1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(قادیانی اصول وعقائد)

محمدابوبکرصدیق نے 'توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسی علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 1, 2015

  1. ‏ فروری 1, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانی اصول وعقائد
    ۱…
    ’’قرآن شریف کے وہ معانی وہ مطالب سب سے زیادہ قابل قبول ہوں گے۔ جن کی تائید قرآن شریف ہی میں دوسری آیات سے ہوتی ہو۔ یعنی شواہد قرآنی۔‘‘
    (برکات الدعا ص۱۸، خزائن ج۶ ص۱۸)

    ۲…
    جہاں کلام اﷲ کے معانی ومطالب میں اختلاف ہوجائے۔ وہاں رسول کریمﷺ کی تفسیر قابل قبول ہوگی۔ چنانچہ اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں۔
    ’’فلا وربک لا یؤمنون حتیٰ یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجاً مما قضیت ویسلموا تسلیما (نسائ:۶۵)‘‘
    {یعنی اے محمدﷺ مجھے اپنی ذات کی قسم ہے کہ (یہ لوگ) مؤمن نہیں ہوسکتے۔ جب تک کہ وہ اپنے اختلافات اور جھگڑوں میں آپﷺ کو اپنا ثالث نہ بنائیں۔ پھر آپﷺ کے فیصلے کے بعد وہ اپنے دلوں میں کوئی بوجھ یا کدورت محسوس نہ کریں اور آپﷺ کے سامنے سرتسلیم خوشی کے ساتھ خم کر دیں۔}

    چنانچہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں:
    ’’دوسرا معیار تفسیر رسول کریمﷺ ہے۔ اس میں شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کریم کے سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ حضرت رسول اﷲﷺ تھے۔ پس اگر آنحضرتﷺ سے تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلاتوقف اور بلادغدغہ قبول کر لے۔ نہیں تو اس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہے۔‘‘
    (برکات الدعا ص۱۸، خزائن ج۶ ص ایضاً)

    ۳…
    اگر قرآن اور حدیث کے سمجھنے میں اختلاف ہو جائے تو پھر صحابہ کرامؓ کی طرف رجوع ہونا چاہئے۔
    چنانچہ مرزاقادیانی کا ارشاد ملاحظہ ہو۔
    ’’تیسرا معیار صحابہ کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہؓ آنحضرتﷺ کے نوروں کے حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خداتعالیٰ کا ان پر بڑا فضل تھا اور نصرت الٰہی ان کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی۔ کیونکہ ان کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔‘‘
    (برکات الدعا ص۱۸، خزائن ج۶ ص ایضاً)

    ۴…
    پھر اگر کسی وقت کلام اﷲ، حدیث رسول اﷲﷺ اور صحابہ کرامؓ کے کلام سمجھنے میں اختلاف رونما ہو جائے اور خلقت گمراہ ہونے لگے تو اﷲتعالیٰ ہر صدی میں ایسے علمائے ربانیین پیدا کرتا رہتا ہے۔ جو اختلافی مسائل کو خدا اور اس کے رسولﷺ کے حکم اور منشاء کے مطابق حل کر دیتے ہیں۔ چنانچہ رسول کریمﷺ کا ارشاد ہے۔ ’’ان اﷲ یبعث لہذہ الامۃ علیٰ رأس کل مائۃ سنۃ من یجدد لہا دینہا‘‘
    (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۲، باب مایذکر فی قدر المائۃ)
    ’’یعنی اﷲتعالیٰ ہر صدی کے سر پر اس امت کے لئے ایسے علماء مفسرین پیدا کرتا رہے گا۔ جو اس کے دین کی تجدید کرتے رہیں گے۔‘‘ اس کی تائید مرزاقادیانی اس طرح کرتے ہیں:
    ’’جو لوگ خداتعالیٰ کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخواں فروش نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اﷲﷺ اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ خداتعالیٰ انہیں تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے۔ جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں۔‘‘
    (فتح اسلام ص۹، خزائن ج۳ ص۷)

    پھر دوسری جگہ لکھتے ہیں:
    ’’مجدد کا علوم لدنیہ وآیات سماویہ کے ساتھ آنا ضروری ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۱۵۴، خزائن ج۳ ص۱۷۹)
    تیسری جگہ لکھتے ہیں:
    ’’یہ یاد رہے کہ مجدد لوگ دین میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ گم شدہ دین کو پھر دلوں میں قائم کرتے ہیں اور یہ کہنا کہ مجددوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے انحراف ہے۔‘‘ وہ فرماتا ہے: ’’من کفر بعد ذالک فاؤلئک ہم الفاسقون‘‘
    (شہادۃ القرآن ص۴۸، خزائن ج۶ ص۳۴۴)
    چوتھی جگہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں:
    ’’مجددوں کو فہم قرآن عطا ہوتا ہے۔‘‘
    (ایام الصلح ص۵۵، خزائن ج۱۴ ص۲۸۸)
    پانچویں جگہ ارشاد ملاحظہ کریں:
    ’’مجدد مجملات کی تفصیل کرتا اور کتاب اﷲ کے معارف بیان کرتا ہے۔‘‘
    (حمامتہ البشریٰ ص۷۵، خزائن ج۷ ص۲۹۰)
    چھٹی جگہ لکھا ہے:
    ’’مجدد خدا کی تجلیات کا مظہر ہوتے ہیں۔‘‘
    (سراج الدین عیسائی ص۱۵، خزائن ج۱۲ ص۳۴۱)

    اس سارے مضمون کا نتیجہ یہ ہے کہ کلام اﷲ اور حدیث رسول اﷲﷺ کا جو مفہوم مجددین امت بیان کریں وہی قابل قبول ہے۔ اس کی مخالفت کرنے والا فاسق ہوتا ہے۔

    ۵…
    الف۔’’نصوص کو ظاہر پر حمل کرنے پر اجماع ہے۔‘‘
    (ازالہ خورد ص۴۰۹، خزائن ج۳ ص۳۱۲،۵۴۹، خزائن ج۳ ص۳۹۰)
    ب… حدیث بالقسم میں تاویل اور استثناء ناجائز ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں:
    ’’والقسم یدل علی ان الخبر محمول علیٰ الظاہر لاتاویل فیہ ولا استثناء والا ای فائدۃ فی القسم‘‘
    (حمامتہ البشریٰ ص۱۴، خزائن ج۷ ص۱۹۲ حاشیہ)
    ’’کسی حدیث میں قسم کا ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس حدیث کے ظاہری معنی ہی قابل قبول ہوں۔ اس میں تاویل کرنا یا استثناء جائز نہیں۔ ورنہ قسم میں فائدہ کیا رہا۔‘‘

    ۶…
    ’’جو شخص کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے تو اس پر خدا۔ اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ یہی میرا اعتقاد ہے اور یہی میرا مقصود ہے اور یہی میرا مدعا ہے۔ مجھے اپنی قوم سے اصول اجماعی میں کوئی اختلاف نہیں۔‘‘
    (انجام آتھم ص۱۴۴، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

    ۷…
    حدیث نبوی دربارہ تفسیر بالرائے:
    (۱)… ’’من تکلم فی القرآن برأیہ فاصاب فقد اخطائ‘‘
    (رواہ النسائی اتقان ج۲ ص۳۰۵ فی شروط المفسر وآدابہ)
    (۲)… ’’من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوا مقعدہ من النار‘‘
    (ترمذی ج۲ ص۱۲۳، باب ماجاء فی الذی بتفسیر القرآن برأیہ، اتقان ج۲ ص۳۰۵ فی شروط المفسر وآدابہ)
    اس کی تائید میں مرزاقادیانی کا قول پیش کرتا ہوں۔
    ’’مؤمن کا کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۲۸، خزائن ج۳ ص۲۶۷)

    ۸…
    عسل مصفی مصنفہ مرزا خدا بخش قادیانی، قادیانی مذہب کی مسلمہ کتاب ہے۔ مرزاقادیانی نے اپنی زندگی میں اس کا ایک ایک لفظ سنا تھا اور مصنف کی داد دی تھی۔ قادیانی اور لاہوریوں کے سرکردہ ممبروں نے اس پر زبردست تقریظات لکھی ہوئی ہیں۔ بالخصوص محمد علی لاہوری اور مرزابشیرالدین محمود احمد خلیفہ قادیانی نے۔ اس کے (جلد اوّل ص۱۶۲تا۱۶۵) پر گذشتہ تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست درج ہے۔ ہم یہاں مشہور مجددین مفسرین ومحدثین کے اسمائے گرامی ذیل میں آئندہ حوالوں کے لئے درج کرتے ہیں۔

    1. امام شافعی مجدد صدی دوم۔
    2. امام احمد بن محمد بن حنبل مجدد صدی دوم۔
    3. ابوجعفر طحاوی مجدد صدی سوم۔
    4. ابوعبدالرحمان نسائی مجدد صدی سوم۔
    5. حافظ ابونعیم مجدد صدی چہارم۔
    6. امام حاکم نیشاپوری مجدد صدی چہارم۔
    7. امام بیہقی مجدد صدی چہارم۔
    8. امام غزالی مجدد صدی پنجم۔
    9. امام فخرالدین رازی صاحب مجدد صدی ششم۔
    10. امام مفسر ابن کثیر مجدد صدی ششم۔
    11. حضرت شہاب الدین سہروردی مجدد صدی ششم۔
    12. امام ابن جوزی مجدد صدی ششم۔
    13. حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی مجدد صدی ششم۔
    14. امام ابن تیمیہ حنبلی مجدد صدی ہفتم۔
    15. حضرت خواجہ معین الدین چشتی مجدد صدی ہفتم۔
    16. حافظ ابن قیم جوزی مجدد صدی ہفتم۔
    17. حافظ ابن حجر عسقلانی مجدد صدی ہشتم۔
    18. امام جلال الدین سیوطی مجدد صدی نہم۔
    19. ملا علی قاری مجدد صدی دہم۔
    20. محمد طاہر گجراتی مجدد صدی دہم۔
    21. عالمگیر اورنگزیب مجدد صدی یازدہم۔
    22. شیخ احمد فاروقی مجدد الف ثانی مجدد صدی یازدہم۔
    23. مرزا مظہر جان جاناں دہلوی مجدد صدی یازدہم۔
    24. حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی مجدد صدی دوازدہم۔
    25. امام شوکانی مجدد صدی دوازدہم۔
    26. سید احمد بریلوی مجدد صدی سیزدہم۔
    27. شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی مجدد صدی سیزدہم۔
    28. مولانا محمد اسماعیل صاحب شہید مجدد صدی سیزدہم۔
    29. شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلوی مجدد صدی سیزدہم۔
    30. شاہ عبدالقادر صاحب مجدد صدی سیزدہم۔
    یہاں تک ہم نے تیرہ صدیوں کے مشہور مشہور مجددین کے اسمائے گرامی درج کر دئیے ہیں۔ مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ چودھویں صدی کے مجدد بھی ہیں۔ اس کے بالمقابل جمہور علماء اسلام کے نزدیک چودھویں صدی کے مجددین میں سے بزرگان ذیل خاص طور پر مشہور ہیں:

    1. شیخ العرب والعجم حضرت حاجی امداد اﷲ صاحب مہاجر مکیؒ۔
    2. حضرت مولانا رحمتہ اﷲ صاحب مہاجرمکیؒ۔
    3. شیخ العرب والعجم المحدث الفقیہ حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ۔
    4. قاسم العلوم حضرت مولانا مولوی محمد قاسم صاحبؒ بانی دارالعلوم دیوبند۔
    5. حضرت مولانا مولوی محمد علی صاحب مونگیریؒ۔
    6. حضرت حکیم الامت مولانا شاہ اشرف علی صاحب تھانوی مدظلہمؒ۔
    جنہوں نے کم وبیش ۱۵۰۰ کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔ جن میں موجودہ صدی کے پیدا کردہ الحاد کی تردید کر کے دین محمدی کو دوبارہ اصلی شکل میں دکھایا ہے۔ آپ کی تفسیر اور ترجمہ قرآن روئے زمین کے مسلمانوں میں مقبول ہوچکے ہیں۔ اپنی کتابوں سے مرزاقادیانی کی طرح کوئی دنیوی نفع نہیں اٹھایا۔ ۱۵۰۰ کتابوں میں کسی جگہ بھی اپنی تعریف میں کچھ نہیں لکھا۔

    ۹…
    انجیل کو بطور دلیل کے پیش کرنا قادیانیوں کے لئے حجت ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں:
    ’’فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘
    یعنی اگر تمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو تااصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے۔
    (ازالہ اوہام ص۶۱۶، خزائن ج۳ ص۴۳۳)

    دوسری جگہ فرماتے ہیں:
    ’’زبردستی سے یہ نہیں کہنا چاہئے کہ یہ ساری کتابیں (انجیل اور توریت) محرف ومبدل ہیں۔ بلاشبہ ان مقامات (رفع جسمانی اور پیش گوئیوں) سے تحریف کا کچھ علاقہ نہیں… پھر ہمارے امام المحدثین حضرت اسماعیل صاحب اپنی صحیح بخاری میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ان کتابوں میں کوئی لفظی تحریف نہیں۔‘‘
    (ازالہ خورد ص۲۷۳، خزائن ج۳ ص۲۳۸،۲۳۹)
    ’’انجیل برنباس نہایت معتبر انجیل ہے۔‘‘
    (سرمہ چشم آریہ ص۲۸۷تا۲۹۲ حاشیہ ملخص، خزائن ج۲ ص۲۳۹تا۲۴۱ ملخص)

    ۱۰…
    مرزاقادیانی نے ۱۸۸۰ء یا ۱۳۰۰ھ میں مجدد اور مامور من اﷲ اور ملہم من اﷲ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’کتاب براہین احمدیہ جس کو خداتعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم ومامور ہوکر بغرض اصلاح وتجدید دین تالیف کیا ہے … اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے۔‘‘
    (تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۴،۱۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳،۲۴)
    (ازالہ اوہام خورد ص۱۸۵،۱۸۶، خزائن ج۳ ص۱۸۹،۱۹۰)

    اب ذرا ملہم کی شان بھی ملاحظ کر لیں۔ فرماتے ہیں: ’’جو لوگ خداتعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۱۹۸، خزائن ج۳ ص۱۹۷)

اس صفحے کی تشہیر