1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قادیانی سوالات کے جوابات ( 10 مرزاقادیانی کی موت ہیضہ سے)

محمدابوبکرصدیق نے 'متفرق قادیانی اعتراضات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 23, 2014

  1. ‏ اکتوبر 23, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانی سوالات کے جوابات ( 10 مرزاقادیانی کی موت ہیضہ سے)
    سوال نمبر:۱۰… کیا مرزاقادیانی ہیضہ سے مرا تھا؟
    جواب… مرزاقادیانی نے اپنے خسر ’’میر ناصر‘‘ کو آخری بات یہ کہی تھی کہ مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔ اس کے بعد مرزاقادیانی نے کوئی بات نہیں کہی۔ اگر افتراء ہے تو مرزاقادیانی کا۔ سرور ولطف یہ ہے کہ جب پیدا ہوا تو بہن کی ٹانگوں سے سر ملایا ہوا تھا۔ جب مرا تو آخری جھوٹ بول کر مرا۔ اب اگر جھوٹ ہے تو حوالہ طلب کریں۔ میں دکھانے کو تیار ہوں۔
    (حیات ناصر ص۱۴) پر مرزاقادیانی کے خسر، نام نہاد صحابی اپنے خودنوشت حالات میں تحریر کرتے ہیں: ’’آپ (مرزاقادیانی) کا حال دیکھا، تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میرصاحب مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے آپ کا انتقال ہوگیا۔‘‘ اور (سیرت المہدی ج۱ ص۱۱) پر مرزاقادیانی کی بیوی کی روایت ہے کہ: ’’حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ (اوپر سے ڈال رہے تھے نیچے سے نکل رہا تھا) مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے، اور آپ آرام سے لیٹ کر سوگئے اور میں بھی سوگئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لئے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا کہ نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اس لئے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام (پاخانہ کا) کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہوگیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا، اور پھر ایک اور قے آئی جب آپ قے سے فارغ ہوکر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا۔ (پاؤں کہاں تھے اور نیچے کیا تھا) اور حالت دگرگوں ہوگئی۔‘‘
    اب دست اور قے، قے اور دست کا باربار حملہ یہ ہیضہ نہیں تو کیا تھا؟۔
    پیر جماعت علی شاہ محدث علی پوری کی روایت ہے کہ: ’’مورخہ ۲۶؍مئی کو مرزاقادیانی کو ہیضہ نے آن گھیرا۔ ڈاکٹر نے ایسی دوائی دے دی کہ نجاست کا رخ جو نیچے کی طرف تھا اوپر کو ہوگیا اور بیت الخلاء (جو چارپائی کے پاس بنایا تھا) میں جان نکل گئی۔‘‘
    (ضیائے حرم دسمبر ۱۹۷۴ئ، ایمان پرور یادیں ص۳۸)
    مرزائی اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اگر مرض ہیضہ ہوتا تو ڈاکٹر آپ کے لئے سرٹیفکیٹ نہ دیتے۔ حالانکہ انہوں نے سرٹیفکیٹ دیا کہ ہیضہ نہیں اور پھر ریل پر بک کراکر ان کو لاہور سے قادیان لے جایا گیا۔ ڈاکٹروں کے سرٹیفکیٹ کو تو مرزائی مانتے ہیں۔ مگر مرزاقادیانی کا اپنا حکم، قول مبارک، مقدس فرمان جو آخری تھا جو اپنے صحابی کو ارشاد فرمایا کہ مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔ اس کو نہیں مانتے۔ پھر یہ نہیں سوچتے کہ جس طرح مرزاقادیانی کی پنجابی نبوت کا کاروبار چل گیا اسی طرح ڈاکٹر سے سرٹیفکیٹ بھی لے لیا ہوگا۔ باقی رہا کہ ریل میں بک ہوگئے۔ بک تو ہوئے پیسے دے کر۔ پیسے دے کر کیوں ہوئے اس میں حکمت ہے۔
    وہ یہ کہ مرزاقادیانی نے کہا کہ میں مسیح ہوں، دجال انگریز ہیں۔ یاجوج ماجوج امریکہ اور روس ہیں اور دجال کا گدھا ریل گاڑی ہے۔ مرزاقادیانی ریل گاڑی کو دجال کا گدھا کہتا تھا۔ مگر مسیح صاحب دجال کے گدھے پر عمر بھر سواری کرتے رہے، اور آخری سفر بھی دجال کے گدھے پر کیا۔ اچھا مسیح ہے۔ جو دجال کے گدھے پر عمر بھر سواری کی، اور آخری سفر بھی لاش کا اس سے کرایا گیا۔ کیا مرزاقادیانی کی کذب کے لئے یہ بات کافی نہیں؟۔

اس صفحے کی تشہیر