1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(قادیانی ہرامر میں مسلمانوں سے علیحدہ تصور رکھتے ہیں)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 28, 2015

  1. ‏ مارچ 28, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (قادیانی ہرامر میں مسلمانوں سے علیحدہ تصور رکھتے ہیں)
    اب آپ دیکھئے کہ ہماری دینی اصطلاح میں خدا، رسول، قرآن، حدیث، وحی اور الہام کی بھی یہ ہے کہ وحی ہمارے نزدیک منقطع ہوچکی ہے اور تمام دینی لغتوں میں اس کی تعریف جو انگریزی لغتوں میں بھی، انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجنز میں بھی، اور وہ بھی یہ ہے کہ وحی وہ چیز ہے جو رسولوں پر، انبیاء پر جو کلام نازل ہوتا ہے۔ وحی اور الہام کا تصور ہمارے نزدیک مختلف ہے، اور عظمت انبیاء کا تصور بھی ہمارے نزدیک مختلف ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کسی نبی کا تعین کیا جائے تو انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ عظمت اہل بیت میں بھی یہی ہے اور ان کی جو رائے ہے وہ اقتباسات میں آچکا ہے۔ حج کے متعلق بھی دیکھا جائے کہ اب قادیان کو اﷲتعالیٰ نے اس کام کے لئے منتخب کیا ہے۔ جہاد کے بارے میں عرض کر چکا ہوں۔ درود کے متعلق میں نے بتایا تھا اور اس روز فوٹو اسٹیٹ بھی دیا تھا۔ اس کو انہوں نے قبول نہیں کیا۔ لیکن ایک دوسرا درود انہیں میں نے بتایا تھا ان کی کتابوں میں، جس کا فوٹو اسٹیٹ اب بھی موجود ہے اور چھپا ہوا کتاب میں بھی ہے۔ (عربی)
    یہ درود ہے ان کا۔ صحابہ کے متعلق بھی ان کا تصور اور ہے 3054اور ہمارا تصور اور ہے، بلکہ بالکل مختلف ہے۔ آئمہ کے متعلق جو تصور ہے وہ بالکل مختلف ہے۔ امہات المؤمنین کے متعلق بھی جو تصور ہے وہ بالکل مختلف ہے۔ مسجد اقصیٰ کا تصور مختلف ہے۔ اصحاب صفہ کا تصور مختلف ہے۔ مکہ اور بیت اﷲ کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ وہ چوبارہ جہاں بیٹھ کر وہ (مرزاقادیانی) ذکر کیا کرتے تھے۔ اس کے لئے اﷲ نے کہا ’’من دخلہ کان آمنا‘‘ کہ جو اس میں داخل ہوا وہ امن پاگیا۔ حالانکہ یہ آیت جو ہے وہ حرم شریف کے متعلق ہے۔ قادیان کے لئے انہوں نے لکھا ہے کہ ہم تو قادیان کو مکہ اور مدینہ دونوں سمجھتے ہیں۔ مگر لاہوری قادیان کو مکہ سمجھتے ہیں اور لاہور کو مدینہ سمجھتے ہیں۔ یہ گویا فرق ہے دونوں میں۔ یہ ہمارے ہاں طریقہ رائج ہے کہ اگر کوئی غیرمسلم وفات پاجاتا ہے تو اسے مرحوم نہیں کہتے۔ ہم اس کو آنجہانی لکھتے ہیں۔ سرسید مرحوم کو جہاں ذکر کیا ہے انہوں نے ہر جگہ آنجہانی لکھا ہے، جیسے ہم ہندوؤں کے متعلق لکھتے ہیں یا عیسائیوں کے متعلق لکھتے ہیں۔ پرسوں میں نے یہ اقتباس بھی پیش کیا تھا کہ مسلک اور مکتبہ فکر کا اختلاف تو مسلمانوں میں ہوتا ہے۔ لیکن دین کے متعلق کسی نے نہیں کہا کہ ہمارا دین مختلف ہے۔ اس روز میں نے اقتباس سنایا تھا کہ انہوں نے کہا کہ جس دین کو مرزاصاحب لے کر آئے ہیں، انہوں نے کہا کہ اﷲ اس کا غلبہ کرے گا۔ امت کے متعلق اقتباس آچکا ہے، تو وہ ایک الگ امت ہیں۔
    اب میں بہت مختصر آپ کو ایک ایسے الفاظ سناتا ہوں، مسلمانوں کے عقیدے کے اعتبار سے اور جذباتی اعتبار سے، رسول کریم ﷺ سے جو تعلق ہے، اتنے عرصے تک ان کی ہر طرح کی اہانت آمیز باتیں برداشت کی ہیں۔ پوری مسلمان قوم کے لئے، صلحاء کے لئے، انبیاء کے لئے، خود رسول ﷺ کے متعلق اور ہمارے ہاں نعمتیں رائج ہیں۔ جس سے انسان کے اندر ایک جذبہ ابھرتا ہے اور اس کی ایک تسکین ہوتی ہے۔ رسول اﷲ ﷺ کی عظمت میں نعت اور صلوٰۃ وسلام انہوں نے 3055اپنے لئے الگ بنایا ہے۔ میں اس کے چند شعر سناتا ہوں۔ صلوٰۃ وسلام جگہ جگہ ہوتے ہیں۔ اب ان کے ہاں جو ہوتا ہے صلوٰۃ وسلام وہ یہ ہے:
    ’’اے امام الوریٰ سلام علیک
    مہ بدر الدجی سلام علیک
    مہدی و عیسیٰ موعود احمد مجتبیٰ سلام علیک
    مطلع قادیان پہ تو چکا ہو کے شمس الہدیٰ سلام علیک
    تیرے آنے سے سب نبی آئے مظہر الانبیاء سلام علیک
    سکت وحی محبت جبریل سدرۃ المنتہیٰ سلام علیک
    مانتے ہیں تیری رسالت کو اے رسول خدا سلام علیک‘‘
    یہ الفضل میں یکم؍جولائی ۱۹۲۰ء کی اشاعت میں شائع ہوا ہے۔ اس سے زیادہ ایک اور دل آزار نظم ہے اور ہر جگہ گویا توازن قائم ہے ایک رسول ﷺ کے مقابلے میں، ہم رسول مدنی ﷺ کہتے ہیں اور اس پر ہماری بے شمار فارسی میں، اردو میں نعتیں ہیں۔ اب رسول مدنی ﷺ کے وزن پر انہوں نے قدنی بنایا ہے، وہ بھی اشعار ہیں:

اس صفحے کی تشہیر