے ہیں۔ ان دوغلے اور منافقانہ رول کا اندازہ کرنے کے لئے درج ذیل تحریرات سب سے بڑا ثبوت ہیں۔
    *… ’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ جو اپنی لڑکی غیراحمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے باربار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو۔ لیکن غیراحمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیراحمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اوّل حکیم نورالدین نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود کہ وہ باربار توبہ کرتا رہا۔‘‘
    (انوار خلافت ص۹۳،۹۴)
    *… ’’حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیراحمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہر احمدی کا فرض ہے۔‘‘
    (برکات خلافت، مجموعہ تقاریر محمود ص۷۵)
    *… ’’پانچویں بات جو کہ اس زمانہ میں ہماری جماعت کے لئے نہایت ضروری ہے۔ وہ غیراحمدی کو رشتہ دینا ہے۔ جو شخص غیراحمدی کو رشتہ دیتا ہے۔ وہ یقینا حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کیا کوئی غیراحمدیوںں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر سمجھتے ہو۔ مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہوکر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر احمدی کہلا کر کافر کو دے دیتے ہو۔‘‘
    (ملائکۃ اﷲ ص۴۶)
    *… ’’ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے غیراحمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریمﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیراحمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا… دینی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دئیے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے۔‘‘
    (کلمتہ الفصل ج۱۴ نمبر۴ ص۱۶۹)
    *… ’’صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو۔‘‘
    (قول مرزاغلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الحکم قادیان مورخہ ۱۰؍اگست ۱۹۰۱ئ)
    *… ’’پس یاد رکھو جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا امام وہی ہو جو تم میں ہو۔‘‘
    (اربعین نمبر۳ ص۲۸ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۱۷)
    *… ’’ہمارا یہ فرض ہے کہ غیراحمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خداتعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔‘‘
    (انوار خلافت ص۹۰)
    *… ’’غیراحمدی مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ حتیٰ کہ غیراحمدی معصوم بچے کا بھی جائز نہیں۔‘‘
    (انوار خلافت ص۹۳، الفضل قادیان مورخہ ۲۱؍اگست ۱۹۱۷ئ، مورخہ ۳۰؍جولائی ۱۹۳۱ئ)
    *… نیز معلوم عام بات ہے کہ چوہدری ظفر اﷲ خان وزیر خارجہ پاکستان، قائداعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوا اور الگ بیٹھا رہا۔ جب اسلامی اخبارات اور مسلمان اس چیز کو منظر عام پر لائے تو جماعت احمدیہ کی طرف سے جواب دیا گیا کہ: ’’جناب چوہدری محمد ظفر اﷲ خان صاحب پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائداعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ قائداعظم احمدی نہ تھے۔ لہٰذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔‘‘
    (ٹریکٹ نمبر۲۲ عنوان احراری علماء کی راست گوئی کا نمونہ، الناشر مہتمم نشرواشاعت نظارت دعوت وتبلیغ، صدر انجمن احمدیہ ربوہ ضلع جھنگ)
    *… جب قادیانی امت پر مسلمانوں کی جانب سے اعتراض کیاگیا کہ قائداعظم مسلمانوں کے محسن تھے اور تمام ملت اسلامیہ نے ان کا جنازہ پڑھا ہے تو جماعت احمدیہ نے جواب دیا کہ: ’’کیا یہ حقیقت نہیں کہ ابوطالب بھی قائداعظم کی طرح مسلمانوں کے بہت بڑے محسن تھے۔ مگر نہ مسلمانوں نے آپ کا جنازہ پڑھا اور نہ رسول خدا نے۔‘‘
    (الفضل قادیان موررخہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۵۲ئ)
    اوپر کے حوالہ جات سے ثابت ہوگیا کہ مرزائی دنیا بھر کے مسلمانوں کو کلمہ پڑھنے، قبلہ کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کرنے، زکوٰۃ اور حج کے فریضہ سے عہدہ برآہونے اور دیگر ضروریات دین پر عمل کرنے، قرآن مجید کو اﷲ کی کتاب یقین کرنے کے باوجود کافر سمجھتے ہیں۔ قائداعظم بھی سرظفر اﷲ خان کے نزدیک معاذ اﷲ کافر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ظفر اﷲ خان غیرمسلم سفیروں کے ساتھ جنازہ کے وقت گراؤنڈ کے ایک طرف بیٹھا رہا۔ لیکن جنازہ میں شریک نہ ہوا۔
    بعد میں مولانا محمد اسحق مانسہرویؒ نے دریافت کیا کہ چوہدری صاحب آپ نے جنازہ کے موقع پر موجود ہوتے ہوئے قائداعظم کے جنازہ میں کیوں شرکت نہیں کی تو ظفر اﷲ خان نے جواب دیا۔
    ’’مولانا آپ مجھے مسلمان حکومت کا ایک کافر ملازم یا ایک کافر حکومت کا مسلمان ملازم خیال کر لیں۔‘‘
    ابھی حال ہی میں لاہوری کے ایک پرچہ ’’آتش فشاں‘‘ اشاعت مئی ۱۹۸۱ء میں ظفر اﷲ خان کا ایک مفصل انٹرویو شائع ہوا ہے۔ اس میں ان سے سوال کیاگیا کہ آپ پر ایک اعتراض اکثر ہوتا ہے کہ آپ نے قائداعظم کا جنازہ موجود ہوتے ہوئے نہیں پڑھا؟ چوہدری صاحب نے جواب میں کہا کہ:
    ’’ہاں یہ ٹھیک بات ہے میں نے نہیں پڑھا یعنی قائداعظم کا جنازہ پڑھتا تو اعتراض کی بات تھی کہ یہ شخص منافق ہے۔ یہ غیراحمدی کا جنازہ نہیں پڑھتے اور اس نے تو پڑھ لیا۔ تب تو میرے کریکٹر کے متعلق کہا جاسکتا تھا کہ منافق ہے اس کا عقیدہ کچھ ہے۔ عمل کچھ کرتا ہے۔ اس نے ہر دلعزیزی حاصل کرنے کی خاطر قائداعظم کا تو پڑھ لیا تھا۔ میرے عقیدے کو وہ جانتے ہیں۔ میرے عقیدے کو انہوں نے ناٹ مسلم قرار دیا ہے۔ تو اگر میں آئینی اور قانونی اعتبار سے ناٹ مسلم ہوں تو ایک ناٹ مسلم پر کیسے واجب ہے کہ مسلمان کا جنازہ پڑھے؟ ان کی اپنی کرتوت تو سامنے ہونی چاہئے۔ نہ پڑھنے پر کیا اعتراض ہے؟ سارے جہاں کو معلوم ہے کہ ہم نہیں پڑھتے۔ غیراحمدی کا جنازہ۔‘‘
    (رسالہ آتش فشاں مئی ۱۹۸۱ء ص۲۴)

اس صفحے کی تشہیر