1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

قادیانی سوالات کے جوابات ( 4 بزرگوں کے ’’خلاف شرع‘‘ اقوال حجت نہیں)

محمدابوبکرصدیق نے 'متفرق قادیانی اعتراضات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 23, 2014

  1. ‏ اکتوبر 23, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانی سوالات کے جوابات ( 4 بزرگوں کے ’’خلاف شرع‘‘ اقوال حجت نہیں)
    سوال نمبر:۴… ’’تذکرۃ الاولیائ‘‘ وغیرہ کتب میں لکھا ہے کہ بعض بزرگوں سے یہ اقوال صادر ہوئے کہ میں نبی ہوں، میں محمد ہوں۔ میں خدا ہوں وغیرہ وغیرہ! اگر مرزاقادیانی نے بھی کہہ دیا ہے تو اس پر فتویٔ کفر کیوں؟
    جواب… بزرگان دین اور حضرات صوفیاء کرام کے ہاں ایک خاص اصطلاح ہے۔ جسے ’’شطحیات‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بزرگان دین وصوفیاء کرام پر کچھ باطنی حالات گذرتے ہیں۔ جو ایک بے خودی اور مدہوشی کی حالت ہوتی ہے۔ اس حالت میں ان سے بعض ایسے کلمات نکل جاتے ہیں جو کتاب وسنت اور قواعد شریعت کے خلاف ہوتے ہیں۔ جب ہوش میں آتے ہیں تو ایسے کلمات سے توبہ واستغفار کر لیتے ہیں۔ نیز ان بزرگان وصوفیاء کرام نے اپنی اپنی کتب میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ہماری ان بے اختیارانہ باتوں پر کوئی شخص ہرگز عمل پیرا نہ ہو۔ بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ جو ہمارے طریق سے واقف نہیں اس کے لئے ہماری ان کتب کا مطالعہ کرنا بھی جائز نہیں۔ اسی طرح ہمارا کشف والہام بھی کسی پر حجت نہیں۔
    خلاصہ یہ کہ بزرگان دین کی اس طرح کی باتیں خلاف شرع ہوتی ہیں۔ جو کسی کے لئے بھی حجت نہیں ہوتیں۔ جب کہ نبی کی ہر بات شریعت ہوتی ہے اور قابل حجت! جس کے مانے بغیر چارہ نہیں ہوتا۔ جو نہیں مانے گا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہوگا، اور خود نبی بھی اپنی اطاعت واتباع کی تعلیم وتلقین کرتا ہے۔ دیکھئے! قرآن پاک نے بھی رسولوں اور نبیوں سے متعلق اصول سمجھایا: ’’وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اﷲ (نسائ:۶۴)‘‘ {اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا۔ مگر اسی واسطے کہ بحکم خداوندی ان کی اطاعت کی جائے۔}
    رہے مرزاقادیانی کے اقوال؟ تو وہ مرزائیوں کے لئے تو حجت ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ اسے نبی مانتے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے مرزاقادیانی کے اقوال حجت شرعیہ نہیں! اس لئے کہ مسلمانوں کے نزدیک مرزاقادیانی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے کی وجہ سے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور کافر کا قول مسلمانوں کے لئے کسی طرح بھی حجت شرعیہ نہیں بن سکتا۔ خلاصۂ جواب یہ ہے کہ اگر کسی بزرگ نے معذوری یا مدہوشی کی حالت میں کہہ دیا ہے کہ میں نبی ہوں۔ میں محمد ہوں وغیرہ تو اس کا یہ قول حجت شرعیہ نہیں ہے تو جن کتابوں میں اس طرح کے اقوال ہیں۔ ان کتابوں میں ان بزرگوں کی تعلیمات وتلقینات اپنے مریدین کے لئے یہ موجود ہیں کہ تم نے مجھے قتل کیوں نہ کیا؟ کیا نبی اس طرح کہتا ہے؟
    ہم مرزائیوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا مرزاقادیانی نے اپنی پوری زندگی میں یا اپنی کتابوں میں کہیں اشارۃً یا کنایتہ یا صریحاً کوئی ایک جملہ لکھا ہے؟ کہ مجھے ان دعاوی (میں نبی ہوں، میں محمد ہوں، میں آدم ہوں، میں عیسیٰ ہوں۔ وغیرہ) کی وجہ سے قتل کر دیا جائے؟ بلکہ اپنی بات نہ ماننے والوں کو کافر، دائرہ اسلام سے خارج، کتیوں، خنزیروں کی اولاد، کنجریوں کی اولاد کہتا رہا۔ کیا ولی اس طرح کہا کرتا ہے؟ یا مرزاقادیانی نے یہ باتیں معذوری اور مدہوشی میں کہی ہیں؟ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ کسی بزرگ نے یا کسی ولی نے اپنی زندگی میں اس طرح کہا ہو تو مرزائیوں پر لازم ہے دکھائیں؟ لہٰذا تذکرۃ الاولیاء وغیرہ کتب میں موجود ان بزرگوں کے اقوال ہمارے لئے حجت شرعیہ نہیں ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کو معذور، اور مرزاقادیانی اور اس کے پیروکاروں کو کافر سمجھا جائے گا۔

اس صفحے کی تشہیر