1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قادیانی سوالات کے جوابات ( 2 حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا واقعہ)

محمدابوبکرصدیق نے 'قادیانی خرافات پرتحقیقی مقالات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 23, 2014

  1. ‏ اکتوبر 23, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانی سوالات کے جوابات ( 2 حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا واقعہ)
    سوال نمبر:۲… ایک موقع پر حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے ایک کافر کو قتل کرنا چاہا۔ اس نے فوراً کلمہ پڑھا۔ لیکن حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا۔ پھر حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ واقعہ عرض کیا۔ جس کے جواب میں نبی کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اس کے کلمہ پڑھنے کے باوجود تم نے اسے قتل کر دیا؟ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اس نے ڈر کے مارے کلمہ پڑھا تھا۔ نبی کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ’’ہل شققت قلبہ‘‘ (کیا تو نے اس کا دل چیر کے دیکھا تھا؟) کہ وہ ڈر کے مارے پڑھ رہا ہے؟ پھر آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اگر کل قیامت کے دن اس کے بارے میں پوچھ ہوئی تو میں اسامہ رضی اللہ عنہ کے اس فعل سے بری ہوں گا۔
    مرزائی استدلال
    مرزائی اس سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ہم کلمہ پڑھتے ہیں تو ہمارے کلمہ پڑھنے کا بھی اعتبار ہونا چاہئے۔ کیا مسلمانوں نے ہمارے دل چیر کر دیکھ لئے ہیں؟ کہ ہم اوپر سے کلمہ پڑھتے ہیں؟ اور ہمارے دل میں کچھ اور ہوتا ہے؟
    جواب نمبر:۱… ایک شخص جب کلمہ پڑھتا ہے تو اسے موقع ملنا چاہئے کہ وہ اپنے فعل اور طرز عمل سے ثابت کر دکھائے کہ اس نے یہ کلمہ دل سے پڑھا ہے یا صرف زبان سے۔ نیز یہ ثابت کر دے کہ میں خلاف اسلام کاموں سے بری ہوں۔ چونکہ زبان دل کی ترجمان ہے۔ اب اس کا طرز عمل بتلائے گا کہ اس کا دل اور زبان ایک ہے یا نہیں؟ رہا واقعہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا؟ تو چونکہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو موقع ہی نہیں دیا تھا کہ وہ اپنے فعل اور طرز عمل سے ثابت کر دے کہ میں نے یہ کلمہ دل سے پڑھا ہے یا زبان سے؟ اس لئے حضور علیہ السلام نے اس پر نکیر (ناپسندیدگی) فرمائی۔
    مرزائی فریب
    قادیانی حدیث پاک کے مذکورہ واقعہ سے ہرگز یہ استدلال نہیں کر سکتے کہ ہم تو کلمہ پڑھتے ہیں یہ محض ان کا دھوکہ اور فریب ہے کہ غلط استدلال کی آڑ میں ہم اپنے آپ کو اور مرزاقادیانی کی جھوٹی نبوت کو بچالیں گے۔

    ایں خیال است ومحال است وجنوں
    عرصہ ٔ دراز سے مسلمانوں نے مرزائیوں کو موقع فراہم کیا اور آج بھی مرزائیوں کو موقع دیا ہوا ہے کہ وہ اپنے فعل اور طرز عمل سے یہ ثبوت پیش کرتے اور کریں کہ ہمارا دل اور زبان ایک ہے۔ مگر قیامت یہ ہے کہ مرزائیوں کا ’’لٹریچر‘‘ اور ان کا طرز معاشرت، اور بودوباش یہ بتارہی ہے کہ زبانی حد تک کلمہ پڑھنے کے باوجود ان کے دل میں عقیدۂ ختم نبوت نہیں۔ بلکہ انکار ختم نبوت اور اجراء نبوت ہے۔ انبیائo کی تنقیص وتوہین ان کے دلوں میں موجود ہے۔ جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ وہ ایک جھوٹے مدعی نبوت مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی ، مسیح موعود، اور مہدی معہود اور پتہ نہیں کیا کیا مانتے ہیں۔ تو مرزائی اپنے طرز عمل سے تو یہ بتلا رہے ہیں کہ ہمارا دل اور زبان ایک نہیں۔ لہٰذا کروڑوں بار بھی کلمہ پڑھیں، نمازیں پڑھیں، تب بھی کافر ہیں۔ ان کے اس کلمہ پڑھنے کا کوئی اعتبار نہیں۔ لہٰذا مرزائیوں کا حدیث حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے استدلال کرنا باطل اور اپنے آپ کو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے مقتول پر قیاس کرنا ’’قیاس مع الفادق‘‘ ہے۔
    ببیں تفاوت راہ از کجاست تابکجا
    جواب نمبر:۲… مشہور واقعہ زبان زد خاص وعام ہے کہ رحمت عالم علیہ السلام کی خدمت اقدس میں ایک یہودی اور دوسرا منافق (بشرنامی جو بظاہر کلمہ گو ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا) ایک مقدمہ لے کر حاضر ہوئے۔ آپ علیہ السلام نے یہودی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ بشرنامی منافق (جو بظاہر اسلام اور کلمہ گو ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا) نے یہودی سے کہا کہ حضور علیہ السلام کا فیصلہ تو آپ کے حق میں ہوا۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ ہم یہ فیصلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کرائیں۔ بشر منافق کی اندرونی سازش تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہودی کو قتل کر دیں گے، یا میرے حق میں فیصلہ کر دیں گے۔ کیونکہ میں کلمہ گو جو ہوں۔ یہودی نے کہا ٹھیک!
    چنانچہ دونوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کیس عرض کیا، یہودی نے حضور علیہ السلام کا فیصلہ بھی سنایا کہ آپ علیہ السلام نے میرے حق میں فیصلہ کر دیا ہے۔ لیکن یہ منافق نہیں مانتا۔ اس کے کہنے پر فیصلہ آپ کے پاس لے آئے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا حضور علیہ السلام نے فیصلہ اس طرح فرمادیا ہے؟ کہا: جی ہاں! یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھر تشریف لے گئے، تلوار ہاتھ میں لی اور یہ فرماتے ہوئے کہ جو حضور علیہ السلام کے مبارک فیصلہ کو نہ مانے اس کا فیصلہ عمر رضی اللہ عنہ کی تلوار کرے گی۔ تشریف لائے اور بشر منافق کا سر گردن سے الگ کر دیا۔ اس پر نہ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ: عمر رضی اللہ عنہ ! تم نے کیوں قتل کیا؟ اور نہ ہی اﷲ رب العزت نے فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے غلط کیا ہے۔ بلکہ وحی الٰہی نازل ہوئی: ’’فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلّموا تسلیما (نسائ:۶۵)‘‘ {سو قسم ہے تیرے رب کی وہ مؤمن نہ ہوں گے یہاں تک کہ تجھ کو ہی منصف جانیں۔ اس جھگڑے میں جو ان میں اٹھے پھر نہ پاویں اپنے جی میں تنگی تیرے فیصلہ سے اور قبول کریں خوشی سے۔}
    اسی واقعہ کے تحت ’’روح المعانی‘‘ اور (معارف القرآن ج۲ ص۴۶۱) میں ہے کہ بشر نامی منافق کے ورثاء نے حضور علیہ السلام کی عدالت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی دائر کیا، تو وحی الٰہی نے نہ صرف یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بری کر دیا۔ بلکہ تاقیامت مسلمانوں کے لئے یہ دستور العمل قرار پایا کہ جو شخص حضور علیہ السلام کے فیصلہ کو نہ مانتا ہو چاہے وہ کلمہ بھی کیوں نہ پڑھتا ہو وہ مؤمن نہیں۔ لہٰذا اس کی گردن ماری جائے۔ اس کے کلمہ کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس واقعہ کے تناظر میں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ کو بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے بھی اس شخص کو باوجود کلمہ پڑھنے کے موقع نہیں دیا کہ وہ اپنے طرز عمل سے ثابت کرتا کہ میرے دل میں کیا ہے؟۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کلمہ پڑھنے والے بشر منافق کو اسی وجہ سے قتل کر دیا کہ اس کے طرز عمل نے بتادیا تھا کہ کلمہ صرف اس کی زبان کی حد تک ہے۔ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ظاہری طور پر کلمہ پڑھتا ہے۔ اس کے دل میں کفر ہی کفر ہے۔
    یہی حال مرزائیوں کا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے دام فریب میں لینے کے لئے لسانی اور زبانی طور پر کلمہ کی رٹ لگاتے ہیں۔ اندر مرزاقادیانی کو ماننے کی وجہ سے کفر ہی کفر رکھتے ہیں ؎

    ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
    دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
  2. ‏ اگست 23, 2015 #2
    ابو فاران نعیم بن شہزاد

    ابو فاران نعیم بن شہزاد رکن ختم نبوت فورم

    جزاک اللہ

اس صفحے کی تشہیر