1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قادیانیوں کی پیش کردہ آیت نمبر۳… ۔۔۔ واٰخرین منھم لما یلحقوابھم (جمعہ: ۲،۳)

محمدابوبکرصدیق نے 'دلائل ختم نبوت از روئے قرآن شریف' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 8, 2014

  1. ‏ دسمبر 8, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانیوں کی پیش کردہ آیت نمبر۳…’’ وآخرین منھم لما یلحقوابھم‘‘

    طائفہ قادیانیہ چونکہ ختم نبوت کا منکر ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی تحریف کرتے ہوئے آیت: ’’ھوالذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین واٰخرین منھم لما یلحقوابھم (جمعہ: ۲،۳)‘‘ کو بھی ختم نبوت کی نفی کے لئے پیش کردیا کرتے ہیں۔ طریق استدلال یہ بیان کرتے ہیں کہ جیسے امیین میں ایک رسول عربیﷺ مبعوث ہوئے تھے اس طرح بعد کے لوگوں میں بھی ایک نبی قادیان میں پیدا ہوگا۔ معاذاﷲ۔
    جواب۱بیضاوی شریف میں ہے:
    ’’وآخرین منھم عطف علی الامیین اوالمنصوب فی یعلمہم وھم الذین جاؤا بعد الصحابۃ الی یوم الدین فان دعوتہ وتعلیمہ یعم الجمیع‘‘
    ’’آخرین کا عطف امیین یا یعلمھم کی ضمیر پر ہے، اور اس لفظ کے زیادہ کرنے سے آنحضرتﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر کیا گیا ہے کہ آپﷺ کی تعلیم و دعوت صحابہؓ اور ان کے بعد قیامت کی صبح تک کے لئے عام ہے۔‘‘
    خود آنحضرتﷺ بھی فرماتے ہیں: ’’انا نبی من ادرک حیا و من یولد بعدی‘‘
    صرف موجود ین کے لئے نہیں بلکہ ساری انسانیت اور ہمیشہ کے لئے ہادیﷺ برحق ہوں۔
    جواب۲
    القرآن یفسر بعضہ بعضاً کے تحت دیکھیں تو یہ آیت کریمہ دعائے خلیل کا جواب ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بیت اﷲ کی تعمیر کی تکمیل پر دعا فرمائی تھی:
    ’’ربنا وابعث فیھم رسولا منھم یتلوا علیھم آیتک ویعلمھم الکتاب والحکمۃ ویزکیھم (بقرہ:۱۲۹)

    ‘‘
    زیر بحث آیت میں اس دعا کی اجابت کا ذکر ہے کہ دعائے خلیل کے نتیجہ میں وہ رسول معظم ان امیوں میں مبعوث ہوئے۔ لیکن صرف انہیں کے لئے نہیں بلکہ جمیع انسانیت کے لئے جو موجود ہیں ان کے لئے بھی جو ابھی موجود نہیں لیکن آئیں گے قیامت تک۔ سبھی کے لئے آپﷺ ہادی برحق ہیں۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    ’’یا ایھاالناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعا (اعراف: ۱۵۸)‘‘
    یاآپﷺ کا فرمانا: ’’ارسلت الی الخلق کافۃ‘‘ لہٰذا مرزا قادیانی دجال قادیان اور اس کے چیلوں کا اس کو حضورﷺ کی دو بعثتیں قرار دینا یا نئے رسول کے مبعوث ہونے کی دلیل بنانا سراسر دجالیت ہے۔ پس آیت کریمہ کی رو سے مبعوث واحد ہے اور مبعوث ’’الیھم‘‘ موجود و غائب سب کے لئے بعثت عامہ ہے۔
    جواب۳
    رسولاً پر عطف کرنا صحیح نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جو قید معطوف علیہ میں مقدم ہوتی ہے۔ اس کی رعایت معطوف میں بھی ضروری ہے۔ چونکہ رسولاً معطوف علیہ ہے۔ فی الامیین مقدم ہے۔ اس لئے فی الامیین کی رعایت وآخرین منھم میں بھی کرنی پڑے گی۔ پھر اس وقت یہ معنی ہوں گے کہ امیین میں اور رسول بھی آئیں گے۔ کیونکہ امیین سے مراد عرب ہیں۔ جیسا کہ صاحب بیضاوی نے لکھا ہے: ’’فی الامیین ای فی العرب لان اکثرھم لایکتبون ولا یقرؤن‘‘ اور لفظ منھم کا بھی یہی تقاضا ہے جب کہ مرزا عرب نہیں تو مرزائیوں کے لئے سوائے دجل و کذب میں اضافہ کے استدلال باطل سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔
    جواب۴… قرآن مجید کی اس آیت میں بعث کا لفظ ماضی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اگر رسولاً پر عطف کریں تو پھر بعث مضارع کے معنوں میں لینا پڑے گا۔ ایک ہی وقت میں ماضی اور مضارع دونوں کا ارادہ کرنا ممتنع ہے۔
    جواب۵… اب آیئے دیکھئے کہ مفسرین حضرات جو (قادیانی دجال سے قبل کے زمانہ کے ہیں) اس آیت کی تفسیر میں کیا ارشاد فرماتے ہیں:
    ’’قال المفسرون ھم الا عاجم یعنون بہم غیر العرب ای طائفہ کانت قالہ ابن عباس وجماعۃ وقال مقاتل یعنی التابعین من ھذہ الامۃ الذین لم یلحقوا باوائلھم وفی الجملہ معنی جمیع الا قوال فیہ کل من دخل فی الاسلام بعد النبیa الی یوم القیامۃ فالمراد بالامیین العرب وبالآخرین سواھم من الامم‘‘
    (تفسیر کبیر ص۴ جز۳۰ مطبع مصر)
    ’’(یعنی آپﷺ عرب و عجم کے لئے معلم و مربی ہیں) مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد عجمی ہیں۔ عرب کے ماسواء کوئی طبقہ ہو یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے اور مقاتل کہتے ہیں کہ تابعین مراد ہیں۔ سب اقوال کا حاصل یہ ہے کہ امیین سے عرب مراد ہیں، اور آخرین سے سوائے عرب کے سب قومیں جو حضورﷺ کے بعد قیامت تک اسلام میں داخل ہوں گے۔ وہ سب مراد ہیں۔‘‘
    ’’وھم الذین جاؤا بعد الصحابۃ الی یوم الدین ‘‘
    (تفسیر ابوسعود ج۴ جز ۸ ص ۲۴۷)
    ’’آخرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو صحابہؓ کے بعد قیامت تک آئیں گے۔ (ان سب کے لئے حضورﷺ ہی نبی ہیں۔)‘‘
    ’’ھم الذین یأتون من بعدھم الی یوم القیامۃ‘‘
    (کشاف ص ۵۳۰ ج۴)
    جواب۶بخاری شریف ص ۷۲۷ ج۲ ،مسلم شریف ص ۳۱۲ ج۲، ترمذی شریف ص ۲۳۲ ج۲، مشکوٰۃ شریف ص ۵۷۶ پر ہے:
    ’’عن ابی ہریرۃؓ قال کنا جلوسا عند النبیﷺ فانزلت سورۃ الجمعۃ وآخرین منھم لما یلحقوا بھم قال قلت من ھم یا رسول اﷲ فلم یراجعہ حتی سال ثلثا وفینا سلمان الفارسی وضع رسول اﷲﷺ یدہ علی سلمان ثم قال لوکان الایمان عندالثریا لنالہ رجال او رجل من ھؤلائ‘‘
    ترجمہ: ’’حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں ہم نبیﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپﷺ پر سورئہ جمعہ نازل ہوئی۔ وآخرین منھم لما یلحقوابھم تو میں نے عرض کی یارسول اﷲ!وہ کون ہیں؟ آپﷺ نے خاموشی فرمائی۔ حتیٰ کہ تیسری بار سوال عرض کرنے پر آپﷺ نے ہم میں بیٹھے ہوئے سلمان فارسیؓ پر ہاتھ رکھ دیا اور فرمایا اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو یہ لوگ (اہل فارس) اس کو پالیتے۔ رجال یا رجل کے لفظ میں راوی کو شک ہے۔ مگر اگلی روایت میں رجال کو متعین کردیا۔‘‘
    یعنی عجم یا فارس کی ایک جماعت کثیرہ جو ایمان کو تقویت دے گی اور امور ایمانیہ میں اعلیٰ مرتبہ پر ہوگی۔ عجم و فارس میں بڑے بڑے محدثین، علمائ، مشائخ ،فقہا، مفسرین، مقتدائ، مجددین و صوفیا، اسلام کے لئے باعث تقویت بنے۔ آخرین منھم لما یلحقوابھم سے وہ مراد ہیں۔ ابوہریرہؓ سے لے کر ابو حنیفہؒ تک سبھی اسی رسول ہاشمیﷺ کے دراقدس کے دریوزہ گرہیں۔ حاضر و غائب۔ امیین و آخرین سب ہی کے لئے آپﷺ کا دراقدس وا ہے۔ آئے جس کا جی چاہے۔ اس حدیث نے متعین کردیا کہ آپﷺ کی نبوت عامہ و تامہ و کافہ ہے۔ موجود و غائب عرب و عجم سب ہی کے لئے آپﷺ معلم و مزکی ہیں۔ اب فرمایئے کہ آپﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر مبارک ہے یا کسی اور نئے نبی کے آنے کی بشارت؟ ایسا خیال کرنا باطل و بے دلیل دعویٰ ہے۔

اس صفحے کی تشہیر