1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قادیانی اعتراض: خلا میں سے حضرت عیسی علیہ السلام کا جسم کیسے گزر گیا؟

محمدابوبکرصدیق نے 'قادیانی شبہات اور ان کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 18, 2015

  1. ‏ جنوری 18, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,123
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    قادیانی اعتراض: جسم عنصری کا آسمان پر جانا کیسے ممکن ہے؟
    مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’کسی جسد عنصری کا آسمان پر جانا سراسر محال ہے۔ اس لئے کہ ایک جسم عنصری طبقہ ناریہ اور کرہ زمہریریہ سے کس طرح صحیح و سالم گزرسکتا ہے۔‘‘
    (ازالہ الاوہام ص ۴۷ ج۱، خزائن ج۳ ص ۱۲۶)
    نوٹ…یہ طبقۂ ناریہ اور کرۂ زمہریر وغیرہ قدیم فلاسفۂ یونان کے خرافاتی نظریات ہیں۔ جو موجودہ سائنس کی رو سے بالکل غلط ثابت ہوچکے ہیں۔ انسان کے چاند پر اترنے کے بعد وہاں زمینوں کی الاٹمنٹ شروع ہوگئی تھی۔ تو ان خلائی سفروں میں کہاں کا کرۂ نار اور کہاں کا طبقۂ زمہریر؟ آج کی پڑھی لکھی دنیا میں یونانی خرافات پیش کرنے کی کیا گنجائش ہے؟ اس کے علاوہ چلئے حضرات انبیاء علیہم السلام کی سوانح سے بھی اس کا جواب سن لیجئے:
    جواب…
    ۱… جس طرح نبی کریمﷺ کا لیلۃ المعراج میں اور ملائکۃ اﷲ کا لیل و نہار طبقہ ناریہ اور کرئہ زمہریر یہ سے مرور و عبور ممکن ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی عبور و مرور ممکن ہے اور جس راہ سے حضرت آدم علیہ السلام کا ہبوط اور نزول ہوا ہے۔ اسی راہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہبوط و نزول بھی ممکن ہے۔
    ۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آسمان سے مائدہ کا نازل ہونا قرآن کریم میں صراحتاً مذکور ہے۔
    ’’کماقال تعالیٰ اذ قال الحواریون یٰعیسی بن مریم ھل یستطیع ربک ان ینزل علینا مائدۃ من السماء (الی قولہ تعالیٰ) قال عیسیٰ بن مریم اللھم ربنا انزل علینا مائدۃ من السماء تکون لنا عیدا لا ولنا واخرنا واٰیۃ منک وارزقنا وانت خیرالرازقین قال اﷲ انی منزلھا علیکم (سورۃُ المائدہ)‘‘
    پس اس مائدہ کا نزول بھی طبقہ ناریہ سے گزر کر ہوا ہے۔ مرزا قادیانی کے زعم فاسد اور خیال باطل کی بناء پر اگر وہ نازل ہوا ہوگا۔ تو طبقہ ناریہ کی حرارت اور گرمی سے جل کر خاکستر ہوگیا ہوگا۔ نعوذباﷲ من ہذہ الخرافات! یہ سب شیاطین الانس کے وسوسے ہیں اورانبیاء و مرسلین کی آیات نبوت اور کرامات رسالت پر ایمان نہ لانے کے بہانے ہیں۔
    ۳… کیا خداوند ذوالجلال عیسیٰ علیہ السلام کے لئے طبقہ ناریہ کو ابراہیم علیہ السلام کی طرح برد اور سلام نہیں بناسکتا؟جبکہ اس کی شان یہ ہے: ’’انما امرہ اذا اراد شیاء ان یقول لہ کن فیکون، فسبحان ذی الملک والملکوت والعزۃ الجبروت امنت باﷲ وکفرت بالطاغوت‘‘
  2. ‏ جنوری 18, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,123
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    دو ایٹم بم حوالہ:

    اس بحث کو ختم کرنے سے قبل دو حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔ پہلے حوالہ میں مرزا قادیانی صراحت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیات کا اقرار کرتا ہے۔ دوسرے حوالہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیات آسمانوں پر مانتا ہے۔ ان حوالہ جات سے آپ کو یہ فائدہ ہوگا کہ جب کوئی مرزائی حیات مسیح پر اشکال کرے کہ مسیح علیہ السلام آسمانوں پر کیسے گئے۔ تو فوراً آپ کہہ دیں کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام گئے تھے۔ وہ پوچھے عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر کیا کھاتے ہوں گے۔ آپ کہہ دیں کہ جو موسیٰ علیہ السلام کھاتے ہیں۔ حیاتِ مسیح پر تمام اشکالات کا حل اور الزامی جواب یہ حوالہ جات ہیں۔ مرزا لکھتا ہے:
    ۱… ’’بل حیات کلیم اﷲ ثابت بنص القرآن الکریم الا تقرء فی القرآن ما قال اﷲتعالیٰ عز و جل فلا تکن فی مریۃ من لقائہٖ۔ و انت تعلم ان ھذہٖ الایۃ نزلت فی موسیٰ فھی دلیل صریح علیٰ حیات موسیٰ علیہ السلام لانہ لقی رسول اﷲﷺ والاموات لا یلاقون الاحیاء ولا تجد مثل ھذہٖ الایات فی شان عیسیٰ علیہ السلام نعم جاء ذکر وفاتہ فی مقامات شتّٰی‘‘

    (حمامۃ البشریٰ ص ۵۵، خزائن ج۷ ص ۲۲۱)
    ۲… ’’ھذا ھو موسیٰ فتیٰ اﷲ الذی اشار اﷲ فی کتابہ الیٰ حیاتہ و فرض علینا ان نؤمن انہ حيّ فی السماء و لم یمت و لیس من المیتین‘‘
    (نور الحق ص ۵۰، خزائن ج۸ ص۶۹)
    ۱… پس جب بھی قادیانی، حیات عیسیٰ پر اشکال کریں۔ آپ اس کا الزامی جواب دے دیں۔ جو حوالہ جات بالا سے ثابت ہے۔
    ۲… یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی بدنصیب ایسا بدبخت شخص تھا۔ جو ہر بات میں آنحضرتﷺ کی مخالفت کرتا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا جہاد جاری ہے۔ مرزا نے کہا جہاد حرام ہے۔ آپﷺ نے فرمایا نبوت بند ہے۔ مرزا نے کہا جاری ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ مرزا نے کہا کہ فوت ہوگئے۔ آپﷺ کی امت کا عقیدہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔ مرزا کہتا ہے آسمان پر زندہ ہیں۔ تو جو شخص ہر بات میں آپﷺ کی مخالفت کرے وہ ابلیس سے بھی بڑا کافر ہے۔

اس صفحے کی تشہیر