1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(قادیانیوں کے وجوہ کفر)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 25, 2015

  1. ‏ فروری 25, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (قادیانیوں کے وجوہ کفر)
    سید انور شاہ صاحبؒ گواہ مدعیہ نے ان اصولوں کے تحت جو ان کے بیان کے حوالہ سے اوپر بیان کئے جاچکے ہیں۔ چھ وجوہات ایسی بیان کی ہیں کہ جن کی بناء پر ان کے نزدیک مرزاصاحب باجماع امت کافر اور مرتد قرار دئیے جاسکتے ہیں اور جن کی وجہ سے ان کی رائے میں ہندوستان کے تمام اسلامی فرقے باوجود سخت اختلاف خیال اور اختلاف مشرب کے ان کے کفر وارتداد اور ان کے متبعین کے کفر اور ارتداد پر متفق ہیں۔ یہ وجوہات حسب ذیل ہیں:
    ۱… ختم نبوت کا انکار اور اس کے اجماعی معنی کی تحریف اور جس مذہب میں سلسلہ نبوت منقطع ہو۔ اس کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دینا۔
    ۲… دعویٰ نبوت مطلقہ وتشریعہ۔
    ۳… دعویٰ وحی اور اپنی وحی کوقرآن کے برابر قرار دینا۔
    ۴… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین۔
    ۵… آنحضرتﷺ کی توہین۔
    ۶… ساری امت کو بجز اپنے متبعین کے کافر کہنا۔
    تقریباً یہی وجوہات دیگر گواہان مدعیہ نے بھی بیان کی ہیں۔ اب ذیل میں حسب بیانات گواہان مذکوران وجوہات کی تشریح درج کی جاتی ہے۔
    امور نمبر ۱تا۳، ایک ہی نوعیت کے ہیں۔ لہٰذا ان پرجو بحث کی گئی ہے وہ یکجا درج کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں مرزاصاحب کے حسب ذیل اقوال پر جوان کی مطبوعہ کتب میں موجود ہیں اعتراض کیاگیا ہے۔
    ۱… ’’اوائل میں میرا بھی یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیانسبت۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو اس کو جزوی فضیلت قراردیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدتعالیٰ کی وحی 2146بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۱۴۹، ۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳،۱۵۴)
    ۲… ’’الہامات میں میری نسبت باربار بیان کیاگیا کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘
    (انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)
    ۳… ’’مجھے اپنے وحی پرویسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توراۃ، انجیل اور قرآن پاک پر اور کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ میں ان کی ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں گا۔‘‘
    ۴… ’’میں اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوںپر ایمان لاتا ہوں۔ جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۱۵۱، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)
    ۵… ’’ہاں یہ نبوۃ تشریعی نہیں جو کتاب اﷲ کومنسوخ کرے اور نئی کتاب لائے ایسے دعویٰ کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔‘‘
    (ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص۲،۳)
    ۶… ’’اگر کہو کہ صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے، نہ کہ ہر مفتری، تو اوّل تو یہ دعویٰ بلادلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی قید نہیں لگائی۔ ماسواء اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امرونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔
    ’’اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے۔ جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’ان ہذا لفی الصحف الا ولیٰ صحف 2147ابراہیم وموسیٰ‘‘ یعنی قرآنی تعلیم توراۃ میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر ونہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر تورات اور قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔ غرض یہ سب خیالات فضول اور کوتاہ اندیشیاں ہیں۔‘‘
    (اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵،۴۳۶)
    اس کتاب کے (حاشیہ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵) پر لکھتے ہیں: ’’کیونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خداتعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے۔ جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے۔‘‘
    (اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اس کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے)
    اب دیکھو خدا نے میری وحی، میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا ہے اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا ہے۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے۔ جس کے کان ہوں سنے۔
    ۸… ’’نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع ہو۔ بلکہ فساد اس حالت میں لازم آتا ہے کہ اس امت کو آنحضرتa کے بعد قیامت تک مکالمات الٰہیہ سے بے نصیب قرار دیا جاوے۔ وہ دین، دین نہیں۔ نہ وہ نبی، نبی ہے۔ جس کی متابعت سے انسان خداتعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو 2148سکتا کہ مکالمات الٰہیہ سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی۔ اگر کوئی آواز بھی غیب سے کسی کے کان تک پہنچتی ہے تو وہ ایسی مشتبہ آواز ہے کہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدائی آواز ہے یا شیطان کی۔ سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ ص۱۳۸،۱۳۹، خزائن ج۲۱ ص۳۰۶)
    ۹… ’’سچا خداوہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
    (دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)
    ۱۰… ’’اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ… الخ! ‘‘ (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)
    ۱۱… ’’میں صرف پنجاب کے لئے ہی مبعوث نہیں ہوا ہوں بلکہ جہاں تک دنیا کی آبادی ہے ان سب کی اصلاح کے واسطے مامور ہوں۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۹۳ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۲۰۰)
    ۱۲… ’’یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے سوا جس قدر ملہم، محدث ہیں۔ گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں شان اعلیٰ رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔‘‘
    (تریاق القلوب ص۱۳۱، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲)
    ۱۳… (حقیقت الوحی ص۱۰۳ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۰۶) پر عبارت ذیل جاء نی آئیل… واشار کے تحت ایک نوٹ ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’اس جگہ آئیل خداتعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے۔ اس لئے باربار رجوع کرتا ہے۔‘‘
    ۱۴… ’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد 2149مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گذر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷)
    ۱۵… ’’حسب تصریح قرآن کریم، رسول اس کو کہتے ہیں کہ جس نے احکام وعقائد دین جبرائیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔‘‘ (ازالتہ الاوہام ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷)
    ۱۶… ایک وحی باالفاظ ذیل درج ہے۔ محمد رسول اﷲ اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’اس وحی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص۱، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)
    ۱۷… (حقیقت الوحی ص۲۸، خزائن ج۲۲ ص۳۰) پر لکھتے ہیں۔ ’’مگر ظلی نبوۃ جس کے معنی ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا وہ قیامت تک باقی رہے گی۔‘‘
    ۱۸… (کتاب حق الیقین ص۱۰۲) پر مرزاصاحب کا یہ قول نقل کیاگیا ہے کہ ’’علماء کو نبوۃ کا مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ قرآن کریم میں جو خاتم النّبیین کا لفظ آیا ہے جس پر الف، لام پڑے ہیں۔ اس سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ شریعت لانے والی نبوۃ اب بند ہو چکی ہے۔ پس اگر کوئی نئی شریعت کا مدعی ہوگا وہ کافر ہے۔‘‘

اس صفحے کی تشہیر