1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(قادیانی عبارتوں کے نتائج)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 25, 2015

  1. ‏ فروری 25, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (قادیانی عبارتوں کے نتائج)

    ان حوالہ جات سے جو نتائج اخذ کئے گئے ہیں وہ باالفاظ مولوی مرتضیٰ حسن صاحبؒ گواہ مدعیہ ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جناب مرزاصاحب اور مرزامحمود صاحب اور ان کے تمام متبعین کا یہ عقیدہ ہے کہ رسول اﷲﷺ کے بعد نبوۃ تشریعی کا دروازہ بند ہے۔ آپﷺ کے بعد جو نبوت تشریعی کا دعویٰ کرے وہ کافر اور اسلام سے خارج ہے۔ قول نمبر۶ میں مرزاصاحب نے اپنی تشریعی نبوت کا کھلے الفاظ میں دعویٰ کیا ہے اور اس میں چند باتوں کی تشریح مرزاصاحب نے خود فرمائی۔ ایک یہ کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس کی وحی میں امر یا نہی ہو۔ 2150جس نے اپنی امت کے لئے کوئی قانون مقرر کیا ہو وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ یہ تعریف کر کے مرزاصاحب اپنا صاحب شریعت ہونا ثابت کرتے ہیں۔ اس لئے مرزاصاحب اپنے اقرار سے خود کافر ہوگئے۔ مرزاصاحب نے یہ بھی صاف فرمادیا ہے کہ وحی میں جو حکم یا نہی ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ حکم نیا ہو۔ بلکہ اگر پہلی شریعت کا بھی حکم اس کے پاس بذریعہ وحی کے آئے تو بھی یہ صاحب شریعت ہونے کے لئے کافی ہے۔ مرزاصاحب نے اپنی بہت سی وحی وہ بیان کی ہے جو کہ آیات قرآنی ہیں۔ اس لئے وہ بھی مرزاصاحب کی شریعت ہوگئی۔ مرزاصاحب نے اس شبہ کا بھی جواب دے دیا کہ صاحب شریعت کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کی شریعت میں نئے احکام ہوں۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ یہ قرآن پہلی کتابوں میں بھی ہے۔ ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام کے صحیفوں میں بھی۔ اب اگر شریعت جدید کے لئے یہ ضروری ہو کہ اس نبی کی شریعت اور وحی اور کتاب میں سب نئے احکام ہوں تو لازم آتا ہے کہ رسول اﷲﷺ بھی صاحب شریعت نہ ہوں۔ کیونکہ قرآن میں سارے احکام نئے نہیں۔ اس کلام کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس طرح پہلے انبیاء رسول اﷲ صاحب شریعت نبی ہیں۔ ویسے ہی مرزاصاحب بھی صاحب شریعت نبی ہیں۔
    مرزاصاحب نے یہ بھی صاف کر دیا کہ اگر کوئی یہ کہے کہ شریعت کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام اوامر ونواہی اس شریعت اور کتاب اور وحی میں پورے پورے بیان ہونے چاہئیں تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ تمام احکام تورات اور قرآن مجید میں بھی مذکور نہیں اگر تمام احکام قرآن مجید میں مذکور ہوتے تو پھر اجتہاد کی گنجائش باقی نہ رہتی۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ اگر کوئی مدعی نبوت ایک امرونہی کا بھی دعویٰ کرے اگرچہ وہ امر ونہی پرانی ہو تو وہ نبی صاحب شریعت کہلایا جائے گا اور اس میں اور رسول اﷲﷺ میں بایں معنی کچھ فرق نہیں کہ یہ دونوں صاحب شریعت ہیں۔
    یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ اگر کسی نبی کو خدا کا بھی حکم آوے کہ تجھ کو ہم نے نبی کر کے 2151بھیجا ہے اور تو لوگوں پر اس حکم کی تبلیغ کر اور جو کوئی اس حکم کو نہ مانے گا وہ کافر ہے۔ تو وہ نبی بھی صاحب شریعت اور نبی تشریعی ہوگیا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ جو نبی حقیقی ہے اور جو نبی شرعی ہے اس کے لئے نبی تشریعی ہونا ضروری ہے۔ اس لئے مرزاصاحب اپنی تحریر اور اس اقرار کے مطابق کافر ہوئے۔ اس کے علاوہ مرزاصاحب نے یہ بھی فرمایا کہ میری کشتی کو کشتی نوح قرار دیا گیا ہے۔ جو اس میں ہوگا وہ نجات پائے گا اور جو ایسا نہ ہوگا وہ ہلاک ہو گا۔ یہ مرزاصاحب کی شریعت کا نیا حکم ہے جس نے شریعت محمدیہ کو منسوخ کیا۔ مرزاصاحب نے ایک نیا حکم یہ بھی دیا ہے کہ ان کی عورتوں کا نکاح غیراحمدیوں سے جائز نہیں۔ یہ بھی حکم شریعت محمدیہ کے خلاف ہے۔
    (یہ نتیجہ بحوالہ کتاب انوار الخلافۃ مرتبہ مرزامحمود صاحب ص۹۳،۹۴ اخذ کیا گیا ہے)
    مرزاصاحب کی شریعت میں ایک نیا حکم اور یہ بھی ہے جو تمام اسلام کے خلاف ہے کہ مرزاصاحب نے اپنے مریدوں سے چندہ کی تحریک فرما کر یہ حکم فرمایا ہے کہ جو کوئی چندہ تین ماہ تک ادا نہ کرے گا وہ میری بیعت سے خارج ہے اور بیعت سے خارج ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسلام سے خارج ہے اور کافر ہے۔ حالانکہ زکوٰۃ کے لئے بھی خدا نے یہ حکم نہیں دیا کہ اگر تین ماہ تک کوئی زکوٰۃ نہ دے تو وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ یہ حوالہ مرزاصاحب کے ایک فرمان سے جو لوح ہدیٰ میں قادیان سے دسمبر ۱۹۲۰ء میں شائع ہوئی، دیا گیا ہے۔ اس فرمان کے چیدہ چیدہ الفاظ حسب ذیل ہیں: ’’مجھے خدا نے بتلایا ہے کہ میری انہی سے پیوند ہے۔ یعنی وہی خدا کے دفتر میں مرید ہیں جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں… ہر ایک شخص جو مرید ہے۔ اس کو چاہئے کہ وہ اپنے نفس پر کچھ ماہوار مقرر کر دے… جو شخص کچھ بھی مقرر نہیں کرتا… وہ منافق ہے۔ اب اس کے بعد وہ اس سلسلہ میں نہیں رہ سکے گا… اگر تین ماہ تک کسی کا جواب نہ آیا تو سلسلہ بیعت سے اس کا نام کاٹ دیا جائے گا۔‘‘
    (اشتہار لنگر خانہ کے انتظام کے لئے، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۶۸،۴۶۹)
    2152اس کے آگے گواہ مذکورہ آیت ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘ کے حوالہ سے بیان کرتا ہے کہ آیت اس امر کی تصریح کرتی ہے کہ رسول اﷲﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور جب کوئی نبی آپﷺ کے بعد نہیں تو کوئی رسول بھی آپﷺ کے بعد بطریق اولیٰ نہیں۔ کیونکہ رسول نبی ہوتا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ جو نبی ہو وہ رسول بھی ہو اور اس کی تائید میں احادیث متواترہ ہیں۔ جن کو صحابہؓ کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔ ایسی احادیث کا انکار کرنے والا ویسا ہی کافر ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کا انکار کرنے والا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو ختم نبوت کا انکار کرتا ہے وہ قرآن کا منکر ہو کر بھی کافر ہوا۔ اس کی تائید میں انہوں نے چند ائمہ دین کے اقوال نقل کئے ہیں اور ان سے یہ دکھلانا چاہا ہے کہ احادیث متواترہ میں یہ خبر درج ہے کہ رسول اﷲﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا ہونے والا نہیں ہے اور کہ ہر وہ شخص جو آپﷺ کے بعد اس مقام نبوۃ کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا اور افتراء پرداز ہے۔ دجال اور گمراہ کرنے والا ہے۔ اگرچہ شعبدہ بازی کرے۔ قسم قسم کے جادو اور طلسم اور نیرنگیاں دکھلائے اور کہ جو شخص دعویٰ نبوت کرے وہ کافر ہے اور پھر ان حوالہ جات سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ عقیدہ کہ رسول اﷲﷺ خاتم النّبیین ہیں، یقینی ہے اور اجماعی ہے کسی کا اس میں اختلاف نہیں ہے۔ کتاب اور سنت سے ثابت ہے اور آپﷺ کے بعد کوئی کسی قسم کی نبوۃ میں نبی نہ بنے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام کا آنا اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ وہ پہلے نبی بن چکے ہیں۔ خاتم الانبیاء کے معنی بھی یہی ہیں کہ اپنے عموم سے کسی نبی کو نبوت آپﷺ کے بعد نہیں مل سکتی۔ اس کی تائید میں چند دیگر آیات قرآنی اور احادیث بھی پیش کی گئی ہیں۔ جن کی یہاں تفصیل کی ضرورت نہیں اور ان کا حوالہ دیا جاکر یہ نتیجہ اخذ کیاگیا ہے کہ انکار ختم نبوت کفر، ادعا نبوت بھی کفر، اور ادعاء وحی بھی کفر ہے۔ البتہ ایک حدیث کا یہاں حوالہ دینا ضروری معلوم ہوتا ہے جس پر آگے مدعا علیہ کے جواب کے وقت بحث کی جاوے گی۔ وہ حدیث بایں مطلب ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ میری مثال اور ان انبیاء کی مثال جو مجھ سے پہلے تھے اس شخص کی سی ہے کہ جس نے ایک مکان تعمیر 2153کیا اور بہت اچھا اور بہت خوبصورت اس کو بنایا۔ مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہی۔ لوگ اس مکان کو دیکھتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اینٹ کی جگہ خالی ہے۔ اس کو کیوں پر نہ کر دیا گیا۔ سو میں ہوں وہ اینٹ، اور میں ہوں خاتم النّبیین۔ اس حدیث سے یہ نتیجہ اخذ کیاگیا ہے کہ تعمیر بیت نبوت جو ابتدائے آفرنیش سے ہوئی تھی۔ وہ بدوں سرور عالمﷺ کے ناقص تھی۔ سرور عالمﷺ کے وجود باجود سے وہ مکمل ہوگئی اور بیت النبوۃ میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ اب اگر کوئی اینٹ ہوگی تو وہ بیت النبوۃ سے نہیں ہوسکتی۔ اگر کوئی شخص مدعی نبوت ہو گا تو خدا نے جو نبوت کا گھر تعمیر کیا ہے وہ اس کا جزو نہیں ہوسکتی۔
    مرزاصاحب کے قول نمبر۱۵ سے یہ استدلال کیاگیا ہے کہ قرآن کریم سے صراحتاً یہ بات معلوم ہوئی کہ رسول اس کو کہتے ہیں جس نے احکام وقواعد دین جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔ اگر مرزاصاحب نے احکام وعقائد اس ذریعہ سے حاصل نہیں کئے تو دعویٰ نبوت جھوٹ ہوا اور جھوٹا مدعی نبوت باتفاق کافر ہوتا ہے۔
    مرزاصاحب کے قول نمبر۱۳ سے مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مرزاصاحب اپنے پر جبرائیل علیہ السلام کے نزول کے مدعی ہیں اور صرف دعویٰ پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی شان نبوت ورسالت کا سکہ جمانے کے لئے تمام خصوصیات نبوۃ ولوازمات رسالت کو نہایت جزم اور وثوق کے ساتھ اپنی ذات کے لئے ثابت کرنے میں کسر نہیں چھوڑی۔ جن خصوصیات کی وجہ سے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی جماعت دوسرے مقربان بارگاہ الٰہی سے ممتاز ہوسکتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام پر بھی نزول جبرائیل ہوا کرتا ہے اور ان کے وحی والہام قطعی ویقینی ہوا کرتے ہیں۔ اس طرح مرزاصاحب بھی اپنی وحی کو خدا کا کلام کہتے ہیں اور قرآن شریف کی طرح قطعی کہتے ہیں۔ یہ خصوصیات مذکورہ ایسی ہیں جو سوائے انبیاء علیہم السلام اصحاب شریعت کے اور کسی دوسرے مقرب بارگاہ الٰہی میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزاصاحب حقیقی نبوت کے مدعی تھے اور اپنے آپ کو اس معنی میں نبی اور رسول 2154ظاہر کرتے تھے جس معنی میں دوسرے انبیاء علیہم السلام کو نبی یا رسول کہاگیا ہے۔
    گواہان مدعیہ نے خود مرزاصاحب کی اپنی تحریرات سے بھی یہ دکھلایا ہے کہ وہ خود قبل از دعویٰ نبوت یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ رسول اﷲﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور کہ آپa آخری نبی ہونے کے معنوں میں خاتم النّبیین ہیں۔ چنانچہ (ازالۃ الاوہام ص۵۲۳، خزائن ج۳ ص۳۸۰) پر مرزاصاحب لکھتے ہیں کہ: ’’مسیح کیونکر آسکتا ہے اور خاتم النّبیین کی دیوار روئیں اس کو آنے سے روکتی ہے۔‘‘
    آگے اس کتاب کے (ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷) پر لکھتے ہیں: ’’لیکن وحی نبوۃ پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ چکی۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی۔‘‘
    اور کتاب (حمامتہ البشریٰ ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰) میں آیت ’’ماکان محمد… خاتم النّبیین‘‘ کی تشریح میں لکھتے ہیں: ’’ہمارے نبیﷺ خاتم النّبیین ہیں۔ بغیر کسی استثناء کے اور ہمارے نبیﷺ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ہمارے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور ہمارے نبیﷺ کے بعد اگر ہم کسی نبی کے ظہور کے مجوز بنیں گے تو نبوت کا دروازہ بند ہونے کے بعد اس کو کھولنے کے قائل ہو جائیں گے اور یہ اﷲ کے وعدہ کے خلاف ہے۔ ہمارے نبیﷺ کے بعد کس طرح کوئی نبی آسکتا۔ حالانکہ آپﷺ کے بعد وحی کا انقطاع ہوچکا ہے اور نبی آپﷺ کے ساتھ ختم ہوچکے ہیں۔‘‘
    پھر اس کتاب کے (ص۲۱، خزائن ج۷ ص۲۰۱) پر لکھتے ہیں کہ: ’’ہزارہا سال کے گزرنے کے بعد کسی ایسی حالت کا انتظار کیا جاسکتا ہے جس میں دین کی تکمیل ہو۔ اگر یہ مانا جائے تو دین کی تکمیل اور اس کے کمال سے فراغت کا سلسلہ بالکل غلط ہو جاتا ہے اور اﷲتعالیٰ کا یہ قول کہ ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ جھوٹی خبر ہوگئی اور خلاف واقع ہوگئی۔‘‘
    اسی کتاب کے (ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۶)کے ایک حوالہ سے یہ دکھلایا گیا ہے کہ مرزاصاحب بھی پہلے دعویٰ نبوت کو کفر سمجھتے تھے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ’’مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے نکل جاؤں اور قوم کافرین کے ساتھ مل جاؤں۔‘‘
    (ازالۃ الاوہام ص۵۸۳، خزائن ج۳ ص۴۱۴) پر لکھتے ہیں کہ: ’’یہ ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النّبیین کے بعد پھر جبرائیل کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمدورفت شروع ہو جائے۔ ایک نئی کتاب اﷲ گو مضمون قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو پیدا ہو جائے۔ جو امر مستلزم 2155محال ہے۔ وہ محال ہو جاتا ہے۔‘‘
    لیکن اس کے بعد پھر (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۵، خزائن ج۲۱ ص۱۱۱) میں یہ تحریر فرمایا کہ: ’’میں بھی تمہاری طرح بشریت کے محدود علم کی وجہ سے یہی اعتقاد رکھتا تھا کہ عیسیٰ ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا اور باوجود اس بات کے کہ خداتعالیٰ نے براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور جو قرآن شریف کی آیتیں پیش گوئی کے طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب تھیں وہ سب آیتیں میری طرف منسوب کر دیں اور یہ فرمایا کہ تمہارے آنے کی خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے۔ مگر پھر بھی میں متنبہ نہ ہوا اور براہین احمدیہ حصص سابقہ میں وہی غلط عقیدہ اپنی رائے کے طور پر لکھ دیا اور شائع کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور میری آنکھیں اس وقت تک بالکل بند رہیں جب تک کہ خدا نے باربار کھول کر مجھ کو نہ سمجھایا کہ عیسیٰ ابن مریم اسرائیلی تو فوت ہوچکا اور وہ واپس نہیں آئے گا۔‘‘
    ایک اور جگہ (ایک غلطی کا ازالہ ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲) پر لکھتے ہیں کہ: ’’آنحضرتﷺ کے بعد جو درحقیقت خاتم النّبیین تھے مجھے نبی اور رسول کے لفظ سے پکارا جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے اور نہ ہی اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت ’’وآخرین منہم لمّا یلحقوا بہم‘‘ بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا اور مجھے آنحضرتﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔‘‘
    آگے (ایک غلطی کا ازالہ ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۱۵) پر لکھتے ہیں کہ: ’’یہ ممکن ہے کہ آنحضرتﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خدا کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہدہ تھا۔‘‘
    پھر (حوالہ ایضاً) پر لکھتے ہیں کہ: ’’چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی رنگ کی نبوۃ مجھے عطاء کی گئی ہے اور اس نبوۃ کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست وپا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔‘‘
    ایک اور جگہ لکھا ہے کہ ’’کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیا میں پائے جاتے ہیں وہ سب حضرت رسول 2156کریم میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم سے ظلی طور پر ہم کو عطاء کئے گئے ہیں… پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریم کی خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔‘‘ (ملفوظات ج۳ ص۲۷۰) اس عبارت سے نتیجہ نکالا گیا ہے کہ ظل اور بروز کے الفاظ محض الفاظ ہی الفاظ ہیں۔ مراد ان سے حقیقت کاملہ نبوۃ ہے۔
    ان تصریحات سے مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ کا یہ استدلال ہے کہ مرزاصاحب نے قرآن حکیم کی آیات اور احادیث نبوی سے اپنی نبوۃ کے لئے جو دلائل پیش کئے ہیں وہ محض لاطائل اور بے معنی سعی ہے۔ کیونکہ مرزاصاحب براہین احمدیہ کے لکھتے وقت اور اس سے مدتوں پہلے اپنی قرآن دانی اور حکم فہمی کے مدعی تھے۔ اگر ان کو اس سے پہلے قرآن کی رو سے کسی نئے نبی کے آنے کا انکار تھا تو بعد میں قرآن کی کون سی آیت اتری یا نبی کریمﷺ کی کون سی حدیث پیدا ہوئی جس کی بناء پر مرزاصاحب نے نبوت کا ادعاء کیا۔ خاتم النّبیین کی آیت ’’الیوم اکملت لکم‘‘ کی آیت اس وقت بھی قرآن میں موجود تھیں۔ یہ ہر دو آیتیں قسم اخبار میں سے ہیں اور اوامر ونہی کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر ادعائے نسخ سے پناہ لے کر کوئی تاویل کی جاوے تو اوامر ونواہی میں جاری ہوسکتی ہے۔ اخبار میں نہیں ہوسکتی۔ یہ مسئلہ تمام اہل اسلام کے نزدیک مسلمہ اور متفق علیہ ہے۔ پھر کیونکر ازروئے قرآن یا حدیث اپنے کو ادعاء نبوۃ میں صادق کہہ سکتے ہیں۔
    ختم نبوت کے معنی کو جیسا کہ عام عقیدہ ہے مرزاصاحب تسلیم کرتے ہیں اور اپنے کلام میں اس طرح اس کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن صرف اپنی خوش خیالی کو باقی رکھنے کے لئے بے محل اور خلاف محاورات عرب تاویل کر کے جان بچانے کی کوشش کی ہے۔
    آگے وہ کہتے ہیں کہ مرزاصاحب نے خاتم النّبیین کے بعد بروزی طور پر اپنے آپ کو نبی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر خود انہی کے کلام سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص خاتم ہو اس کا 2157بروز بھی نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب (تریاق القلوب ص۱۵۶، خزائن ج۱۵ ص۴۷۷ حاشیہ) پر لکھتے ہیں: ’’مگر مہدی معہود بروزات کے لحاظ سے بھی دنیا میں نہیں آئے گا۔ کیونکہ وہ خاتم الاولاد ہے۔‘‘
    اس کتاب (تریاق القلوب ص۱۵۶، خزائن ج۱۵ ص۴۷۸ حاشیہ) پر لکھتے ہیں کہ: ’’یہ بعض اکابر اولیاء کے مکاشفات ہیں اور اگر احادیث نبویہ کو بغور دیکھا جاوے تو بہت کچھ ان سے ان مکاشفات کو مدد ملتی ہے۔ لیکن یہ قول اس حالت میں صحیح ٹھہرتا ہے جب کہ مہدی معہود اور مسیح موعود کو ایک ہی شخص مان لیا جاوے۔‘‘
    اس حوالہ سے مرزاصاحب کا بروزی اور ظلی نبی ہونے کا دعویٰ بھی غلط ثابت ہوتا ہے اور یہ ثابت ہے کہ حضرت محمد رسول اﷲa خاتم النّبیین والمرسلین ہیں۔ آپa کے بعد جو شخص اپنے لئے ادعا نبوت کرے یا کسی دوسرے کو نبی مانے تو وہ تمام اہل اسلام کے نزدیک کافر، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ اس کی تائید کہ ظلی اور بروزی الفاظ محض الفاظ ہی ہیں اور کہ دراصل مرزاصاحب کی مراد حقیقی نبوت سے ہے۔ مرزاصاحب کے صاحبزادے بشیرمحمود صاحب کی ایک تحریر سے ہوتی ہے۔ جو اخبار الفضل مورخہ ۲۶؍نومبر ۱۹۱۳ء کے حوالہ سے مدعیہ کے گواہ مولوی مرتضیٰ حسن صاحبؒ نے نقل کی ہے اور جو باالفاظ ذیل ہے: ’’ہم جیسے خداتعالیٰ کی دوسری وحیوں میں حضرت اسماعیل، حضرت ادریس علیہم السلام کونبی پڑھتے ہیں۔ ایسے ہی خدا کی آخری وحی میں مسیح موعود کو بھی یا نبی اﷲ کے خطاب سے مخاطب دیکھتے ہیں اور اس نبی کے ساتھ کوئی لغوی یا ظلی یا جزوی کا لفظ نہیں پڑھتے کہ اپنے آپ کو خود بخود ایک مجرم فرض کر کے اپنی بریت کرنے لگ جائیں۔ بلکہ جیسے اور نبیوں کی نبوۃ کا ثبوت ہم دیتے ہیں۔ بلکہ اس سے بڑھ کر کیونکہ ہم چشم دید گواہ ہیں۔ مسیح موعود کی نبوت کا ثبوت دے سکتے ہیں۔ پھر لکھا ہے کہ خداتعالیٰ نے صاف لفظوں میں آپ کا نام نبی اور رسول رکھا اور کہیں بروزی اور ظلی نبی نہیں کہا۔ پس ہم خدا کے حکم کو مقدم کریں گے اور آپ کی تحریریں جن میں انکساری اور فروتنی کا غلبہ ہے اور جو نبیوں کی شان ہے اس کو ان الہامات کے تحت کریں گے۔‘‘
    2158اس سے یہ نتیجہ اخذ کیاگیا ہے کہ مرزاصاحب نے یہ الفاظ انکساری اور تواضع کے طور پر لکھ دئیے ہیں۔ ورنہ ان کے معنی مراد نہیں ہیں۔ مرزاصاحب جہاں اپنے آپ کو بروزی یا ظلی یا مجازی نبی کہتے ہیں۔ اس کا مطلب صرف حقیقی نبی سمجھنا چاہئے۔
    اسی طرح خلیفہ دوم اخبار الفضل مورخہ ۲۹؍جون ۱۹۱۵ء ہینڈ بل ص۳ کی سطر۱ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’مسیح موعود کو نبی اﷲ تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا یا امتی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرتﷺ کو جو سید المرسلین وخاتم النّبیین ہیں۔ امتی قرار دینا ہے اور امتیوں میں داخل کرنا ہے جو کفر عظیم اور کفر بعد کفر ہے۔‘‘
    ختم نبوت اور انقطاع وحی پر مولوی محمد حسین صاحب گواہ مدعیہ نے ایک اور دلیل پیش کی ہے۔ وہ یہ کہ قرآن شریف پر مجموعی طور پر نظر ڈالنے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں اور آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ جس کی توجیہ یہ ہے کہ اﷲ جل شانہ نے آدم علیہ السلام سے وحی نبوت کے جاری ہونے کے سلسلہ کی خبر دی ہے۔ یہ ابتداء وحی اور آغاز وحی ہے۔ اس کے بعد ہم نوح علیہ السلام کے زمانہ تک پہنچتے ہیں۔ قرآن شریف سے پتہ لیتے ہیں کہ آیا سلسلہ نبوت جاری ہے یا نہ، جواب ملتا ہے کہ ہاں جاری ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا ہے۔ ’’ولقد رسلنا نوحا وابراہیم وجعلنا فی ذریتہما النبوۃ والکتاب‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے ذریت میں سلسلہ نبوت جاری ہے اور ذریت ابراہیم علیہ السلام میں بھی ابھی سلسلہ نبوت جاری ہے۔ دوسری بات اس سے یہ ثابت ہوئی کہ نبوۃ کا ظرف اور محل اٰل ابراہیم ہی ہے۔ جس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ اﷲ عزاسمہ نے حضرت ابراہیم کی اولاد میں دو شعبہ قرار دیتے ہیں۔ ایک ’’بنی اسحاق‘‘ جن میں پہلے نبوت کا سلسلہ جاری رہا اور بہت انبیاء ان میں آئے اور یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوا۔ دوسرے ’’بنی اسماعیل‘‘ جن میں آنحضرتﷺ تک کوئی نبی نہ آیا۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام 2159کے زمانہ کی طرف نگاہ کی جائے تو قرآن شریف سے یہ معلوم ہوگا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ ’’ولقد ایتنا موسی الکتاب وقفینا من بعدہ بالرسل‘‘ اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے اور کئی ایک رسولوں کے آنے کا وعدہ ہے۔ جیسا کہ لفظ ’’الرسل‘‘ سے ظاہر ہے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وقت آتا ہے تو قرآن کریم سے سوال ہوتا ہے کہ آیا بکثرت انبیاء بھی آئیں گے؟ یاکیا ہوگا؟ تو خداوند تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ ’’واذ قال عیسی ابن مریم‘‘ خداوند سبحانہ تعالیٰ نے یہاں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان پر اسلوب جواب کا بالکل بدل دیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ’’اے بنی اسرائیل میں اﷲ کا رسول تمہاری طرف ہوکر آیا ہوں مجھ سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب تورات جو خدا کی طرف سے ان کو عطاء ہوئی ہے اس کی تصدیق کرتا ہوں اور خوشخبری دیتا ہوں ایک رسول کی کہ جو میرے بعد آئے گا۔ نام اس کا احمد ہوگا۔ قرآن کریم نے اس سے پہلے رسل کے لفظ سے عام طور پر رسولوں کے آنے کی خبر دی تھی اور یہاں ایک خاص رسول کی خبر دے کر اس کے نام سے مشخص اور معین فرمایا۔ یہ اسلوب صاف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خداوند تعالیٰ احمدﷺ پر نبوت کو ختم کر رہا ہے اور عام طور پر جو رسولوں کے آنے کا اسلوب تھا۔ اس کو بدل کر ایک خاص معین شخص کے آنے کی اطلاع دیتا ہے۔ اس کے بعد آنحضرتﷺ کا زمانہ آتا ہے تو ہم قرآن سے پوچھتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے آنے کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے یا بند ہو جاتا ہے؟ تو قرآن کریم فرماتا ہے۔ ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘ یہ بات قابل غور ہے کہ خداوند تعالیٰ نے مختلف انبیاء کے زمانہ میں سلسلہ نبوت جاری رہنے اور رسل کے آنے کی اطلاع دی اور آنحضرتﷺ پر آکر اس اطلاع کے برخلاف جوبصورت اجراء نبوت بمثل سابق ایسی اطلاع دی جانی ضروری تھی۔ جیسا کہ پہلے دی 2160گئی۔ ختم نبوت کا اعلان کر دیا۔ جس سے قطعاً اور یقینا یہ بات معلوم ہوئی کہ قرآن کریم مجموعی طور پر ختم نبوت کا اعلان کر رہا ہے۔‘‘
    • Winner Winner x 1

اس صفحے کی تشہیر