1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قادیانیوں کی مزارات پر حاضری اور قبر پوجا کہانی

مبشر شاہ نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 27, 2019

  1. ‏ اگست 27, 2019 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    قادیانیوں کی مزارات پر حاضری اور قبر پوجا کہانی

    قادیانی حضرات سنیوں کو مزارات پر حاضری اور دعا کرنے پر بہت اعتراضات وارد کرتے ہیں تو آئیے دیکھتے ہیں کہ قادیانی جو اعتراض ہم پر کرتے ہیں آیا وہ اس اعتراض کی زد میں آتے ہیں کہ نہیں ؟ سیرت المہدی سے چند اقبتاسات ملاحظہ فرمائیں :

    {1134} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ دہلی میں جب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام تشریف فرما تھے۔تو ایک دن حضور شاہ ولی اللہ صاحب کے مزار پر تشریف لے گئے ۔ فاتحہ پڑھی اور فرمایا کہ یہ اپنے زمانے کے مجدد تھے۔

    {1312} بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔محترمہ کنیز فاطمہ صاحبہ اہلیہ میر قاسم علی صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت صاحب ۱۹۰۵ء میں دہلی میں تھے اور وہاں جمعہ کو میری بھی بیعت لی۔اور دعا فرمائی۔ باہر دشمنوں کا بھاری ہجوم تھا ۔میں بار بار آپؑ کے چہرے کی طرف دیکھتی تھی کہ باہر اس قدر شور ہے اور حضرت صاحبؑ ایک شیر کی طرح بیٹھے ہیں ۔ آپؑ نے فرمایا۔’’شیخ یعقوب علی صاحب کو بلا لاؤ۔گاڑی لائیں‘‘۔ میر صاحب نے کہا ۔حضور! گاڑی کیا کرنی ہے ؟ آپ نے فرمایا’’قطب صاحب جانا ہے‘‘ میں نے کہا حضور اس قدر خلقت ہے۔ آپ ان میں سے کیسے گزریں گے؟ آپؑ نے فرمایا’’دیکھ لینا میں ان میں سے نکل جاؤں گا‘‘۔ میر صاحب کی اپنی فٹن بھی تھی ،دو گاڑیاں اور آگئیں۔ہم سب حضرت صاحبؑ کے خاندان کے ساتھ گاڑیوں میں بھر کر چلے گئے۔پہلے حضرت میر ناصر نواب صاحب کے والد کے مزار پر تشریف لے گئے اور بہت دیر تک دعا فرمائی اور آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہے۔اس کے بعد آپ حضرت نظام الدین اولیاء کے مقبرہ پر تشریف لے گئے۔آپؑ نے تمام مقبرہ کو خوب اچھی طرح سے دیکھا۔پھر مقبرہ کے مجاوروں نے حضورؑسے پوچھا، آپ حضرت نظام الدین صاحب کو کیا خیال فرماتے ہیں ؟ آپؑ نے فرمایا ’’ ہم انہیں بزرگ آدمی خیال کرتے ہیں ‘‘۔پھرآپؑ نے مقبرہ کے مجاوروں کو کچھ رقم بھی دی جو مجھے یاد نہیں کتنی تھی پھر آپؑ مع مجاوروں کے قطب صاحب تشریف لے گئے۔ وہاں کے مجاوروں نے آپ کو بڑی عزت سے گاڑی سے اتارا اور مقبرہ کے اندر لے گئے کیونکہ مقبرہ نظام الدین اولیاء میں توعورتیں اندر چلی جاتی ہیں لیکن قطب صاحب میں عورتوں کو اندر نہیں جانے دیتے۔ان لوگوں نے حضور ؑ کو کھانے کے لئے کہا۔حضورؑ نے فرمایا ’’ہم پرہیزی کھانا کھاتے ہیں آپ کی مہربانی ہے‘‘۔ وہاں کے مجاوروں کو بھی حضورؑ نے کچھ دیا پھر حضورعلیہ السلام وہاں سے شام کو واپس گھر تشریف لے آئے۔مجاور کچھ راستہ تک ساتھ آئے۔

اس صفحے کی تشہیر