1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

قادیانی نام نہاد خلافت کی اصل حقیقت ۔

مرتضیٰ مہر نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 6, 2015

  1. ‏ مارچ 6, 2015 #1
    مرتضیٰ مہر

    مرتضیٰ مہر رکن ختم نبوت فورم

    خلافت کی اہمیت ۔

    حکومت اور سلطنت کا وجود انسانوں کی اجتماعی زندگی کے لئے نہایت ضروری ہے ۔ اور سلطنت اور حکومت کا قیام غلبہ اور قہر کے بغیر متصور نہیں ہے ۔ کیونکہ ہر شخص کو دوسرے شخص سے کسی نہ کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور بسا اوقات طاقتور شخص کمزور شخص سے اپنی ضرورت کی چیزیں بزور حاصل کر لیتا ہے ۔اسلئے ظلم اور جور کو دور کرنے اور عدل اور انصاف کو حاصل کرنے کے لئے کسی قوت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ عدل اور انصاف کا قیام انسانیت کے لئے انتہائی ناگزیر ہے ۔انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین سیاست عقلی ہو گی اور اگر یہ قوانین شرعی ہوں تو یہ سیاست شرعی ہوگی ۔ اللہ کا نبی زمین پر اللہ کا نائب اور خلیفہ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے براہِ راست احکام حاصل کرتا ہے اور ان احکام کی تفصیل اور تشریح کر کے ان احکامات کو بندوں پر نافذ کرتا ہے اور یہی احکام شریعت کہلاتے ہیں ۔ دنیاوی حکام جو احکام نافذ کرتے ہیں وہ قانون کہلاتے ہیں اور اللہ اور رسول کے احکام شریعت کہلاتے ہیں ۔ انسانوں کے بنائے ہوئے قانون ناقص اور ناپائیدار ہوتے ہیں اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی شریعت کامل اور دائمی ہے ۔نبی اللہ کا خلیفہ ہے اور نبی ﷺ کے وصال کے بعد جو شخص نبی کی شریعت پر عمل کراتا ہے اور نبی ﷺ کی ہدایات کے مطابق کارِ حکومت سر انجام دیتا ہے وہ نبی کا خلیفہ کہلاتا ہے ۔اور اس کی حکومت کو خلافت کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اگر آپ حضرت محمد ﷺ کی ذات مبارک پر نظر دوڑائیں تو یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ محمد ﷺ نے مکمل طور پر خلافت کا حق ادا کیا اللہ کا قانون نہ صرف نافذ کیا بلکہ اس پر عمل بھی کیا اور کروایا لیکن اگر آپ مرزا غلام قادیانی کی زندگی پر نظر دوڑائیں تو یہ تسلیم کئے بغیر بھی چارہ نہیں کہ مرزا نے نبوت کا بھی حق ادا نہیں کیا خلافت تو بہت آگے کی بات ہے ۔ اُنہوں نے اپنی معمولی معمولی تعلیم پر بھی نہ خود عمل کیا نہ دوسروں سے کروا سکے ۔

    خلافت بغیر شریعت کے نفاذ کے خلافت نہیں کہلا سکتی ۔

    اب یہ بہت عجیب بات ہے کہ شریعت قائم نہ ہو لیکن خلافت قائم ہو جائے یہ انسانیت کے ساتھ عموماً اور اہل اسلام کے ساتھ خصوصاً بیہودہ مذاق ہے بالکل مرزا کے کیڑے والے دانتوں کی طرح انتہائی گھٹیا ۔اب آپ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ اہل مغرب مسلمانوں کے ساتھ کس طرح کے اصول روا رکھے ہوئے ہے مسلمانوں کو اسلامی احکامات پر عمل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی نقاب ،ٹوپی،روزہ،یا صدقہ خیرات کو لے لیں کھانے پینے کی حرام و حلال اشیاء کو لے لیں پہننے والے لباس کو لے لیں یعنی زندگی کے ہر شعبے پر مغربی کلچر غالب ہے خلافت تو اس لئے ضروری ہوتی ہے تاکہ مسلمان پوری آزادی کے ساتھ اسلامی شریعت پر پابند ہو سکیں اور اسلامی کلچر کو فروغ دے سکیں ۔اور یہ بات مرزا غلام قادیانی کو بھی مسلم تھی چنانچہ وہ کہتے ہیں :۔

    ’’اگر تم اپنے بچوں کا عیسائیوں،آریوں اور دوسروں کی صحبت سے نہیں بچاتے یا کم از کم نہیں بچانا چاہتے ، تو یاد رکھو کہ نہ صرف اپنے اوپر بلکہ قوم پر اور اسلام پر ظلم کرتے اور بہت بڑا ظلم کرتے ہو ۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ گویا تمہیں اسلام کے لئے کچھ غیرت نہیں ۔ نبی کریم ﷺ کی عزت تمہارے دل میں نہیں ۔‘‘
    (ملفوظات جلد اوّل ص45نیو ایڈیشن)

    قابل غور نکات :۔
    1۔اپنے بچوں کو دوسرے مذاہب کی صحبت سے دور رکھنے میں ہی اسلام کی بھلائی ہے ورنہ یہ قوم اور اسلام پر ظلم ہے ۔
    2۔جو اپنے بچوں کو دوسرے مذاہب کی صحبت سے دور نہیں رکھتا وہ بے غیرت ہے اور اسلام کے لئے اُس کے دل میں عزت نہیں ۔
    3۔نبی کریم ﷺ کے لئے بھی اُس کے دل میں عزت نہیں ۔

    لیکن یہ عجیب بات ہے کہ مرزائیوں کا اپنا کوئی الگ ملک نہیں ہے حالانکہ خلافت موجود ہے شرعی قوانین نافذ نہیں کئے گئے لیکن خلافت موجود ہے اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ خلافت عیسائیوں اور آریوں کی صحبت میں خوش رہتی ہے کیوں نہ خوش رہے جب نبی خود خوش رہتا تھا لیکن میں یہاں عام مرزائیوں کی بات نہیں کر رہا جو دن رات کینیڈا ور جرمنی میں انگریزوں کے کتے نہلانے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں ۔ میں یہاں قادیانی خلافت کی بات کر رہا ہوں جو انگریزوں کی جائے عار پر کالا کولا لگانے کی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں اُن کی ذریت عیسائیوں کی صحبت میں رہ کر تعلیم حاصل کرتی ہے پروان چڑھتی ہے اور اُنہی کے رنگ میں رنگین ہوتی ہے جیسا کہ اوپر ایک حیاء سوز تصویر مرزائی تربیت کا منہ بولتا ثبوت فراہم کر رہی ہے ۔ اگر خلیفہ قادیان نہ صرف عام بلکہ اپنی ذریت کو بھی عیسائی صحبت سے نہیں بچا پا رہا تو کیا یہ بے غیرتی نہیں ہے مرزا کی تعلیم کی روشنی میں ؟ کیا یہ ظلم نہیں ہے قوم اور اسلام پر اور کیا اس کا یہی مطلب نہیں کہ قادیان کے خلیفوں کے دل میں نہ اسلام کے لئے کچھ غیرت ہے اور نہ ہی حضرت محمد ﷺ کے لئے کوئی عزت ؟

    ایک شبہ اور اُس کا ازالہ ۔
    مرزا غلام قادیانی کی جی تحریر کو میں نے کیوٹ کیا ہے اُس میں چند الفاظ یہ ہیں ۔ ’’(جو مسلمان)دوسروں کی صحبت سے نہیں بچاتے یا کم از کم نہیں بچانا چاہتے۔‘‘ اب ان الفاظ کو لیکر ہو سکتا ہے کہ کسی مرزائی حضرت کے دماغ میں یہ بیہودہ خیال آ جائے کہ خلیفہ کی مجبوری ہے کہ وہ عیسائیوں کی گود میں جا کر بیٹھے غیر محرم عورتوں کے ساتھ اُٹھے بیٹھے اور اپنی بیوی کو افریقی ننگا ڈانس دکھائے ۔ لیکن مجھے اس خیال پر بھی اعتراض ہے جس کا میں ازالہ اسی تحریر میں کر دینا ضروری خیال کرتا ہوں ۔ کیونکہ یہ خیال کئی وجوہ سے باطل ہے ۔ کہ آپ لوگ مجبور ہو آپ لوگ مجبور نہ بھی ہوں تب بھی رنگین طبعیت کے مالک رہے ہو جیسا کہ :۔

    1۔ مرزا غلام قادیانی خود بھی اور اُس کے مرید بھی تھیٹر جایا کرتے تھے ۔ مرز ا نے تھیٹر جانے سے منع نہیں کیا بلکہ اپنی سنت کی مثال دی جس سے ثابت ہوا کہ قادیانی سینما دیکھ سکتے ہیں ۔ (ذکر حبیب ص14)
    2۔مرزا کو احتلام بھی ہوتا تھا کیوں نہ ہوتا مسیح جی سینما جو جاتے تھے ۔ (سیرت المہدی ج 3ص757)
    3۔جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں مگر قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقع نہ ملا واپسی پر جب ہم فرانس آئے ، تو میں نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریانی سے نظر آ سکے (اور اسلام کی میں خدمت کر سکوں۔ناقل)(لیکن بدقسمتی سے )وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے ،(واقف ہوتے تھے اس سے بھی عریاں جگہ لے کر جاتے ۔شاید جناب ہیرا منڈی جانا چاہتے تھے )جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا اور پیرا سینما کو کہتے ہیں (لو جی کر لو گل باپ تھیٹر میں اور بیٹا سینما میں ظاہر ہے جو باپ دیکھنے گیا تھا بیٹا بھی تو وہی دیکھنے جائے گا ناں)چودھری صاحب نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سو سائٹی کی جگہ ہے جسے دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہے ،میری نظر چونکہ کمزور ہے ۔اسلئے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا (لیکن پاس جا کر دیکھ سکتا ہوں گویا پاس جانا چاہتے ہیں)تھوڑی دیر کے بعد میں نے (کافی محنت کے بعد) جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں میں نے چودھری صاحب سے کہا کیا یہ ننگی ہیں اُنہوں نے بتایا کہ یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں مگر باوجود اس کے کہ وہ ننگی معلوم ہوتی ہیں (شکر ہے ابھی نظر کمزور ملی ہے )تو یہ بھی ایک لباس ہے اسی طرح ان لوگوں کے شام کی دعوتوں کے گاؤن ہوتے ہیں نام تو اس کا بھی لباس ہے مگر اس میں جسم کا ہر حصہ بالکل ننگا نظر آتا ہے ۔
    (خطبات محمود ج 1ص226،اخبار الفضل قادیان 24جنوری 1934،تاریخ محمودیت ص 67)
    4۔ اسلامی پردے کا مرزا قائل نہیں تھا ۔ (سیرت المہدی ج 1ص56-57)
    5۔غیر محرم عورتیں مرزا نے اپنی خدمت کے لئے رکھی ہوئیں تھیں ۔ (اخبار الحکم قادیان جلد 11،ش 13،مورخہ 17اپریل 1907،ص13،سیرت المہدی ج 3ص722،سیرت المہدی ج 3ص781وغیرہ )
    6۔لوگوں کو دکھا دکھا کر یعنی سیٹنگ کروا کر شادیاں وہ کرواتا تھایعنی ایک صدی پہلے ہی shadi.com مرزا نے اوپن کر رکھی تھی (سیرت المہدی ج 1ص240)
    7۔فحش شاعری وہ کرتا تھا بدزبانی وہ کرتا تھا شراب وہ پیتا اور پلاتا تھا افیون وہ کھاتا اور کھلاتا تھا توہین انبیاء وہ کرتا تھا۔
    8۔کبھی کبھار زنا وہ کر لیا کرتا تھا ۔ (الفضل قادیانی مورخہ 31اگست 1938 ؁ء)
    9۔ننگی عورتیں اُس کے سامنے نہایا کرتی تھیں جیسے سوئمنگ پول میں نہایا کرتی ہیں۔ (ذکر حبیب ص 30) مجھے یہ سمجھ نہیں آتی اور کون سی ایسی چیز تھی جو مغربی لوگوں سے مسلمانوں کو خراب کرنے کی وجہ بن سکتی تھی کوئی قادیانی اس پر تبصرہ کرے اور بتائے کہ جب مرزا خود مغربی کلچر سے اس قدر آلودہ تھا تو کیسے یقین سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ بے غیرت نہیں تھا اور اُس کے لئے اسلام اور محمد ﷺ کے لئے عزت تھی ۔ ؟ اور کیسے کوئی کہہ سکتا ہے کہ اُس نے خود اسلامی تعلیم پر عمل کیا اور اُس کی اولاد نے بھی کیا ؟
    • Like Like x 3

اس صفحے کی تشہیر