1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قادیانی اور نبوت کا اجرا

ذوالفقار احمد نے 'احادیثِ ختم نبوت ﷺ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 21, 2017

  1. ‏ ستمبر 21, 2017 #1
    ذوالفقار احمد

    ذوالفقار احمد رکن ختم نبوت فورم

    سوال:قادیانی کہتے ہیں کہ حدیث لَو عَاشَ اِبرَاھِیمُ لَکَانَ صِدَیقاََ نَبِیَا (ابن ماجہ 1511) یعنی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراھیم زندہ رہتے تو سچے نبی ہوتے۔ اس حدیث سے حضور کے بعد نبوت کا اجرا ثابت ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ::::::::::::: جواب :::::::::::::
    (1) یہ حدیث حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی دلیل ہے یہ اس طرح ہے جیسے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتا (ترمذی 3686)
    (2) جو حدیث قادیانیت نے پیش کی ہے اس سے فوراََ پہلے والی حدیث یہ ہے: لو قضی ان یکون بعد محمد نبی لعاش ابنہ ولکن لا نبی بعدہ یعنی اگر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اللہ کو منظور ہوتا تو آپ کے بیٹے ابراھیم ضرور زندہ رہتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں (ابن ماجہ 1510) قادیانیت بتائے کہ قادیانی ہمیشہ 1510 نمبر حدیث چھوڑ کر 1511 پر ہی کیوں بحث کرتے ہیں اور اسی کا حوالہ ہی کیوں دیتے ہیں۔؟ کیا 1510 ۔۔۔۔۔ 1511 کے بعد آتا ہے۔؟
    (3) یہی حدیث بخاری شریف میں بھی موجود ہے ان الفاظ کے ساتھ مات صغیرا الو قضی ان یکون بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی عاش ابنہ، ولکن لا نبی بعدہ یعنی وہ بچپن میں فوت ہو گئے اگر اللہ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی منظور ہوتا تو آپ کے بیٹے زندہ رہتے لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں (بخاری 6194)
    (4) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ : ولو بقی لکاننبی ولکن لم یکن لیبقی، لان نبیکم آخر الانبیا یعنی اگر ابراھیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے لیکن وہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے اس لیے کہ تمہارے نبی آخری نبی ہیں (الاستیعاب صفحہ 70)
    (5) صحابہ کرام علیہم الرضوان کی اس وضاحت کو قرآن کے الفاظ ما کان محمد ابا احد من رجالکم کے ساتھ رکھ کر سمجھیں۔ اولادامجاد میں سے صرف رجال کی نفی ؟ قرآن کیا بتانا چاہتا ہے ؟ اور پھر اسی سے متصل ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین ؟ اولادِ نرینہ کا ختمِ نبوت سے کیا تعلق۔؟
    اگلے زمانوں میں اکثر ایسا ہوا ہے کہ نبی کی اولاد میں نبوت جاری ہوئی۔ معروف حدیث ہے الکریم بن الکریم ابن الکریم ابن الکریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراھیم علیھم السلام (بخاری 3382)
    قرآن نے اولادِ نرینہ کی نفی ختمِ نبوت کے حوالہ سے کردی ہے۔ اب اس حدیث کو سمجھنا کیا مشکل رہ گیا ؟ اس حدیث میں بھی سیدنا ابراھیم علیہ السلام کے بالغ ہو کر نبی بن جانے کو ختمِ نبوت کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
    حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ تصریح فرماتے ہیں کہ: لو عاش ابراھیم و بلغ اربعین و صار نبیالزم ان لا یکون نبینا خاتم النبیین یعنی اگر حضرت اباھیم زندہ رہتے اور چالیس سال کے ہو کر نبی بن جاتے تو لازم ہوتا کہ ہمارے نبی خاتم النبیین نہ رہیں (الموضوعات الکبیر 99)
    واضح ہو گیا کہ جس طرح لو کان بعدی نبی لکان عمر ختمِ نبوت کی دلیل ہے بالکل اسی طرح لو عاش ابراھیم بھی ختمِ نبوت کی دلیل ہے اور ہماری دلیل کو قادیانی اپنی دلیل بنائے پھرتے ہیں۔
    (7) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعلیٰ عنہ کے الفاظ نبیکم آخرالانبیا کے الفاظ قابلِ غور ہیں لو عاش ابراھیم میں ایک مفروضہ بیان ہوا ہے مگر اس کی وضاحت میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے آخر الانبیا کی تصریح موجود ہے، یہ کوئی مفروضہ نہیں۔ خاتم کا معنی بیان کرتے وقت جتنی چکربازیاں کیں صحابی نے آخر کا لفظ بول کر سب کچھ دھو کر رکھ دیا۔ تصریحات اور قطیعات کے مقابلے پر شبہات اور ظنیات کا سہارا لینا عیسائیوں کی بھی پرانی عادت ہے بلکہ ہر باطل طبقے کا یہی طرزِ استدلال رہا ہے۔
    (8) یہ ساری بحث اس صورت میں ہے کہ جب اس حدیث کو صحیح مان لیا جائے۔ لیکن اس حدیث کے بارے میں علما نےتصریح کر دی ہے کہ یہ حدیث موضوع اور سراسر باطل ہے۔ امام المحدثین، والصوفیا الملہمین حضرت امام نووی قدس سرہ فرماتے ہیں واما ماروی عن بعض المتقدمین: لو عاش ابراھیم لکان نبیا، فباطل وجسارۃ علی الکلام فی المغیبات، ومجازفۃ، وھجوم علی عظیم من الزلات، واللہ المستعان یعنی وہ جو کسی مقدم سے روایت کیا گیا ہے کہ لو عاش ابراھیم لکان نبیا، تو یہ باطل ہے، اور غیبی امور میں جسارت ہے، اور بغیر سوچے سمجھے ایک بے تکی بات ہے، اور ایک نہایت بلند درجہ کی پھسلن ہے (تہذیب الاسما واللغات جلد 1 صفحہ 140)
    امام نووی کے ان الفاظ پر غور کیجئیے، کس قدر جاندار الفاظ کے ساتھ اور مکمل اعتماد کے ساتھ اس حدیث کے ثبوت کا انکار فرما رہے ہیں۔ ہی الفاظ کئی دوسرے محدثین نے بھی نقل کر کے اس حدیث کا انکار کیا ہے۔
    اور یہ تب کی بات ہے جب تک شائد مرزا قادیانی کے اباؤ اجداد ابھی مسلمان بھی نہیں ہوئے ہوں گے

اس صفحے کی تشہیر