1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(قادیانیوں کو خلاف قانون جماعت قرار دیا جائے)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 28, 2015

  1. ‏ مارچ 28, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (قادیانیوں کو خلاف قانون جماعت قرار دیا جائے)
    تو ہر پاکستانی شہری کا یہ فرض ہے کہ وہ سٹیٹ کا Loyal ہوا۔ تو سٹیٹ کی تعریف آئین کے آرٹیکل۷ میں کی گئی ہے۔ جس میں فیڈرل گورنمنٹ، پراونشل گورنمنٹ، اسمبلیز وغیرہ موجود ہیں۔ تو کیا میں یہ پوچھ سکتا ہوں کہ کسی قادیانی کو اگر کوئی گورنمنٹ یعنی اسٹیٹ کا فرد جو بڑے سے بڑے عہدے پر فائز ہو حکم دے اور دوسری طرف سے ان کا اپنا ہیڈ اس کو کوئی حکم دے تو کس کے حکم کی تابعداری وہ کرتا ہے؟ یقینا وہ اپنے ہیڈ کی بموجب شق۱۰ بیعت نامہ، تابعداری کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس لئے ان کو ایک خلاف آئین جماعت قرار دیا جائے اور آئین کی خلاف ورزی کے لئے آپ نے ایک شق نمبر۶ رکھی ہے کہ وہ High Treason (ریاست سے غداری) کا مرتکب ہوتا ہے اور جب آرٹیکل۶ کے تحت وہ High Treason (ریاست سے غداری) کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے لئے آپ نے فیصلہ کیا تھا کہ اس کی سزا Death (موت) ہوگی۔ تو اس لئے جناب! یہ مسئلہ جو ہے…
    Mr. Chairman: Just to interrupt the honourable speaker, another information I would like to give to the honourable members.
    (جناب چیئرمین: معزز مقرر کی بات میں مداخلت کرتے ہوئے، میں معزز اراکین کو ایک بات بتانا چاہوں گا)
    ایک منٹ، ملک صاحب! جن ممبر صاحبان نے پاس بنوانے کے لئے کہا تھا آج شام تک کے جائنٹ سیشن کے لئے، وہ ڈیڑھ بجے اسسٹنٹ سیکرٹری سے Collect (اکٹھا) کر سکتے ہیں۔
    It is a privilege which should go to the M.N.A's close relatives and family members. My gallery will be occupied by the entourage. We are having 45 diplomatic cards; then there is the 2640Press. This part of DVG is reserved for M.N.A's family members and their close relatives; and if we issue one card for one, that means about 200 cards; but we have got only 78 seats.
    (یہ ایک مراعت ہے جو ایم۔این۔اے‘ز کے قریبی رشتہ داروں اور گھر کے افراد کو ملنی چاہئے۔ میری گیلری میں عملے کے افراد ہوں گے۔ ہمارے پاس ۴۵ڈپلومیٹک کارڈ ہیں اور پھر پریس بھی ہے۔ DVG کا یہ حصہ ایم۔این۔اے‘ز کے گھر کے افراد اور ان کے قریبی رشتہ دار کے لئے مختص ہوگا اور اگر ہم ایک شخص کے لئے ایک کارڈ جاری کریں تو اس کا مطلب ہوگا تقریباً ۲۰۰کارڈ۔ لیکن ہمارے پاس صرف ۷۸نشستیں ہیں)
    تو اس کے لئے یہ ہے کہ باقی پھر ذرا پیچھے بیٹھیں گے۔ مثلاً اگر ہمارے پاس چالیس Requisitions (ریکویزیشنز) آتی ہیں تو جو ہمارے پاس سیٹیں بچ جائیں گی وہ دو بھی ہوسکیں گی، تین بھی ہوسکیں گی۔ لیکن سب سے پہلے Preference (ترجیح) ہوگی ایک کارڈ Per Honourable member (ہر معزز رکن کے لئے) میں جا کر کارڈوں پر Tick Mark (ٹک مارک) کردوں گا۔ Between 12: 00 and 1: 00, the cards can be collected (۱۲اور ۱؍بجے کے درمیان کارڈ لئے جا سکتے ہیں) چاہے مجھ سے لے لیں، میرے آفس سے لے لیں، اسسٹنٹ سیکرٹری کو میں وہاں بٹھا دوں گا۔ چاہے وہاں سے آپ کارڈ لے لیں۔
    جناب عبدالحمید جتوئی: جناب والا! ایک تجویز ہے کہ یہ جو اس مسئلے پر ہمارے ممبر صاحبان کی تقاریر ہوئی ہیں، اگر آپ کی عنایت ہو تو ان کی نقلیں ہمیں مل جائیں تاکہ…
    جناب چیئرمین: یہ سب ملیں گی۔
    جناب عبدالحمید جتوئی: …بوقت ضرورت جیب میں لے کر پھریں تو بہتر ہوگا۔
    جناب چیئرمین: نہ جی نہ! اور یہ اخباروں میں آئیں گی۔ یہ تو ریکارڈ ہم نے پبلش کرنا ہے۔
    مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: جناب والا! گزارش ہے کہ کمیٹی میں کوئی قید نہیں ہے؟
    جناب چیئرمین: جتناکمیٹی میں جہاں مرضی ہے۔
    مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: تو ٹھیک ہے۔ کل میں نے کارڈ بنواکے منگوالئے تھے۔ تو ان کو دوبارہ واپس کرنا پڑے گا؟
    جناب چیئرمین: آپ نے غلط کیا ہے۔
    2641جناب عبدالمصطفیٰ الازہری: کیوں؟
    جناب چیئرمین: کیونکہ سب کے لئے ایک ہی اصول ہونا چاہئے۔ میں نے پوچھا، انہوں نے کہا دو تین حضرات مجھ سے کارڈ لے گئے ہیں۔ ٹھیک ہے، وہ Valid (صحیح) ہے۔ اگر یہ سارے Collectively (اجتماعی طور پر) کریں گے۔ جی، ملک محمد سلیمان! آپ کتنا وقت لیں گے؟
    ملک محمد سلیمان: جتنا ٹائم کہیں۔
    جناب چیئرمین: جتنا ٹائم آپ مناسب سمجھیں۔
    ملک محمد سلیمان: بس تھوڑا ہی، تو جہاں ہر شہری کو آرٹیکل۲۰ کے تحت یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کو Profess (کا اعلان کرے) کرے، Propagate (اشاعت) کرے، وہاں آرٹیکل۱۹ ہے۔ جس میں یہ درج ہے کہ:
    "Every citizen shall have the right of freedom of speech and expression and there shall be freedom of the press subject to any reasonable restrictions imposed by law in the interest of the glory of Islam."
    (’’ہر شہری کو آزادیٔ تقریر واظہار کا حق حاصل ہوگا اور پریس اس شرط کے ساتھ آزاد ہوگا کہ قانون، اسلام کی عظمت کے مفاد میں اس پر مناسب پابندیاں عائد کر سکے۔‘‘)
    تو جہاں یہ Freedom of speech اور Expression (آزادیٔ تقریر واظہار) دی گئی ہے وہاں جب Glory of Islam (اسلام کی عظمت) کے خلاف کوئی بات کی جائے گی تو اس پر پابندی لگانے کا اختیار حاصل ہے۔ تو جناب والا! جب خاتم النّبیین ﷺ کے بعد کوئی آدمی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے اور اس لٹریچر کا وہ پراپیگنڈہ کرتا ہے، اس Religion (مذہب) کو Profess (اعلان) کرتا ہے ، تو اس پر پابندی لگانا یہ ہمارے دائرہ اختیار میں ہے،ہم لگا سکتے ہیں۔ یہ آئینی حق اس ملک کے لوگوں کو حاصل ہے، اور ان لوگوں پر یہ دعویٰ کرتے ہیں پابندی لگادی جائے۔ تو آئندہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جتنا لٹریچر جو اس وقت تک موجود ہے وہ چونکہ Glory of Islam (عظمت اسلام) کے خلاف ہے، وہ اسلام کی روح کے خلاف ہے، اس کو ضبط کیا جاسکتا ہے اور 2642ضبط کرنا چاہئے اور آئندہ اس قسم کا کوئی لٹریچر شائع نہیں ہوسکتا۔ پاکستان میں چونکہ ہمارا مذہب (اسٹیٹ کا) اسلام ہے تو اس طریقے سے ہم ان کا تمام ایسا لٹریچر ضبط کر سکتے ہیں اور انہوں نے جو جائیداد پیدا کی ہے اور اسی پاکستان میں ہے اور وہ پاکستان میں اسلام کے نام کو Exploit (کا استحصال) کر کے پیدا کی ہے، اسلام کے نام پر حاصل کی ہے۔ جب ہر مسجد کی جائیداد وقف کو چلی گئی ہے تو یہ کیوں نہیں جاسکتی۔ یہ محکمہ اوقاف کو کیوں نہیں جا سکتی۔ تو تمام جائیداد جو ہے یہ محکمہ اوقاف کو منتقل کر دی جائے۔ جہاں تک بیعت کا تعلق ہے، بیعت جو ہے یہ نہیں ہوسکتی۔ یہ خلاف شرع اور آئین ہے تو یہ بیعت منسوخ فرما دی جائے اور اس قسم کی بیعت کا اس ملک میں کسی شخص کو بھی یہ حق حاصل نہ ہو کہ کسی موہوم مسیح الموعود کے نام پر لوگوں کو گمراہ کر کے بیعت حاصل کرے۔ کیونکہ اس میں جو بیعت کا فارم ہمارے سامنے پیش ہوا ہے وہ موہوم ہے۔ اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ ایک جھوٹ ہے، ایک فراڈ ہے۔
    تو جناب عالی! اب ایسی باتیں جن کے متعلق میں اظہار کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ واقعہ ربوہ جو ہے یہ ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو ہوا۔ میری اطلاع کے مطابق بیشتر متمول قادیانیوں نے اپنی بڑی بڑی جائیدادوں کے ۲۹ سے پہلے بیمے کرائے۔ میں آپ کی وساطت سے یہ اپنی گورنمنٹ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ بات کس حد تک درست ہے؟ اس کی چھان بین کی جائے اور اس کی رپورٹ اس معزز ایوان کے سامنے لائی جائے۔
    جناب چیئرمین: اس کمیٹی میں گورنمنٹ کوئی نہیں ہے۔ یہ نیشنل اسمبلی میں پوچھیں۔
    ملک محمد سلیمان: تو اس کے بعد دوسری بات یہ ہے میری اطلاع یہ بھی ہے اور میرے علم میں لایا گیا ہے کہ یہ ۱۹۷۱ء کی جنگ میں جتنے ہمارے فوجی P.O.W (جنگی قیدی) ہوئے، 2643یہ بتایا جائے کہ کتنے قادیانی P.O.W (جنگی قیدی) ہوئے۔ کیونکہ یہ ہمارے علم میں لایا گیا ہے… ہو سکتا ہے سچ ہو یا غلط ہو، اس کی تصحیح چاہتا ہوں… کہ کوئی قادیانی P.O.W (جنگی قیدی) نہیں ہوا تو یہ راز بھی فاش کیا جائے تاکہ جو ہمارے ساتھ ہوا ہے یا آئندہ یہ منصوبے بنائیں تو اس کے متعلق ہمیں علم ہو جائے کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ تو جناب عالی!…
    جناب چیئرمین: بس جی۔
    ملک محمد سلیمان: نہیں جناب!
    جناب چیئرمین: آج ٹائم تھوڑا ہے۔
    ملک محمد سلیمان: یہ ہمارا شیڈول نمبر۳ آئین کا ہے۔ جس میں ہم نے یہ وضاحت کر دی ہے کہ بڑے بڑے عہدے مثلاً پریذیڈنٹ اور پرائم منسٹر کے، وہ مسلمان کے حصہ میں آئیں گے۔ تو اس میں کچھ اضافہ کرنا چاہئے۔ اس میں تمام فیڈرل منسٹرز جو ہیں، اسٹیٹ منسٹرز جو ہیں ان کا اوتھ بھی وہی ہو جو پرائم منسٹر اور پریذیڈنٹ کا ہے۔ اس میں صوبے کے وزراء کے حلف کی ضرورت نہیں۔ صوبے میں مینارٹی کو Representation (نمائندگی) ملے گی تو اس میں ضرورت نہیں۔ Speaker of the National Assembly and the Deputy Speaker of the National Assembly.... (قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر…)
    Mr. Chairman: .... and all the members of the National Assembly.
    (جناب چیئرمین: … اور قومی اسمبلی کے تمام اراکین)
    ملک محمد سلیمان: جناب عالی! ممبران کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا وہی حلف ہونا چاہئے جو ایک مسلمان کے لئے وضع کیاگیا ہے۔ اس میں گورنر، یہ چاروں سارے صوبوںکے گورنر جو ہیں، چیف منسٹر… میں پراونشل منسٹروں کی بات نہیں کر رہا، صرف چیف منسٹروں کی بات کروں گا… گورنر، چیف منسٹر، Chief Justices of 2644Supreme Court and the High Courts. I am not talking of the other Justices. (ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، میں دوسرے جسٹسز کی بات نہیں کر رہا) چیف الیکشن کمشنر کا وہی حلف ہو جو ایک مسلمان کا ہوتا ہے۔ Chief of the Armed Froces (چیف آف آرمڈ فورسسز)، (اپوزیشن کی طرف سے نعرہ ہائے تحسین) اس میں آرمی، ائیرفورس اور نیوی کے چیف آف سٹاف شامل ہوں گے۔ ان کا حلف وہی ہوگا جو ایک مسلمان کا ہوتا ہے تو میں ان گزارشات کے ساتھ آپ کی وساطت سے تمام ہاؤس سے اپیل کرتا ہوں کہ ان گزارشات پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں اور صحیح فیصلہ صادر فرمائیں۔ (اپوزیشن کی طرف سے نعرہ ہائے تحسین) (مداخلت)
    Mr. Chairman: (To Malik Mohammad Jafar), How long will you take?
    (جناب چیئرمین: (ملک محمد جعفر سے) آپ کتنا وقت لیں گے؟)
    ملک محمد جعفر: تھوڑا سا۔
    جناب چیئرمین: اندازاً کتنا؟
    ملک محمد جعفر: نہیں، میں کوئی غیرضروری بات نہیں کروں گا۔
    جناب چیئرمین: میں نے کب کہا ہے۔
    ملک محمد جعفر: میں عرض کرتا ہوں یہ نہیں کہہ سکتا، لیکن ہوسکتا ہے بیس تیس منٹ لگ جائیں۔میرا خیال ہے کہ آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

اس صفحے کی تشہیر